0
Wednesday 29 Apr 2015 23:50
حرمین شریفین کو نہیں البتہ وہابیوں، نجدیوں، آل سعود اور انکی بادشاہت کو ضرور خطرات ہیں

امام کعبہ شیخ خالد الغامدی نے فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے کیلئے پاکستان کا دورہ کیا، مفتی بشیر القادری نورانی

اللہ تعالٰی کی لعنت ہو سعودی بادشاہت پر جس نے آج تک اسرائیل کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا
امام کعبہ شیخ خالد الغامدی نے فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے کیلئے پاکستان کا دورہ کیا، مفتی بشیر القادری نورانی
مفتی محمد بشیر القادری نورانی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور اس وقت جمعیت علمائے پاکستان کراچی کے جنرل سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ علماء رابطہ کونسل کے رکن بھی ہیں۔ آپ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی مرحوم کے ساتھ بھی تنظیمی حوالے سے فعال رہے، آپ گذشتہ 30 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں، خطابت کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، آپ کراچی میں قائم دارالعلوم منہاج الفرقان کے بانی بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ مختلف اہلسنت اداروں کے ساتھ بھی وابستہ ہیں۔ آپ 55 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں، عربی، فارسی، سندھی، اردو فاضل ہیں، اسلامیات میں ماسٹرز کرچکے ہیں، آجکل آپ جامع مسجد سبحانی اورنگی ٹاؤن کراچی میں خطیب و پیش امام کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مفتی محمد بشیر القادری نورانی کے ساتھ امام کعبہ شیخ خالد الغامدی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جامع مسجد سبحانی میں ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ سے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: امام کعبہ شیخ خالد الغامدی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟ مفتی محمد بشیر القادری نورانی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ سعودی عرب سے امام کعبہ شیخ خالد الغامدی پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں، ہمارا سوال ہے کہ وہ پاکستان حکومتی دورے پر آئے ہیں یا پاکستان میں فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے کیلئے آئے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ انکا دورہ پاکستان فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے کیلئے ہے، کیونکہ وہ صرف وہابی نجدی تنظیموں کے اداروں اور دفاتر میں جا رہے ہیں، انکے مولویوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، وہ حکومتی مہمان ہیں یا وہابی نجدیوں کے مہمان ہیں۔ کیا پاکستان میں صرف وہابی دیوبندی نجدی رہتے ہیں کہ آپ انکے مدارس، مساجد، خصوصی دفاتر میں
جا جا کر انہیں اسلام کے ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ جس مودودی کو آپ نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں جا کر اسلام کا ہیرو قرار دیا، جبکہ آپ کے سو سعودی مفتیوں کے فتوے اس مودودی کے خلاف موجود ہیں، کہ جنہوں نے مودودی کو کافر، بے ایمان، منافق اور ناجائز کہا ہوا ہے، آج بھی وہاں کتابوں میں موجود ہے، کیا آپ نے ان کتابوں کو پڑھا یا نہیں پڑھا کہ جو مکہ مکرمہ میں چھپی ہیں، اب اگر آپ کی نظر میں مودودی اسلام کے ہیرو ہیں تو ان نام نہاد سعودی مفتیوں کے متعلق کیا کہیں گے جنہوں نے مودودی کو منافق، فتنہ اور پتہ نہیں کیا کیا کہا ہے۔ شیخ خالد الغامدی صاحب، کیا آپ نہیں جانتے کہ پاکستان میں حقیقی اہلسنت و جماعت اکثریت میں رہتے ہیں، آپ نے اہلسنت کی طرف توجہ کیوں نہیں کی۔ دورہ پاکستان میں آپ کی جو سرگرمیاں ہیں، ایسی صورتحال میں آپ کو امام کعبہ کہا جائے یا امام الوہابیہ کہا جائے۔ جو مسلمان اپنے نبی اکرم (ص) سے محبت و عقیدت کا اظہار کرے، مدح کے جلوس نکالے، پھول نچھاور کرے، جشن عید میلادالنبی (ص) کے جلسے منعقد کرے، تو نجدیت وہابیت کو آگ لگ جاتی ہے، اور مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگاتے ہیں، اب جب کہ وہابیوں نجدیوں کی جانب سے ریال کے حصول کی خاطر شیخ خالد الغامدی کی محبت و عقیدت میں پھولوں کی منوں پتیاں نچھاور کی گئیں، آپ کی خوشنودی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں، جلسے منعقد کئے گئے، محافل سجائی گئیں اور شیخ صاحب آپ دیکھتے رہے، آپ کی محبت میں یہ سب کرنا جائز ہے، شرک و بدعت نہیں ہے، کیا یہ ہے تمہاری توحید، آپ نے کیوں وہابیوں نجدیوں کو منع نہیں کیا، کیا وجہ ہے کہ ان پر شرک و بدعت کے فتوے کیوں نہیں لگائے۔

اسلام ٹائمز: اپنے دورہ پاکستان میں امام کعبہ نے طالبان اور داعش کیخلاف بھی بیان دیا، انکے اس بیان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
پاکستان سے انہیں مدد چاہیئے، پاکستانی مسلمان طالبان اور داعش کے حامی نہیں
ہیں، پاکستان کا بچہ بچہ طالبان اور داعش کے خلاف ہے، لہٰذا شیخ خالد الغامدی نے طالبان اور داعش کے خلاف بیان دیا جو کہ سیاسی بیان ہے، کیونکہ سیاسی بیان دیکر ہی پاکستانیوں کی ہمدردیاں لی جا سکتی ہیں، وہابی نجدی خواہ وہ جماعت اسلامی ہو یا فضل الرحمان اور سمیع الحق اور انکی جماعتیں، یہ سارے کے سارے بلواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کے حامی ہیں، انکے دفاتر جانا، انکے مولویوں سے ملنا اور پھر طالبان اور داعش کے خلاف بیان دینا، تو یہ صرف اور صرف سیاسی بیان ہے، جس کا مقصد پاکستانی مسلمانوں کی ہمدردی لینا ہے۔ پاکستان میں وہابی نجدی ٹولہ طالبان دہشتگردوں کو شہید کہتا ہے، اور طالبان دہشتگردوں کی بربریت و دہشتگردی کے شکار معصوم عوام، بچے، خواتین، بوڑھوں، فوجیوں کو ہلاک کہتے ہیں، انہیں شہید کہنے سے روکتے ہیں، کیا آپ کو ان کے بارے میں معلوم نہیں ہے، اگر معلوم ہے تو پھر آپ پاکستان کیا طالبان کی حمایت کیلئے آئے ہیں، آپ منہ سے کچھ بھی کہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ آپ طالبان دہشتگردوں کے حامی ہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ کیا طالبان دہشتگردوں کے حامی و مددگار کیا حرمین شریفین کی حمایت میں جاسکتے ہیں، کیا حمایت میں بول سکتے ہیں، شیخ خالد الغامدی صاحب آپ کا طالبانی گروہ کو حرمین شریفین کی حفاظت کا درس دینا، کیا صرف ایک دھوکہ نہیں ہے۔ آپ بتائیں کہ کیا وہ لوگ حرمین شریفین کی حفاظت کرسکتے ہیں، جن لوگوں نے اپنے نبی کریم (ص) کے تمام تبرکات و آثارات حسنہ اور عاشقان نبی کریم (ص) کے مزارات و تبرکات کو مٹا دیا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں مخصوص مائنڈ سیٹ سے تعلق رکھنے والی مذہبی تنظیموں سے لیکر خود نواز حکومت افواج پاکستان کو یمن کی جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے؟ آیا یہ صرف ریال کی خاطر ہے، یا یمن جنگ کا حصہ بننا پاکستان کے مفاد میں ہے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
نہ تو پہلے شک تھا اور نہ ہی اب کوئی شک ہے کہ ریال کی دولت سے طالبان اور
انکے حامیوں کو سعودی ہی نواز رہے ہیں، اور سعودی نوازی کی وجہ بھی صرف ریال ہے نہ کہ پاکستان۔ پاکستان میں جتنے بھی وہابی نجدی ٹولے ہیں چاہے وہ دیوبندی کی شکل میں ہوں، چاہے وہ لشکر جھنگوی کی شکل میں ہوں، سپاہ صحابہ کی شکل میں ہوں، لشکر طیبہ کی شکل میں ہوں، جو اب جماعة الدعوة نام رکھ چکی ہے، جن کے دفاتر میں نے حج کے دوران مکہ مدینہ میں خود دیکھے ہیں، یہ وہابی نجدی نواز شریف کے پالتو ہیں، جنہیں یہ پاکستان میں پال رہے ہیں، ان کا کوئی دین ایمان تو ہے نہیں، لہٰذا یہ سب کچھ ریال کیلئے ہے، اسی نواز حکومت میں اہلسنت کی مساجد میں درود و سلام پر پابندی لگائی گئی، درود و سلام پڑھنے والے اہلسنت کے علماء و مشائخ کے خلاف ہزاروں ناجائز ایف آئی آر کاٹی گئیں، مقدمات بنائے گئے، درحقیقت نواز شریف بھی وہابی نجدی ہے، نواز شریف نے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی حمایت کی، یہ سعودیوں کیلئے پریشان ہے، لیکن نواز لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف سب میں حقیقی اہلسنت علماء و مشائخ موجود ہیں، جنہوں نے احتجاج کیا تو نواز شریف کو حمایت واپس لینی پڑی کہ اب ہم سعودی عرب کی حمایت نہیں کرسکتے اور نہ ہی یمن کے خلاف پاک فوج بھیج سکتے ہیں، اور جب پاکستانی پارلیمنٹ نے انکار کیا تو نواز شریف نے باقاعدہ سعودی عرب کا دورہ کرکے شکایت کی، جس پر سعودی حکومت کے لوگ یہاں آئے اور شدید ناراض ہو کر گئے۔

اسلام ٹائمز: کیا حرمین شریفین خطرے میں ہیں یا پھر سعودی بادشاہت۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
حرمین شریفین کو تو اللہ تبارک و تعالٰی کے فضل و کرم اور نبی کریم (ص) کی برکت کے باعث کوئی خطرہ نہیں ہے، البتہ وہابیوں، نجدیوں، آل سعودی اور انکی بادشاہت کو ضرور خطرات ہیں اور ضرور ہونے چاہئیے، ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ کیا تمہارا رب کریم پر ایمان نہیں کہ جو خانہ کعبہ کی حفاظت کا ذمہ دار ہے، ساری کائنات بیت اللہ شریف کے پاس جا
کر اللہ کی مدد مانگتی ہے، اور تم پاکستان میں وہابیوں نجدیوں کے پاس بیت اللہ شریف اور حرمین شریف کی حفاظت کیلئے مدد مانگنے آگئے ہو، کیا یہ تمہارے غلط عقیدہ توحید کی نفی نہیں ہوگئی ہے، کیا یہ ہے تمہارا عقیدہ توحید کہ کعبہ کے حفاظت کیلئے آج تم پاکستان آئے ہو، اور وہ بھی غلیظ ترین اور بدعقیدگی رکھنے والے نجدیوں وہابیوں سے مدد طلب کرنے کیلئے، اس مدد مانگنے سے پاکستان کے وہابیوں نجدیوں کے عقیدہ توحید میں اب کوئی فرق کیوں نہیں آیا، یارسول اللہ المدد، یاعلی المدد، یا غوث الاعظم المدد کہنے والوں پر شرک و بدعت کے فتوے لگانے والے وہابیوں نجدیوں کے نظریئے کے مطابق تو یا پاکستان المدد کہنے والا پکا مشرک ہونا چاہیئے تمہاے نظریئے کے مطابق۔ اگر سعودی عرب میں کچھ ہونے جا رہا ہے، تو یہ مکافات عمل نظر آتا ہے، یہ تمہارے تکبر و غرور، تمہارے غلط پروپیگنڈے و گندے عقیدے کے باعث ہے، اہلبیت اطہار (ع) اور صحابہ کرام (رض) کے مزارات و آثارات کو مسمار و منہدم کرنا، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں تمہاری ظالمانہ بربریت کے نشانات جو آج بھی موجود ہیں، کیا اللہ تعالٰی کا عذاب تمہارے اوپر نازل نہیں ہونے والا۔

ماضی قریب میں نام نہاد سعودی مفتیوں نے مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ مسجد نبوی سے نبی کریم (ص) کے مزار کو نکال کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا جائے، جس کے شواہد موجود ہیں، پوری امت مسلمہ اس بات سے آگاہ ہے، جس کے ردعمل میں تم سعودیوں نے وقتی طور یہ فیصلہ تبدیل کر دیا، کیا اسی وجہ سے آل سعود پر اللہ تعالٰی کا عذاب تو نازل نہیں کرنے والا، اگر یہی وجہ ہے تو دنیا میں آل سعود، سعودی بادشاہت، نجدیت، وہابیت کو تباہی و بربادی سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ اب بھی وقت ہے کہ وہابیوں نجدیوں سعودیوں کو چاہیئے کہ نبی پاک (ص)، اہلبیت اطہار (ع)، صحابہ کرام (رض) کی ارواح سے معافی طلب کریں، جن کے مزارات و آثارات کو تم نے مسمار کیا،
جس کے نتیجے میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے تمہاری گرفت ہوئی، اب بھی وقت ہے کہ گنبد خضراء میں جا کر اللہ کے محبوب (ص) سے معافی طلب کریں، شہدائے کربلا، شہدائے احد، شہدائے بدر جن کے مزارات، آثارات، گھروں کو مسمار کیا، اللہ تبارک و تعالٰی سے توبہ کریں اور اہلبیت اطہار (ع) اور صحابہ کرام (رض) کے مزارات خصوصاً جن میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کے مزار سمیت تمام مسمار کئے گئے، مقامات مقدسہ کو دوبارہ تعمیر کریں کہ شاید اللہ تبار و تعالٰی راضی ہو جائے، لیکن یہ وہابی نجدی سعودی اپنے ناپاک عزائم اور عقیدے سے کبھی باز نہیں آئیں گے، لہٰذا انکا آخری وقت آگیا ہے، اب انہیں کوئی حکومت نہیں بچا سکتی۔

اسلام ٹائمز: یمن کیخلاف سعودی عرب کبھی ہمیں اسرائیل کے خلاف نظر نہیں آیا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
ان وہابیوں نجدیوں پر خدا تعالٰی کی لعنت ہے کہ آج تک سعودی حکومت نے صہیونی اسرائیل کے خلاف کسی قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھایا، کیا اسرائیل کی دوستی اسلام کی دوستی ہے، فلسطین کے غریب اور بے بس مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہتا رہا، فلسطینی معصوم بچوں کا خون بہتا رہا، فلسطینی بے بس خواتین کی عصمتیں لٹتی رہیں اور تم سعودی امام کعبہ شیخ خالد الغامدی تم نے ہی فتویٰ جاری کیا تھا فلسطینیوں کے ساتھ جو بھی ہو ریا ہے صحیح ہو رہا ہے، آج جو تمہاری سعودی بادشاہت خطرے میں ہے، کیا یہ مظلوم و بے بس فلسطینی مسلمانوں کی بددعاوں کا اثر نہیں کہ آج تم مدد کیلئے در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہو، مدد کیلئے بھیک مانگ رہے ہو، کیا یہ سعودی حکومت پر عیسائی یہودی یعنی اسلام دشمن امریکا اور برطانیہ کی ناجائز دوستی کا نتیجہ نہیں ہے، وہابیوں، نجدیوں سعودیوں تمہاری وجہ سے عراق و لیبیا و شام تباہ ہوئے، تمہاری وجہ سے افغانستان میں طالبان کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کا شکار ہوا، اب یمن بھی تمہاری وجہ سے تباہ و برباد ہو رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 457424
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب