0
Friday 4 Apr 2014 22:40

ملک شام کی کامیابی دراصل تمام مسلمانوں کی کامیابی و سربلندی ہے، مولانا شیخ غلام رسول نوری

ملک شام کی کامیابی دراصل تمام مسلمانوں کی کامیابی و سربلندی ہے، مولانا شیخ غلام رسول نوری
مولانا شیخ غلام رسول نوری مقبوضہ کشمیر کے گونگوا سے تعلق رکھتے ہیں، آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کے زیر سایہ جموں و کشمیر کے قدیم مدرسہ سراج الاسلام حسینی درسگاہ میں حاصل کی، تعلیم دین کے کافی اشتیاق کے باعث بھارتی شہر بنارس کا رخ کیا، وہاں جامعہ جوادیہ عربیہ میں داخلہ لیا اور بنارس یونیورسٹی سے ہی عربی میں ’’ایم اے‘‘ کی ڈگری حاصل کی، بنارس میں ہی ظفر الملت مولانا ظفر الحسن اور دیگر جید علماء کی تربیت کے زیر سایہ پروان چڑھے، بنارس کے بعد حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا اور وہاں آقای اعتمادی، آقای وجدانی اور آقای پایانی وغیرہ سے کسب فیض کرتے رہے، 1990ء میں ایران سے جامعہ امام رضا (ع) سرینگر کشمیر کے لئے بحثیت استاد مقرر ہوئے، اس کے بعد آپ نے جموں و کشمیر میں اپنی تبلیغی ذمہ داریاں جاری رکھیں، جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت بھر میں آپ کی خطابت کو سراہا جاتا ہے، 1992ء میں آپ ہی نے یہاں مجالس کو عشرے کے شکل دی اس سے پہلے جموں و کشمیر میں مقامی روش پر مرثیے ہوتے تھے لیکن عشرے نہیں، ادارہ نشر علوم اہل بیت (ع) سے بھی آپ وابستہ رہے، اور فعلاً جموں و کشمیر اہل بیت فاونڈیشن کی سربراہی بھی انجام دے رہے ہیں، اسلام ٹائمز نے آپ سے ایک خصوصی نشست کے دوران انٹرویو کا اہتمام کیا جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: مجمع اسلامی کشمیر سے آپ وابستہ رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ آپ نے مجمع کو خیرباد کہہ کر جموں و کشمیر اہل بیت فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: جب میں ایران سے فارغ التحصیل ہوکر کشمیر آیا تو یہاں اس وقت آغا سید حسن الموسوی ایران سے آئے ہوئے تھے، وہ یہاں آتے ہی اپنے امور میں بہت مصروف ہوگئے، پھر میں نے ایک کوشش کی کہ جو طلاب ایران سے واپس کشمیر آئے، ہم نے چاہا کہ ہم سب مل کر کام کریں، جگہ جگہ پر دینی مراکز اور اسلامی لائبریرز کی بنیاد رکھی جائے، ہم نے تمام علماء کرام کے لئے اہل بیت فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھنا چاہی تھی لیکن اسی زمانے میں مجمع اسلامی کی بنیاد ایران میں پڑی، ہم سے رجوع کیا گیا ہم نے اہل بیت فاؤنڈیشن کی قربانی دی اور مجمع اسلامی کشمیر سے وابستہ ہوئے، میرے انکار کے باوجود مجھے 6 مہینے کے لئے عبوری صدر منتخب کیا گیا، مجھے بیرون ریاست جانے کی ضرورت آن پڑی، 6 مہینے ختم ہوتے ہی میں نے مجمع اسلامی کشمیر کی مجلس اعلیٰ کو نامہ ارسال کیا کہ اب الیکشن کیجئے تاکہ صدر کا انتخاب کیا جا سکے لیکن آج کی تاریخ تک مجھے کوئی جواب نہیں ملا لیکن وہ میرے بغیر کام کرتے رہے، کوئی پیغام، کوئی حکم اور کوئی جواب نہ ملنے کی وجہ سے میں فعال دینی کردار ادا نہ کر سکا، مجھ سے کوئی کام نہیں لیا گیا، پھر ہم نے دوبارہ اہل بیت فاؤنڈشن کو فعال کیا، کچھ دوستوں کے ذہن میں ہے کہ میں نے استعفیٰ دیا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں درحقیقت چاہتا تھا کہ مجمع اسلامی کام کرے اور میں بھی اپنی خدمات پیش کرسکوں لیکن ایسا نہیں ہوا، لیکن الحمدللہ مجمع اسلامی بھی اپنی دینی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہا ہے جس سے ہم پرامید ہیں۔

اسلام ٹائمز: جموں و کشمیر میں آپ نے پچھلے بیس بائیس سال سے اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے، فعلاً اس حوالے سے کیا صورتحال ہے۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: اسلام نے تمام مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کیا ہے وہ کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہے ، ایک ہے کلمہ وحدت اور ایک ہے وحدت کلمہ، کلمہ وحدت تو موجود ہے لیکن وحدت کلمہ بھی ہونا چاہیئے، یعنی تمام مسلمانوں کی آواز ایک ہونی چاہیئے، اللہ ایک، قرآن ایک، قبلہ ایک اور منفعت و نقصان بھی ایک ہی ہونا چاہیئے، اس وحدت کلمہ اور اتحاد بین المسلمین پر ہم نے یہاں پر بہت زیادہ کاوشیں کی ہیں اس میں ہمیں شہید مولانا شوکت صاحب نے زبردست ساتھ دیا تھا لیکن وہ بھی دشمن کی ناپاک سازشوں کا شکار ہو گئے اور شہید کئے گئے، مولانا شوکت کے بعد بھی جموں و کشمیر حمایت الاسلام اور باقی تنظیمیں اتحاد کے حوالے سے فعال کردار ادا کئے ہوئے ہیں، الحمدللہ کاوششیں ہو رہی ہیں اور مثبت نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں، یہاں کی غالب اکثریت اتحاد بین المسلمین کی قائل ہے بعض لوگ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر آپس میں رخنہ اندازی کر رہے ہوتے ہیں، وہ لوگ جزوی اور سطحی معاملات کو اچھالتے ہیں اور بڑا نقصان کر گزرتے ہیں، اسلام کی تعلیمات ہیں کہ بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹے نقصان کی قربانی دی جائے، مثلاً اگر انسان کسی بڑی مشکل یا مرض میں مبتلاء ہو جائے تو مال وغیرہ کی قربانی دی جا سکتی ہے اور بڑی مشکل سے بچا جا سکتا ہے، اسی طرح ہمیں ذاتی، جزوی، فقہی مسائل کو فراموش کرکے یا بند کمرے میں رکھ کر کلیات اور اہم مسائل و مشکلات پر ایک ساتھ جمع ہونا ہوگا، ہمیں اپنے بڑے مقصد کلمہ وحدت اور وحدت کلمہ پر جمع ہونا ہوگا۔

ہمیں بنیادی مسائل کی طرح متوجہ ہونا ہوگا اور مشترکات پر مل بیٹھ جانا ہو گا توحید و رسالت اور قرآن پر بات کرنی ہوگی اور اپنا ایک مشترکہ پلیٹ فارم مرتب کرنا ہوگا، رخنہ انداز بھی دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ لوگ شعوری اور بعض لاشعوری طور دشمن کے آلہ کار ثابت ہوتے ہیں، لاشعور طبقہ یا تو اپنی دین سے زیادہ وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور جذبات میں بہت کچھ غلط کر گذرتے ہیں، دشمن اسلام کی ہمیشہ یہ سازش رہی ہے کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور جھگڑتے رہیں، مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے وہ حکومت کرتے رہیں گے، وہ ہمارے تفرقہ کے نتیجے میں اپنا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں وہ کبھی اسلام کی سربلندی نہیں چاہتے ہیں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دشمن ہم میں سے کچھ لوگوں کو استعمال کرتے رہتے ہیں، دشمن مسلمانوں کو دوست بن کر بھی بڑا نقصان پہنچارہا ہے ہمیں ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے، دشمن کی ہر ناپاک سازش سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں آپ اپنی تبلیغی ذمہ داریاں عرصہ دراز سے جاری رکھے ہوئے ہیں کیا مثبت رجحان ابھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد یہاں بھی تبدیلیاں اور بیداری رونما ہوئی ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ تمام برائیوں کی بنیاد جہالت ہے، جہالت ہی ہر برائی کی کنجی ہے، یہ جہالت ہی ہے جو ہمیں اسلام ناب سے دور رکھے ہوئے ہے اور کبھی جہالت کے سبب لوگوں کا استحصال بھی ہوتا ہے، لیکن ہم جموں و کشمیر میں مطمئن ہیں کہ یہاں پر تمام مسلمان اسلامی بیداری کے حوالے سے پیش پیش ہیں، اور آگے بھی ہمیں امید ہے کہ یہاں اسلامی بیداری کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آتے رہیں گے، یہاں تک کہ ایک انقلابی صورت میں قوم آگے آ جائے۔

اسلام ٹائمز: عالم اسلام میں لوگوں کی انقلاب اسلامی کی جانب رغبت کے حوالے سے آپ کی نگاہ کیا ہے، کیا یہ بیداری کی لہر کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔؟ خاص طور سے مصر میں بدلاؤ اور اس پر شدتِ مظالم کو آپ کیا کہتے ہیں۔؟

مولانا غلام رسول نوری: دیکھئے رب العزت کا قانون ہے کہ ’’ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم الستقاموا تتنزلوا علیکم الملائکۃ‘‘ وہ لوگ کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے یعنی جن کی فکر صحیح ہے اور اللہ پر اعتماد کئے ہوئے ہیں، اور اس پر استقامت کئے ہوئے ہیں، تو ملائکہ مدد کے لئے ضرور آتے ہیں اور انہیں غیببی امداد ضرور ہوتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ ایسے تمام لوگوں کی مدد ہوگی بشرطیکہ وہ استقامت کریں اور قربانیاں پیش کرتے رہیں، جنرل السیسی اور اس جیسے درندہ صفات جو کچھ بھی انجام دے رہے ہیں بظاہر انکی کامیابی ہے کہ یہ حکومت کر رہے ہیں اور لوگوں کا طاقت کے بل پر خون بہا رہے ہیں لیکن دراصل یہ ان کی ناکامی ہے اور انکی واضح شکست ہے، کامیاب لوگ کامیاب حکومتیں عام لوگوں کا خون نہیں بہایا کرتی ہیں، یہ سراپا درندگی ہے، قتل و غارت کا زیادہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اپنی ناکامی کا اعلان کرتے ہیں اور قتل و غارت ہی بتاتی ہے کہ اسلامی بیداری کی مہم جاری ہے اور تقویت پاتی جا رہی ہے، لیکن اس کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں مثلاً ایرانی قوم نے قربانیاں دی اور ان قربانیوں پر انہیں اطمینان بھی ہے، اور اپنے مشن پر انہیں ناز بھی ہے اور فخر بھی، دنیا میں جو بھی تبدیلی رونما ہورہی ہے یہ کوئی مسلکی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انقلاب کی ایک کڑی ہے کہ جس کے سامنے دنیا کا سوپر پاور بھی جھکنے کے لئے تیار ہوگیا اور جھک گیا، یہ صرف استقامت و پامردی کا ہی نتیجہ ہے۔

اسلام دشمن عناصر ہمیں قتل کرسکتے ہیں لیکن ہماری حق پر مبنی تحاریک کو کچل نہیں سکتے، دشمنان اسلام ہمیں قتل کرسکتے ہیں جو ہم نے کربلا سے سیکھ رکھا ہے، دشمنان اسلام زیادہ سے زیادہ ہمارے گھروں کو جلا سکتے ہیں جو ہم کربلا سے سیکھ کر آئے ہیں، دشمنان اسلام کے مظالم کی حد یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے بچوں اور خواتین کو اسیر کرسکتے ہیں جو ہم نے کربلا سے سیکھ لیا ہے، لیکن جو تحریک جناب زینب (ص) نے جاری رکھی اس میں ہمارے تمام مسائل کا حل ہے اور درس انقلاب بھی، لہذا شہادت اور قربانی ناکامی نہیں ہوتی ہیں بلکہ یہ کامیابی کی دلیل ہوتی ہے، حق پر مبنی تحریک کے لئے استقامت کرنا ہی اصل کامیابی ہوتی ہے، تمام مسلمان وقت کی اہم ضرورت اسلامی بیداری کو محسوس کررہے ہیں بہت جلد باشعور مسلمان ایک عظیم تبدیلی رونما ہوتا دیکھیں گے۔

اسلام ٹائمز: شر پسند عناصر کے خلاف شام میں لوگوں کی استقامت کے بارے میں آپ کی الفاظ۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: ملک شام کے لوگ الحمدللہ استقامت کئے ہوئے ہیں اور دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں جس کے باعث یقیناً کامیابی ان کا مقدر ہے اور تکفیریوں کو ہر حال میں شام کو خالی کرنا ہی پڑے گا، قرآن مجید کا یہ واضح اعلان ہے کہ جو استقامت کرے گا وہ کامیاب ہوگا، انشاءاللہ ہم بہت جلد شام کو ایسے عناصر سے پاک ہوتا ہوا دیکھیں گے، اور ملک شام کی کامیابی دراصل تمام مسلمانوں کی کامیابی و سربلندی ہے، مسلمان شام کے مسئلہ کو نہیں سمجھ پاتے ہیں جو قابل افسوس ہے اور انکی سراسر نادانی بھی ہے، اسلام صرف شام کا مسئلہ نہیں ہے، اسلام فقط ایران کا نہیں جس کا وہ دفاع کررہے ہیں بلکہ اسلام تمام مسلمانوں کے لئے باعث افتخار ہے، جو بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اسلام اس کا سرمایہ ہے اسکی زینت ہے، لہذا اگر کہیں پر بھی اسلام کو کامیابی ملتی ہے تو یہ تمام مسلمانوں کے لئے سر اونچا کرنے کا مقام ہے۔ تمام مسلمانوں کو از سر نو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور اپنا قبلہ درست کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: نام نہاد مسلم حکمرانوں کا اہم مسائل جیسے کی مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے اور جزوی معاملات کو اچھالنے کے بارے میں کیا کہیں گے۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: عرب حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی لائق مذمت ہے اور یہ خاموشی ہی انکو ڈبو لے جائے گی، اس حوالے سے مجھے علامہ اقبال (رہ) کا زریں کلام یاد آتا ہے کہ: دنیا کو پھر ہے معرکہ روح و بطن پیش، تہذیب نے اپنے درندوں کو ابھارا، ابلیس کو ہے یورپ کی مشینوں کا سہارا، اللہ کو ہے پامردی مومن پر بھروسہ۔ دنیا میں ہمیشہ روح و بطن کا معرکہ پیش رہا ہے اور یہ جنگ ازل سے رہی ہے، استعمار نے دنیا بھر میں تہذیب کے نام سے اپنے درندے فعال کئے ہیں، اور جگہ جگہ پر تبدیلی و ترقی کے نام پر قتل و غارت جاری رکھے ہوئے ہے، عرب حکمران اسی چیز سے ڈرتے ہیں وہ ان تہذیبی درندوں سے ڈرتے ہیں، کہ اگر یورپ ہم سے ناراض ہوگیا اور سوپر پاور ہم سے ناراض ہوگیا تو ہماری کرسیاں ختم، ہمارا اقتدار ختم، لیکن تمام مسائل کا حل یہی استقامت اور پامردی ہے۔ چناچہ اگر عرب حکمران اسلام کی جانب آجاتے تو اقتدار اور حکومت انکے پاس تھی، اور انکے ہاتھوں میں نظام رہتا لیکن اسکے لئے سب سے پہلے اسلام کو خود پر نافذ کرنا ہوگا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ رہی ہے لیکن اسلام کے پرچم تلے تمام مسلمانوں کے لئے پناہ ہے۔

اسلام ٹائمز: دنیا کے تمام نظام باطل ثابت ہورہے ہیں اور دنیا کا باشعور طبقہ اب متبادل کی تلاش میں ہے، طاغوتی نظام کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔؟

مولانا شیخ غلام رسول نوری: دنیا کی تاریخ کی ابتداء سے آج تک اور تاقیامت دنیا کے تمام مسائل کا حل ولایت کے زیر سایہ ممکن ہے، ولایت یعنی ولایت اللہ، ولایت ہی ہمیں تمام مسائل و مشکلات سے چھٹکارا دلا سکتی ہے، ولایت یعنی حکومت خدا، حکومت خدا کے مقابلہ میں حکومت انسان آتی ہے، حکومت انسان اور حکومت خدا میں فرق یہی ہے کہ حکومت انسان وہ قانون پاس کرتی ہے جو وہ چاہتی ہے، اس نے چاہا شراب کا بل پاس کیا، ہم جنس پرستی کا قانون نافذ کیا، چاہے اس سے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو، لیکن حکومتِ خدا میں وہ چیز نافذ ہوتی ہے جس کی انسانیت اور مخلوقات کو ضرورت ہوتی ہے، اللہ ہی ہماری ضروریات کو جانتا ہے اور ہمارے نفع و نقصان کو جانتا ہے اس لئے ہمارے اوپر تمام مخلوقات پر اللہ کی حکومت اور اللہ کی ولایت کی ضرورت ہے، انسان اپنے چاہت و خواہش پوری کرنے کے لئے قانون بناتا ہے چاہے اس میں کسی کی موت کیوں نہ ہو کسی کی بربادی کیوں نہ ہو، اسی لئے ولایت اللہ کی ضرورت ہے اور ولایت اللہ ہی ہے جو پیغمبر اسلام (ص) نے نافذ کی تھی، اس لئے اللہ نے پیغمبر اسلام (ص) سے فرمایا کہ اے رسول تمہارا ہاتھ تمہارا ہاتھ نہیں ہے بلکہ میرا ہاتھ ہے احکامات میرے ہیں افعال میرے ہیں، اس لئے پیغمبر اسلام کے بعد بھی کوئی ہونا چاہئے جس کے ذمہ یہ ہو کہ وہ وہی کام کرے، وہی قانون نافذ کرے جو رسول نازنین (ص) نے انجام دیئے ہیں، آخر ہمیں سوچنا چاہیئے کہ انسان انسان کا زیادہ ہمدرد ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا اللہ زیادہ ہمدرد ہے، دراصل ہم اسلام میں نافذ قوانین پر اگر اعتراض کرتے ہیں تو ہم اللہ پر اعتراض کرتے ہیں، لہذا ولایت جس کی ہم بات کرتے ہیں وہی ولایت اللہ ہے جو پیغمبر اسلام (ص) نے نافذ کی جس کے سایہ میں تمام انسانیت کے مسائل کا حل مضمر ہے۔ الحمدللہ دنیا دیگر نظام سے تنگ آ چکی ہے اب وہ اسلام اور نظام ولایت کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کی بہت کم مدت میں تمام انسانیت ولایت سے روشناس ہو جائے گی اور دنیا کا موجودہ نظام بدل جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 368529
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے