0
Monday 20 Apr 2015 19:07
کراچی کا شیعہ ووٹ بینک ایم کیو ایم کے پاس نہیں بلکہ اب مجلس وحدت مسلمین کے پاس ہے

ایم ڈبلیو ایم کی حمایت ضمنی الیکشن جیتنے سے زیادہ کراچی میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے ضروری ہے، عمران اسماعیل

الطاف حسین خود کو اور اپنی جماعت کو دہشتگردی سے علیحدہ کریں
ایم ڈبلیو ایم کی حمایت ضمنی الیکشن جیتنے سے زیادہ کراچی میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے ضروری ہے، عمران اسماعیل
کراچی سے تعلق رکھنے والے عمران اسماعیل پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے مضبوط امیدوار ہیں، گذشتہ روز مجلس وحدت مسلمین نے کراچی کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار عمران اسماعیل کی حمایت کا اعلان کیا، اس حوالے سے تحریک انصاف کے نمائندہ وفد نے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی آفس وحدت ہاؤس سولجر بازار کا دورہ کیا، اس موقع پر ”اسلام ٹائمز“ نے عمران اسماعیل کا ضمنی الیکشن کے حوالے سے مختصر خصوصی انٹرویو کیا، جو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آپ تحریک انصاف کی جانب سے کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں امیدوار ہیں، آج مجلس وحدت مسلمین نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، اس سے آپکو کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔؟
عمران اسماعیل:
سب سے پہلے تو مجلس وحدت مسلمین، اسکی مرکزی اور مقامی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کراچی ضمنی الیکشن کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور میری حمایت کا اعلان کیا، لیکن میں اس سے بڑھ کر یہ کہنا چاہوں گا کہ ایم ڈبلیو ایم کی حمایت ہمارے لئے این اے 246 کی نشست جیتنے سے زیادہ کراچی سمیت ملک بھر میں نئی تبدیلی لانے کے حوالے سے اہم اور ضروری ہے۔ پھر جہاں تک بات ہے کراچی ضمنی الیکشن کے حوالے سے تو ظاہر سی بات ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کی حمایت سے تحریک انصاف پر بہت مثبت اثر پڑے گا، کیونکہ اس حلقے میں ہمارے اہل تشیع مسلمان بھائیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے، اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے اہل تشیع مسلمانوں کی طرح اس حلقے میں آباد اہل تشیع مسلمان بھی مجلس وحدت مسلمین، اسکی قیادت اور کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہ بھی کراچی میں امن و امان کے قیام کے خواہاں ہیں، اس حوالے سے مجھے یقین ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کی حمایت کے بعد ہمارے اہل تشیع مسلمان بھائی تحریک انصاف کو ووٹ دیکر کراچی میں امن و امان کے قیام اور خوف و دہشت کی فضاء کے خاتمے کیلئے تبدیلی کے سفر میں پہلے سے زیادہ بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کرینگے اور ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

اسلام ٹائمز: ایم کیو ایم کا شروع دن سے دعویٰ ہے کہ کراچی کا شیعہ ووٹ بینک اسکے ساتھ ہے، اگر یہ بات درست ہے تو کیا آپ ایم کیو ایم کا شیعہ ووٹ بینک حاصل کرسکیں گے۔؟
عمران اسماعیل:
میں نہیں سمجھتا کہ اب ایم کیو ایم کو شیعہ ووٹ بینک حاصل ہے، اگر ماضی میں تھا بھی، ایم ڈبلیو ایم کی سیاسی فعالیت کے باعث اہل تشیع مسلمانوں کو متبادل پلیٹ فارم میسر آچکا ہے، شیعہ ووٹ بینک اب مجلس وحدت مسلمین کے پاس ہے، اگر آزاد اور شفاف انتخابات ہوں تو یہ بات ثابت ہوجائے گی، پھر کم از کم پچھلی دو دہائیوں سے کراچی کے عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا، لیکن اب انہیں پی ٹی آئی کی صورت میں متبادل اور حقیقی قیادت نظر آئی ہے، لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ عوام ہمیں ضرور ووٹ دیکر کامیاب بنائے گی، جو کہ کراچی میں نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اسی سے پاکستان کا روشن مستقبل وابستہ ہے، پھر ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں فرقہ واریت پھیلانے کی سب سے زیادہ سازشیں کی جاتی ہیں، لیکن جس طرح مجلس وحدت مسلمین اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے کوشش کرتی ہے، اسی طرح ہم بھی انتھک کوششیں کرتے ہیں کہ فرقہ واریت کسی طور پر بھی پنپ نہ سکے، اور سب آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل ایم کیو ایم کی مخالفت جاری ہے، آیا ووٹ لینے کی وجہ سے ہے یا آپ اسے واقعاً دہشتگرد جماعت مانتے ہیں۔؟
عمران اسماعیل:
الطاف حسین پچھلے بیس پچیس سالوں سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں، یا تو انہیں خود اندازہ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر کس قدر دہشتگرد عناصر موجود ہیں یا پھر وہ خود جان بوجھ کر نظریں چرا رہے ہیں، ہم انہیں مسلسل باور کرا رہے ہیں کہ ایم کیو ایم میں کثیر تعداد میں دہشتگرد موجود ہیں، ٹارگٹ کلرز موجود ہیں، تمام دہشتگردوں کو ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی سرپرستی حاصل ہے، ہم تو الطاف حسین کو کہتے ہیں کہ وہ خود کو اور اپنی جماعت کو دہشتگردی سے علیحدہ کریں، دہشتگردوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں، ورنہ ہمیں کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی اختلاف نہیں ہے، مثبت سیاست کرنا سب کا حق ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہتے کہ ایم کیو ایم کا ایک ایک رہنما اور کارکن دہشتگردی میں ملوث ہے، بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر دہشتگردوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، الطاف حسین اپنی جماعت سے ان دہشتگردوں کو باہر نکالیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ کراچی میں دہشتگرد اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے مطمئن ہیں۔؟
عمران اسماعیل:
کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن بالکل صحیح ہو رہا ہے، اب اگر آپریشن میں پکڑے جانے والے زیادہ تر دہشتگردوں کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے تو اس میں چیخنے چلانے والی کونسی بات ہے، سب سے زیادہ منظم دہشتگرد ایم کیو ایم کے اندر موجود ہیں، ان حقائق کو تسلیم کرنا چاہیئے، اور دہشتگردوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرنا چاہیئے، ماضی میں پیپلز پارٹی نے اپنے سب سے مضبوط گڑھ لیاری میں آپریشن کیا تھا، وہاں سے جب دہشتگرد پکڑے گئے تو کوئی نہیں چیخا، اب اگر نائن زیرو سے دہشتگرد پکڑے جا رہے ہیں تو آپ کیوں چلا رہے ہیں، لہٰذا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دہشتگردوں کا پکڑا جانا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انکا کام کرنے دیا جانا چاہیئے، اس راہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: یمن پر سعودی حملے کے تناظر میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
عمران اسماعیل:
یمن پر سعودی حملے کے حوالے سے ہمارا اور ایم ڈبلیو ایم کا مؤقف ایک ہے، یمن میں غیر جانبدار رہنے پر اور ثالثی کا کردار ادا کرنے پر مبنی جو مؤقف اپنایا ہے، یہ انسانی بنیادوں پر ہے، نہ کہ لسانی یا فرقہ ورانہ بنیادوں پر، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان قیام امن کیلئے کردار ادا کرے، لیکن نواز حکومت اور اسکے ہمنوا ہمیشہ کی طرح شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش میں نظر آتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیئے۔ لہٰذا ہمارا مؤقف ہے کہ پاکستان کا کردار غیر جانبدارانہ ہونا چاہیئے، پاکستان کو ثالثی کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے، یمن کے عوام بھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں، سعودی عرب میں بھی ہمارے بھائی ہیں، ایران بھی ہمارا ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے، ہم پاکستان کو یمن کی دلدل میں دھکیل کر ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہم پہلے سے ہی ایک جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں، اب تک اس سے باہر نہیں نکل سکے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ ہم اپنی پاک افواج کو کسی اور کی بادشاہت بچانے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت کیوں دیں، یہ ویسے بھی مناسب نہیں ہے، نہ ہی ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں، ہمارے معاشی و اقتصادی حالات پہلے ہی بحران کا شکار ہیں، دہشتگردی کے بحران کا شکار ہیں، اگر اس نئی جنگ میں گئے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 455690
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب