0
Wednesday 13 May 2015 12:23

امام کعبہ آیا اور داعش کا تحفہ ساتھ لایا، علامہ سید جواد ہادی

امام کعبہ آیا اور داعش کا تحفہ ساتھ لایا، علامہ سید جواد ہادی
علامہ سید محمد جواد ہادی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ علامہ صاحب قائد شہید علامہ سید عارف الحسینی کے دست راست تصور کئے جاتے تھے، چنانچہ قائد کی شہادت کے بعد انہی کے تاسیس کردہ مدرسے، جامعۃ الشہید عارف الحسینی کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ تنظیمی امور اور ملکی سیاست میں آپ کو یدطولٰی حاصل ہے۔ تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل کے ممبر رہ چکے ہیں۔ مارچ 1994ء تا 12 اکتوبر 1999ء تک سینیٹ کے رکن رہ کر ملت جعفریہ کی نمائندگی کی، جبکہ اس وقت ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے ممبر ہیں۔ پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اور ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ سید جواد ہادی کے ساتھ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے گلگت بلتستان انتخابات، یمن کی تازہ ترین صورت حال اور دیگر اہم موضوعات پر ایک انٹرویو کیا، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ایران کی اسرائیل دشمنی کے باعث، سعودی عرب ایران کو اپنا دشمن سمجھتا ہے، سعودی وزراء اسرائیلی یاترا کر رہے ہیں اور اسرائیل کیجانب سے بھی مسلمانوں پر سعودی مظالم کی تائید کی جا رہی ہے، آپ اس حوالہ سے کیا تبصرہ کریں گے۔؟
ڈاکٹر علامہ سید جواد ہادی:
بدقسمتی یہ ہے کہ ساٹھ سال سے قبلہ اول پر اسرائیلی صہیونی حکومت کا غاصبانہ قبضہ ہے، ان ساٹھ سالوں میں مسلمانوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ایران کی طرح زور و شور سے اسرائیل کے ساتھ جنگ کریں یا کوئی عسکری اقدام کریں، یہ مسلمان ممالک جس طرح یمن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، یہ اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے۔؟ میں نے فیس بک پر ایک کارٹون دیکھا جو مجھے بہت پسند آیا، ایک چھوٹا بچہ ہے، اس نے سعودی حکمران کو دامن سے پکڑ رکھا ہے اور اسے کہہ رہا ہے کہ یاشیخ اسرائیل ھنا لاھنا یعنی آپ جس ملک کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں اور مشترکہ فوج تشکیل دی ہے اور مل کر حملہ کر رہے ہیں، یہ اسرائیل کے خلاف ہونا چاہیے تھا نہ کہ یمن کے خلاف، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا بیوقوف ہے۔ عراق میں القاعدہ اور داعش کو سعودی بھیج رہے ہیں، کیا عراق سے بھی حرمین شریفین کو خطرہ ہے، بحرین کے عوام جو اپنے شہری حقوق کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، ان کی سرکوبی کے لئے آل سعود نے فوج بھیجی، کیا بحرینیوں سے بھی حرمین شریفین کو خطرہ ہے۔ شام میں عوام کی منتخب کردہ حکومت کے خلاف آل سعود دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، کیا شام کے مسلمانوں سے بھی حرمین شریفین کو خطرہ ہے، آل سعود سمجھتے ہیں کہ دنیا بے وقوف ہے، شور شرابہ کرتے ہیں کہ یمن سے حرمین کو خطرہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے عالم اسلام سے حرمین شریفین کو خطرہ ہے۔

سعودیوں کا اب اگلا قدم یہ ہوگا کہ یہ مسلمانوں پر حج کے راستے بھی بند کر دیں گے، چونکہ مسلمان تو آل سعود کی نظر میں حرمین شریفین کے لئے خطرہ ہیں۔ اگر یمن کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں حج پر آتے ہیں، کبھی رپورٹ نہیں کیا گیا کہ کسی یمنی نے مکہ یا مدینہ میں کوئی ایسی ویسی حرکت کی ہو، جس سے ہمیں احساس ہو کہ یہ لوگ حرمین کے لئے خطرہ ہیں۔ اسی طرح عراق، شام، بحرین سے بھی لوگ حج کے لئے آتے ہیں، ایران سے بھی آتے ہیں، کبھی کسی نے کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کی۔ ہاں اگر طول تاریخ میں دیکھا جائے تو نجدیوں کے ہاتھوں حرمین شریفین کو نقصان پہنچا ہے، صحابہ کرام کی قبور ان لوگوں نے مٹائیں، پیعمبر (ص) کے آثار ان (تکفیریوں) نے مٹائے اور اگر عالم اسلام کی جانب سے احتجاج نہ ہوتا تو وہ پیعمبر (ص) کی قبر تک کو مٹانا چاہتے تھے۔ جنت البقیع میں اہل بیت (ع)، صحابہ، امہات المومنین کی قبور کو انہی وہابیوں نے مسمار کیا ہے تو خطرہ تو حرمین کو ان لوگوں سے ہے۔

وہ لوگ جو مکہ اور مدینہ کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے ہیں، ان لوگوں سے مکہ اور مدینہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اب عالم اسلام جاگ چکا ہے، وہ سمجھ چکے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لئے کون سرگرم ہے، چونکہ اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لئے خلیجی حکمران سرگرم عمل ہیں، جس وجہ سے عرب ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مصر میں عوام کے انتخاب کردہ، اخوان کی حکومت کو کس نے گرایا، اور گرانے کے فوراً بعد بارہ ارب ڈالر فوجی حکومت کو مدد دی گئی، جہاں بھی عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جہاں بھی جمہوری آزادیوں کو سلب کیا جاتا ہے، ان حکمرانوں کی پشت پناہ سعودی حکومت ہوتی ہے۔ امریکی میڈیا نے بھی کہہ دیا ہے کہ داعش کو امریکہ و سعودیہ اور اسرائیل نے تیار کیا۔ داعش کو سعودیہ، قطر اور خلیجی ممالک پیسہ فراہم کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مل کر ان لوگوں نے مسلمانوں کی طاقت کو ضائع کرنے کے لئے، مسلمانوں کے اندر سے ہی القاعدہ اور داعش نامی فتنہ اٹھایا ہے، یہ لوگ جہاد کے جذبہ سے سرشار لوگوں کو ختم کرتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی افرادی قوت اور اقتصادی طاقت کو ختم کیا جائے، اس میں امریکہ اور اسرائیل کا مفاد ہے۔ لوگ اپنے ازلی دشمن امریکہ اور اسرائیل کو بھول کر آپس میں دست و گریباں ہوچکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی پارلیمان کی واضح قرارداد آنے کے بعد یمن پر سعودی حملے کی حمایت کیلئے امام کعبہ کو پاکستان بھیجا گیا، سعودی وزراء نے پاکستان میں داعش کی بنیاد رکھنے کیلئے بھاری رقوم تقسیم کیں، اس حوالہ سے کیا کہیں گے۔؟
ڈاکٹر علامہ سید جواد ہادی:
امام کعبہ آیا، داعش کا تحفہ ساتھ لایا، طالبان کے فتنے سے پاکستانی اب تک آزاد نہیں ہوئے کہ داعش کے فتنہ کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے، داعش کو خصوصی طور پر اس واسطے بنایا گیا ہے کہ جہاں بھی امریکہ و اسرائیل کے مفادات پائے جاتے ہیں، وہاں انہیں سرگرم کیا جائے اور مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کیا جائے، پہلے انہوں نے القاعدہ اور طالبان کے ذریعے یہ کام کیا، جب دیکھا کہ القاعدہ اور طالبان کی تاثیر ختم ہو رہی ہے، تو اب وہ داعش کو پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں متعارف کروا رہے ہیں، جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے ایک شخص کی ذاتی خواہش کے راستے میں دیوار کھڑی کی، یہ بات ٹھیک ہے کہ نواز شریف پر سعودیوں نے ذاتی طور پر بہت احسانات کئے ہیں، اب اگر نواز شریف اس کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں تو وہ اپنی ذاتی حیثیت میں چکائیں، پاکستانی فوج اسلام کے استحکام کے لئے ہے، پاکستان کی حفاظت کے لئے ہے، وہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ پہلے سے لڑ رہے ہیں، اب فوج مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہوسکتی، پرائی جنگ میں دوسروں کے لئے پاک فوج استعمال نہیں ہوسکتی، سیاستدانوں، پارلیمنٹ، ذرائع ابلاغ اور میڈیا نے بھرپور مزاحمت کی، امام کعبہ جس طرح خالی ہاتھ آیا تھا، اسی طرح خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔ لوگ اتنے بیوقوف نہیں ہیں کہ انہیں یہ کہہ کر ورغلایا جاسکے کہ یمن سے حرمین کو خطرہ ہے۔ دراصل لوگ بیدار ہوچکے ہیں وہ جان چکے ہیں کہ یہ حکمران امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ حرمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے، خطرہ ان طاغوتی حکمرانوں کے لئے ہے۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان قانون سازی اسمبلی کے انتخابات کی آمد آمد ہے، ہماری ملی سیاسی پارٹیوں کیساتھ ساتھ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، کیسے ممکن ہے اکثریتی ووٹ بینک ایسی پارٹی کے نصیب میں آئے جو اسلام ناب محمدی کی بات کرے۔؟
ڈاکٹر علامہ سید جواد ہادی:
دوستوں سے جو بات ہو رہی ہے، ان سے یہ ہی کہہ رہا ہوں کہ اس الیکشن میں آپ اس بات کو اپنے مدنظر رکھیں کہ شیعہ ووٹ ضائع نہ ہوجائے، اور اچھے لوگ پارلیمنٹ میں جائیں، اس بات کو مدنظر نہ رکھا جائے کہ ہماری پارٹی کے لوگ ہی قانون ساز اسمبلی میں جائیں بلکہ اہلیت کو بنیاد بنائیں، اسے اسمبلی میں بھیجیں جو اہل ہے، علاقے کے لوگوں کے لئے مفید ہے، عوام کے لئے مفید ہے، شیعہ سنی سے بالاتر ہو کر، اسلام و پاکستان کے مفادات کا سوچنے والوں کو اسمبلی بھیجیں، مخلص اور دیانتدار لوگوں کو اسمبلی جانا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 460410
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب