0
Sunday 10 May 2015 00:34
حرمین شریفین کو نہیں صرف اور صرف سعودی بادشاہت کو خطرہ ہے

یمن پر سعودی حملے کا مقصد وہاں اپنے پٹھو حکمران مسلط کرکے تسلط قائم کرنا ہے، ظفر ہلالی

وہابی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث اب عرب قوم پرستی ختم ہوچکی ہے
یمن پر سعودی حملے کا مقصد وہاں اپنے پٹھو حکمران مسلط کرکے تسلط قائم کرنا ہے، ظفر ہلالی
ظفر ہلالی معروف پاکستانی سیاسی تجزیہ نگار اور سفارت کار ہیں جو کہ یمن، نائیجیریا اور اٹلی میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ایران سے ہے، جو بعد ازاں بھارت آکر آباد ہوگئے تھے۔ آپ کے والد آغا ہلالی اور چچا آغا شاہی مشہور سفارتکار تھے۔ آپ کالم نگار بھی ہیں، آپ کے کالم مشہور پاکستانی و بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ظفر ہلالی کے ساتھ یمن پر سعودی حملے کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر لیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آپکی نگاہ میں یمن پر سعودی عرب کے حملے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔؟
ظفر ہلالی:
سعودی عرب یمن کے تین صوبوں نجران، عسیر، جیزان پر قابض ہے، یہ اس وقت ہوا جب سلطنت عثمانیہ کا سقوط ہو رہا تھا، یہ سعودی عرب ایک عجیب سی چیز ہے، دنیا میں کوئی اور ملک نہیں ملے گا، جہاں فیملی کے نام پر ملک ہو، نوآبادیات (decolonization) میں یمن بٹ گیا، برٹش یمن، ڈیموکریٹک ری پبلک آف یمن (democratic republic of yemen) بن گیا، امامات یمن، جو یمن کے امام تھے، جو ہزار سال سے زائد سے وہاں حکمران تھے، ان کا یہی ایریا تھا، جہاں آج حوثی اور زیدی قبائل ہیں، جو پھر یمن عرب ری پبلک (yemen arab republic) بن گیا، جس کے دو صدر گزرے، جن میں علی عبداللہ صالح مشہور ہوا، بہرحال جب یہ دو یمن بن گئے تو ان دونوں پر ہر وقت سعودی عرب حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے، ہر وقت مداخلت کرتا رہتا ہے، وہاں پر اپنے لوگوں میں ریال اور ہتھیار بانٹتا رہا ہے، لیکن یمنی عوام سعودی عرب سے بہت زیادہ نفرت کرتے ہیں، شمالی یمن میں جتنی نفرت ہے سعودی عرب سے، میں نے تو دنیا میں صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دیکھی ہے، یا پھر شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان۔ سعودی عرب یمن میں اپنا اثرونفوذ چاہتا ہے، گھر کا پچھواڑا سمجھتا ہے، سعودی عرب یمن پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، یہ ساری جنگ اسی لئے ہے، سعودی عرب چاہتا ہے کہ یمن پر اسکے پٹھو حکمرانی کریں، جو اس کے اشاروں پر ناچیں۔

اسلام ٹائمز: کیا یمن کے ساحل کی بہت زیادہ اسٹراٹیجک اہمیت کی وجہ سے امریکا و اسرائیل سعودی عرب کی مدد سے یمن میں اپنی حامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔؟
ظفر ہلالی:
یمن کے ساحل کی اسٹرٹیجک اہمیت تو ہے، سویز کنال کا راستہ یمن بلاک کرسکتا ہے، مگر دیکھیں اسٹرٹیجک اہمیت اس وقت ہوتی ہے کہ جب آپ اس اسٹرٹیجک فائدے کو استعمال کرسکیں، لیکن جب آپ کے پاس نیوی ہے ہی نہیں، آپ کے پاس تین کشتیاں ہوں، تو آپ کیا کریں گے، ہاں اسٹرٹیجک اہمیت کا فائدہ اس وقت ضرور ہوتا، اگر آپ کے پاس فوج یا نیوی ہوتی کہ وہ جا کر باب المندب کو بلاک کریں، لیکن فی الحال وہ نہیں کرسکتے، تو پھر اسٹرٹیجک اہمیت کا کیا فائدہ۔ ہاں فائدہ اور اہمیت انکے پاس ہے جنکے پاس طاقتور نیوی ہے کہ اگر باب المندب کو بلاک کرنے کی کوشش کی گئی تو جا کر اسے ناکام بنا دیں گے، جیسے کہ امریکا ہے۔ اسٹرٹیجک اہمیت ہے لیکن فی الحال یمن اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

اسلام ٹائمز: آپکی نظر میں یمن کے حالیہ قضیئے میں پاکستان کا کیا کردار ہونا چاہیئے۔؟
ظفر ہلالی:
یمن میں کچھ نہیں ہے جو پاکستان کو فروخت کرسکے اور یمن کے پاس کوئی دولت بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان سے کوئی چیز خریدے، لہٰذا پاک یمن تجارت صفر ہوگئی، تو اب کیا رہ گیا، یمن مسلم ملک ہے، وہاں مسلمان رہتے ہیں، جو پاکستان سے دوستی چاہتے ہیں، آپ کا سلوک انکے ساتھ اچھا رہا ہے، 1987ء میں شمالی یمن کا سابق صدر علی عبداللہ صالح پاکستان کے دورے پر آیا، کوئی خاص اہمیت تو ہے نہیں، تو ہم یہ کیا کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کے کہنے پر وہاں جا کر لڑو، کیوں، کس کے خلاف، یمنی کون ہیں، کس طرح سے یمنی ہمارے دشمن ہیں کہ ان کے خلاف لڑیں، سعودی عرب کے پاس ڈیڑھ لاکھ فوجی ہیں، یمن کے پاس تو کچھ نہیں ہے، اور جو تھا بھی وہ سعودی حملے کے بعد ختم ہوگیا، یمنی سعودی عرب سے ننگے پاؤں لڑ رہے ہیں، اور سعودی عرب کہتا ہے کہ ہمارے اوپر حملہ ہوگیا ہے ہمیں آ کر بچاؤ۔ نہیں، بچاؤ نہیں، بلکہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ہم اس کیلئے مریں، سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان اس کیلئے دشمنی کرے، اور اگر نہیں کرے تو سعودی عرب سے گالیاں کھائے، اس لئے کہ ہم آپ کو خیرات دیتے ہیں، ہم آپ کی طرف پیسے پھینکتے ہیں، آپ ہمارے ہاں کشکول لیکر آتے ہیں اور اسے بھر کر جاتے ہیں، پھر بھی آپ وہ نہیں کریں جو ہم کہیں، آپ کی ایسی کی تیسی، پھر سعودی ہمیں گالیاں دیتے ہیں، حال ہی میں سعودی وزیر دفاع نے پاکستان کے بارے میں انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جو کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے، مگر وہ سعودی کہہ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: یمن مسئلہ پر پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، جسکے جواب میں یو اے ای اور سعودی عرب کیجانب سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا، سفارتی سطح پر اسکی کتنی گنجائش موجود ہے۔؟
ظفر ہلالی:
اس میں اتنا برا نہیں ہوتا، لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے بیان کو انکے فارن آفس نے اپنے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا ہے، اور وزیر خارجہ کے بیان کو انہوں نے آفیشل بنا دیا، اور پھر بھی ہمارے پاس سے جواب نہیں آیا، اس لئے کہ یہ سب جو ہمارے لیڈر ہیں، یہ سب وہیں جا کر پناہ لیتے ہیں، انہیں ممالک میں چھپتے ہیں، یہاں سے پیسے لوٹ کر وہیں لے جاتے ہیں، اس پر تو تعلقات توڑ کر سفیر کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے، ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے لوگوں کو اپنے ممالک سے نکال دیں گے، تو نکالیں ہمارے لوگوں کو، وہاں ہمارے پٹھان کی جگہ کون کام کریگا، اگر یہ ہمارے لوگوں کو نکالیں تو آپ ملک میں جتنے بھی بڑے بڑے ٹیکس چور ہیں، ان سے ٹیکس نکلوائیں، یہ جو بڑے بڑے گھر رکھتے ہیں، لاکھوں کروڑوں کی گاڑیاں رکھنے والے ہیں، ان لاکھوں ٹیکس چوروں سے ٹیکس نکلوا کر ان لوگوں کو دیں، جنہیں اگر ان عرب ممالک سے نکالا گیا، لیکن مسئلہ یہ کہ ہمارے لیڈروں میں دم ہی نہیں ہے، نواز شریف پر اتنے بڑے بڑے کرپشن کے کیسز ہیں، زرداری پر اتنے بڑے بڑے کیسز ہیں، الطاف حسین پر بھی درجنوں قتل اور منی لانڈرنگ کے کیسز ہیں، ہم کس سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں، کونسی حکومت، کونسا ملک، کیسی قومی غیرت، کیسی سالمیت، کیسی قیادت، ان لیڈروں میں کھڑے ہونے کا دم ہی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک کے اندر تحفظ حرمین شریفین مہم جاری ہے، کیا حرمین شریفین خطرے میں ہیں یا پھر سعودی بادشاہت؟
ظفر ہلالی:
حرمین شریفین پر تو ایک آدمی نے ایک پتھر نہیں پھینکا ہے، دراصل خطرہ تو سعودی بادشاہت کو ہے۔ آپ نے کسی سے سنا یا دیکھا کہ کسی یمنی نے حرمین شریفین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی بات کی، لہٰذا حرمین شریفین کو نہیں صرف اور صرف سعودی بادشاہت کو خطرہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا یمن پر حملہ کرکے سعودی عرب نے کوئی بہت بڑی اسٹرٹیجک غلطی کی ہے؟ جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑیگی، یا سعودی فیصلہ صحیح ہے۔؟
ظفر ہلالی:
سعودی عرب سے یمنیوں کی نفرت اور دشمنی تو عمر بھر سے پہلے ہی تھی، اب دو دو عمر بھر کی ہوگئی ہے، سعودی عرب یمن میں سوائے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے کس کو مار پایا ہے، کیا یہ حوثیوں کو مار پائے ہیں، یہ وہاں زمینی طور پر تو جا نہیں سکتے، یمن میں حوثی تو دعا کر رہے ہیں کہ سعودی وہاں آئیں، کیونکہ حوثی تو سعودیوں کو کھا جائیں گے، جو بھی یمن جائے گا، وہ دلدل ہے، وہاں جا کر پھنس جائے گا، خود آپ پاکستان کے قبائلی علاقوں کی مثال لیں، پاک فوج عوامی حمایت اور بھرپور قوت کے ساتھ وہاں گئی ہے، دہشتگردی کا خاتمہ تو ایک قومی مشن ہے مگر پھر بھی بہت مشکلات ہیں، لیکن سعودی کس بہانے سے یمن جائیں گے، منصور ہادی جو کہ سعودیوں کا کٹھ پتلی ہے، اسے واپس حکومت دینے یمن میں، ہو ہی نہیں سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری عوام کے سامنے ایک واضح صورتحال پیش کرنی چاہئے، سچ پیش کرنا چاہیئے، عوام کے سامنے کہ یمن فوج بھیجنے کے حوالے سے ہماری لیڈروں کا کیسا اور کیا موقف ہے، کیوں ہے، لیڈروں کا کیا فائدہ ہے، انکے ذاتی مفادات کیا ہیں، جبکہ قومی مفاد تو صفر ہے۔ ہمارے لیڈر سعودی عرب کی بات کیوں سنتے ہیں، نواز شریف اس دوران کیوں دو بار بھاگے بھاگے وہاں گئے، کیوں اپنے ساتھ وزراء اور آرمی چیف کو لے گئے۔

سعودی تو بیس کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت اور آرمی چیف کو تو ایسے بلاتے ہیں کہ جیسے انکے نوکر ہیں، وہ سعودی خود کیوں نہیں آئے، سعودی وزیر خارجہ آیا؟ سعودی وزیر دفاع آیا؟ سعودی ولی عہد آیا؟ سعودی بادشاہ آیا؟ کیوں نہیں آئے؟ جب انہیں ہماری ضرورت ہے تو، سعودی مذہبی امور کے وزیر اور مشیر اور امام کعبہ کو بھیج دیا، کیوں، دراصل یہ سعودی عرب مذہب کا استعمال کرتا ہے، مذہب کا استحصال کرتے ہیں، ہمیں دبانے کیلئے، اور ہم مذہب کے نام پر بے وقوف بننے اور کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، خیر اب تو ہم مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ سعودی عرب نے شام میں القاعدہ، النصرہ فرنٹ اور داعش کو سپورٹ کیا، عراق میں وہ سعودی خوش ہیں کہ ایران کے خلاف داعش لڑ رہی ہے، سعودی وہابیت انتہا پسندانہ سوچ ہے، القاعدہ اور داعش اسی وہابیت کی شاخیں ہیں، ہمیں سمجھنا چاہیئے، بے وقوف نہیں بننا چاہیئے، یہ سعودی ہمیں استعمال کر رہے ہیں۔ عرب قوم پرستی اب ختم ہوچکی ہے، اب سب شیعہ سنی ہوچکا ہے، وہابی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث اب عرب قوم پرستی ختم ہوچکی ہے، اتنا خوش ہیں امریکا اور اسرائیل کہ میں آپ کو بیان نہیں کرسکتا، وہ کہتے ہیں کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ سمجھیں گے کہ ہم تو پاگل تھے اور لڑائی ختم ہوجائے گی، پھر ایک ایک کو نہیں ماریں گے۔

اسلام ٹائمز: یمن تنازعے کے پیچھے ایران کا بھی ذکر آتا ہے، کیا حقیقت ہے۔؟
ظفر ہلالی:
اگر آپ کو کوئی مار رہا ہے اور آپ کے پاس ہتھیار نہیں ہیں، پیسے نہیں ہیں، اور آپ کو کوئی کہتا ہے کہ یہ لے لو، تو آپ کہیں گے دے دو، اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ آپ اس کے پٹھو بن گئے ہیں، آپ تو کہیں گے کہ دینا ہے تو دے دو۔
خبر کا کوڈ : 459650
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب