0
Sunday 26 Aug 2012 19:47

کشکول بدست قوم اور غیرت مندی

کشکول بدست قوم اور غیرت مندی
تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس تصدیق کے بعد کہ ایک امریکی سفارتکار کو پاکستان نے دفتر خارجہ طلب کرکے امریکی ڈرونز حملوں پر باقاعدہ احتجاجی مراسلہ وصول کروایا جو کہ پاکستان حکومت کی طرف سے ڈرونز حملوں پر پہلا باقاعدہ احتجاج ہے، امریکہ نے گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں یکے بعد دیگرے مزید 6 ڈرونز حملے کرکے پاکستان کو اپنی طرف سے اس کی اوقات یاد دلا دی اور بتا دیا کہ کشکول بدست قوموں کی نہ غیرت ہوتی ہے نہ حمیت اور نہ ان کے احتجاج کی کوئی اہمیت، کیونکہ امریکی جانتے ہیں کہ پاکستانی حکومت ایسی کارروائیاں محض اپنے عوام کے دکھاوے کیلئے کرتی ہے, وگرنہ کون نہیں جانتا کہ امریکہ کے یہ ڈرونز کہاں سے اور کس کی اجازت سے اڑتے ہیں۔ اگر اب بھی کوئی بے خبری کی اداکاری کرکے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے تو حزب اختلاف کے لیڈر میاں نواز شریف کا بیان انہیں آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہے کہ یہ کارروائیاں حکومت کی مرضی سے ہو رہی ہیں، لہٰذا احتجاج کا ڈرامہ کیوں؟

ایک امریکی تھنک ٹینک نے گزشتہ دنوں پاکستان پر امریکی ڈرونز حملوں کے حوالے سے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں شرکاء نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ امریکہ نے 2004ء سے اب تک 336 ڈرونز حملے کئے ہیں۔ گزشتہ رات کے چھ حملے اس میں شامل کرلیں تو اب ان کی تعداد 342 ہو گئی ہے۔ لندن سے ایک تفتیشی رپورٹنگ کے خصوصی بیورو نے بھی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق 336 حملوں میں سے 284 ڈرونز حملے اوباما انتظامیہ کے احکامات پر کئے گئے، جن میں 879 کے قریب سویلین ہلاک ہوئے۔ ان ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے کی پاکستان میں ڈرونز حملوں کی حکمت عملی کے نتیجہ میں درجنوں ایسے بے گناہ افراد بھی موت کے گھاٹ اتارے گئے، جو ہر بار ابتدائی حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی مدد کو آئے تھے۔

ان اداروں نے اس بات کی بھی توثیق کر دی ہے کہ پاکستان پر ڈرونز حملوں میں ہلاک ہونے والے 98 فیصد سے زیادہ لوگ بےگناہ عام شہری ہیں، جن میں عورتیں اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے اور برطانیہ و امریکہ میں انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں امریکہ کے پاکستان پر دن بدن تیز ہوتے ڈرونز حملوں کیخلاف میدان عمل میں کود پڑی ہیں اور اب دنیا کو احساس ہونے لگا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار ملک کیخلاف امریکہ کی غیر اعلانیہ جنگ دنیا کو کسی بھی وقت خطرے سے دوچار کرسکتی ہے، اس لئے ان ڈرونز حملوں سے ہونے والی بلاجواز انسانی ہلاکتوں کی وجہ سے عالمی رائے عامہ امریکہ کیخلاف منظم ہو رہی ہے۔

ایک سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کی ڈرونز پالیسی سے امریکہ کے دشمنوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہ انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ ایک موقر امریکی جریدے کے مطابق امریکہ عالمی منشور انسانی حقوق کی تیس میں سے دس سے زیادہ شقوں کی کھلی خلاف ورزی کا ارتکاب کرکے دنیا کو اپنے خلاف کر رہا ہے۔ اسی ضمن میں بارہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے بھی امریکی صدر اوباما اور نیٹو فورسز کو ایک خط کے ذریعے پاکستان پر ڈرونز حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امریکہ کے ڈرونز حملوں میں بےگناہ لوگوں کی ہلاکتوں سے پاکستانی عوام میں امریکہ کیخلاف نفرت انگیز جذبات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، نیز یہ حملے برطانیہ کے حلیف ملک کی سلامتی اور خودمختاری کیلئے کھلا چیلنج ہیں۔ اسی قسم کا ایک خط کچھ عرصہ قبل 26 امریکی ممبران کانگریس نے بھی صدر اوباما کو ارسال کیا تھا، جس میں ان سے پاکستان پر امریکی ڈرونز حملوں کے جواز کے بار ے میں وضاحت طلب کی گئی تھی کہ وہ بتائیں کہ یہ ڈرونز حملے جاری رکھنا کیوں ضروری ہیں۔؟

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان پر ہونے والے ڈرونز حملوں کیخلاف عالمی رائے عامہ بیدار ہو رہی ہے، مگر پاکستانی حکومت کے لچھن دیکھیں تو مدعی سست گواہ چست والی صورتحال سے پالا پڑتا ہے۔ ایک طرف پاکستان کا دفتر خارجہ امریکی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ وصول کرواتا ہے تو اگلے ہی لمحے بیان جاری ہو جاتا ہے کہ ڈرون حملوں کی روک تھام کیلئے امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز پر بھی غور ہو رہا ہے، امید ہے کوئی قابل قبول حل نکل آئے گا۔ 

مگر یہ وضاحت کہیں نہیں ملتی کہ یہ ’’قابل قبول‘‘ حل کسے قابل قبول ہوگا؟ حیرت ہے کہ صدائے احتجاج بلند کرنے والے ہمارے حکومتی حلقے امریکی ڈرونز حملوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے سے پس و پیش کر رہے ہیں، جبکہ عالمی ماہرین قانون قومی خودمختاری پر امریکا کے کھلے حملوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے اصرار کر رہے ہیں، کیونکہ کسی ملک کو بھی دوسرے ملک کی داخلی خودمختاری پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اب تک کے حالات اس بات کے غماز ہیں کہ پاکستان کے ارباب اختیار امریکہ کے آگے مجبور محض ہیں اور ان کی حیثیت امریکی سفارتکاروں کے سامنے دو کوڑی کی بھی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ٹولے اور بیورو کریسی کے افراد امریکی سفارتکاروں اور حکام سے ذاتی سطح پر اپنے تعلقات استوار کرنے اور ان سے مفادات سمیٹنے کی تگ و دو میں جتے رہتے ہیں، وہ خود کو ریاست کے نمائندے کے طور پر پیش کرکے حکومتی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کی نگہداشت کرنے کی بجائے اپنی ذات اور کنبے کے افراد کیلئے مراعات اور مفادات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، امریکیوں کو پاکستانیوں کی ان کمزوریوں کا بخوبی علم ہے اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی امریکی عہدیدار خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، وہ کبھی اپنے ریاستی مفادات سے غافل نہیں ہوتا، جبکہ پاکستانی حکام کو نہ اپنے ملک کی پروا ہے نہ عوام کی، نہ قومی وقار اور ملکی سالمیت کی فکر ہے نہ داخلی خودمختاری اور آزادی کی۔

پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے حکام اپنی اپنی ذات کے خول میں بند مفادات سمیٹنے کی میراتھن ریس میں شریک ہیں۔ ایسے خود غرض، لالچی اور بے حمیت لوگوں کی صدائے احتجاج کو امریکی شور و غوغا اور بیکار کا واویلا سمجھ کر نظر انداز کرنے میں حق بجانب ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں کی اسی بےحسی اور بے حمیتی نے پاکستانی عوام کی انا اور خودداری کو سخت مجروح کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی عوام کے دلوں میں یہ احساس راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے، جس کی سالمیت کے درپے کوئی اور نہیں خود ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ خواہ وہ حکومت میں ہوں یا نام نہاد طالبان کی شکل میں۔ دونوں طرح کے دشمنوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ کوئی ہے جو ملک و قوم کو اس ذلت کے گڑھے میں گرنے سے بچائے۔؟
خبر کا کوڈ : 190163
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب