0
Friday 6 Feb 2015 09:51

حزب اللہ کے حالیہ حملے نے ایک بار پھر اسرائیل کے ناقابل شکست ہونیکے دعوے کی دھجیاں بکھیر دیں، علامہ افتخار حسین نقوی

حزب اللہ کے حالیہ حملے نے ایک بار پھر اسرائیل کے ناقابل شکست ہونیکے دعوے کی دھجیاں بکھیر دیں، علامہ افتخار حسین نقوی
علامہ سید افتخار حسین نقوی کا شمار پاکستان کی معروف مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے دور میں ہونیوالی مکتب تشیع کی تمام سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل رہے۔ ایک عرصے تک تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر رہے، اسکے بعد آپکو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر چن لیا گیا۔ ضلع میانوالی میں قائم مدرسہ امام خمینی (رہ) کے انچارج ہیں۔ علامہ افتخار نقوی سچ ٹی وی کے چیئرمین ہونے کے علاوہ امام خمینی ٹرسٹ کے بھی سربراہ ہیں۔ اسلام ٹائمز نے علامہ صاحب سے ملکی و بین الاقوامی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: اکیسویں ترمیم اتفاق رائے سے پاس ہوگئی، کیا آپ اس پر بھرپور انداز میں عمل درآمد دیکھ رہے ہیں۔
؟
علامہ افتخار حسین نقوی: اکیسویں ترمیم کے مطابق فوجی عدالتیں بن چکی ہیں اور انھوں نے اپنا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ وکلاء صاحبان اسکے خلاف سپریم کورٹ میں گئے ہوئے ہیں، لیکن ہماری معلومات کے مطابق اس پہ عمل شروع ہوگیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ جلد اسکے نتائج بھی آنا شروع ہوجائیں گے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور کے بعد سانحہ شکارپور کا ہونا، اسکے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ افتخار حسین نقوی: جو دہشتگرد ہیں اور جو تکفیری گروپس ہیں، جو اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے، وہ کئی بار اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستانی افواج میں جو لوگ کام کر رہے ہیں وہ مرتد ہیں اور جو شیعہ ہیں وہ بھی مرتد ہیں اور جو انکے ساتھ ہیں اور انکے خلاف کام نہیں کرتے وہ بھی مرتد ہیں، انکو مارنا واجب ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے رہنماء خالد خراسانی نے اعلان کیا ہے کہ جہاں بھی ملیں انکو مارو۔ یہ اُسی کا تسلسل ہے، مجھے یہ کوئی اور چیز نہیں لگتی۔ شکارپور کی جو آبادی ہے وہ بہت پیار و محبت کرنے والے لوگ ہیں، وہاں کبھی سنی شیعہ کا مسئلہ رہا ہی نہیں۔ پہلے جو واقعات ہوئے ہیں، وہ کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں جو پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ نہ سنی ہیں نہ شیعہ اور نہ ہی انسان کہلانے کے حقدار ہیں۔ یہ ایک مخصوص فکر ہے، جو برطانیہ کے ایک ایجنٹ نے شروع کی تھی، اور پھر یہ اسی کا تسلسل ہے، جو جاری ہے۔

اسلام ٹائمز: اس ساری صورتحال میں حکومتی کارکردگی کیا دیکھ رہے ہیں؟
علامہ افتخار حسین نقوی: حکومت نے نالائقیوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، اسے جس طرح کام کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کر رہی۔ وزیراعظم صاحب کراچی میں موجود تھے اور انکا شکارپور نہ جانا بہت بڑی زیادتی ہے۔ کل رات انکے ایک وزیر احسن اقبال وہاں گئے ہیں اور لوگوں نے بہت شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: حزب اللہ پر اسرائیل کیجانب سے شام میں حملہ کیا گیا، جسکا جواب بھی بھرپور انداز میں دیدیا گیا، اس سارے واقعہ میں اسرائیل کی خاموشی کیا چیز ظاہر کرتی ہے۔؟
علامہ افتخار حسین نقوی: حزب اللہ اس خطے کی ایک بہت بڑی طاقت ہے اور اسرائیل اس سے خوف زدہ ہے۔ وہ پہلے کہتا تھا کہ نیل سے فرات تک میری سلطنت ہوگی، مگر اب وہ اس سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ہمارے سامنے ہے کہ جب 2006ء کی جنگ میں اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، خطے کی ایک بڑی طاقت ہونے کی دعوے دار ریاست کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اب انکے بیانات آرہے ہیں کہ اس وقت ان کے وجود کو بھی خطرہ ہے۔ حزب اللہ نے تو اس واقعے کا جواب نہیں دیا ہے۔ اصل میں یہ مزارع شبعا لبنانی علاقہ ہے اور کھیتوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ لبنانی حکومت کئی بار مطالبہ بھی کرچکی ہے کہ ہماری اراضی جو اسرائیل کے قبضے میں ہے، اسے آزاد ہونا چاہیے۔ یہ چونکہ کوئی کارروائی کرنے والے تھے، تو حزب اللہ کے مجاہدین اور لبنانی افواج نے کارروائی کرکے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے، ان کے کچھ بندے بھی پکڑے ہیں، اسرائیل بڑا رسوا ہوا ہے اور اسکے پاس شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک بھر میں کشمیر ڈے منایا جا رہا ہے، اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں۔؟

علامہ افتخار حسین نقوی: کشمیر ڈے کے موقع پر یہی کہوں گا کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت اس بارے میں واضح موقف اختیار کرے اور بڑی طاقتوں سے اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں، مظلوم ہیں اور 66 سال سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انھوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ کشمیری بھی فلسطینیوں کی طرح ہیں، وہاں پر یہودی ان پر ظلم کر رہے ہیں اور یہاں ہندوں ان پر ظلم کر رہے ہیں۔ تمام عالم اسلام کو حکومت کے ذریعے یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے میں کشمیریوں کا ساتھ دیں، جسطرح کہ فلسطینوں کا ساتھ دینا ضروری ہے، اسی طرح کشمیریوں کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے، تاکہ وہ ہندوؤں کے ظلم سے نجات پائیں۔
خبر کا کوڈ : 437807
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب