0
Wednesday 8 May 2013 22:14

مزاراتِ اصحاب رسول (ص) کی بےحرمتی میں ملوث انتہاء پسند عناصر اسلام و مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں، محمد حسین محنتی

مزاراتِ اصحاب رسول (ص) کی بےحرمتی میں ملوث انتہاء پسند عناصر اسلام و مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں، محمد حسین محنتی
محمد حسین محنتی جماعت اسلامی کراچی کے امیر ہیں۔ آپ 1946ء میں کاٹھیاوار، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ تمام مذہبی اور سیاسی حلقوں میں آپ بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ آپ کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ اس سے قبل بھی 2002ء میں عام انتخابات میں اسی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے آئندہ عام انتخابات، پاک ایران گیس پائپ لائن اور پاک چین گوادر بندرگاہ معاہدے، شام اور اردن میں مزاراتِ اصحاب رسول (ص) کی بے حرمتی کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق میں آپ کے ساتھ ایک نشست کی۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا مختصر انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مختصراً بتا دیں کہ کس نعرے اور منشور کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی: جماعت اسلامی کا نعرہ ہے کہ کراچی کے اندر امن و امان ہونا چاہئیے۔ کراچی جو 25-26 سالوں سے آگ و خون کے دریا سے گزر رہا ہے اس کیفیت سے شہر کو نکالنا چاہئیے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، روزانہ دس پندرہ افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں، شہر میں اسلحہ کی بھرمار ہے، ان سب سلسلوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ شہری خوف و ہراس کی فضاء سے باہر نکل کر آزاد اور پرامن ماحول میں زندگی گزار سکیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ دیکھیں ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں امن قائم کیا جائے، شہر سے دہشت گردی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بلاجواز ہڑتالوں کے سلسلے کو ختم کیا جائے، تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان اور خصوصاً کراچی جن مسائل کا شکار ہیں، سب سے اہم مسئلہ آپ کی نظر میں کیا ہے۔؟
محمد حسین محنتی: اس وقت کراچی سمیت ملک بھر کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔ گذشتہ دس سال کے اندر تقریباً 40 ہزار افراد دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملوں کا شکار ہوچکے ہیں، اس میں ہمارے 5 ہزار فوجی جوان بھی شہید ہوچکے ہیں۔ نگران حکومت اور آئندہ آنے والی حکومت کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرتے ہوئے امن و امان کے قیام کو ممکن بنا کر عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی پاکستان کی انتخابی سیاسی تاریخ میں ابتک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکی، کیا وجہ ہے۔؟
محمد حسین محنتی: 2002ء میں ہم نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ ابھی بھی ہم توقع کرتے ہیں کہ جس طرح جماعت اسلامی نے نیک، باکردار، باصلاحیت لوگوں کو انتخابات میں اتارا ہے، عوام ان کا بھرپور ساتھ دینگے اور کامیاب بنا کر اسمبلیوں میں پہنچائیں گے۔

اسلام ٹائمز: کراچی اور ملک بھر میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کی ذمہ داری فوری طور پر طالبان کی جانب سے قبول کرلی جاتی ہے مگر جماعت اسلامی اب تک طالبان کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں دے پائی ہے۔ کیا کہیں گے۔؟
محمد حسین محنتی: یہ ایک بہت بڑا ڈرامہ ہے جو طالبان کے نام سے آجاتا ہے کہ انہوں نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ کراچی میں دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتیں ہوئی ہیں، کسی نے نہیں کہا کہ وہ طالبان نے کی ہیں۔ جس میں عید میلاد النبی (ص) بارہ ربیع الاول کے روز نشتر پارک کا حادثہ ہوا، یوم عاشورا اور یوم چہلم کا حادثہ ہوا، بارہ مئی کے روز 55 افراد کو مار دیا گیا، بے نظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر کارساز پر حادثہ ہوا مگر آج تک نہ طالبان نے ذمہ داری قبول کی اور نہ کسی اور نے یہ کہا۔ اصل میں متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر حکومتی جماعتیں اپنے مفادات کو حاصل کرنے کیلئے ایک ایسا ماحول بنا رہی ہیں کہ جس میں وہ طالبان کو ایک ایشو بنانا چاہتی ہیں جبکہ طالبان اتنا بڑا ایشو نہیں ہے بلکہ دہشت گردی اصل ایشو ہے، جس کے بہت سے فیکٹرز ہیں جس میں امریکی ڈرون حملے بھی شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بلیک واٹر اور دیگر اسلام دشمن غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں اس میں ملوث ہیں، بھارت کا بھی ہاتھ دہشت گردی میں ملوث ہے۔

اسلام ٹائمز: طالبان کے مطابق پاکستان میں رائج جمہوری نظام کفر پر مبنی ہے، باطل اور غیر شرعی ہے، جبکہ جماعت اسلامی سمیت ہر مذہبی سیاسی جماعت موجودہ نطام کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
محمد حسین محنتی: ہم لوگوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اسلامی نطام کو لانے کیلئے اس وقت جو راستہ ہے، وہ جمہوریت کا راستہ ہے۔ اسی لئے ہم جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہیں، انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالٰی نے ہمیں موقع دیا تو ہم پاکستان میں عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظام نافذ کرینگے جو دہشت گردی، کرپشن، جبر و استحصال کا خاتمہ کر دے گا۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی ابتک کہاں کہاں انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرچکی ہے؟ کیا آئندہ آنے والی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی: جماعت اسلامی صوبہ سندھ میں دس جماعتی انتخابی اتحاد کے ساتھ مل کر انتخابات لڑ رہی ہے۔ باقی جگہوں پر بھی اس حوالے سے کوششیں کی گئی ہیں۔ انشاءاللہ اگر ہمیں موقع ملا اور ایک ایسا ماحول محسوس ہوا کہ جس میں ہم اپنے نظرئیے کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم آنے والی حکومت میں شامل ہونگے اور اس ملک کی خدمت کرینگے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کی سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود جماعت اسلامی دیگر مذہبی جماعتوں کو انتخابی اتحاد کی لڑی میں نہیں پرو سکی، کیا وجہ ہے۔؟
محمد حسین محنتی: یہ حقیقت ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اختلافات اس بار کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں اور یہ افسوسناک بات ہے کہ دینی جماعتوں کا انتخابی اتحاد نہیں بن سکا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ انتخابات کے بعد بھی دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر دین اسلام کی خدمت کیلئے کوشش کرینگی۔

اسلام ٹائمز: کراچی میں پولنگ اسٹیشن پر فوج کی تعیناتی پر اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اس حوالے سے۔؟
محمد حسین محنتی: سوائے متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے ساری سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی شہر میں عام انتخابات کے روز ہر پولنگ بوتھ پر پاک فوج کے جوانوں کی تعیناتی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے کیونکہ پاک فوج کی موجودگی کے بغیر کراچی میں پرامن آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکتا۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ایک طرف تو پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی چیخ رہی ہیں کہ ان پر حملے کئے جا رہے ہیں، انہیں انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی مگر دوسری طرف یہ جماعتیں شہر میں پاک فوج کی تعیناتی کی بھی مخالفت بھی کر رہی ہیں۔ بہرحال جماعت اسلامی سمیت 17 سیاسی و مذہبی جماعتوں نے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا مگر حیرت ہے کہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کیوں ہمارے مطالبے پر عمل درآمد کرنے پر تیار نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت کے آخری ایام میں امریکی مخالفت کے باوجود پاک چین گوادر بندگاہ اور پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کئے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں آنے والی حکومت کو بھی ان دونوں منصوبوں کو لازمی مکمل کرنا چاہئیے۔؟
محمد حسین محنتی: میرا خیال ہے کہ سابقہ حکومت نے پاکستانی مفاد میں بہت اچھے معاہدے کئے ہیں اور پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہے کہ ان دونوں منصوبوں کو بلا رکاوٹ اور بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئیے۔ پیپلز پارٹی نے بھی آخری ایام میں ان منصوبوں پر دستخط کئے، تاکہ اس سے سیاسی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں، لیکن بہرحال آئندہ کوئی بھی حکومت آئے، اسے چین اور ایران سے کئے گئے ان دونوں منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا چاہئیے۔ ہمیں برادر اسلامی ملک ایران سے گیس بھی لینی چاہئیے، عظیم دوست ملک چین کو بندرگاہ کا انتظام دے کر اسے آپریشنل حالت میں لانا بھی بہت بہتر فیصلہ ہے، اس سے یقیناً بلوچستان کی ترقی ممکن ہوسکے گی، اس کی پسماندگی بھی دور کرنے میں مدد ملے گی۔

اسلام ٹائمز: دو افسوسناک واقعات کہ جس میں شام میں انتہاء پسند باغیوں کی جانب سے صحابی رسول (ص) حضرت حجر ابن عدی (رض) کے روضہ کو مسمار کرکے ان کی جسد مبارک کو قبر سے نکال کر بے حرمتی کی گئی اور اردن میں حضرت جعفر طیار (رض) کے مزار کو نذر آتش کر دیا گیا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
محمد حسین محنتی: اصحابِ رسول ﴿ص﴾ کے مزارات کی بے حرمتی جیسے افسوسناک واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں۔ اسلام میں اس بات کی بالکل اجازت نہیں ہے کہ یہ انتہاء پسند لوگ اس طرح سے قبور و مقدس مقامات کی بے حرمتی کریں۔ میں تنبیہ کرتا ہوں ایسے لوگوں کو جو اس طرح کے انتہاء پسندانہ اقدامات کرکے اسلام و مسلمان کو بدنام کر رہے ہیں، وہ اپنے ان انتہاء پسندانہ اقدامات سے باز آجائیں، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: آخر میں مختصر طور پر بتا دیں کہ اگر عوام نے آپ پر اعتماد کیا تو کیا کام انجام دیں گے۔؟
محمد حسین محنتی: پاکستان بہت زیادہ قربانیوں اور آزمائشوں کے بعد وجود میں آیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ یہاں قرآن و سنت کے مطابق حکومت بنائی جائے گی۔ ہمارے سامنے وہی جذبہ و ولولہ ہے۔ ہم نے بڑی کوششیں کی ہیں، 1973ء کے آئین میں اسلامی دفعات کو شامل کرایا ہے۔ انشاءاللہ ہمیں امید ہے کہ ہم اس ملک کا ماحول قرآن و سنت کے مطابق بنا تو ہم اسے مدینے کی مثالی ریاست کی طرح بنانا چاہتے ہیں، جس میں امن و انصاف ہوگا، بھائی چارہ و محبت و ایثار ہوگا۔ وہاں ایک ایسا وقت تھا کہ لوگ زکواة دینے نکلتے تھے میں کوئی زکواة لینے والا نہیں ہوتا تھا، شرح خواندگی مدینے میں سو فیصد تھی، دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں وہاں ترقی کی گئی تھی۔ انشاءاللہ اگر ہمیں پاکستانی عوام نے موقع دیا تو ہم پاکستان کو ایک نیا نظام دیں گے، اسلامی نظام کی صورت میں دنیا کے سامنے ایک مثالی نمونہ پیش کریں گے۔ دنیا کی ان مظلوم قوموں کی بھی مدد کریں گے کہ جن کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 262021
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے