0
Monday 3 Jun 2019 11:44

القدس کانفرنس تہران

  • ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • طلباء اردو زبان جامعات تہران اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    طلباء اردو زبان جامعات تہران اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • طلباء اردو زبان جامعات تہران کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    طلباء اردو زبان جامعات تہران کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • طلباء اردو زبان جامعات تہران کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    طلباء اردو زبان جامعات تہران کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

  • ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

    ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام تہران میں القدس کانفرنس

اسلام ٹائمز۔ اردو زبان طلبہ جامعات تہران اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے تعاون سے تہران میں القدس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور ڈاکٹر رحیم پور ازغدی نے ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی اس دنیا کی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کامیابی اور شکست کا معیار آخرت ہے اور ماہ مبارک رمضان آخرت کی کامیابی میسر کرنے کے لئے بہترین موقع ہے۔ ڈاکٹر ازغدی نے کہا کہ اسلامی تہذیب و تمدن کو شکست سے دچار کرنے والے عناصر اس وقت بھی اسلام کے خلاف متحد اور اسلام کی ہر کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کے لئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا اسلامی دنیا میں زبان، ثقافت اور دیگر تہذیبی علامات کا فرق اس استعمار کا منصوبہ تھا جو اسلامی تہذیب کی طاقت سے خائف تھے۔ ڈاکٹر ازغدی نے کہا مسئلہ فلسطین یہود و اسلام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قابض طاقتوں کے منصوبوں کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا صیہونیت کا حضرت موسی علیہ السلام اور یہودیت کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ صیہونیت کی بنیادیں ایک سیکولر مغربی گمراہ مفکر ہرزل کے افکار پر مبنی ہیں اور ہرزل کے بقول اسرائیل کی تشکل کا ہدف مشرق وسطٰی میں مغرب کے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک تھانیدار کی تعیناتی ہے۔ انہوں نے کہا مسئلہ فلسطین ایک شہر اور ایک ملک کی بات نہیں بلکہ سارا مغرب اس مسئلے میں صیہونیوں کی پشت پر نظر آتا ہے پس مسئلہ مغربی مفادات اور منصوبے کا ہے۔ یہود کے قتل و کشتار کے افسانے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طول تاریخ میں کسی مسلمان حکمران یا مفکر نے یہودیوں کے قتل کا فتوی نہیں دیا ہے اگر تاریخ کے کسی حصے میں یہودیوں کے قتل کی داستان مان بھی لیں تو وہ مسلمانوں نے نہیں کیا جنہوں نے وہ قتل کیا ہے انتقام اور یہودیوں کی سرزمین کے قیام کی جدوجہد ان کے خلاف ہونی چاہیئے۔ کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر شفقت شیزازی نے بھی خطاب کیا۔ تہران میں منعقدہ القدس کانفرنس میں اردو زبان طلبہ جامعات کے علاوہ تہران میں مقیم پاکستانی کمیونٹٰی کے متعدد افراد نے بھی شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 797649
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے