0
Thursday 26 Sep 2019 16:26

کراچی، لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاج

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

  • کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

    کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

اسلام ٹائمز۔ آج پاکستان میں جنگل سا قانون نافذ ہوگیا کہ کسی بھی نوجوان، عالم، پروفیسر، انجینئر، وکیل کو دن دھاڑے کہیں سے بھی لاپتہ کردیا جاتا ہے اور جب سوال کیا جاتا ہے تو نہ حکومتِ پاکستان، نہ چیف جسٹس آف پاکستان اور نہ ہی مقتدر قوتیں جواب دیتی ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 9 اور 10 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی کو کسی بھی جرم میں حراست میں لیا جائے تو چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے، مگر یہاں تو قانون و آئین بنانے والے خود اس کی پامالی کا باعث بن رہے ہیں نہ تو زیرِ حراست لئے ہوئے افراد کو ظاہر کرتے ہیں اور نہ کورٹ میں پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ ناظر عباس تقوی، مولانا حیدر عباس عابدی، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، مولانا ڈاکٹر عقیل موسی، خالد راؤ، علامہ مبشر حسن سمیت دیگر مقررین نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز پاکستان کے تحت کراچی پریس کلب پر منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اسیران کے خانوادوں کو ان سے ملنے نہیں دیتے اور زبردستی طاقت کے زور پر جبری گمشدگی کے اندھے قانون کو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پہ لاگو کیاجارہا ہے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ آئمہ اطہار (ع) کے مزارات ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، جب بھی ہمیں محسوس ہوگا کہ مزارات کے خلاف سازش ہورہی ہے تو ہم اپنی جان کا نذرانہ دے کر ان کی حفاظت کریں گے، ہم مقتدر قوتوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ محمد و آلِ محمد (ع) کے روضوں کی حفاظت کرنا ہمارا بنیادی، دینی اور شریعی حق ہے جس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مقررین نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں اور محب وطن پاکستانیوں کے درمیان فرق ہونا چاہیئے، اسیرانِ ملت جعفریہ کے خانوادے کو اپنے پیاروں سے ملنے کی اجازت نہیں جبکہ غیر ملکی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن کی فیملی کو اس سے ملوایا جاسکتا ہے، ہمارے ادارے سن لیں کہ شیعانِ علی (ع) کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور تکفیری دہشتگردوں اور محب وطن شیعوں کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
خبر کا کوڈ : 818382
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب