0
Wednesday 25 Sep 2019 22:14

انڈین فلم کیخلاف مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

  • ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

    ام المومنین کیخلاف بننے والی فلم پر جامعہ الکوثر میں مذمتی اجلاس

اسلام ٹائمز۔ علمائے شیعہ پاکستان کے زیراہتمام ملت تشیع کی عظیم دینی درسگاہ جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں ایک مذمتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شیعہ علماء کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس مذمتی اجلاس کا پس منظر حال ہی میں انڈیا کے ایک شہری وسیم رضوی کی جانب سے کچھ اسلامی واقعات پر مشتمل ایک توہین آمیز فلم بنانے کا اعلان ہے۔ جس میں اسلامی مقدسات کی توہین کی گئی ہے، جو کہ نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ یہ انتہائی حساس مسئلہ ہے، جس کے خلاف بروقت آواز اٹھانا ضروری ہے۔ یہ امت کے اتحاد و وحدت کے خلاف گہری سازش ہے۔ یہ فلم بنانے والے اور سلمان رشدی دونوں کا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے خلاف بولنا اور اس فتنے کا راستہ روکنا ضروری ہے اور ہماری پہلی ذمہ داری ہے اور ہم آپ علماء کے ساتھ مل کر اسے ناکام بنا دیں گے۔ معروف عالم دین مولانا انور علی نجفی نے کہا کہ یہ فلم کشمیر سے توجہ ہٹانے اور ہندو پاک کی امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنے کی ہندوستانی سازش ہے۔ لبیک یاحسینؑ کی آواز کو کرفیو میں بھی دبایا نہیں جا سکا، جو ہر تحریک حریت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس فلم کی پاکستان میں نشر و اشاعت پر پابندی لگائی جائے اور جو اسے پھیلائے اسے مودی کا سہولت کار سمجھ کر کاروائی کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 818385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب