0
Sunday 29 Mar 2015 23:40
سعودی عرب کو ایران فوبیا ہو گیا ہے

یمن پر سعودی حملے کا مقصد خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہے، ڈاکٹر پرویز شفیع

اس وقت سعودی عرب کا سب سے قریبی پارٹنر اسرائیل ہے
یمن پر سعودی حملے کا مقصد خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہے، ڈاکٹر پرویز شفیع
کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہر بین الاقوامی قانون و سیاسیات، صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر پرویز شفیع The Institute of Contemporary Islamic Thought (ICIT) جو کہ بین الاقوامی دانشورانہ مرکز ہے، کے پاکستان چیپٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ ICIT کا ہیڈ آفس ٹورنٹو کینیڈا میں واقع ہے، جبکہ برطانیہ، جنوبی افریقہ، پاکستان و دیگر ممالک میں بھی اسکی شاخیں واقع ہیں اور دنیا بھر میں اسکے نمائندے موجود ہیں۔ ICIT کے تحت بین الاقوامی جریدے کریسنٹ انٹرنیشنل (Crescent International) کا بھی دنیا بھر میں اجراء کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز شفیع پاکستانی و عالمی سیاسات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر پرویز شفیع کے ساتھ یمن پر سعودی حملے کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر لیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یمن پر سعودی عرب کے حملے امریکی صیہونی مفادات کی تکیمل کیلئے ہیں، کتنی صداقت سمجھتے ہیں اس بارے میں؟
ڈاکٹر پرویز شفیع: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔ اگر ہم سعودی عرب کے نکتہ نظر سے بھی دیکھیں کہ حوثی قبائل ان کے لئے خطرہ تھے، یا بن رہے تھے، تو یہ صحیح اور مناسب نہیں ہے، کیونکہ یہ یمن کا داخلی معاملہ ہے کہ وہاں کونسی حکومت ہو، وہاں کی عوام کونسے حکمران چاہتے ہیں، منتخب کرتے ہیں، وہاں کوئی آمر عوامی خواہش کے برعکس اگر قوم پر مسلط ہے تو یمن کی عوام کا حق ہے کہ اسے ہٹانے کیلئے جدوجہد کریں، بالکل ایسے جیسے مصر میں ہوا، دیگر ممالک میں ہوا، اسی طرح یہ بھی یمن کا داخلی معاملہ ہے، اس میں سعودی عرب دخل اندازی نہیں کر سکتا، کیونکہ حوثی قبائل نے سعودی عرب کو کوئی دھمکی بھی نہیں دی، سعودی عرب پر کسی بھی قسم کی کوئی جارحیت نہیں کی، بلکہ حوثی قبائل تو اپنے ملک یمن کے داخلی مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں، لہٰذا حوثیوں کا سعودی عرب کیلئے چیلنج یا خطرہ بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دنیا میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، اگر بھارت میں تیس چالیس سالوں سے برسرِ اقتدار کانگریس کی جگہ تین ہزار مسلمانوں کا قاتل اقتدار میں آ جاتا ہے، اور وہ افغانستان میں بھی پاکستان کیخلاف فعال ہو، اس کے باوجود پاکستان کیلئے جواز نہیں بن سکتا کہ بھارتی حکومت ہمارے لئے خطرہ بن رہی ہے، تو ہم بھارت پر حملہ کر دیں۔ دراصل سعودی عرب کو ایران فوبیا ہو گیا ہے، یہ چیزیں سعودی عرب کو امریکا اور اسرائیل نے سکھائی ہیں، کیونکہ اس وقت سعودی عرب کا سب سے قریبی پارٹنر اسرائیل ہی ہے، جو پس پردہ ہر مسئلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، یمن میں حوثی قبائل کی آمریت مخالف جدوجہد سے سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں سوائے اس کے کہ سعودی عرب کو ایران فوبیا ہو گیا ہے، وہ ایران کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یمن میں حوثی قبائل کے پیچھے ایران ہے، چاہے وہاں ایران کا اثرونفوذ ہے نہیں ہے، وہاں ایرانی کی فوجیں ہیں یا نہیں ہیں، جیسا کہ اب تک یمن میں ایرانی مداخلت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آ سکا ہے، یمن پر سعودی حملے کی مختصراً وجہ یہی ہے کہ سعودی عرب کو ایران فوبیا ہو گیا ہے، جس کے حل کا کوئی بھی علاج نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا یمن میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے مشترکہ مفادات وجود میں آ چکے ہیں؟
ڈاکٹر پرویز شفیع: پچھلی کئی دہائیوں سے آپ دیکھیں تو مسلمانوں پر جو بھی بحران آیا ہے، ہر سطح پر، ہر مسئلے میں سعودی عرب کو اسرائیلی حمایت حاصل رہی ہے، مثلاً اسّی کی دہائی میں عراق کا ایران پر حملہ ہو یا ایرانی نیوکلیئر پروگرام ہر کوئی بات چیت ہو، یا پھر مصر میں عوامی حکومت کو گرانے کا مسئلہ ہو، تو ہر جگہ ہر اسرائیل سعودی عرب کو سپورٹ کر رہا ہے، کیونکہ یہ تمام اسرائیلی مفاد میں جاتا ہے، کیونکہ اسرائیل خود بدنام نہیں چاہتا، اس لئے وہ سارے کام سعودی عرب سے کرا رہے ہیں، لہٰذا خصوصاً پچھلے دس سالوں سے اسرائیل کھلم کھلا سعودی عرب کی حمایت کرتا نظر آ رہا ہے، اب تو انہیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے، بلکہ بات تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ابھی تین چار دن پہلے اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ ہم یمن کے معاملے پر اور باقی تمام معاملات پر عرب سنی حکومتوں کی سپورٹ کرینگے، اسرائیل نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا، اس سے صاف اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اور امریکا ان عرب حکومتوں کے کتنے پیچھے ہیں، اور اب یمن پر سعودی حملے کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا کتنا ہاتھ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یمن پر سعودی حملے کا مقصد خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہے۔

اسلام ٹائمز: حوثی قوم شافعی مسلک کے امام کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں، وہ اثنا عشری شیعہ بھی نہیں ہیں، پھر بھی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت کیوں؟
ڈاکٹر پرویز شفیع: میں واضح کر دوں کہ یمن میں بھی شیعہ سنی و دیگر مسلمان مکاتب اسی طرح مل جل کر رہتے ہیں کہ جیسے پاکستان و دیگر ممالک میں، حوثی قبائل کی مخالفت کی وجہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ امریکی اسرائیلی مفادات کے تحفظ کیلئے ہے، سعودی عرب جو فوبیا میں مبتلا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی شیعہ حق کیلئے آواز بلند کرے، چاہے وہ بحرین میں کرے، چاہے وہ یو اے ای میں میں کرے یا کسی اور ملک میں کرے جہاں انکے جائز حقوق پامال ہو رہے ہیں، سعودی عرب اس کا لازمی نتیجہ یہ نکالتا ہے کہ اس کے پیچھے ایران ہوگا، یہ فوبیا کی ایک قسم ہے، یہ بھی سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کے کہنے پر اسے اپنایا ہوا ہے، اسی وجہ سے وہ کہیں بھی اہل تشیع مسلمانوں کو اوپر آتا نہیں دیکھنا چاہتا، چاہے وہ عسکری طور پر ہو یا سیاسی طور پر۔ یمن کا مسئلہ شیعہ سنی نہیں ہے، یمن میں سعودی جارحیت کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ہر جگہ اس کا اثر و نفوذ ہو، اسی لئے سعودی عرب اسرائیل اور امریکا کے کہنے پر عمل کر رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ کہنا درست ہے کہ یمن کا یہ محاذ ایسے وقت میں کھولا گیا ہے کہ جب عراق اور شام میں عالمی دہشتگرد تکفیری تنظیم داعش کو عبرتناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور القائدہ کی حوثیوں کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد بدلہ لینے کیلئے سعودی افواج نے امریکی رضامندی کیساتھ یمن پر حملہ کیا ہے؟
ڈاکٹر پرویز شفیع: اس بات میں بالکل صداقت ہے لیکن میں اس سے بھی آگے جاؤں گا کہ ایک تو یہ داعش کا معاملہ ہے اور دوسرا ایران اور مغربی ممالک بشمول امریکا کے درمیان ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات ہیں، اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی نہیں چاہتا ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے کوئی بھی معاہدہ ہو، تو یہ آخری وقت میں کہ جب معاہدہ ہونے جا رہا ہے، امید ہے کہ پُرامن نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے ایران کے حق کو تسلیم کر لیا جائے گا، لیکن اسرائیل اور سعودی عرب نہیں چاہتے کہ یہ معاہدہ کسی طور پر انجام پائے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایران کو کسی طرح یمن کے مسئلے میں گھسیٹ کر الجھائے، ایران مشتعل ہوجائے اور جواز پیدا کیا جا سکے، تاکہ وہ معاہدہ نہ ہو سکے۔

اسلام ٹائمز: 1970ء میں اردن میں بے گناہ فلسطینیوں کا جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں قتل عام آج تک ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، جسے بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیا پھر ہمیں سعودی ایماء پر یمن کے معالمے میں کود جانا چاہیئے؟
ڈاکٹر پرویز شفیع: نہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہمیں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے یمن کے معاملے میں کودنے سے پرہیز کرنا چاہیے، جو سعودی عرب ہم سے یمن کی آگ میں کودنے کا کہہ رہا ہے، اصل میں یہ ایک ذاتی فیملی ہے ہاؤس آف سعود (house of saud)، وہ درخواست کر رہا ہے ہاؤس آف شریف (house of sharif) سے، درحقیقت نواز شریف صاحب ان کے تابع ہیں، جب انہیں ملک بدر کیا گیا تھا تو وہ ہاؤس آف سعود کے شاہی مہمان رہے تھے، ریکارڈ پر ہے کہ سعودی شہزادے الولید بن طلال نے کہا تھا کہ "Nawaz Sharif, 'very much Saudi Arabia's man' in Pakistan" یعنی نواز شریف پاکستان میں ہمارا آدمی ہے۔ اگر ان دونوں خاندانوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو اس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں، اگر ہاؤس آف شریف، ہاؤس آف سعود سے اچھے تعلقات رکھتا ہے، تو اس وجہ سے افواج پاکستان اور ریاست کو یمن کی آگ میں جھونک دینا، ان عربوں کے جھگڑوں میں جھونک دینا انتہائی نامناسب جہالت کی بات ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ اگر سعودی عرب پر حملہ ہوا ہو تو اس کی مدد کے لئے جایا جائے، لیکن یہاں تو اسی کوئی بات ہے ہی نہیں، اور ڈھنڈورا ایسے پیٹا جا رہا ہے کہ خدانخواستہ حرمین شریفین خطرے میں ہے۔ درحقیقت یہاں تو یمن میں داخلی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، جس کو روکنے کیلئے سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا ہے، جس کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ کیا سعودی عرب نے ایک دوسرے اسلامی ملک یمن پر بلاجواز حملے سے پہلے پاکستان سے پوچھا تھا، اب جب امریکی رضامندی کے ساتھ ساری منصوبہ سازی سعودی عرب نے خود کی ہے مصر اور ترکی کو ساتھ ملا کر، تو ہم جو پہلے ہی دہشتگردی کے سنگین بحران میں ن کئی دہائیوں سے پھنسے ہوئے ہیں، اور اب افواج پاکستان ملک کے اندر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے اور اس دہشتگردی کے سنگین بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، تو ہمیں سعودی ایما پر یمن کی آگ میں جلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر یمن میں تو عوام وہاں آمریت کے خلاف میدان میں ہے، تو ہم وہاں جائیں گے تو کس کے خلاف جائیں گے؟ ہم وہاں جا کر کیا عام لوگوں کو ماریں گے؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
خبر کا کوڈ : 450793
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب