0
Wednesday 24 Jun 2015 20:30
سیاسی میدان میں بھرپور طریقے سے وارد ہونا چاہیئے

یوم القدس مسلمانوں کی بیداری اور فلسطینیوں کی واحد امید کا دن ہے، علامہ احمد اقبال رضوی

ناصران امام مہدی (ع) ورکشاپس کا مقصد نوجوانوں میں دین کا شعور پیدا کرنا ہے
یوم القدس مسلمانوں کی بیداری اور فلسطینیوں کی واحد امید کا دن ہے، علامہ احمد اقبال رضوی
کراچی سے تعلق رکھنے والے علامہ سید احمد اقبال رضوی اس وقت المہدی ادارہ تربیت، آئی ایس او پاکستان کے مسئول ہیں، اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تربیت کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سرنجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلس نظارت کے رکن بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے علامہ سید احمد اقبال رضوی کے ساتھ ماہ رمضان المبارک میں تربیت کے موضوع پر ایک مختصر گفتگو کی ہے۔ جس کا احوال پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: المہدی ادارہ تربیت کی ضرورت کیونکر محسوس ہوئی اور اسکے بنیادی اغراض و مقاصد کیا ہیں۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ تربیت ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کو اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے، فطرت انسانی میں بھی تربیت پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا انسان جو تربیت کے عمل سے نہ گزرے، بظاہر انسان ہے، مگر حیوان کی صف میں شامل ہے۔ لہذا تربیت اسلامی تنظیموں کے لئے ایک بنیاد رکھی ہے۔ آئی ایس او پاکستان ایک دینی تنظیم ہے۔ اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ نوجوانوں کی دین کے مطابق تربیت کی جائے۔ ایسے صالح نوجوانوں کو تنظیم میں جگہ دی جائے، جو انسانی، اسلامی اور قرآنی صفات کے حامل ہوں۔ اس لحاظ سے آئی ایس او کے اندر تربیتی پروگرام موجود تھے۔ تنظیم کا مرکزی نائب صدر بعنوان مسئول تربیت کام کرتا تھا، مگر آہستہ آہستہ محسوس کیا گیا کہ ایک نائب صدر فقط مسئول تربیت کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ افراد کی ایک مکمل ٹیم مل کر مستقل طور پر تربیت کے حوالے سے کام کرے۔ چنانچہ مرکزی نظارت، تنظیم کے سابقین اور عہدیدران مل کر بیٹھے اور انہوں نے ایک ادارے کی ضرورت پر غور کیا۔ ماضی میں بھی اس موضوع پر گفتگو ہوچکی تھی۔ پانچ سال پہلے تنظیم نے اس ادارے کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا کہ علماء کرام تنظیم کے تربیتی امور کو سنبھالیں۔ اس طرح یہ ادارہ ترتیب تشکیل پایا اور الحمداللہ انتہائی کامیابی سے اپنے مقاصد کو لیکر آگے بڑھ رہا ہے۔ ادارے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت کرنا ہے۔ معاشرے کو ایسے صالح اور کار آمد نوجوان فراہم کرنا، جو صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی اعلٰی ہوں اور دینی تربیت کے اعتبار سے بھی اعلٰی ہوں۔

اسلام ٹائمز: آپ کتنے عرصے سے ادارے کیساتھ وابستہ ہیں اور معین اہداف حاصل کرنے میں کس حد تک کامیابی ملی ہے۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
مجھے اس ادارے کے ساتھ پانچ سال ہو رہے ہیں۔ ہماری نگاہ میں کامیابی یہی ہے کہ اپنی شرعی ذمہ داری کو ادا کر رہے ہیں تو ہم کامیاب ہیں۔ ظاہری طور پر ہم نے اپنے جو اہداف معین کئے تھے، اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ مثلاً ورکشاپس میں بہتری آئی ہے۔ اچھے اساتید فراہم کرنے میں بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ متنوع، مختلف پروگراموں کا اجراء کیا گیا ہے۔ ابھی مربی حضرات کی تیاری کے حوالے سے پورے پاکستان میں برادران اور خواہران کیلئے ورکشاپس ہو رہی ہیں۔ مربی حضرات کو مربوط کیا جا رہا ہے، تاکہ مقامی سطح پر ہم ان مربی خواتین و حضرات سے تربیتی امور میں استفادہ کرسکیں اور علماء کرام کو ہم نے آئی ایس او کے حوالے سے کافی حد تک متوجہ کیا ہے۔ الحمدللہ پورے پاکستان کے مختلف ڈویژنز میں علماء کرام آئی ایس او کو وقت دیتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ملک بھر میں ناصران امام مہدی (ع) ورکشاپس منعقد ہو رہی ہیں، ان سے کیا ثمرات حاصل ہونگے۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
ان ورکشاپس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملت کے نوجوانوں میں دین کا شعور پیدا کیا جائے۔ بیداری پیدا کی جائے، اور نوجوانوں کو آئی ایس او کا تعارف کرا کے انہیں آئی ایس او میں آنے کی دعوت دی جائے۔ پورے پاکستان میں تقریباً پانچ سو کے قریب ورکشاپس منعقد ہو رہی ہیں۔ جس کا آغاز ہوچکا ہے۔ ان میں ہمارے آئی ایس او کے برادران، ادارہ مہدی اور جامعہ بعثت کے علماء کرام مل کر کام کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کے طلباء دینی تعلیم کے حصول کیلئے ایران، عراق، شام و دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں، کیا پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں، جہاں فیض پانے کیلئے وہاں کے طلباء یہاں پر آئیں۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
فی الحال تو حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ نجف علمی حوالے سے تشیع کا مرکز ہیں۔ پوری دنیا سے اہل تشیع حصول علم کی خاطر نجف اور قم جاتے ہیں، تاکہ وہاں سے وہ اعلٰی سطح کی دینی تعلیم حاصل کرسکیں، کیونکہ مجتہدین وہاں موجود ہیں، مراجع کرام وہاں ہیں۔ تشیع کی بڑی بڑی شخصیات وہاں موجود ہیں۔ لہذا تشیع کی تعلیم کے حوالے سے اب تک پوری دنیا میں نہ قم کا کوئی ثانی ہے اور نہ ہی نجف کا۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں اس میدان میں بہت کام ہونا باقی ہے۔ الحمدللہ ہمارے ہاں بھی بہت اچھے اچھے مدارس وجود میں آئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں بہت اچھے اچھے مدارس موجود ہیں، تاہم ان کی سطح ابھی تک وہ نہیں ہے جو حوزہ علمیہ قم کی سطح ہے، لہذا ہمارے طالب علم ابتدائی تعلیم یہاں حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ حوزہ علمیہ قم کا رخ کرتے ہیں۔ لہذا فی الحال ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے، انشاءاللہ امکان ہے کہ آئندہ کچھ عرصے میں ہمارے مدارس اس قابل ہوجائیں گے کہ باہر کے طالب علم یہاں آکر علم حاصل کریں۔

اسلام ٹائمز: رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے، یوم القدس کے حوالے سے کیا تیاری کی جا رہی ہیں۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
ماہ مبارک تہذیب نفس اور عبادت کا مہینہ ہے، اس میں اللہ، اس کے رسول، آئمہ طاہرین کا دیا ہوا پیغام ہماری توجہات ہونی چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماہ مقدس میں ہماری توجہ بدن کی طرف زیادہ ہوتی ہے، روح کی جانب ہم متوجہ نہیں ہوتے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت، نوافل، قرآن مجید کی تلاوت، دعائیں جو وارد ہوئی ہیں، ان کی جانب متوجہ ہونا چاہئے۔ روایات میں ہے کہ جو شخص اس مہینے میں بخشا نہ جائے وہ پھر کبھی بخشا نہیں جائے گا۔ یہ مہینہ بخشش کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس مہینے سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یوم القدس مسلمانوں کی بیداری کا دن ہے۔ مسلمانوں کی طاقت کے استعمال و اظہار کا دن ہے۔ فلسطینیوں کی امید کا واحد دن یہی یوم القدس ہے۔ جس میں پوری دنیا کے اقوام مل کر قبلہ اول، فلسطین کی آزادی کے لئے کوشش کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ امام خمینی نے یوم القدس کے حوالے سے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے، وہ یہی تھا کہ جب ساری دنیا بیت المقدس کے مسئلہ کو بھول چکی تھی، فلسطین کے قضیئے کو بھول چکی تھی۔ امام خمینی نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیکر ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا کہ اب تاقیامت فلسطین کے قضیئے کو مسلمان نہیں بھلائیں گے۔ بیت المقدس کی بازیابی کے مسئلہ کے اوپر ہاتھ پر ہاتھ دھر کے نہیں بیٹھیں گے۔ یوم القدس کے اجتماعات میں بھرپور طریقے سے شرکت کرنی چاہیے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کی حمایت کرے ،مدد کرے۔ لہذا یوم القدس ہم سب پر واجب ہے۔ حتٰی کہ مراجع کرام کی نظر میں جو لوگ اعتکاف میں بھی بیٹھے ہیں، حالانکہ اعتکاف میں آپ بلاعذر شرعی مسجد سے باہر نہیں نکل سکتے، مگر یوم القدس کیلئے مراجع نے اجازت دی ہے کہ آپ ضرورت کی حد تک اس میں شریک ہوسکتے ہیں، اور شرکت کے بعد واپس اعتکاف میں شامل ہوسکتے ہیں، کیونکہ یوم القدس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک اجتماعی سیاسی فریضہ ہے، جو ہم سب کو ادا کرنا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کے موجود حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ملت تشیع کے نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے۔؟
سید احمد اقبال رضوی:
پاکستان کے ہر نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی تعمیر، ترقی اور اصلاح کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ پوری پاکستانی ملت کے نوجوانوں کو مل کر ملک سنوارنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ملک میں اس وقت بدامنی ہے، حکومتی نااہلی پر خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمیں اور ہماری نسلوں کو یہیں رہنا ہے، لہذا اس کی تقدیر کے فیصلوں کا حق انہیں دینا چاہیے، جو اہل ہوں۔ تعلیم، ہنر، سیاسی میدان میں نوجوانوں کو آگے بڑھنا چاہیے، سیاسی میدان میں بھرپور طریقے سے وارد ہونا چاہیے، تاکہ باطل قوتوں سے مواقع لئے جائیں اور صالح لوگوں کو سیاست میں آگے آنے کا موقع دیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 468680
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب