0
Sunday 26 Aug 2012 12:47

کامرہ، ايئر چيف کا دورہ اور روسی صدر کا دورہ پاکستان

کامرہ، ايئر چيف کا دورہ اور روسی صدر کا دورہ پاکستان
تحریر: نصرت مرزا 

سياسی لوگوں کی ايک محفل ميں يہ سوال اٹھا، اب جبکہ پاکستان، چين کے علاوہ روس اور ايران کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے تو کيا امريکہ اور برطانيہ اس پر چراغ پا نہيں ہوں گے اور کيا وہ تاريخ کو نہيں دہرائيں گے کہ جس حکمراں نے بھی اس طرف رُخ کيا اس کو چلتا کيا گيا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو روس سے تعلق بڑھانے اور ايٹمی پروگرام شروع کرنے پر نشانہ بنايا گيا اور وہ بھی اپنے لوگوں کے ذريعہ اور نواز شريف کو بھی روس کا رُخ کرنے اور ايٹمی دھماکہ کرنے پر سزا کے طور پر ہٹايا گيا اور تاحال وہ اسی سزا کي زد ميں ہيں، اگرچہ اُن کی اپنی رعونت بھی اس کی ايک وجہ ہے، کہ اگر فوج کے ایک جنرل نے اُن کے خلاف ايکشن ليا تو اُن کو سارے يا دوسرے جنرلز کے خلاف سخت رويہ اختيار نہيں کرنا چاہئے۔
 
اقتدار کے کھيل ميں امريکی اُن کو ٹہلا رہے ہيں تو فوج سے تعلقات بحال کرنے چاہئيں تھے مگر انہوں نے ايسا نہ کرکے اپنے آپ کو اقتدار سے دور رکھا ہوا ہے، تاہم موجودہ حکومت کے ساتھ کوئی ”ہاتھ“ ہوا تو اُس کی وجہ روس نہيں ہوگا کيونکہ اس دفعہ آرمی اور سول حکومت مل کر پاليسی ميں تبديلی لارہے ہيں۔ ايبٹ آباد آپريشن کے بعد 20 مئی 2011ء کو روسی آرمی چيف پاکستان کے دورے پر آئے تھے اور اس کے بعد پاکستان کے صدر کئی مرتبہ روس کے صدر سے دوشنبہ چار ملکی کانفرنس، شنگھائی کانفرنس کے اجلاسوں کے دوران مل چکے ہيں اور دونوں ملکوں نے تلخياں بھلا کر نئے عہد و پيمان کرنے کا ارادہ ظاہر کيا۔
 
چنانچہ پاکستان کے ايئرچيف ايئر مارشل طاہر رفيق بٹ نے اپنا روس کا انتہائی اہم دورہ 15 اگست 2012ء کو مکمل کيا۔ يہ کسی پاکستانی ايئر چيف کا روس کا پہلا دورہ تھا۔ اس چار روزہ دورے ميں انہوں نے روس کی کئی ايئر فورس تنصيبات کا معائنہ کيا اور روسی فضائی حکام سے ملاقاتيں کيں۔ واپس آکر انہوں نے اس دورے کو انتہائی کامياب قرار ديا، مگر پھر 16 اگست کو ہی کامرہ ميں حملہ ہوگيا، شايد مغرب نے اپنے ناپسنديدگی کا ردعمل اس طرح سے ظاہر کيا۔
 
ايئر مارشل طاہر رفيق بٹ پاکستان اور روس کے درميان فضائيہ کے شعبہ ميں تعاون کے روشن امکانات پر مطمئن ہيں، انہوں نے کہا کہ روسی حکام پاکستان کے ساتھ تعاون کے لئے دستياب ہيں۔ پاکستان اس وقت روسی ساختہ C-17 سويلين مال برداری کے جہاز استعمال کر رہا ہے، مگر اب پاکستان نے روس سے دُنيا کا سب سے جديد لڑاکا طيارہ سخوئی 30 کے خريدنے کا ارادہ ظاہر کيا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ايئرفورس MI-35 ہيلی کاپٹر جو MI-24 کی جديد شکل ہے اور تقريباً بلٹ پروف ہوائی گاڑی ہے، کو خريدنا چاہتا ہے۔
 
اس ميں دو انجن ہيں، اگر ايک فيل ہو جائے تو دوسرا انجن کام کرتا رہتا ہے۔ اس لئے وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ ميں امريکی ہائی فائی ہيلی کاپٹروں سے زيادہ کارآمد ہے۔ يہ دس سپاہی بھی اپنے اندر سمو سکتا ہے اور 80 راکٹ ساتھ لے جانے اور فائر کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے۔ يہ ايک قسم کی فضائی لائٹ آرمڈ گاڑی ہے اور فضاء اور زمين ميں بھرپور مار کرسکتا ہے۔ پاکستان کو اس کی کارکردگی کے بارے ميں افغانستان جنگ کے دوران سے علم ہے، اس لئے اس کی خريداری کی خواہش کا اظہار کيا گيا۔
 
يہی نہيں روس کے صدر ولاديمير پيوٹن 2 اکتوبر 2012ء کو چار ملکی دوشنبہ سربراہی کانفرنس اور پاکستان کے چار روزہ سرکاری دورہ پر آ رہے ہيں، يہ کسی روسی صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہوگا۔ دورہ کی وجہ دوشنبہ سربراہی اجلاس ہے، اجلاس ميں پاکستان، روس، افغانستان اور تاجکستان کے صدور شريک ہوں گے۔ روسی صدر کا سرکاری دورہ ہونے کی وجہ سے اہميت بڑھ جاتی ہے، اس دورے ميں وہ پاکستان اور روس کے درميان باہمی تعلقات کے فروغ کا ايک طويل ايجنڈا ساتھ ليکر آرہے ہيں۔
 
ياد رہے کہ ان کے دورے کی تفصيلات طے کرنے کے لئے افغانستان کے لئے روسی نمائندے ضمير پاکستان کا دورہ کرچکے تھے۔ پاکستان اسٹيل تو روس کا بچہ ہے، اس کی بيماری کا علاج کرنے ميں روس کی خصوصی توجہ ہے۔ جو مغرب کو ايک آنکھ نہيں بھاتی کيونکہ جس ملک ميں اسٹيل مل موجود ہو، وہ پھر اسلحہ سازی سے ليکر ہر ميدان ميں اس اسٹيل کو مختلف طريقوں اور دوسرے اجزاء شامل کرکے استعمال کرسکتا ہے۔
 
پاکستان کے شام کے معاملہ ميں موقف نے بھی روس، چين اور ايران کو ايک دوسرے کے قريب کر ديا ہے۔ اس لئے توقع کرنا چاہئے کہ روسی صدر فياضی سے کام ليں گے، ايک تو اسلحہ يا کسی جہاز کو دينے ميں انڈين پابنديوں کو خاطر ميں نہيں لائيں گے، دوسرے پاکستان کے ساتھ لين دين ميں بھی فراخدلی کا مظاہرہ کريں گے، کيونکہ پاکستان اور روس کے درميان تعلقات سے ايک پورا خطہ مربوط ہو جائے گا۔ پہلے صرف پاکستان راہ ميں حائل تھا تو روس کو کاميابی سے دور رکھا۔ اگرچہ انڈيا اس کا اتحادی تھا، اب انڈيا امريکہ کا اتحادی ہے، مگر پاکستان کے ملنے سے زمينی تسلسل کی ايک اہميت ہے، جو روس کو پاکستان کے ساتھ ہونے سے مل جائے گی۔
 
بلوچستان کے معاملہ ميں بھی روس سے تعاون حاصل کيا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا پرانا اثر و رسوخ استعمال کرکے بلوچستان ميں امريکی، برطانوی و انڈين مداخلت کو روکنے ميں پاکستان کی مدد کرے۔ پاکستان اور روس کے قريب ہونے سے برطانيہ زيادہ پريشان ہوتا ہے، وہ روس کو گرم پانی تک رسائی دينے کا ہميشہ سے مخالف رہا ہے اور اس تعاون کو بھی اب وہ پسنديدگی کی نظروں سے نہيں ديکھے گا اور اس کے تيور بدليں گے۔
 
مگر ہميں برطانيہ کو سمجھانا چاہئے کہ وقت بدل گيا ہے، حالات بدل گئے، برطانيہ بلوچستان اور کراچی ميں اپنا اثر رکھنا چاہتا ہے تو پاکستان کا ساتھ دے، تخريب کاری يا مخالفت نہ کرے۔ خوش آئند بات يہ ہے کہ پاکستان نے اپنی پاليسی کو نامساعد حالات کے باوجود خوبصورت انداز سے بدلا ہے۔ امريکہ پر انحصار کم کيا ہے اور نئے راستے و نئے دوست تلاش کئے ہيں۔ چين کے بعد روس ايک اچھا دوست ثابت ہوسکتا ہے اور ہميں خوش دلی اور گرم جوشی کے ساتھ روس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 190066
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے