0
Saturday 9 Aug 2014 17:38

امریکہ داعش سے کیا چاہتا ہے

امریکہ داعش سے کیا چاہتا ہے
تحریر: محسن محمدی

مشرق وسطیٰ سے متعلق وائٹ ہاوس کی پالیسیاں گریٹر اسرائیل اور نیو مڈل ایسٹ منصوبے کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ان پالیسیوں کے تحت امریکہ خطے میں ایسی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے کے درپے ہے جو اس کی ہمنوا اور خطے میں اس کی پالیسیوں کی حامی ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو قبول کرتے ہوئے اس کے وجود کے ساتھ بھی مکمل ہم آہنگی رکھتی ہوں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی ان پالیسیوں کے عملی جامہ پہننے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ممالک ہیں جو ایک مضبوط، طاقتور اور خود مختار سیاسی نظام سے برخوردار ہونے کے علاوہ مغرب مخالف نظریات اور تفکرات کے حامل ہیں۔ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایسے ممالک کو محدود جغرافیائی حدود پر مشتمل ہم آہنگ ریاستوں میں تقسیم کر دینا ہے۔ اسی طرح نیو مڈل ایسٹ کے ظہور کیلئے خطے میں موجود امریکہ مخالف خود مختار اسلامی مزاحمتی بلاک کو بھی کمزور کرتے ہوئے بتدریج ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

لہذا مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سب سے پہلا اور اہم قدم خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی صورت میں موجود امریکہ مخالف بلاک کا خاتمہ ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایسی چھوٹی چھوٹی بیشمار ریاستیں ایجاد کرنا ہے جن کا مکمل انحصار امریکہ پر ہو۔ ابتدا میں امریکی حکام اس زعم میں مبتلا تھے کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے وہ براہ راست خطے میں حاضر ہو کر خود ہی اسے پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن افغانستان اور خاص طور پر عراق میں پیش آنے والی مشکلات اور مسلسل ناکامیوں نے ان کی سوچ کو تبدیل کر دیا۔ امریکی حکام آخرکار اس نتیجے تک پہنچے کہ انہیں گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کو بذات خود اجرا کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کسی تیسری قوت کا سہارا لینا چاہئے۔

کیونکہ خطے کا کوئی ملک ایسا نہ تھا جسے دوسرے ممالک کی نسبت کافی حد تک بالادستی حاصل ہو اور اس امریکی منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے بھی آمادہ ہو۔ لہذا امریکی حکام نے ایسی قوت یا قوتوں کی تلاش شروع کر دی جو مشرق وسطیٰ میں ان کی پالیسیوں کو اچھے انداز میں اجرا کرسکیں۔ اس مقصد کیلئے امریکہ نے غیر حکومتی عناصر جیسے شدت پسند مذہبی گروہوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جو اس کی نظر میں اس کام کیلئے بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے تھے۔ لہذا امریکی حکام نے عراق سے انخلاء کے وقت سے ہی مشرق وسطیٰ میں شدت پسند مذہبی گروہوں کی تشکیل اور انہیں اپنے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے بروئے کار لانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے ان شدت پسند تکفیری گروہوں کا اعلانیہ اور پہلا استعمال خطے کے ایک طاقتور مسلمان ملک جو اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ بھی تھا، یعنی شام کے خلاف کیا گیا۔ شام پر مغربی اور عربی ممالک کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد عناصر کی چڑھائی کا بنیادی مقصد اس ملک کو توڑنا یا کم از کم اسلامی مزاحمتی بلاک کے ایک رکن کو انتہائی کمزور کرنا تھا۔ وہ اپنے پہلے مقصد میں تو کامیاب نہ ہوسکے لیکن دوسرے مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

تکفیری شدت پسند گروہوں کی جانب سے امریکہ کی وکالت میں شام پر حملہ، مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے منصوبے کو عملی شکل پہنانے میں غیر حکومتی عناصر کے استعمال کے عنوان سے پہلے تجربے کے طور پر امریکہ کو بہت اچھا لگا اور امریکی حکام اپنی اس پالیسی کو تسلسل بخشنے پر امیدوار ہوگئے۔ لہذا اسی تجربے کو خطے کے ایک دوسرے ملک یعنی عراق، جو اسلامی مزاحمتی بلاک کا ایک اور رکن سمجھا جاتا ہے، میں دہرائے جانا امریکہ کیلئے انتہائی جذاب اور پسندیدہ امر تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی حکام داعش کے ذریعے عراق میں ایک مرحلہ وار اسٹریٹجی کے ذریعے بتدریج اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ عراق جو اسلامی مزاحمتی بلاک کا ایک اہم حصہ اور خطے کی اصلی سیاسی یونٹ سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ اور مغربی طاقتیں پہلے مرحلے پر داعش کے خطرے کو بڑا ظاہر کرکے عراقی وزیراعظم نوری مالکی کی حکومت پر دباو ڈالنا چاہتے ہیں، تاکہ اس طرح عراق میں ایک کمزور اور اپنی ہم خیال حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرسکیں۔ ایک ایسی دولت جو جمہوری عمل کے برخلاف اور حالیہ انتخابات میں عراقی عوام کے مینڈیٹ سے ہٹ کر عراق پر مسلط کی جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے امریکہ چاہتا ہے کہ عراق کی آئندہ حکومت ایک ایسی مشارکتی حکومت ہو، جس میں زیادہ سے زیادہ سنی قوتوں کو شامل کیا جائے، تاکہ ایک متحد اور مضبوط شیعہ حکومت کی تشکیل کو روکا جاسکے۔ لہذا عراق میں داعش کی تشکیل اور اس کی حمایت سے امریکہ اور مغربی حکومتوں کا پہلا مقصد ایک منتشر، بکھری ہوئی اور چند ٹکڑوں پر مشتمل کمزور عراقی حکومت کی تشکیل ہے۔ امریکہ کی جانب سے عراق میں ایسی کمزور حکومت کی تشکیل کا مقصد موجودہ حکومت کی جانب سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف لڑنے اور اسے قلع و قمع کرنے کے عزم کو ختم کرنا ہے۔

عراق میں ایک منتشر اور کمزور حکومت تکفیری دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں زیادہ دیر تک ثابت قدم نہیں رہ سکے گی اور آخرکار ان کے بعض مطالبات کو ماننے پر راضی ہوجائے گی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو امریکہ عراق میں موجود سنی سیاسی جماعتوں کو تکفیری دہشت گرد عناصر سے مزید تعاون کرنے پر راضی کرسکے گا اور عراقی حکومت بھی امریکی اور تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے دباو کے آگے زیادہ مزاحمت نہیں کر پائے گی۔ دوسرے قدم پر امریکہ کی کوشش ہوگی کہ وہ عراقی حکومت کو ملکی آئین میں بنیادی تبدیلیاں کرنے اور عراق میں طاقت کے توازن کو تکفیری دہشت گرد عناصر کے حق میں تبدیل کرنے کیلئے مجبور کرے، تاکہ اس طرح عراق میں تکفیری عناصر کی موجودگی کا مستقل جواز فراہم کیا جاسکے۔ اس اقدام کے نتیجے میں عراق کے ایک حصے پر تکفیری دہشت گرد عناصر کا قبضہ پکا ہوجائے گا اور اسے عراق میں حکمفرما سیاسی نظام کی جانب سے بھی رسمی طور پر قبول کر لیا جائے گا۔ لہذا عراق میں ایک ایسے نئے سیاسی کھلاڑی کا اضافہ ہوجائے گا جو امریکہ اور مغربی طاقتوں کے تابع اور ان کے سیاسی مفادات کی تکمیل کا ضامن ہوگا۔

مذکورہ بالا منظرنامے کے حقیقی صورت اختیار کر لینے کے بعد عراق کی مرکزی حکومت انتہائی درجہ کمزور ہو جائے گی کیونکہ کردستان کے خطے کے علاوہ عراق کے سنی اکثریت والے علاقوں پر بھی اس کا تسلط جاتا رہے گا۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے عراقی حکومت کو کنٹرول کرنے اور اس پر اسلامی مزاحمتی بلاک سے دوری اختیار کرتے ہوئے خطے میں خود کو مغربی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سیاسی دباو کا ایک نیا ذریعہ اور محور بھی معرض وجود میں آ جائے گا۔ لیکن وہ ہدف جو زیادہ خطرناک ہے اور ممکن ہے امریکہ نے اگلے مرحلے میں اسے مدنظر قرار دے رکھا ہو، عراق کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ 

مصنف کی نظر میں اگر مذکورہ بالا اقدامات امریکہ کو عراق اور مشرق وسطیٰ میں اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچانے میں سودمند ثابت نہیں ہوتے تو امریکی حکام عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر کو مستحکم کرنے کے بعد اس ملک کو تین چھوٹی ریاستوں یعنی شیعہ، سنی اور کرد ریاستوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کا آغاز کرسکتا ہے۔ یہاں اس اہم نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ عراق کی ممکنہ تقسیم میں تین اہم عوامل کارفرما ہیں جو عراق میں ایک کمزور اور مشارکتی حکومت کی تشکیل، عراقی حدود میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو رسمی طور پر قبول کئے جانے اور خطے کی اثر گذار طاقتوں خاص طور پر ایران اور ترکی کی جانب سے مخالفت کا اظہار نہ کئے جانے پر مشتمل ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت عراق میں امریکہ کا اصلی ہدف ایک کمزور اور اپنی ہم خیال مرکزی کابینہ کی تشکیل کے بعد اس ملک میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو مضبوط بناتے ہوئے عراق کے سیاسی جغرافیا میں ان کے وجود کو رسمی حیثیت دلوانا ہے۔ امریکی حکام نے اس وقت تک عراق کی تقسیم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، اگرچہ اکثر امریکی سیاست دان اس تقسیم کے حق میں نظر آتے ہیں۔ وہ اس وقت عراق کے اندرونی حالات خاص طور پر خطے کی طاقتوں جیسے ایران کے ردعمل اور رویوں کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں۔
خبر کا کوڈ : 403873
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب