0
Sunday 1 Mar 2015 01:24
آزادی فلسطین مغربی ممالک کی قراردادوں میں نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت میں پنہاں ہے

ایران مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کی جعلی سرحد پر پہنچ چکا ہے، صابر ابو مریم

ایران مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کی جعلی سرحد پر پہنچ چکا ہے، صابر ابو مریم
صابر ابو مریم کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے، آپ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل و مرکزی ترجمان ہیں، پاکستان میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں، ماضی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہے اور فعالیت انجام دیتے رہے، اس کے علاوہ صابر ابو مریم مقالہ نویسی بھی کرتے ہیں اور آپ کے مقالات پاکستان کے معروف اخبار ”روزنامہ ایکسپریس“ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے حق میں مغربی ممالک کی پارلیمنٹ میں قراردادوں کی حقیقت، فلسطین میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں مسجد و چرچ کا نذر آتش کیا جانا، شامی علاقے قنیطرہ میں اسرائیلی فوج کے حزب اللہ پر حملے اور لبنانی کے مقبوضہ علاقے شبعا فارم میں حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی قافلے پر جوابی حملہ، صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کا واویلا کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کیخلاف ایران محاذ بنا رہا ہے، کیا ایران مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے قریب پہنچ چکا ہے، قنیطرہ پر اسرائیلی حملہ اور اسرائیلی انتخابات میں کوئی مماثلت ہے، کیا ناجائز اسرائیلی حکومت کے خاتمے کیلئے جاری جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں، دینی و مذہبی جماعتوں، عوام و خواص کے کردار سمیت مختلف موضوعات کے حوالے سے صابر ابو مریم کیساتھ نشست کی، اس وقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: اٹلی کی پارلیمنٹ نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے حق میں علامتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ہے، اس سے قبل بھی کئی مغربی ممالک کی پارلیمنٹ میں اس قسم کی قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں، مگر پھر بھی مغربی ممالک میں برسراقتدار طبقہ اس پر عمل درآمد نہیں کر رہا ہے، مغربی ممالک کی پارلیمنٹ میں آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں قراردادوں کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور کیوں مغربی حکومتیں ان پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہیں۔؟
صابر ابومریم:
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔۔۔ جہاں تک اٹلی اور دیگر ممالک کے ایوانوں میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کئے جانے کے حوالے سے قرار دادیں سامنے آئی ہیں، اس حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت اور خوش آئند فعل ہے کہ اب دور جدید میں ایوانوں میں بیٹھنے والے افراد کو فلسطینیوں پر ہونے والے صیہونی مظالم کا احساس ہونے لگا ہے، لیکن دراصل اگر دیکھا جائے تو مسئلہ فلسطین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کون ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کو پیدا کرنے اور فلسطینیوں پر جاری مظالم کا ذمہ دار کون ہے؟ غاصب اسرائیل کے ناپاک وجود کے قیام کیلئے عملدرآمد کروانے میں کون آگے تھا؟ پھر اسی طرح چھ دہائیوں سے ملت مظلوم فلسطین پر ہونے والے صیہونی مظالم پر کس نے پردہ پوشی کی؟ اسی طرح کے اور بہت سارے سوالات ہیں کہ جن کے بارے میں گفتگو کی جاسکتی ہے، لیکن خلاصہ یہ ہے کہ غاصب اسرائیل کے قیام میں بوڑھا استعمار برطانیہ اور پس پشت امریکا تھے، جبکہ یورپی ممالک جن میں اٹلی، فرانس سمیت دیگر کئی ممالک شامل تھے، جو اس غاصب اور غیر قانونی ریاست کے قیام کے لئے حمایت کر رہے تھے، وہ کون سی ریاستیں تھیں کہ جنہوں نے اپنے ممالک سے یہودیوں کو اسرائیل جانے میں معاونت کی، یہ تمام مغربی دنیا کے ممالک اور ان کی حکومتیں تھیں۔

اب جہاں تک فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کئے جانے کے لئے یورپی ممالک میں قراردادوں کے منظور کئے جانے کا سلسلہ چل نکلا ہے، بظاہر تو یہ ایک اچھا اور مثبت اقدام نظر آتا ہے، لیکن ہمیں بہت باریک بینی اور تاکید کے ساتھ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان قراردادوں کی تفصیل میں فلسطین کو جہاں ایک آزاد ریاست تسلیم کئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہاں نابود ہوتی ہوئی غاصب اسرائیلی حکومت جو کہ غیر قانونی ریاست بنی ہوئی ہے، اسے بھی قانونی ریاست بنانے کی خاموش کوشش کی جا رہی ہے، یعنی آپ آسان الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ کہیں اس فعل کے پیچھے ایسا تو نہیں کہ دو ریاستی حل کو فروغ دیا جائے، اگر ایسا ہے یا ایسا سوچا بھی گیا ہے تو یہ فلسطین اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ 1948ء سے بڑا نکبہ ثابت ہوگا اور صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہی خیانت نہیں ہوگی، بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، کیونکہ غاصب اسرائیل گذشتہ چھ دہائیوں میں اب تک اپنے جارحانہ اور جنگی عزائم سے یہ ثابت کرچکا ہے کہ اسرائیل صرف فلسطین اور مشرق وسطٰی کے لئے ہی خطرہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے خطرہ ہے، آخری بات میں یہی کہتا ہوں کہ یہ مغربی استعماری جھانسوں میں آنے کی بجائے ہمیں ملت مظلوم فلسطین کی بھرپور مدد کرنی چاہئیے اور فلسطین کی آزادی کا راستہ مغربی ممالک کی قراردادوں میں نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت کے راستہ میں پنہاں ہے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں فلسطین میں مسجد اور چرچ کو صہیونی اسرائیلی شدت پسندوں نے حملے کرکے نذر آتش کر دیا، آپ ان حملوں کے پس پردہ عوامل کیا سمجھتے ہیں۔؟
صابر ابومریم:
انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین پر 1948ء سے کہ جب غاصب اسرائیلی تسلط قائم ہوا، اس دن سے ہی متعدد مرتبہ ناجائز اسرائیلی حکومت کے عزائم ہمارے سامنے آتے رہے ہیں کہ جس میں بنیادی ترین مقصد مسلمانوں کے قبلہ اول اور عالم اسلام کے تیسرے بڑے اور اہم مقام کو منہدم کرنا یعنی قبلہ اول بیت المقدس کو منہدم کرنا ہے اور اسکی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر ہے، یہ خود ایک دہشت گردانہ عزائم ہے، دنیا کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور نقصان پہنچانے کا کھلم کھلا اسرائیلی اعلان ہے۔ اسی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں بھی مسجد اقصٰی کو 1969ء میں پاگل شدت پسند صیہونیوں نے نذر آتش کیا ہے، اسی طرح اکیس برس قبل مسجد ابراہیمی کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، ابھی حالیہ دنوں ایک مرتبہ پھر مسجد الہدیٰ پر حملہ کرکے نذر آتش کیا گیا اور پھر چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی اندر ایک چرچ کو بھی نذر آتش کر دیا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات کو صیہونی شدت پسندوں کے جانب سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جانا صیہونی درندگی، ان کی حیوانیت اور مذہبی جنونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے، یہی کچھ ان صیہونی اسرائیلی شدت پسندوں کے ایجنٹ مسلمان ممالک میں داعش کی صورت میں کر رہے ہیں، مساجد، چرچ، گرجا گھروں اور دیگر ہر مذاہب کی عبادتگاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حتٰی کہ مزارات مقدسہ کو بھی ان دہشت گردوں نے اپنے ناپاک عزائم کے تحت نقصان پہنچایا ہے، تاہم یہ ایک صیہونی مذہبی جنونیت ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے باضمیر، حریت پسند لوگ اکٹھے ہوں، عالمی دہشت گرد امریکا اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ اور مذہبی جنونیت کے اقدامات کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جائے۔

اسلام ٹائمز: رواں سال 18 جنوری کو صہیونی فوج کے جنوبی شام کے علاقے قنیطرہ پر حملے میں حزب اللہ کے جوانوں سمیت ایرانی جنرل شہید ہوئے، جسکے جواب میں لبنان کے مقبوضہ سرحدی علاقے "شبعا فارم" میں حزب اللہ کے حملے میں سترہ صہیونی فوجی ہلاک ہوئے، عالمی میڈیا میں پہلی بار جنوبی شام کے علاقے قنیطرہ کا چرچا ہوا، اور اب فلسطین پر قابض ناجائز صہیونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کا واویلا جاری ہے کہ ایران قنیطرہ سے نزدیک شام کے مقبوضہ سرحدی علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کیخلاف تیسرا محاذ بنا رہا ہے، ایران کیجانب سے اسرائیلی سرحد کے نزدیک کی جانیوالی پیش قدمی پہلا اور اہم خطرہ ہے، آپکی نظر میں اس ساری صورتحال کی حقیقت کیا ہے، کیا واقعی ایران مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے قریب پہنچ چکا ہے۔؟
صابر ابومریم:
دیکھیں جہاں تک شامی سرحدی علاقے قنیطرہ میں اسرائیلی حملے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں واضح طور پر حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ بتا چکے ہیں کہ غاصب اسرائیلی دشمن بہت پہلے سے ہی ایرانی کمانڈر اور انکے ساتھ رہنے والے دیگر حزب اللہ کے مجاہدین کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل تھا، تاہم شہادت حزب اللہ کے جوانوں اور قیادت کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ ایک اعزاز اور افتخار ہے، جس کے لئے حزب اللہ کی تمام قیادت اور جوان ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور بارہا اپنی تقاریر میں اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہے ہیں، عملی طور پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی ثابت کیا ہے کہ حزب اللہ شہادت کو پسند کرتی ہے نہ کہ اسرائیلیوں کی طرح موت سے خوف کھاتے ہیں۔ جی ہاں! حزب اللہ نے اسرائیلی حملے کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایک بڑی کارروائی کی اور اسرائیل کے سترہ فوجیوں کو جہنم رسید کیا، یقیناً یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی، جسے بعد میں حزب اللہ نے اعلانیہ طور پر بیان بھی کیا، جہاں تک قنیطرہ میں ایران کی سرگرمیوں کے بارے میں نیتن یاہو کا واویلا کرنے کی بات ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ غاصب اسرائیلی حکومت انقلاب اسلامی ایران، اس کی شجاع افواج اور عوام سے بری طرح خوفزدہ ہوچکی ہے، کیونکہ اسرائیلی انتظامیہ نے گذشتہ چار سال میں شام میں کھولے جانے والے محاذ پر دیکھ لیا ہے کہ کس طرح ایران، حزب اللہ اور شام نے متحد ہو کر اسرائیلی منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے، اسرائیل نے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا اور ان کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں کے ذریعے مسلح مدد بھی فراہم کی، لیکن چار سال کے عرصے میں شام کا ایک علاقہ بھی یہ دہشت گرد گروہ حاصل نہیں کرسکے اور اس کا کریڈٹ ایران اور حزب اللہ کو براہ راست جاتا ہے۔

اب جبکہ عالمی سامراجی قوتیں امریکا، اسرائیل اور ان کے عرب اتحادی شام اور عراق میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور دوسری طرف ایران کے P-5+1 ممالک کے ساتھ مذاکرات میں مسلسل کامیابیوں کے بعد ایران اور عالمی ایجنسی حتمی نتائج کی طرف جا رہے ہیں، تو یہ بات اسرائیل کے لئے سخت پریشانی اور خوف کا باعث بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی مسلسل کوشش ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاملات پر ہونے والے حتمی معاہدے کو کسی بھی طرح سبوتاژ کیا جائے۔ ایران کو کسی دوسرے محاذ پر مشغول کرکے ایران کو اس عالمی معاہدے سے پہنچنے والے بڑے فائدے سے کسی بھی طرح دور رکھا جائے۔ جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ کیا ایران واقعی مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر پہنچ چکا ہے، تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، آج بھی اگر جنوبی لبنان کے علاقے مارون الراس کا دورہ کریں تو آپ دیکھیں گی کہ وہاں مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے ساتھ لبنانی سرحد ملی ہوئی ہے اور سڑک کے کنارے پر ایک پارک بنایا گیا ہے، جہاں پر امام خمینی ؒ اور حضرت امام خامنہ ای ؒ کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں جبکہ بیت المقدس کے ماڈل پر مسجد تعمیر کی گئی ہے، جس کی چھت پر ایرانی پرچم لہرا رہا ہے اور سامنے ہی اسرائیلی افواج بیٹھی ہیں، جو دن رات ایرانی پرچم کو دیکھ کر نفسیاتی طور پر شکست کا شکار ہوچکی ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایران مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کی جعلی سرحد پر پہنچ چکا ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غلطی کرنے کی کوشش کی تو ایران پہلے ہی اسرائیل کی جعلی سرحد پر موجود ہے، اسرائیل کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا قنیطرہ میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملے اور صہیونی اسرائیلی انتخابات میں کوئی مماثلت پائی جاتی ہے۔؟
صابر ابومریم:
میں یہ سمجھتا ہوں کہ حزب اللہ کے جوانوں کو اسرائیلی دہشت گرد اور بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد کی جانب سے ہمیشہ ہی اس طرح سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور یہ روٹین کی بات ہے، حزب اللہ کی قیادت اور جوان ہمیشہ اس بات کے لئے آمادہ ہیں، اگر اس بات کو انتخابات سے مماثلت دی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ احمقانہ فعل تھا جو نیتن یاہو نے انجام دیا، کیونکہ انہوں نے ایران اور حزب اللہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا تھا اور ان کو یاد رکھنا چاہئیے تھا کہ حزب اللہ جوابی کارروائی کرے گی اور ایسا ہی ہوا ہے، جوابی کارروائی میں اسرائیل کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد اسرائیل کے اندر عوام نے نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، حتٰی کہ اب تو موساد کے سابق عہدیدار کا بیان بھی سامنے آرہا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو امریکا اور ایران کو لڑوا کر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے برعکس نیتن یاہو کی مقبولیت میں بری طرح سے کمی آئی ہے، جس کا خود ان کو بھی احساس ہوچکا ہے۔

اسلام ٹائمز: قنیطرہ پر اسرائیلی حملے کے بعد حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے انٹرویو میں حزب اللہ لبنان کی آئندہ پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری آئندہ پالیسیاں اپنی سرزمین پر رہ کر دفاع کرنے کی بجائے جنگ کو دشمن کی سرزمین میں کھینچ لے جانے پر مبنی ہونگی، جسکے بعد حزب اللہ نے فلسطین پر قابض اسرائیلی حکومت کی جعلی حدود کے اندر جا کر اسرائیلی فوج پر کامیاب حملہ کیا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ فلسطین کی آزادی اور ناجائز اسرائیلی حکومت کے خاتمے کیلئے جاری جدوجہد اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے؟
صابر ابومریم:
حزب اللہ کے سربراہ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جنکے بارے میں خود صیہونی ذرائع ابلاغ اور اسرائیلی انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ کبھی غلط بیانی نہیں کرتے یا جھوٹ نہیں بولتے ہیں، یہ چند سال قبل کی بات ہے، جب سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم ہمارے شہروں پر حملہ کرو گے، ہم تمھارے شہروں پر حملہ کریں گے، تم ہماری پورٹس پر حملہ کرو گے، ہم تمھاری پورٹس پر حملہ کریں گے، تم لبنان کے ایئر پورٹ پر حملہ کرو گے، ہم بن گوریون ایئرپورٹ پر حملہ کریں گے، پس جو تم کرو گے تمھیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور حالیہ دنوں قنیطرہ اور شبعا فارمز کے واقعات کو دیکھا جائے تو حزب اللہ کے سربراہ کی بات سچ ثابت ہوئی ہے۔ حزب اللہ نے ایک منظم عملیات انجام دیا ہے، جس میں وقت، جگہ، افراد اور نقصان کا خاص طور پر خیال رکھا گیا، مثلاً اسرائیل نے جس اوقات پر حملہ کیا بالکل اسی وقت پر حزب اللہ نے جوابی کارروائی انجام دی، جس قدر حزب اللہ کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، اسی طرح حزب اللہ نے اتنی ہی اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، اور ایک ایسے علاقے میں کارروائی کی کہ جس پر خود اسرائیل قابض ہے، تو حزب اللہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں جنگ کو لے جانے کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح پہلے سوال میں جو آپ نے قنیطرہ اور اسرائیل کی پریشانی کی بات کی تھی، تو وہ بھی اسی طرح سے ہے کہ جنگ اب شام سے نکل کر اسرائیل کے ان مقبوضہ سرحدوں تک جا پہنچی ہے کہ جہاں خود اسرائیلی افواج بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے گذشتہ پاکستانی سول و فوجی حکومتوں کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ اور اس حوالے سے پاکستان کی نواز حکومت کے کردار سے مطمئن ہیں۔؟
صابر ابومریم:
پاکستان کے قیام سے اور قیام پاکستان سے قبل بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی اور اپنی تقاریر میں صیہونی غاصبانہ تسلط سے آگاہ کیا، یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں آنے والی کسی بھی حکومت نے غاصب اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے، صرف یہی نہیں کہ تسلیم نہیں کیا بلکہ فلسطینی کاز کی جس قدر ممکن ہے، سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے، البتہ ماضی میں پرویز مشرف کی حکومت میں مشرف نے کچھ خفیہ کوششیں ضرور کی تھیں کہ جس میں وہ بیک ڈور چینل کے ذریعے اسرائیلی صیہونی دشمن سے دوستی کے خواہاں تھے، لیکن عوام کے شدید ردعمل نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا اور امید ہے کہ پاکستان کے عوام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے فرامین اور ان کی ہدایات کے مطابق ملت مظلوم فلسطین کی آزادی تک سیاسی و مالی و اخلاقی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جہاں تک موجودہ حکومت یعنی نواز حکومت کی مسئلہ فلسطین کے بارے میں کارکردگی کی بات ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے گذشتہ برس ماہ رمضان میں غزہ پر مسلط کی جانے والی یکطرفہ اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطین کاز کی کھلم کھلا حمایت کی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بھی بلند کی، لیکن حکومت کے یہ اقدامات صرف بیانات تک محدود رہے، جو کہ عملی طور پر بھی ہونا چاہئیے تھے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان ہمارے ملک میں پائی جانے والی ان تمام مصنوعات پر پابندی عائد کرے کہ جن کا براہ راست یا بلاواسطہ تعلق غاصب اسرئیلی کمپنیوں سے ملتا ہے یا اس کا فائدہ کسی بھی طرح اسرائیلوں کو پہنچتا ہو۔ اسی طرح ان مصنوعات کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نعم البدل کے طور پر دیگر مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے بھی اقدامات عمل میں لائے جانے چاہئیں، اگر بہادری کا مظاہرہ کریں تو غاصب اسرائیل کی سرپرست حکومت امریکی سفیر کو ملک بدر کریں یا کم از کم دفتر خارجہ میں بلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین، فلسطینیوں کی مظلومیت، ناجائز اسرائیلی حکومت کے ظلم و بربریت کے حوالے سے پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتیں کو جو مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے تھا، نظر نہیں آتا، اگر یہ سچ ہے تو اسکی کیا وجوہات ہیں۔؟
صابر ابو مریم:
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ان کی قیادتیں ہمیشہ بین الاقوامی سازشوں کے چنگل میں پھنسی رہی ہیں اور یہ خود ایک صیہونی سازشوں کا حصہ ہے، تاکہ پاکستان کے سیاسی و مذہبی حلقوں کو اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر الجھایا جائے کہ وہ مسئلہ فلسطین تو کیا کسی اور مسئلے کی طرف بھی توجہ کرنے کے قابل نہ رہیں، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں امریکہ اور اسرائیل کی ان تمام سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے باہم متحد ہو کر کام کرنا ہوگا اور فلسطین جو مسلم امہ کا مسئلہ ہے اور پاکستان کے لئے اہمیت کا حامل بھی ہے، اس کی مدد کرنا ہمیں اپنا دینی، اخلاقی اور سیاسی فریضہ سمجھنا ہوگا، ان تمام حالات کے باوجود بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سے جب بھی مسئلہ فلسطین کی حمایت کے لئے بات کی جائے تو وہ نکل کر میدان میں آتے ہیں، جس پر ان کی خدمات کو لائق تحسین قرار دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ سیاسی و مذہبی قیادتیں مزید دقت کے ساتھ فلسطین کاز کی حمایت میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسلام ٹائمز: اسلام کے قلعے کی حیثیت رکھنے والے پاکستان میں فلسطین کے حق میں بہت بڑی اور مؤثر عوامی تحریک اور پلیٹ فارم کے قیام کیلئے، جو حقیقی معنوں میں آزادی فلسطین کیلئے اثر انداز ہو، پاکستانی عوام و خواص کو کیا کردار ادا کرنا ہوگا۔؟
صابر ابو مریم:
اس حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج سے 8 برس قبل جامعہ کراچی کے طلباء نے فلسطین کاز کی حمایت کے لئے سرگرم عمل رہنے کے لئے ”فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان“ کی بنیاد رکھی تھی کہ جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان عوامی تحریک، سنی تحریک، جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اسلامی پاکستان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، عوامی مسلم لیگ پاکستان، جعفریہ الائنس پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اعلٰی عہدیداران شامل ہیں اور گذشتہ آٹھ برس سے سرزمین پاکستان پر مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اس کے لئے سیاسی و اخلاقی حمایت کے لئے سرگرم عمل ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس فورم کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے اور جو لوگ ابھی تک اس فورم سے وابستہ نہیں ہوئے، میں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور اس نیک کام میں شریک ہوجائیں اور اسی طرح عوام پاکستان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ جس قدر ممکن ہو مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ضرور ادا کریں۔

اسلام ٹائمز: فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کا بھی ملک گیر وہ کردار نظر نہیں آتا جو کہ پاکستان میں آزادی فلسطین کی نمائندہ تنظیم کے طور پر ہونا چاہیئے تھا، آپ اسکی کیا وجہ سمجھتے ہیں۔؟
صابر ابو مریم:
فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان کے بارے میں میں عرض کرچکا ہوں کہ اس کی تاسیس کو آٹھ برس کا عرصہ بیت چکا ہے، اس کم مدت میں فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان نے ملک میں اور ملک سے باہر بین الاقوامی پروگراموں میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کی بناء پر نومبر 2014ء میں دنیا بھر کی ایک سو سے زائد فلسطینی تحریکوں بشمول حماس، جہاد اسلامی، حزب اللہ، پاپولر فرنٹ کے ایک اجلاس میں فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان کی سرگرمیوں کو سراہا گیا اور اعزاز سے نوازا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود میں آپ کی بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ کام کی رفتار کچھ کم ہے، جس کی وجہ مختلف نوعیت کے مسائل ہیں، ہمارے ملک کی سیاسی فضاء بھی بعض اوقات آپ کی رفتار پر اثر انداز ہوتی ہے، اسی طرح وسائل کا بھرپور انداز میں نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جہاں تک فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان کے نمائدہ جماعت ہونے کا سوال ہے، تو میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان عوامی تحریک، سنی تحریک، جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اسلامی پاکستان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، عوامی مسلم لیگ پاکستان، جعفریہ الائنس پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اعلٰی عہدیداران شامل ہیں اور گذشتہ آٹھ برس سے سرزمین پاکستان پر مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اس کے لئے سیاسی و اخلاقی حمایت کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ہمارے ساتھ طلباء تنظیمیں بھی ہیں، ہم نے انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ روابط قائم کئے ہیں، اسی طرح مزید جہاں تک رسائی ممکن ہو رہا ہے، اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، ایک ویب سائٹ انگریزی اور اردو زبان میں فلسطین کے حوالے سے بنائی گئی ہے www.plfpakistan.com جس پر روزانہ فلسطین سے متعلق اپ ڈیٹس فراہم کی جاتی ہیں، ایک عدد ماہانہ مجلہ Monthly Voice of Palestine بھی شائع کیا جاتا ہے، جسے پاکستان کے نامور سیاستدانوں، شخصیات، کالم نگاروں، لائبریریوں، صحافیوں، ٹی وی چینلز کے دفاتر، یونیورسٹیوں سمیت تمام اہم مقامات پر ارسال کیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 444109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب