0
Saturday 4 May 2019 17:05

خیبر پختونخوا پولیس کا تاریخ ساز اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

  • سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

    سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قبائلی اضلاع کے اعلٰی افسران کا اجلاس

اسلام ٹائمز۔ سنٹرل پولیس آفس پشاور میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ریجنل پولیس افسروں اور ضلعی پولیس افسروں کا تاریخ ساز اجلاس منعقد ہوا۔ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں نئے ضم شدہ اضلاع کے ریجنل پولیس افسروں، ضلعی پولیس افسروں، سابقہ لیویز اور خاصہ داروں کے اعلٰی رینک کے اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پولیس سربراہ نے فرداً فرداً سابقہ لیویز اور خاصہ داروں کو گلے سے لگایا اور انہیں اجلاس میں شرکت کرنے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات فورسز جرات و بہادری کا پیکر ہیں۔ اجلاس میں نئے ضم شدہ اضلاع میں تعینات فورسز کے سروس اسٹرکچر، یونیفارم، بجٹ انفراسٹرکچرز، تنخواہوں، دیگر مراعات اور درپیش مسائل و مشکلات پر غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر آر پی اوز نے اپنے اپنے ریجن میں ضم شدہ علاقوں میں پولیسنگ کے حوالے سے نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات فورسز نے جرات و بہادری کے پیکر بن کر فرسٹ لائن آف ڈیفنس کے طور پر فرائض سرانجام دیئے اور دہشت گردوں کی یلغار کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑے۔ ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ ایسی بہادر اور نڈر فورسز کا پولیس فورس میں ضم ہونا بہت بڑی کامیابی ہے اور ان کی کمان کو وہ اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ انضمام کے بعد ایک دوسرے کے تجربات سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے امن و امان کے قیام کیلئے مثالی اقدامات اُٹھائیں گے۔ آئی جی پی نے کہا کہ سابقہ لیویز اور خاصہ دار خیبر پختونخوا پولیس کا لازمی اور اہم جُز ہیں، وہاں پر ان کی اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے تجربات اور راہنمائی کو مشعل راہ بنائیں گے، ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ کی سمت کا تعین ہو چکا ہے، اب عملی فیصلوں اور اقدامات کا وقت آن پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ لیویز اور خاصہ داروں کی قسمت اور ملازمت کے فیصلے اب بند کمروں میں نہیں ہونگے، مشاورت کے تمام مراحل میں ان کو شامل کرکے اُن کی تجاویز اور آراء کا خیر مقدم کریں گے۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں موثر پولیسنگ کیلئے پولیس فورس کی تمام بنیادی ضرورتوں کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور اہلکاروں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض، درپیش چیلنجوں اور عوام کی وابستہ توقعات کے مطابق ادا کرنے کیلئے بہترین سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ انہیں ہر قسم کی سہولیات اور آلات سے لیس کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 792191
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب