0
Wednesday 1 Apr 2015 00:10

سعودی عرب اور اسکے اتحادی ممالک کی یمن پر جارحیت اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے، راشد احد سینئر تجزیہ نگار

سعودی عرب اور اسکے اتحادی ممالک کی یمن پر جارحیت اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے، راشد احد سینئر تجزیہ نگار
سید راشد احد سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، آپ مختلف انگریزی قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے منسلک رہے ہیں، ریڈیو تہران اور سحر ٹی وی پر بھی آپ کے تجزئیے کافی شہرت رکھتے ہیں، آپ گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے سینئر تجزیہ نگار سید راشد احد کیساتھ یمن پر سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کی جارحیت کے موضوع پر انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کےساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ


اسلام ٹائمز: آپ کی نگاہ میں یمن پر سعودی حملے کے جواز کی کیا وجہ ہے؟
سید راشد احد: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔ یمن پر سعودی حملے کا سب سے بڑا مقصد فلسطین پر قابض صہیونی حکومت یعنی اسرائیل کا تحفظ ہے۔ یمن کی موجودہ تحریک کی صورت میں انہیں واضح نظر آ رہا ہے کہ یمن صہیونیت مخالف اسلامی مقامت کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، یمن کی صورت میں اسلامی مقاومت کا پھیلاو نظر آ رہا ہے، جو عالمی صہیونیت کی نابودی کیلئے عظیم خطرہ ہے۔ سب سے پہلے اسلامی مقاومت انقلاب اسلامی ایران کی صورت میں اٹھی، اس مقاومت کو ختم کرنے کیلئے عالمی سامراجی و استعماری قوتوں نے عراق کے ذریعے ایران پر حملہ کرایا، مگر وہ انقلاب اسلام کو ختم کرنا تو دور کی بات، اس کے پیغام کو بھی روکنے میں ناکام رہے۔ اس اسلامی انقلاب کے نتیجے میں لبنان میں حزب اللہ کی مقاومت ابھر کے سامنے آئی، جس نے اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے بھرم کو مٹی میں ملاتے ہوئے اسے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ اسرائیل کو ایک ایسا مشرق وسطیٰ بنانا چاہ رہا تھا، جو مکمل طور پر اس کے تابع ہو، اس مشرق وسطیٰ میں اسرائیل مخالف کسی طاقت کوئی گنجائش نہ ہو، مگر اس کی اس خواہش کو اسلامی مقاومت نے پورا نہ ہونے دیا، اس کا راستہ روک دیا۔ حزب اللہ کی صورت میں اسرائیل کی سلامتی خطرے سے دوچار ہو چکی ہے، اس کے بعد شام کے پیچھے پڑ گئے، کیونکہ شام کی وجہ سے اسرائیل مخالف اسلامی مقاومت کو بہت بڑی سپورٹ حاصل ہے، کوشش کے باوجود وہ شام جیسے خطرے کو ختم نہیں کر پائے، پھر حماس کی صورت میں میں بھی اسرائیل کی سلامتی خطرے سے دوچار ہے، حماس کی تحریک انتفاضہ کو بھی انقلاب اسلامی ایران کی سپورٹ حاصل ہے، حماس کو حزب اللہ نے بھی سپورٹ کیا، حماس کے بانی شیخ یاسین نے فلسطین کی حمایت کیلئے ایران کے کردار کو سراہا، ایران کا دورہ بھی کیا۔ بہرحال انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی، اس کے نتیجے میں حزب اللہ لبنان کی مقاومت، شام کا اسرائیل مخالف کردار، حماس کی انتفاضہ کی تحریکیں، عراق میں امریکا کی ناکامی، ان سب کی وجہ سے اسرائیل کے تحفظ کو انتہائی شدید خطرہ لاحق ہوگیا، پھر امریکا اور اسرائیل نے عرب بادشاہتوں کو انقلاب اسلامی ایران سے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا کہ تمہاری بادشاہتوں کو اس اسلامی انقلاب سے خطرہ ہے۔

یمن سالہا سال سے سامراجی قوتوں کے خلاف مقاومت دکھاتا رہا ہے، اور حالیہ سعودی حملہ یمن پر کوئی پہلا حملہ نہیں ہے، یہ چھٹا حملہ ہے، اس سے قبل حوثی سعودی جارحیت کا مقابلہ کر چکے ہیں، خود اپنے ملک یمن پر مسلط ڈکٹیٹر حکومت کا مقابلہ کر چکے ہیں، القاعدہ سے مقابلہ کیا ہے، اور امریکیوں کی بمباری کا بھی ڈٹ کر سامنا کر چکے ہیں، یعنی حوثیوں میں اتنی مقاومت ہے کہ وہ چار طاقتوں کا مقابلہ کر چکے ہیں، حوثی قبائل کے اندر مقاومت اور مزاحمت کی غیر معمولی صلاحیت ہے، پھر یہ انقلاب اسلامی ایران کے پیغام سے بھی متاثر ہیں، یہی چیز اسرائیل، امریکا، سعودی عرب وغیرہ کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے، خود حوثیوں کے کتنے ہی بیانات اسرائیل مخالف آئے ہیں، حوثیوں کے کتنے ہی بیانات فلسطینی مقاومت کے حق میں آئے ہیں، لہٰذا سعودی عرب، اسرائیل، امریکا وغیرہ کیلئے فلسطین کے حامی اور اسرائیل مخالف حوثیوں کا اقتدار میں آنا انتہائی تشویش کا باعث بنا، اور وہ بھی سعودی عرب کے پڑوس میں۔ لبنان، شام، عراق اور اب یمن، یہ ایک طاقتور بلاک بن رہا ہے اسرائیل کے خلاف۔ لہٰذا یمن میں حکومت اسرائیل مخالف حوثیوں یا تحریک انصار اللہ کے ہاتھ میں جاتا دیکھ کر ان سے برداشت نہیں ہو سکا، اسرائیلی تحفظ کو خطرے میں دیکھ کر امریکا و اسرائیل کی رضامندی کے ساتھ سعودی عرب سے یمن پر حملہ کرایا گیا، جس کا سب سے بڑا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے، پھر اسرائیل کے تحفظ کیلئے استعمار و سامراج کی پراکسی وار میں سب سے بڑے ہتھیار القاعدہ و داعش کی یمن میں انصار اللہ کے ہاتھوں شکست کے بعد ضروری ہوگیا تھا کہ یمن پر ایک بڑی جنگ مسلط کی جائے اور انصار اللہ کو ختم کرکے اقتدار پر واپس اپنے پٹھو حکمران کو مسلط کیا جائے اسرائیل کے تحفظ کیلئے۔

اسلام ٹائمز: یمن پر سعودی حملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا حقیقت ہے؟
سید راشد احد: یمن کا مسئلہ شیعہ سنی مسئلہ ہے ہی نہیں، اگر امریکا اسرائیل مخالف، سامراج و استعمار مخالف کوئی تحریک سنی دنیا میں بھی اٹھتی ہے، سنی میں بھی ایسا انقلاب رونما ہوتا، سنی میں بھی ایسی مقاومت کا سامنا ہوتا، تو یہی عالم اسلام کے حکمران اسے بھی تنہا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثال کے طور پر اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی پہلی تحریک انتفاضہ جب اسّی کی دہائی میں شروع ہوئی تو کیا اسے پاکستانی میڈیا کوریج ملی، نہیں ملی۔ لہٰذا چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی، اگر وہ مغربی سامراج، امریکی سامراج، صہیونی اسرائیل کے مفادات کے خلاف کوئی تحریک چلاتے ہیں، سرگرمی دکھاتے ہیں تو خود عالم اسلام کے خائن حکمران ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں، ناکام بنانے کیلئے عمل کرتے ہیں، آپ آج یمن کی انقلابی تحریک کے خلاف عرب ممالک کی مشترکہ فوج بنا رہے ہیں، لیکن فلسطین میں تو شیعہ نہیں ہیں، وہاں تو سنی ہیں، جن کا قتل عام اسرائیل کر رہا ہے، ان کو اپنی ہی زمین سے بے دخل کر رہا ہے، اسرائیل کے خلاف آپ عربوں کی مشترکہ فوج بنانے کا کیوں نہیں سوچتے، جس طرح آپ یمن پر دندناتے ہوئے حملہ آور ہوئے ہیں، کبھی اسرائیل کے خلاف ہوئے ہیں، لہٰذا یمن پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کا حملہ مسلمانوں کیلئے نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے

یہ شیعہ سنی مسئلہ یا حرمین شریفین کی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کی یمن پر جارحیت اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے۔ سعودی عرب نے یمن پر حملے کا جواز یہ پیش کیا کہ کیونکہ یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی، لہٰذا اسے بچانے کیلئے ہمیں یہ اقدام اٹھانا پڑا، لیکن کچھ عرصہ پہلے کی ہی بات ہے کہ جب مصر میں مرسی کی آئینی، منتخب، جمہوری حکومت کو وہاں کی فوج نے برطرف کر دیا، تو وہاں بھی سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک جاتے اور کارروائی کرتے، لیکن وہاں بجائے کارروائی کرنے کے، فوج کی حوصلہ افزائی کی گئی، انکی حمایت کی گئی، اور فوج کو 12 بلین ڈالرز بھی دیئے گئے، لہٰذا ان عرب ممالک کے تمام اقدامات کا مقصد صرف اور صرف اسرائیل کا تحفظ ہے۔

اسلام ٹائمز: یمن پر حملے کے نتیجے میں خود سعوی عرب سمیت عرب ممالک کو کیا نقصانات اٹھانے پڑ سکتے ہیں؟
سید راشد احد: یہ جو جنگ انہوں نے شروع کی ہے، اس کا اختتام ان کے بس میں نہیں ہوگا، جس طرح عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی، شروع تو عراق نے کی لیکن اختتام اس کے بس میں نہیں تھا، اس جنگ کا اختتام ایران کے ہاتھوں ہوا، انہیں ایران کے سامنے ہاتھ جوڑنا پڑے، اب جیسے جیسے یہ جنگ طولانی ہوگی ویسے ویسے ان عرب ممالک جن کی اقتصادی و سیاسی سورتحال پہلے جیسے اچھی نہیں ہے، انہیں اقتصادی و سیاسی دونوں صورتوں میں شدید نقصانات سے دوچار ہونا ہوگا، اب تو یہ خبریں بھی عام ہو گئی ہیں کہ سعودی شاہی خاندان میں یمن پر حملے کو لے کر آپس میں اختلافات سنگین ہوگئے ہیں، سعودی خاندان میں بحران پیدا ہو چکا ہے، معتب بن عبداللہ جیسی طاقتور شخصیت نے یمن پر سعودی حملے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے سعودی بادشاہ کی کہ ہم اس جارحیت پر آپکا ساتھ نہیں دینگے، اور آپ نے غلط کیا ہے، شہزادہ طلال بھی یمن پر جارحیت کا مخالف ہے، بہت زیادہ معاملات خرابی سے دوچار ہو چکے ہیں سعودی شاہی خاندان کے اندر، یہ معاملات پہلے سے ہی خراب ہو چکے ہیں، اور اب یمن پر سعودی جارحیت کے بعد اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، داخلی انتشار بہت بڑھ چکا ہے، دوسری جانب یمن میں ناکامی کی صورت میں سعودی عرب سمیت تمام جارح عرب ممالک کے اندر عوام ان بادشاہتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے، ان کے خلاف شدید عوامی بغاوت ہوگی، پھر یہ اپنی عوام کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کرینگے، مگر انہیں ناکامی کا سامنا ہوگا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی سیاسی نظام، سعودی بادشاہی نظام کے باعث تمام سعودی عرب کے اندر عوام میں انتہائی بے چینی پھیلی ہوئی ہے، پہلے صرف مشرقی سعودی عرب میں ہی اس کے خلاف مظاہرے ہوتے تھے، لیکن اب تو عوامی مظاہرے ریاض میں بھی ہو چکے ہیں، خود خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی سے بھی سعودی عرب میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

اسلام ٹائمز: 1970ء میں اردن میں بے گناہ فلسطینیوں کا جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں قتل عام آج تک ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، جسے بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیا پھر ہمیں سعودی ایماء پر یمن کے معاملے میں کود جانا چاہیئے؟
سید راشد احد: یمن پر سعودی ایماء پر کودنا پاکستان کا اپنے مفاد کے خلاف کام کرنا ہے، بلیک ستمبر فلسطینیوں کی مقاومت کیخلاف تھا، اسرائیل نے اردن کو کہا تھا کہ فلسطینیوں کی مقاومت ختم کرو، اسرائیلی خواہش کی تکمیل کیلئے اردن کی شاہی حکومت کو فوج کی ضرورت تھی، وہ انہوں نے پاکستان سے طلب کی، آپ نے اس وقت اردن کے کہنے پر اسرائیلی مخالف فلسطینی مقاومت کو کچل دیا، فائدہ اسرائیل کو پہنچا، مسلمانوں کو نقصان ہوا، اپنے باوقار ادارے کو آپ کرائے کی فوج بنا دیں محض چند سکوں کے عیوض، یہ کوئی دانشمندانہ بات ہے، کسی بھی باوقار ملک کا یہ شیوہ نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی سمیت چند جماعتوں کی جانب سے یمن پر سعودی جارحیت کی حمایت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
سید راشد احد: اگر پاک فوج یمن میں سعودی جنگ میں کودنا نہیں چاہتی تو آصف زرداری، پیپلز پارٹی اور انکے ہمنوا جماعتیں سعودی عرب کی حمایت پر مبنی اپنی پالیسی کے ذریعے پاک فوج کو یمن کی جنگ میں کودنے کیلئے مجبور کر رہے ہیں۔ آصف زرداری ایک ایسی شخصیت ہیں جن کو عالمی صہیونیت آسانی کے ساتھ استعمال کر سکتی ہے، جس سے وہ فوج کیلئے ایک چیلنج بن سکتے ہیں، جیسا کہ پاک فوج نہیں چاہ رہی تھی کہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کودے، لیکن اس وقت انڈیا نے کہا کہ ہم آپ کو سب کچھ دینے کیلئے تیار ہیں، جب پاکستان نے دیکھا تو کہا کہ ہم تیار ہیں، اس طرح زرداری صاحب نے وہی کام کیا جو اس وقت بھارت نے کیا تھا کہ ہم حاضر ہیں۔ سعودی عرب اب پاکستانی ریاست سے نہیں بلکہ شخصیات سے معاملات کرتا ہے، اس پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو تکلیف بھی ہے، مثلاً نواز شریف صاحب سے سعودی عرب نے ذاتی معاملات کئے ہیں، اب زرداری صاحب سے معاملہ کر لیں، سعودی عرب کی اس رجحان کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے، اب یہ ایک غیر منطقی بات ہوگی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زرداری صاحب حمایت کرکے فائدہ اٹھا لیں، کیونکہ نہ ہم فائدہ اٹھا لیں، زرداری صاحب نے کہا کہ ہم سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں اور دینا چاہیے، اب آپ جو ہچکچا رہے تھے، آپ نے کہا کہ اب ہچکچانا چھوڑو، ورنہ سارے فوائد زرداری سمیٹے گا اور ہمیں نقصان ہوگا، اس منطق کے تحت سعودی ایما پر محض چند فوائد کیلئے یمن کی جنگ میں کودنا انتہائی غیر معقول اور غیر منطقی ہے۔

اسلام ٹائمز: یمن پر سعودی جارحیت کیلئے بعض پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتیں یہ جواز پیش کر رہی ہیں کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، لہٰذا پاکستان کو بھی سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیئے،کیا کہیںگے اس منطق کے حوالے سے؟
سید راشد احد: اگر سعودی عرب کا مؤقف حق ہے تو آپ کا ساتھ دینا صحیح ہے، لیکن آپ سعودی عرب کے باطل موقف کی حمایت کر رہے ہیں، تو یہ آپ صرف اپنے ذاتی مفاد اور غرض کیلئے کر رہے ہیں، آپ کو پاکستان اور اسلام سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی انکا مفاد عزیز ہے۔ آپ سعودی عرب کے باطل موقف کی حمایت کرکے خود جرم اور فاش غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے ARY نیوز چینل پر داکٹر دانش کے پروگرام میں بہت ہی اچھی بات کی، حمید گل نے کہا کہ ہم سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، اسکی مدد کرنا چاہتے ہیں، ہم انکے حامی ہیں، لیکن سعودی عرب کی مدد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب غط روش پر گامزن ہو اور ہم اسکی ہاں میں ہاں ملائیں، مدد کرنا تو یہ ہوگی کہ ہم آپ کو آپکی غلط اور نقصان دہ روش پر آپ کو بتائیں کہ یہ صحیح نہیں ہے، آپ کو اپنی روش بدلنی چاہیئے، اپنی پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیئے۔ یہ حمید گل نے ایک بہت ہی معقول بات کی۔ لہٰذا پاکستان کو عدالت سے کام لینا چاہیئے، حق کو حق کہہ کر اس کا ساتھ دینا چاہیئے، اگر اس جنگ میں کوئی کردار ادا کرنا ہی تو جنگ کے خاتمے اور ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افواج پاکستان یمن کے معاملے میں غیر جانبدار رہیں گی یا سعودی عرب کی حمایت میں یمن کی جنگ میں شامل ہو جائیں گی؟
سید راشد احد: اب تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ جنگی مشقیں کر رہا ہے، غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بھی پاکستان کی شمولیت کی خبریں آ رہی ہیں، اور یمنی تو کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی جنگی جہاز سے یمن پر بمباری ہو رہی ہے، جنگ کا ایک فریق کہہ رہا ہے کہ پاکستان اس میں شریک ہے تو ہمارے انکار کی کیا گنجائش ہے، پاکستان پہلے ہچکچا رہا تھا، مگر یہ بات ماضی کی ہے، اب تو آپ پوری طرح شریک ہو چکے ہیں۔ اب جب اتنے لوگ اس جنگ میں کود چکے ہیں تو اس سے دستبردار ہونا مشکل ہے، کیونکہ اس سے وقار مجروح ہو جائے گا، اور جب دستبردار نہیں ہونگے تو مزید پھنستے چلے جائیں گے، کیونکہ یہ جنگ طول پکڑے گی، اس لئے کہ یمنی شروع سے ہی مقاومت کرنے والے لوگ ہیں، اور مظلوم بھی ہیں، اگر آپ سمجھ رہے ہیں انہیں بمباری کرکے پسپا کر دیں گے اور واپس آ جائیں گے، تو ایسا بالکل ممکن نہیں ہے، یہ غلط فہمی ہے، ایران پر عراق کے حملے کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اسی طرح یہ جنگ جو آپ نے شروع کی ہے، یہ ختم آپکی مرضی اور آپ کے نتائج کے مطابق نہیں ہوگی۔

اسلام ٹائمز: یمن پر جارحیت کرنے والے ممالک کو کیا نقصانات پہنچ سکتے ہیں؟
سید راشد احد: اس جنگ کے نقصانات اٹھانا پڑیں گے، اگر صرف سعودی عرب کی معیشت بیٹھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان سمیت بہت سے ممالک پر منفی پڑیں گے، کیونکہ اس جنگ میں تمام جارح عرب ممالک کے پیسے لگیں گے۔ پھر اس حقیقت سے منہ نہیں چرانا چاہیئے کہ یہ حق و باطل اور ظالم و مظلوم کی جنگ ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یمن کے عوام مظلوم ہیں، یمن کے عوام نے تو سعودی عرب پر جارحیت نہیں کی تھی کہ آپ بلاوجہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ حرمین شریفین خطرے میں ہے، یمن کے عوام نے تو حملہ نہیں کیا، بلکہ حملہ اور جارحیت تو سعودی عرب اور اس کے ہمنواؤ کی جانب سے یمن پر کی گئی ہے، کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یمن کے مظلوم عوام نے سعودی عرب پر جارحیت کی تھی، کیا آپ خدا کے وجود سے انکاری ہیں، کیا خدا تو دیکھ رہا ہے، کیا آپ مظلوم کے حق میں خدا کی حکمت کو شکست دے سکتے ہیں، نہیں دے سکتے، کیونکہ اگر سب کچھ سیاسی حکمت عملی کے تحت ہو سکتا ہوتا تو انقلاب اسلامی ایران کو عراق کے ذریعے تہس نہس کیا جا چکا ہوتا، لیکن کیا ہوا خدا کی حکمت سے، آج نہ تو صدام موجود ہے اور نہ ہی اس کے ری پبلکن گارڈز، لیکن لطفِ الٰہی سے امام خمینی اور ان کی بنائی ہوئی بسیج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سب موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار و ملکی ذمہ داران کو، عرب ممالک کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ ایک خدا موجود ہے، منصف موجود ہے، آپ کی لاکھ کوششوں سے کبھی بھی باطل حق نہیں ہو جائے گا اور حق باطل نہیں ہو جائے گا، اور بلآخر سارا کنٹرول خدا کے اختیار میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 451282
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے