0
Thursday 21 May 2015 00:25
حجاز میں متقی حکومت کا قیام اس حج سے پہلے عمل میں آئیگا

پاکستان آل سعود کیوجہ سے دہشتگردی میں پھنسا ہوا ہے، مرتضٰی پویا

انڈیا اور صہیونیت ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں، اور دونوں کو آل سعود نے جوڑ رکھا ہے
پاکستان آل سعود کیوجہ سے دہشتگردی میں پھنسا ہوا ہے، مرتضٰی پویا
آغا مرتضٰی پویا معروف اسلامی اسکالر اور دانشور ہیں، انہوں نے میدان صحافت میں بھی نام پیدا کیا۔ ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آغا مرتضٰی پویا کے والد گرامی آیت اللہ آقا حاجی مرزا مہدی پویا یزدی 1947ء میں کراچی آئے، وہاں علمی و دینی کام کی سرپرستی کرتے رہے اور ایک مدرسہ جعفریہ کی تشکیل کی، جو ابھی تک کام کر رہا ہے۔ مرتضٰی پویا نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا اور 1957ء سے عملی زندگی میں سرگرم عمل ہیں۔ عملی سیاست کا آغاز مرتضٰی پویا نے 1975ء سے کیا اور آج تک اس میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے ملکی اور عالمی حالات پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: چند روز قبل گلگت میں حادثہ پیش آیا، اسکے بعد کراچی میں دہشتگردی کا بہت بڑا سانحہ ہوگیا، کیا دونوں واقعات میں کوئی ربط یا تعلق موجود ہے یا نہیں۔؟

آغا مرتضٰی پویا:
میں نہیں سمجھتا کہ دونوں میں کوئی تعلق موجود ہے، مگر ایک صاحب بہت وثوق سے کہہ رہے تھے کہ دونوں میں گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے، اور گلگت میں ہیلی کاپٹر والا واقعہ بائی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا، بلکہ اسے مارا گیا۔ بہرحال اس بارے میں ملی جلی رائے ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیلی کاپٹر والا واقعہ اگر حادثہ نہیں تو بھی بہت بڑا سانحہ ہے، اور اگر وہ تکنیکی خرابی کی بنیاد پر پیش آنے والا ایک حادثہ ہے، تو بھی کراچی والا سانحہ بہت بڑا ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جو کہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض افراد کا خیال ہے کہ یکے بعد دیگر جو سعودی شخصیات پاکستان آئیں اور کالعدم تنظیمیں پھر سے سرگرم ہوئیں تو کراچی کا سانحہ اسی کا شاخسانہ ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
دیکھیں جی پیسے دینے کیلئے کسی کو خود آنے کی ضرورت تو نہیں ہوتی۔ پاکستان میں اسماعیلی کمیونٹی کو پہلی بار نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس سے قبل بھی انہیں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ 1988ء میں جب گلگت کا سانحہ پیش آیا اور 108شیعہ حضرات کو شہید کیا گیا تو اس وقت 22 اسماعیلی بھی ٹارگٹ ہوئے تھے۔ اس وقت کے حکمران جنرل ضیاء الحق نے بھی یہی گلہ کیا تھا۔ جب انہیں خبر ملی تھی تو ان کا جملہ تھا کہ سعودیوں نے مجھے مروا دیا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں دہشتگردی سے سعودی عرب کو کیا مفاد حاصل ہوسکتا ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے آل سعود کی وجہ سے دہشت گردی میں پھنسا ہوا ہے۔ دہشت گردوں کا بنیادی مقصد دہشت کی فضا بنائے رکھنا ہوتا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان نے جو کردار ادا کیا، اس سے ملک میں حالات بہتر ہوئے، چنانچہ یہ بھی کہا جانے لگا کہ دہشت گردی کو ختم کر دیا گیا ہے، تو سانحہ کی یہ بھی ایک بنیادی وجہ ہوسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت اور فوجی قیادت کیجانب سے را کو ملوث قرار دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ داری یہاں کے دہشتگرد قبول کرتے ہیں، کیا وجہ ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
تین طاقتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے عرصہ دراز سے سرگرم ہیں۔ صہیونیت، آل سعود اور را۔ آل سعود اور بھارت مسلمانوں کے مفادات کے خلاف شروع دن سے ہی اکٹھے ہیں۔ جب پہلی بار او آئی سی کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا، تو اس وقت آل سعود نے یہ کہا تھا کہ او آئی سی میں بھارت کو بھی شامل کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: حالیہ دہشتگردی کی کارروائیوں کا تعلق کیا پاک چین اکنامک کوریڈور سے بھی ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
یہ منصوبہ تو چھ ماہ میں ملا ہے۔ انڈیا اور صہیونیت ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں، اور ان دونوں کو آل سعود نے جوڑ رکھا ہے، جو کہ پاکستان کے خلاف ایک منحوس مثلث یا تصویر بنی ہوئی ہے۔

اسلام ٹائمز: بھارتی مداخلت ثابت ہونے کے بعد کیا حکومت پر بھی کوئی اثر پڑے گا، کیونکہ موجودہ حکومت بھی بھارت کے قریب سمجھی جاتی ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
میں نواز شریف کے کیرئیر کو 1978ء سے سٹڈی کر رہا ہوں۔ میرے ایک دوست بھارت میں ذمہ داریاں سرانجام دیتے تھے۔ وہ پاکستان آئے تو مجھ سے پوچھا کہ یہ نواز شریف کون ہے، تو میں نے بتایا کہ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس نے کہا کہ یہ مستقبل میں وزیراعظم ہوگا، اور انڈیا والے اسے مدد فراہم کر رہے ہیں، میرے مطابق اسی نے ہی جنرل ضیاءالحق کو مارا، اور جنرل ضیاء کو آل سعود کے کہنے پر مارا گیا۔

اسلام ٹائمز: کیا موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کر پائے گی۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
ہم دعا کرتے ہیں چلے، مگر لگتا نہیں کہ مدت پوری کر پائے۔ حکومت تو فوج چلا رہی ہے۔ اب معلوم نہیں وہ کتنا عرصہ اس کو ڈمی بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ فوج پر منحصر ہے کہ انہیں کب فارغ کرتی ہے۔ مگر جتنی جلدی یہ حکومت چلی جائے تو پاکستان کیلئے اتنا ہی مفید ہے۔

اسلام ٹائمز: یمن کے ایشو پر پاکستان فریق بنے گا۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاک فوج یمن میں جائے، یمن کی جنگ ختم ہوچکی ہے۔ اب تو آل سعود نے اپنے گھر میں اپنا بچاؤ کرنا ہے۔ آل سعود ختم ہوچکے ہیں، وہ اب آپس میں لڑ رہے ہیں۔ شام میں بھی شکست کھا چکے ہیں۔ یمن میں بھی شکست کھا چکے ہیں، بس ایک رسمی سا اعلان باقی ہے کہ آل سعود فارغ ہوگئے۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
مجھے سعودی عرب کا نہیں البتہ حجاز کا مستقبل عزیز ہے۔ حجاز میں ایک متقی حکومت کا قیام عمل میں آئے گا اور وہ بھی اس حج سے پہلے ہوگا۔ انشاءاللہ

اسلام ٹائمز: کیا ایران اور بھارت کے درمیان تعلق پاکستان کے خلاف ہوسکتا ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور جانتا ہوں ایران جو بھی بھارت کے ساتھ کرے گا، وہ پاکستان کی آنکھوں کو دیکھ کر اور راضی رکھ کے کرے گا۔ چین اور پاکستان کے خلاف ایران کے حوالے سے یا ایران اور پاکستان کے خلاف چین کے حوالے سے جو بھی پروپگنڈا کیا جائے۔ چین پاکستان، اور ایران، پاکستان کی دوستی بہت گہری ہے۔ چین اور ایران کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی کیخلاف کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
پاکستان میں خوف کی فضا قائم نہیں ہونی چاہیے، دہشتگردوں کو سزائیں دیئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ جنرل ضیاءالحق کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں آل سعود اور انڈیا کا اتنا زیادہ ہاتھ بڑھا کہ کوشش کے باوجود اس کے آگے بند نہیں باندھا جاسکا۔ جنرل ضیاء سے متعلق طے ہوگیا تھا کہ اس کو ہٹانا ہے۔ ماجد رضا گیلانی کو تین سانحات کیلئے پندرہ ملین ڈالر دیئے گئے تھے۔ ایک علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت، سانحہ گلگت اور جنرل ضیاء الحق کا قتل۔ اس سازش میں نواز شریف اور فضل حق دونوں شامل تھے۔ جب علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا تو جنرل ضیاء ان کے جنازے میں آنا چاہتے تھے۔ فضل حق نے بہت روکا، مگر وہ شریک ہوئے، تو اس وقت وہاں نوجوانوں نے نعرے لگائے کہ قاتل آیا، قاتل آیا۔ تو جنرل ضیاء نے کہا کہ میں آپ کے جذبات کا احترام کرتا ہوں، مگر اگلی گولی میرے سینے پر لگے گی۔

اسلام ٹائمز: جو الیکشن ٹربیونل بنایا گیا ہے، کیا وہ حکومت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
نواز شریف ایک بھی الیکشن جیتے بغیر تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گیا ہے۔ مجھے ان ڈراموں میں دلچسپی نہیں ہے، میں نے کہہ دیا ہے کہ نظام حکومت فوج چلا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: ایران کے حالیہ ایٹمی معاہدے کے اسرائیل کے حوالے سے کیا اثرات دیکھتے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
میرے خیال میں اب یورپ اور امریکہ ایران پر وہ منفی نظر نہیں رکھیں گے، جو اب تک تھی۔ ایران اور خاص طور پر حزب اللہ کے کردار میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور اہم امور علاقے کے یہی سنبھالیں گے، جبکہ اسرائیل بھی آل سعود کی طرح ختم ہوچکا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا مصر میں سابق صدر مرسی اور سعودی عرب میں شیخ نمر کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوجائے گا۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
مصر میں اس وقت سعودی عرب اور اسرائیل نواز حکومت ہے، ان کی کوشش ہے کہ اسلامی تحریکوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، مگر انہیں کامیابی نہیں ملے گی، اور انہیں شکست ہوچکی ہے۔ چنانچہ اس خطے میں آزاد حکومتیں قائم ہوں گی، تو حالات بہتر ہوجائیں گے۔ سعودی عرب پر جب امریکہ یا مغرب کا دباؤ پڑتا ہے تو یہ کچھ اور بولنے لگتے ہیں اور جب انہیں آزاد چھوڑا جاتا ہے تو یہ اس طرح کے کام کرنے لگتے ہیں۔ جہاں تک شیخ نمر کی پھانسی کا تعلق ہے تو شہادت علماء کیلئے کوئی نئی چیز نہیں ہے، عراق میں ایک ہی خاندان کے انیس افراد کو شہید کیا گیا۔

اسلام ٹائمز: جب قادری صاحب یہاں آئے تو آپ انکے شانہ بشانہ تھے، مگر دھرنے وغیرہ کے بعد وہ واپس چلے گئے، کیا حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئی تھی۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
میں ان کے ساتھ تھا، ابھی نہیں ہوں۔ اس وقت میں نے قریب سے دیکھا اور محسوس کیا کہ یہ کامیاب نہیں ہوں گے اور میدان چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اب ایک الگ طریقے سے سوچ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حالات میں ملی یکجہتی کونسل کیا بہتر کردار ادا کر رہی ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
جو کردار ہونا چاہیے وہ نہیں ہے، اس سے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جس سے دشمن کمزور ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: تشیع کی نوجوان تنظیموں، آئی ایس او وغیرہ کے کردار سے مطمئن ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا:
کچھ روز قبل میری آئی ایس او کے صدر سے بات ہوئی، وہ کوئی یوم مردہ باد امریکہ منا رہے تھے، تو میں نے کہا کہ آپ یہ کس خوشی میں منا رہے ہیں، اور امریکہ اس وقت سب سے بڑا دوست بننا چاہتا ہے آپ کا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے قائد کے زمانے سے یہ دن منایا جاتا ہے۔ 1986ء میں امام خامنہ ای جب پاکستان کے دورے پر صدر کی حیثیت سے آئے تو جذباتی نوجوان ائیر پورٹ پر موجود تھے، اور انہوں نے نعرے لگائے، ضیاء کتا، ہائے ہائے۔ تو وہ اس بات پر خفا ہوئے اور کہا کہ آپ کو عادت پڑ چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 462143
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے