0
Tuesday 16 Jun 2015 22:46
خطے میں مضبوط بلاک کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے پاک ایران تعلقات مزید بہتر بنانا ہونگے

ایران کا اثر و رسوخ روکنے کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل سے مل جانا قابل افسوس ہے، پروفیسر طلعت عائشہ وزارت

پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی کیساتھ ساتھ اندرونی مسائل اور بحرانوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیئے
ایران کا اثر و رسوخ روکنے کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل سے مل جانا قابل افسوس ہے، پروفیسر طلعت عائشہ وزارت
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت ملکی و عالمی امور کی ماہر اور معروف سیاسی و خارجہ پالیسی تجزیہ کار ہیں، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا، اس کے بعد انہوں نے اسکالرشپ پر یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا، امریکا سے بھی government and international studies میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے Strategies for Peace and Security in the Persian Gulf کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کیا۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں 34 سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دے چکی ہیں، اس کے بعد انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی میں آٹھ سال تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ وہ اکثر و بیشتر ملکی و غیر ملکی ٹی وی چینلز میں فورمز اور ٹاک شوز پر بحیثیت تجزیہ کار ملکی و عالمی امور پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کے ساتھ یمن پر سعودی جارحیت، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ و دیگر موضوعات کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں ان کے دفتر میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: یمن پر سعودی جارحیت کے خود سعودی بادشاہت کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گی کہ سعودی عرب ہو یا ایران، کسی کو بھی یمن یا خطے کے دوسرے ممالک میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیئے، دوسرا یہ کہ یمن کی عوام کا بھی حق ہے کہ وہاں جمہوریت ہو، کیونکہ ابھی تک وہاں کوئی بھی منتخب صدر نہیں رہا ہے، اسلئے وہاں الیکشن ہونے چاہیئے اور یمنی عوام کو اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیئے۔ جہاں تک بات ہے یمن میں سعودی جارحیت کے خود سعودی عرب میں اثرات کی، تو سعودی عرب میں آبادی کم ہے، جبکہ زمینی رقبہ بہت بڑا ہے، معاشی حالت بھی بہتر ہے، اس لئے فی الحال بہت جلد ان پر اس کے منفی اثرات پڑتے دکھائی نہیں دیتے، اگر پڑیں گے بھی اس میں کافی وقت لگے گا، اسی وجہ سے فی الحال سعودی بادشاہت کو بھی کوئی خطرہ لاحق نظر نہیں آ رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: یمن، بحرین اور عراق میں امریکا اور اسکے عرب اتحادیوں کے کم ہوتے اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث اسرائیل کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور خود سعودی عرب بھی ایران سے نالاں نظر آتا ہے، لہٰذا خطے میں اسرائیل سعودی باہمی تعاون کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہے، گذشتہ مارچ میں سعودی ولی عہد محمد بن نائف کا طیارہ اسرائیلی بن گوریان ایئرپورٹ پر بھی اترنے کی خبریں اسرائیلی و عرب میڈیا میں آئیں، پھر رواں ماہ 4 جون کو امریکا میں سعودی عرب کے ریٹائرڈ جنرل انور ماجد عشقی، جو سعودی عرب کی خفیہ انٹلیجنس کے سابق سربراہ بندر بن سلطان کے مشیر تھے اور اقوام متحدہ میں سابق اسرائیلی سفیر "ڈور گولڈ" کے درمیان ایران مخالف خفیہ مذاکرات ہوئے، کیا کہیں گی ان سب کے حوالے سے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے سعودی عرب جیسا اہم ملک اسرائیل سے مل جائے، سعودی عرب اور ایران میں زیادہ ہم آہنگی ہونی چاہیئے، کیونکہ ایران سعودی عرب کا دشمن نہیں ہے، لیکن اسرائیل ناصرف عربوں کا بلکہ درحقیقت تمام عالم اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے، آپ نے جن دو باتوں کا اپنے سوال میں تذکرہ کیا ہے، یہ میری نظروں سے نہیں گزرے ہیں، میں اس حوالے سے تحقیق کروں گی، لیکن اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ آپ اپنے کھلے دشمن اسرائیل سے ایک اسلامی ملک ایران کے خلاف مدد لیں، صرف اس لئے کہ اس کی وجہ سے آپ کے مفادات متاثر ہو رہے ہوں، جبکہ ممالک کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ ہونا ایک عام سی بات ہے، لیکن صرف اس وجہ سے اسرائیل سے مدد لینا افسوسناک بات ہے، لہٰذا اب انتہائی ضروری ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات ختم کرا کر انہیں ایک میز پر بٹھانے کیلئے پاکستان ہو یا ترکی یا پھر کوئی تیسرا ملک یا کوئی بھی گروہ کوشش کرے، کیونکہ ان سب کا فائدہ تو اسرائیل کو پہنچ رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: سی پاک، یا پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے سمیت دیگر chinese issuranes کے بعد پاکستان امریکی و سعودی دباؤ سے آزاد خارجہ پالیسی بنانے جا رہا ہے، اور پاکستان کی جانب سے یمن جنگ کا حصہ نہ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے، کیا آپ سمجھتی ہیں کہ چینی یقین دہانیوں کے بعد پاکستان امریکی سعودی دباؤ سے آزاد خارجہ پالیسی بنا سکتا ہے، یا یہ بہترین موقع ہے آزاد خارجہ پالیسی بنانے کا۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی بنانا چاہیئے، پچھلی تین دہائیوں میں پاکستان دو جنگوں کا حصہ بنا ہے، پہلے ضیاء دور میں امریکا کے ساتھ مل کر سوویت یونین (ٹکڑے ہونے کے بعد موجودہ روس) کو افغانستان میں شکست دینے کیلئے، اس کے بعد جنرل مشرف نے افغان جنگ کے حوالے سے یک طرفہ فیصلہ کیا، ان دونوں جنگوں کے منفی اثرات سے پاکستان اب تک باہر نہیں نکل پایا ہے، یہ سب امریکا سے تعلقات کی بنا پر ہوا ہے۔ میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہئے اور موجودہ دور میں یہ ہو بھی سکتا ہے، پاکستانی عوام کو اب یہ یقین ہوچکا ہے کہ دوسروں کی جنگوں میں کودنا مناسب نہیں ہے، اور نہ ہی اب ہم اس پوزیشن پر ہیں کہ کسی غیر کی جنگ کا حصہ بنیں، اور ویسے بھی اگر دو مسلم ممالک میں جنگ ہو تو اسے تو ہر حال میں روکنا ہمارا اسلامی فرض ہے، نہ کہ اس جنگ میں فریق بن جائیں۔ بہرحال دوسروں کی جنگوں کا حصہ بننے کیخلاف پاکستان میں بہت مضبوط عوامی آواز ہے، مخالفت ہے۔ ہمیں توانائی بحران کا سامنا ہے، پانی کے بحران کا سامنا ہے، کیونکہ جب ہم بیکار کی جنگوں کا حصہ بنتے ہیں تو ہندوستان ہمارا پانی روک دیتا ہے، اب اگر ہمارے پاس پانی نہیں ہوگا تو ہماری Food Security بھی نہیں ہوگی، اب ہمیں چاہیئے کہ آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل کو حل کرنے اور بحرانوں کے خاتمے کی طرف توجہ دینی چاہیئے، اس حوالے سے ہمیں تعاون چاہیئے ہوگا ایران کا بھی، افغانستان کا بھی، سعودی عرب کا بھی۔

بہرحال پاکستان کی جانب سے آزاد خارجہ پالیسی بنانا انتہائی ضروری ہے، اور اس حوالے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں، آج پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف روس کے دورے پر گئے ہوئے ہیں، چین کے ساتھ اس حوالے سے ہماری پہلے ہی ہم آہنگی ہے، ایران کے ساتھ اگر کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں تو انہیں دور کرکے تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہیئے، ابھی پاک بھارت تعلقات کی بات قبل از وقت ہے، کیونکہ موجودہ بھارتی حکومت انتہائی پاکستان مخالف ثابت ہو رہی ہے، اسلئے پہلے جن ممالک سے کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، ان کیلئے کوشش کرنی چاہیئے، خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے آزاد خارجہ پالیسی بنانا آسان ہے، اس کیلئے اب بغیر وقت ضائع کئے آزاد خارجہ پالیسی بنانے کیلئے ہمیں تیز ترین اقدامات کرنے چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ (ن) پر سعودی نواز ہونے کے الزامات ہیں، کیا پاکستان میں سعودی نواز حکومت کے ہوتے ہوئے امریکی سعودی دباؤ سے آزاد خارجہ پالیسی کا قیام اور پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے کی بروقت تکمیل ممکن ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
آپ کا نکتہ بہت اچھا اور درست ہے، نواز حکومت ہے تو سعودی نواز، لیکن یہ سیاستدان بھی ہیں اور یہ پاکستانی اقتصادیات کو بہتر بنانے کے نعرے کے ساتھ آئے ہیں، کیونکہ جمہوری نظام ہے، یمن جنگ کے حوالے سے تو نواز حکومت کو موقع ملا سعودی عرب سے کہنے کا کہ ہم اپنی پارلیمنٹ سے پوچھ لیتے ہیں، اب پارلیمنٹ نے کہہ دیا کہ یمن جنگ کا حصہ نہ بنیں، حالانکہ پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن) کی ہی اکثریت ہے، لیکن دیگر سیاسی جماعتیں بھی اچھی پوزیشن میں ہیں، جنہوں نے مخالفت کی، لیکن ڈکٹیٹر شپ میں آپ کو یہ فائدہ نہیں ہوتا ہے، جنرل ضیاء نے بھی دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے سے منع نہیں کیا، جنرل مشرف نے بھی منع نہیں کیا، لیکن جمہوریت میں یہ ممکن ہے، جہاں تک بات ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا معاہدہ انہوں نے ہی کیا ہے، تو اب انکی حکومتی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ یہ اقتصای راہداری منصوبہ بروقت مکمل ہو، جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ چین نے اقتصادی راہداری کے حوالے سے تین آپشنز رکھے ہیں، سب سے بہتر یہ جو تھرڈ آپشن ہے پاک چین اقتصادی راہداری کا، اس کے علاوہ ایک اقتصادی راہداری آپشن ہے جو بیجنگ سے سیدھا روس جائے گا، جو کہ چین منگولیا روس اقتصادی راہداری ہے، دوسرا آپشن ہے جو شنگھائی سے سینٹرل ایشیا جائیگا، لہٰذا چین نے پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر دو روٹس اور بھی رکھے ہوئے ہیں کہ اگر پاکستان والا روٹ بروقت مکمل نہ ہوا اور سیاسی چپقلش کا شکار ہوگیا، تو وہ دیگر دو روٹس پر کام کریگا، کیونکہ وہ ان اقتصادی روٹس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ پھر اس میں پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ ہے، تمام صوبوں خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو فائدہ ہے۔

اسلام ٹائمز: پاک چائنا تجارتی معاہدے، انڈیا چائنا معاہدے، ایران بھارت معاہدے، یورو ایشین یونین، کیا یہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام یا اس وقت امریکی سربراہی میں عالمی معاشی قوتوں کی مونوپولی کے خاتمے اور ان کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
اب تو سب کیپٹل ازم اپناتے نظر آ رہے ہیں، روس بھی اسی حوالے سے کام کرتا نظر آ رہا ہے، چین بھی کمیونسٹ کہلاتا ہے لیکن اس کی پالیسیوں میں کیپٹل ازم نظر آ رہا ہے، لہٰذا کیپٹل ازم کو تو خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے، کیپٹل ازم کو خطرہ اینٹی کیپٹل ازم فورسز یعنی جو عام لوگ ہیں، ان سے ہے، جب بھی کیپٹل ازم کی کانفرنسز ہوتی ہیں تو وہاں باہر عوام لوگوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے جو ان کانفرنسز کے خلاف ہوتا ہے، اپنی آواز بلند کر رہا ہوتا ہے، لیکن امریکی و مغربی برتری اور اجارہ داری کو خطرہ ہے۔ میرے خیال سے امریکی و مغربی برتری کے دن اب ختم ہونے والے ہیں، ان کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے، کیونکہ روس اور چین تو ہیں ہی ایک پیج پر، اگر خطے کے اور ممالک بھی ان کے ساتھ آجائیں، اس میں ایران، افغانستان، پاکستان بھی آجائیں، سینٹرل ایشیا کے ممالک بھی آجائیں، یعنی زمینی طور پر جڑے ہوئے ممالک کا ایک نیٹ ورک بن جائے تو میرا خیال ہے کہ ایک مضبوط بلاک بن جائیگا جو امریکی و مغربی برتری اور اجارہ داری کے خاتمے کا باعث ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا پاکستان، ایران، چین، روس مل کر امریکی بلاک کے مقابلے میں کوئی نیا بلاک بنانے جا رہے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
دنیا یک قطبی (unipolar) سی ہوگئی تھی، اب جیسا کہ ایک مضبوط بلاک بن سکتا ہے تو اس سے دنیا دو قطبی (bipolar) ہوگی، لیکن ابھی میں بہت یقین سے نہیں کہہ سکتی، پاک ایران تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں افغانستان اور طالبان کو لے کر، لیکن اب میڈیا میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایران نے افغان طالبان کو سپورٹ کیا ہے، شاید کہ طالبان بھی ایک امریکا مخالف عنصر ہے، تاکہ امریکی برتری کو ٹھیس پہنچائی جائے، مجھے یہ خبریں پڑھ کر بہت حیرت ہوئی، کیونکہ طالبان ہی کی وجہ سے پاک ایران تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، بہرحال اس خطے میں مضبوط بلاک کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے پاک ایران تعلقات مزید بہتر بنانے ہونگے، پھر اس میں افغانستان کی شمولیت سے خود افغانستان میں استحکام آئے گا، جو کہ خود پاکستان میں بھی استحکام کا باعث ہوگا، کیونکہ آپ جس بلاک کو بنانے کی بات کر رہے ہیں، جس کا تصور (visualize) کر رہے ہیں، وہ بہت ہی اہم اور وسیع ہے، اس کی مخالفت بھی انتہائی زیادہ ہوگی، اور اس کیلئے سب سے اہم چیز پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بروقت تکمیل ہے، بلوچستان کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے گوادر پورٹ کو آپریشنل کر دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: جنرل راحیل شریف کے دورہ روس کے حوالے سے مختصراً کیا کہیں گی۔؟
پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت:
کچھ عرصہ قبل روسی وزیر دفاع پاکستان آئے تھے، اس موقع پر روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی، لہٰذا اب افغان جنگ کے بعد دونوں طرف سے تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جو کہ بہت خوش آئند ہے اور اب جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف صاحب دورہ روس پر گئے ہیں، ابھی اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، مگر خطے کی حساس اور اہم بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں روس جیسے اہم اور امریکا مخالف ملک کے دورے پر پاکستانی آرمی چیف کا جانا بہت تاریخی اہمیت کا حامل ثابت ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 467071
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب