0
Wednesday 20 Aug 2014 06:37

داعش ایک نئی سرخ لکیر

داعش سب کی مشترکہ دشمن ہی نہیں مشترکہ ہدف بھی بن چکی ہے
داعش ایک نئی سرخ لکیر
تحریر: عبدالرحمان الراشد

ان دنوں عراق کے حوالے سے ایک منفرد صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس صورت حال میں تمام ممالک، عراق کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائل کی سوچ عراق و شام میں موجود داعش کے گرد گھوم رہی ہے۔ باہم مخالف، متصادم اور متحارب فریق داعش کی وجہ سے اب ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ بڑی تعداد میں عراقی فوج، شیعہ، سنی اور کرد سبھی باہمی مفاہمت پر متفق ہیں کیونکہ یہ سب فریق داعش کو علاقے اور خود اپنے لئے ایک خطرہ خیال کر رہے ہیں۔ ان فریقوں کے باہم قریب آنے کی رفتار نوری المالکی کی وزارت عظمٰی سے رخصتی نے اور بھی تیز کر دی ہے۔ بہت سارے سنی مخالفین بھی مالکی کے جاتے ہی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔

عراقی کردستان کی حکومت نے عراقی حکومت کے ساتھ مفاہمت کرلی ہے کہ کرد حکومت مرکزی حکومت کو آئل فیلڈز واپس کر دے گی۔ حد یہ ہے کہ امریکی صدر اوباما نے عراق کی صورت حال سے الگ تھلگ نہ رہنے کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ اسی طرح ایران نے بھی نوری المالکی کی جگہ العبادی کو تسلیم کرلیا ہے اور سعودی عرب نے بھی مالکی کے متبادل کے طور پر سامنے آنے والے وزیراعظم حیدر العبادی کو قبول کر لیا ہے۔ اس غیر معمولی کہانی کا حاصل یہ ہے کہ ہر کسی نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ اب داعش کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے، یا خطے پر اثر انداز ہوسکے۔ عراق کے سنی اکثریت کے حامل صوبہ الانبار میں بھی ایک گرما گرم ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ نوری المالکی کی رخصتی کے بعد الانبار کے بعض قبائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ پھر سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں اور ان لوگوں کے خلاف لڑنے کو بھی تیار ہیں جو حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، تاہم صوبہ الانبار کے بعض قبائل نے داعش کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایک لمبا اور خطرناک راستہ
داعش سے نجات پانے کا راستہ لمبا بھی ہے اور خطرناک بھی۔ اسکے باوجود، داعش کے مخالفین باہمی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اسکے خلاف اقدامات کئے جانے چاہیں۔ اگرچہ داعش نے سیاسی میدان میں خود کو بڑی ذہانت سے استعمال کیا ہے۔ داعش الانبار اور نینوا کے سنی گروہوں کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس منظرنامے میں بعض ایسی حکومتیں بھی ہیں، جو خود کو زیادہ سمجھدار کہتی ہیں، وہ داعش کی مالی مدد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم اب عراق کے مختلف حصوں میں ایک سنگین خطرہ اور طاقت بن چکی ہے۔ اب اسکے کنٹرول میں تیل کے ذخائر اور آئل فیلڈ بھی ہیں۔ حتی کہ گندم اور خوراک کے گودام بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ اس نے عراقی فوج کے وسیع پیمانے پر موجود اسلحے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اپنی تعداد اور دولت میں اضافے کی وجہ سے اب یہ بڑے بڑے علاقوں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔

"المصدر" نامی ویب سائٹ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے داعش بلیک میلنگ کے ذریعے بھی مال بنا رہی ہے۔ امریکہ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق داعش موصل پر قابض ہونے سے پہلے بھی لوگوں سے آٹھ ملین ڈالر کے ماہانہ ٹیکس وصول کر رہی تھی۔ اب داعش تیل فروخت کرکے اور عوامی وسائل کی لوٹ مار سے مزید مال بنا چکی ہے۔ اس صورت حال میں داعش سب کی مشترکہ دشمن ہی نہیں مشترکہ ہدف بھی بن چکی ہے۔ اس لئے خطے کے کھلاڑیوں کے لئے تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود داعش کی حیثیت ایک سرخ لکیر جیسی بن چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 405661
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب