0
Sunday 6 Oct 2013 20:56

عراق میں دہشت گردانہ بم دھماکوں کے پس پردہ عوامل

عراق میں دہشت گردانہ بم دھماکوں کے پس پردہ عوامل
تحریر: فرزان شھیدی

اسلام ٹائمز- گذشتہ ہفتے کے دوران عراق کے پرامن ترین علاقے یعنی اربیل (کردستان کے مرکز) میں کئی دہشت گردانہ بم دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں سیکورٹی بحران روز بروز مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ بم دھماکے علاقائی سطح پر برگزار ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے ایک روز بعد انجام پائے ہیں جن کے مطابق مسعود بارزانی کی قیادت میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک بار پھر فتح نصیب ہوئی ہے۔ 
 
عراق کے شمالی صوبے جہاں سیکورٹی فورسز کی جانب سے شدید حفاظتی اقدامات انجام دیئے گئے ہیں ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت زیادہ پرامن اور استحکام کے حامل ہیں جس کی وجہ سے وہاں بہت تیزی سے ترقی اور پیشرفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لیکن بعض اوقات ان علاقوں میں بھی تخریب کاری کے واقعات دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ عراق کے اعلی سطحی سیکورٹی حکام کے بقول تازہ ترین دہشت گردانہ بم دھماکوں میں سے ایک خودکش دھماکہ تھا جس کے ذریعے کردستان کی سیکورٹی فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دہشت گردانہ بم دھماکے کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم "القاعدہ" عراق کے شمالی حصوں میں بھی داخل ہو چکی ہے اور اس بار کرد باشندوں کو اپنے دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنا رہی ہے۔ 
 
دہشت گرد تنظیم القاعدہ کئی سالوں سے عراق میں موجود ہے لیکن شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے اس تنظیم سے وابستہ اکثر دہشت گرد عناصر نے شام کا رخ کر لیا ہے تاکہ اپنے بقول وہاں پر حکمفرما علوی نظام حکومت کے خلاف جہاد کر سکیں! حکومت عراق کی حمایت کرنے شام حکومت کی حمایت کا اعلان کرنے کے بعد تکفیری دہشت گردوں نے ایک بار پھر عراق میں دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ اس طرح شام میں اپنی شکست کا بدلہ عراق میں صدر نوری مالکی کی حکومت سے چکا سکیں۔ 
 
عراق کا کردستان بھی منحوس القاعدہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے محفوظ نہ رہ سکا اور چونکہ شام کے کرد باشندوں نے شام میں برسرپیکار القاعدہ کی ذیلی شاخ النصرہ فرنٹ کے ساتھ جنگ کا اعلان کر رکھا ہے لہذا اس دہشت گرد گروہ نے کردوں کے قتل کا فتوا جاری کر دیا ہے۔ یہ فتوا فوری طور پر عراق کے کردنشین شہر اربیل بھی پہنچ چکا ہے۔ القاعدہ نے اربیل کو ٹھیک اس وقت اپنے دہشت گردانہ بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جب وہاں پر ایک بین الاقوامی نمایش برگزار کی جا رہی تھی جس میں سینکڑوں غیرملکی بھی شریک تھے۔ ان بم دھماکوں کا مقصد اربیل کو ناامن ظاہر کرنا تھا۔ 
 
اس طرح القاعدہ سے وابستہ تکفیری دہشت گردوں نے کرد باشندوں کے قتل کے فتوے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے نزدیک شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں اور جو چیز ان کیلئے اہم ہے وہ یہ کہ فرقہ وارانہ جنگ کے شعلے ہمیشہ بھڑکتے رہیں تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر موجود شیطانی طاقتوں بالخصوص سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے مفادات اور مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔ 
 
اسی تناظر میں عراقی میڈیا نے ایک خفیہ رپورٹ منظرعام پر لایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں عراق میں سرگرم دہشت گردانہ تکفیری گروہوں کو 100 میلین ڈالر کی مدد فراہم کی ہے۔ اس سے قبل بھی عرب محافل میں شام اور عراق میں موجود القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروہوں اور ریاض کی سرپرستی میں جنم لینے والے نئے دہشت گرد گروہ "دولہ الاسلامیہ فی عراق و شام" یا "داعش" کے درمیان انتہائی گہرے تعلق کی خبریں سننے کو مل رہی تھیں۔ درحقیقت سعودی حکام خاص طور پر سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان سابق حزب بعث کے بچے کھچے عناصر اور خطے کے بعض دوسرے عرب ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون سے خطے میں ایک بڑی سازش میں مصروف ہیں جس کا مقصد خطے کے مختلف ممالک جیسے لبنان، شام، عراق اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر اندھے دہشت گردانہ بم دھماکوں کے ذریعے بدامنی پھیلانا ہے۔ 
 
یہاں اس اہم نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے کہ جب سے شہزادہ بندر بن سلطان نے گذشتہ ایک سال سے سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی کا منصب سنبھالا ہے عراق میں دہشت گردانہ بم دھماکوں کی شدت میں خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رسمی طور پر اعلان شدہ اعداد و ارقام کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران عراق میں انجام پانے والے دہشت گردانہ بم حملے گذشتہ 5 سال کے دوران بے سابقہ بیان کئے گئے ہیں۔ اس سال کے شروع سے لے کر اب تک عراق میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات میں 700 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ 
 
یہ بے رحم اور بے دین دہشت گرد اپنے دہشت گردانہ بم حملوں کیلئے ایسی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں عوام کا رش زیادہ ہو جیسے بازار، ریسٹورنٹس، مساجد، شادی کی تقریبات، نماز جنازہ اور مختلف اسٹیڈیم وغیرہ۔ فطری طور پر ایسی جگہوں پر بم دھماکوں کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوتا ہے۔ بعض اوقات دہشت گرد عناصر پہلے سے ایک علاقے خاص طور پر شیعہ نشین علاقوں کے لوگوں کو دہشت گردانہ حملے کی وارننگ دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 
 
یہاں پر ہر اس شخص کے ذہن میں جو عراق کی موجودہ صورتحال سے باخبر ہے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عراقی حکومت اور سیکورٹی و دفاعی ادارے چاہے پلیس ہو یا آرمی، ان دہشت گردانہ اقدامات پر قابو پانے میں ناکام کیوں ہیں؟ 
 
جیسا کہ ہم گذشتہ کئی تحریروں میں واضح کر چکے ہیں کہ عراق میں جنم لینے والا نیا نظام حکومت ابھی تک مکمل استحکام اور وحدت تک نہیں پہنچا اور ملک میں گہرے سیاسی اور قومی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف مختلف حکومتی ادارے شدید کرپشن کا شکار ہیں۔ لہذا ملک دشمن عناصر خاص طور پر سابقہ ڈکٹیٹر صدام حسین سے وابستہ بعث پارٹی کے افراد کی جانب سے حکومتی مراکز اور سیکورٹی اداروں میں گھسنا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ دہشت گرد عناصر نہ صرف ملک میں امن و امان کی بحالی کیلئے کوئی موثر اقدام نہیں کرتے بلکہ دہشت گردانہ اقدامات کا زمینہ فراہم کرتے ہیں۔ 
 
لیکن ان تمام تلخ حقائق کے باوجود عراق کی سیکورٹی فورسز نے اب تک دہشت گردوں سے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عراقی سیکورٹی فورسز نے گذشتہ سال ماہ مبارک رمضان سے "انتقام شہداء" نامی وسیع آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد عناصر ہلاک یا گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ عراقی حکومت نے موجودہ حالات کے پیش نظر ملک میں بدامنی اور دہشت گردی سے مقابلے کیلئے بعض نئے منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے اور عراقی سیکورٹی فورسز اب تک بڑی تعداد میں قریب الوقوع دہشت گردانہ اقدامات یا خودکش دھماکوں کا سراغ لگا کر انہیں ناکام بنا چکی ہیں۔ 
 
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عراق میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی اصل وجہ عراقی حکومت کے اندر بعض مشکلات کے علاوہ بعض بیرونی قوتوں کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی وسیع پیمانے پر مدد، شام میں موجود بحران اور خانہ جنگی کے اثرات کا عراق تک سرایت کر جانا، سرحدی علاقوں پر مناسب کنٹرول کا فقدان اور القاعدہ سے وابستہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی بھرپور کوششیں ہیں۔ یہ عوامل عراق میں دہشت گردانہ اقدامات کے بے قابو ہو جانے کا سبب بنے ہیں۔ 
 
بالآخر یہ کہ کردستان اور عراق کے دوسرے حصوں میں انجام پانے والے حالیہ دہشت گردانہ اقدامات نے پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے کے بعض ممالک عراق میں دہشت گردی کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ عرب ممالک اپنے مخصوص شیطانی اہداف جیسے ایران فوبیا کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا، شیعہ قوتوں اور خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا، شام میں حکومت کی سرنگونی وغیرہ کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن ان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی حمایت کا نتیجہ خطے میں دہشت گردی کے فروغ کی صورت میں نکلے گا اور اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ دہشت گردی کی یہ آگ کل ان کے دامن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ خطے کو دہشت گردی کی لعنت سے صرف خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور عزم راسخ سے ہی پاک کیا جا سکتا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 308758
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

متعلقہ خبر