0
Friday 16 Jan 2015 01:24

فوجی عدالتوں کے قیام اور 21ویں ترمیم کی مکمل حمایت کرتے ہیں، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر

فوجی عدالتوں کے قیام اور 21ویں ترمیم کی مکمل حمایت کرتے ہیں، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) آپ کی جماعت کا مشن ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے حال ہی میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی صدارت سنبھالی ہے۔ اسلام ٹائمز نے صدر ملی یکجہتی کونسل سے اکیسویں آئینی ترمیم، ملٹری کورٹس کے قیام اور بعض مذہبی جماعتوں کے تحفظات پر خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام پر آپکا موقف کیا ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشتگردی نے ملک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے، سانحہ پشاور بدترین دہشتگردی کا واقعہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس کی وجہ سے حکمرانوں کو کوئی عقل آئی ہے۔ ہم تو برسوں سے کہہ رہے تھے کہ دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرو، چلو دیر آید درست آید، لیکن اب چیزیں نظر آنی چاہیئے۔ پاک آرمی نے دہشتگردی کیخلاف کارروائی کا قدم اٹھایا ہے، اللہ کرے حکومت نیک نیتی کے ساتھ پاک آرمی کا ساتھ دے۔ اس وقت جو بھی اقدامات رہے ہو رہے ہیں اور دہشتگردی کیخلاف کورٹس قائم ہو رہی ہیں، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں دہشتگردوں کا مکمل سے صفایا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں دہشتگردوں کیخلاف اسی تیز قسم کی کارروائی کی ضرورت تھی، ہم اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ ایک چیز جس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دہشتگردوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر آپ نے مذہبی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی اور باقیوں کو کھلے عام چھوڑ دیا تو پھر یہ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ لسانی دہشتگردی، علاقائی دہشتگرد اور ملک کو توڑنے کی سازشوں میں ملوث دہشتگردوں کیخلاف بھی اسی طرح کی کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشتگردوں کے درمیان تخصیص نہیں ہونی چاہیئے۔ بلاامیتاز کارروائی کی جائے اور اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، اگر تخصیص کی گئی تو پھر تلخیاں بڑھیں گی جو ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پھانسی کے عمل پر کیا کہتے ہیں، اب دہشتگردوں کو لٹکانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: پھانسی کا عمل اچھا ہے، ہم اسے نیک شگون سمجھتے ہیں، کیونکہ خود کلام خدا کہتا ہے کہ قصاص میں ہی تمہارے لئے زندگی ہے، جس نے کسی کو قتل کیا اسے قتل کرو، قتل کرنا گناہ نہیں بلکہ قتل کرنا زندگی ہے، اس وقت جو موت کا رقص ہمارے سامنے ہے وہ کیا ہے۔؟ اگر ان شہداء کے خون کا قصاص لیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ آج کے ہمارے حالات اسی وجہ سے ہیں کہ ہم نے قصاص کو چھوڑ دیا تھا ورنہ آج یہ حالات نہ ہوتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سزا بحال کی گئی ہے تو بہت اچھا عمل ہے، ہم اس کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ تمام دہشتگردوں کو پھانسی دی جانی چاہیئے۔ اس میں کوئی رعایت نہ دی جائے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے داعش کے حوالے سے کھلا اسٹینڈ لیا، کیا آپ سمجھتے ہیں پاکستان میں نظریاتی اور فکری محاذ پر بھی ان کیخلاف مقابلہ کیلئے کام کرنیکی ضرورت ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: ملی یکجہتی کونسل نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے، اس مسئلے پر ہم نے اسلام آباد میں عالمی کانفرنس منعقد کی ہے۔ اس میں دیگر ملکوں کے نمائندے بھی شامل ہوئے تھے۔ ملی یکجہتی کونسل اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، حتٰی توجہ دلانے کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہم نے توجہ دلائی ہے کہ داعش پاکستان میں آرہی ہے اور آچکی ہے لیکن کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، یہ ان کی بھول ہے یا تجاہل عارفانہ ہے یا پھر یہ خود ان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک داعش کی پاکستان میں موجودگی کے دعوے کر رہے ہیں اور پولیس والے روزانہ لوگوں کو داعش کی چاکنگ کے الزام میں پکڑ رہے ہیں لیکن یہ کہتے ہیں داعش نہیں آئی۔ اس طرح کی باتیں نہ کریں، پہلے آپ کی تساہل سے پورا ملک تباہ و برباد ہوا ہے، ان دہشتگردوں کو کوئی ڈھیل نہ دیں اور ان کیخلاف سخت کارروائی کریں۔

اسلام ٹائمز: مدارس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ اس پر کیا کہتے ہیں، آیا ان مدارس کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے یا نہیں، دوسرا آخر کیوں مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر احباب اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور ایک تقسیم نظر آتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: دیکھیں کوئی تقسیم نہیں ہے، ہم کہتے ہیں امیتازی بنیادوں پر کام نہ کریں۔ دہشتگرد خواہ کوئی بھی ہو اسے لٹکایا جائے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان بھی حکومت اور فوج کی کارروائی کیخلاف نہیں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے۔ کسی کو لیسانیت یا کسی پردے میں نہ چھپنے دیا جائے۔ آپ نے دہشتگردوں کو مذہبی اور فرقہ وارنہ طور پر تو نشانہ بنایا ہے جبکہ دوسروں کو کلین چیٹ دیدی ہے۔ اس سے تو دہشتگردی نہیں رکے گی۔ اس سے تو بدامنی مزید بڑھے گی۔ اگر آپ ملک میں امن و امان چاہتے ہیں تو سب کیخلاف بلاامیتاز کارروائی کریں، یہ مت دیکھیں کہ وہ کون ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف بیان دیا، جبکہ جنید جمشید نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے لیکن اعتراف کے باوجود اسکی پھانسی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، جبکہ دوسری طرف سلمان تاثیر جس نے دوٹوک کہا تھا کہ اس نے کوئی توہین رسالت نہیں کی لیکن اسکے قاتل کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: مذہبی جماعتوں نے جنید جمیشد کے معاملے پر نوٹس لیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے اور خود جنید جمشید نے کھلے عام معافی بھی مانگی ہے، ایسا نہیں کہ ہم اس معاملے پر خاموش ہوئے ہیں۔

اسلام تائمز: سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ گستاخی کی سزا موت ہے جسکے بارے میں علماء کہتے ہیں کہ اس جرم کی معافی ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن جنید جمشید کے معاملے پر کیوں معافی کی باتیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ اس نے تسلیم کرلیا ہے کہ اس سے گستاخی ہوگئی ہے۔
؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: دیکھیں ایک ہے توہین رسالت اور ایک ہے توہین اہل بیت (ع) اور توہین اصحاب یا توہین اولیا، ہر توہین کی الگ الگ سزا ہے۔ صرف توہین رسالت پر گردن زنی کی سزا ہے، باقی کسی پر نہیں۔ اس میں کوئی توبہ اور معافی قبول نہیں، اس پر تمام آئمہ متفق ہیں اور مسالک کا اتفاق ہے۔

اسلام ٹائمز: ماہ ربیع الاول کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر: ربیع الاول کا مہینہ میرے مصطفٰی ﷺ کی آمد کا مہینے ہے، آپ ﷺ رحمت بانٹنے کیلئے اس جہان میں آئے ہیں، محبت بانٹنے کیلئے آئے ہیں۔ ہمیں چاہیئے محبت بانٹیں، دہشتگردی کو ختم کریں، ایک دوسرے سے پیار کریں، نفرتوں کو ختم کریں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔
خبر کا کوڈ : 432680
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش