0
Thursday 9 Jul 2015 00:02
عرب و مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ ہر قسم کے تعلقات قطع کرنے چاہیئے

پاکستان آزادی فلسطین اور اسرائیل کی نابودی کیلئے ایران اور ترکی کیساتھ ملکر مضبوط گروپ بنائے، اسداللہ بھٹو

داعش کیجانب سے حماس کو نقصان پہنچانا تحریک آزادی فلسطین اور امت مسلمہ کیلئے نقصان کا باعث ہوگا
پاکستان آزادی فلسطین اور اسرائیل کی نابودی کیلئے ایران اور ترکی کیساتھ ملکر مضبوط گروپ بنائے، اسداللہ بھٹو
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر جناب اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ پاکستان خصوصاََ کراچی و سندھ بھر میں انکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور آجکل ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر کی حیثیت سے بھی فعال ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مسجد قباء کراچی میں قائم جماعت اسلامی کے آفس میں ان کے ساتھ ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے امام خمینی کے فرمان پر جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، امام خمینیؒ کے اس فرمان اور اسکے اثرات کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
اسد اللہ بھٹو:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں ایران کے اندر اسلامی انقلاب برپا کیا گیا، امام خمینیؒ کا ویژن اور انکی فکر امت مسلمہ کیلئے یہ تھی کہ امت مسلمہ کو دنیا میں کہیں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا تو وہ اس کیلئے آواز اٹھاتے تھے، اور اس کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے، جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ مومن، مومن کا بھائی ہے، اس لئے دنیا بھر میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے اسرائیل کے خلاف بڑی موثر انداز میں آواز بلند کی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے پاکستان سے بھی زیادہ مؤثر انداز میں آواز اٹھائی، امام خمینیؒ نے کہا کہ فلسطین پر صہونی اسرائیلی حکومت کا ناجائز قبضہ ہے، لہٰذا اسرائیل کے قبضے سے فلسطین کو چھڑانا چاہیئے، کیونکہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، یہ مسلمانوں کا ہے اور رہے گا، لہٰذا مسئلہ فلسطین کو صہیونی پنجوں سے آزاد کرانے کیلئے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے کیلئے امام خمینیؒ نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا، تاکہ پوری دنیا کے مسلمان فلسطین پر قابض ناجائز اسرائیلی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل کر ناصرف مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کریں، بلکہ مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کریں، عالم انسانیت کے اندر صہیونیت کے خلاف نیا عزم پیدا کریں، اور نئی آنے والی نسلوں کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کیا جائے، لہٰذا امام خمینیؒ نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ماہ رمضان میں جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کرکے زبردست قدم اٹھایا تھا، آج ان کے اس صدقہ جاریہ کی وجہ سے مسئلہ فلسطین دنیا بھر میں زندہ بھی ہے اور عالمی یوم القدس منانے کیلئے دنیا بھر میں تمام مسالک کے لوگ اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور آواز بلند کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایک عرصہ سے یہ سازش جاری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو پہلے مسلمانوں کا مسئلہ قرار دیا گیا، پھر عربوں اور آہستہ آہستہ اسے فلسطینیوں تک ہی محدود کرکے رکھ دیا گیا، حالانکہ یہ انسانیت کے وقار کا مسئلہ ہے کہ صہیونی مظالم کو رکوایا جائے، آپکی کیا رائے ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
دراصل امریکا اور مغرب کی یہ سازش رہی ہے کہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عربوں کا مسئلہ قرار دیا، وہ اس مسئلے کو صرف عربوں تک محدود کرنا چاہتے تھے، تاکہ دنیا کے دیگر تمام مسلمان فلسطین سے لاتعلق ہوجائیں، لیکن اس میں انہیں ناکامی اٹھانی پڑی، آج دنیا کے چپے چپے میں رہنے والے تمام مسلمان مسئلہ فلسطین کو اپنا مسئلہ قرار دیتے ہیں، مسئلہ فلسطین کو محدود کرنے کی امریکی و مغربی سازش کو ناکام بنانے میں امام خمینیؒ کا بہت بڑا کردار ہے کہ ان کے عالمی یوم القدس منانے کے اعلان سے یہ بات تمام دنیا پر واضح ہوگئی کہ مسئلہ فلسطین نہ تو عربوں کا مسئلہ ہے، نہ علاقائی مسئلہ ہے اور نہ ہی فلسطین میں رہنے والے مسلمانوں اور یہودیوں کا آپس کا مسئلہ ہے، بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے، تمام عالم اسلام اور عالم انسانیت کا مسئلہ ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی تو ایک طرف مگر عرب ممالک اور او آئی سی کا کردار بھی انتہائی مایوس ہے، اس حوالے سے آپکی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
اس وقت عرب دنیا میں خود بہت بڑی محاذ آرائی جاری ہے، اس حوالے خود عرب ممالک کا آپس میں جھگڑنا ایک بہت زیادہ افسوسناک پہلو ہے، خود داعش کے نام پر جس طرح سے وہاں شیعہ سنی یا مختلف عرب گروہوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوئی ہیں، اس کے نتیجے میں عرب دنیا کا اتحاد پارہ پارہ ہو کر غیر مؤثر اور غیر فعال ہوگیا ہے، جہاں تک او آئی سی کی بات ہے، اسلامی سربراہی کانفرنس سے مسلمانوں کو بہت توقعات تھیں، وہ سمجھتے تھے کہ یہ مسلمانوں کا ایک متبادل پلیٹ فارم بنے گا، جو عالمی سطح پر مسلمانوں کے ایک توانا آواز ہوگی اور مسائل کے حل کرنے کیلئے راستہ بنے گا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ او آئی سی ایک بے جان لاش کے مانند موجود ہے، اس نے امت مسلمہ کو بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض عرب اور مسلمان ممالک کے ناجائز صہیونی اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں، اس صورتحال میں مسئلہ فلسطین کیسے حل ہوسکتا ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
عرب و مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات قطع کرنے چاہیئے، کیونکہ اسرائیل کا وجود ہی ناجائز ہے، اور ناجائز وجود کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں ہونا چاہیئے، ناجائز اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنا انسانی حقوق اور بین الاقوامی معیارات کے خلاف ہے، اسرائیل سے تعلق رکھنے والے تمام عرب و مسلم ممالک کو اب واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیئے، کیونکہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے، لیکن انہیں ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا ہے، اور مظلوم فلسطینی دیگر ممالک میں پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، تمام مسلم ممالک کو فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر واپسی کیلئے بھرپور کوششیں کرنی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: فلسطین کی حقیقی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کو چند روز پہلے داعش نے دھمکی دی ہے کہ داعش حماس پر حملہ کرکے غزہ پر قبضہ کریگی، داعش کی حماس کو اس دھمکی کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ کیا داعش جیسی تنظیمیں اسلامی ممالک کو دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرکے اسرائیل کے تحفظ کیلئے کام نہیں کر رہیں۔؟
اسد اللہ بھٹو:
داعش کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ فلسطینیوں کی حقیقی نمائندہ جماعت حماس کو دھمکی دے، داعش کا فلسطینی مزاحمتی تحریک سے کوئی واسطہ نہیں ہے، داعش کو اگر لڑنا ہے تو اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف لڑنا چاہیئے، لیکن داعش کی جانب سے حماس کو دھمکی دینا، حماس کا راستہ روکنا یا نقصان پہنچانا تحریک آزادی فلسطین اور امت مسلمہ کیلئے انتہائی نقصان کا باعث ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا اسلامی ممالک میں جاری دہشتگردی خود فلسطین کاز کیلئے نقصان کا باعث نہیں بن رہی ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
مسلم ممالک میں جاری دہشتگردی مسلمانوں کو مسئلہ فلسطین سمیت ہر مسئلے میں نقصان پہنچا رہی ہے، اس سے خود مسلمانوں کا تشخص دہشتگرد ہو رہا ہے، دنیا بھر میں دہشتگردی امریکی و مغربی ایما پر جاری ہے، لہٰذا مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے، اتحاد و وحدت کے ساتھ اپنے تمام مسائل کو حل کرنا چاہیئے اور کھویا ہوا تشخص اور وقار پھر سے بحال کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس کے موقع پر کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
پاکستان کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو عالمی یوم القدس کے موقع پر خصوصی طور پر پروگرامات بنانے چاہیئے، انفرادی و اجتماعی دونوں حوالے سے۔ دوسرا یہ کہ عالمی یوم القدس کے موقع پر پاکستانی حکومت کو بھی فلسطین کی آزادی، اسرائیل کی نابودی، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، زبردستی بے دخل کئے گئے فلسطینی مسلمانوں کی فلسطین واپسی کیلئے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں پاس کرنی چاہیئے، تیسرا یہ کہ پاکستانی حکومت کو اب پہل کرنی چاہیئے کہ وہ ایران، ترکی و دیگر ممالک کے ساتھ ملک کر ایک مضبوط گروپ بنائے جو آزادی فلسطین اور اسرائیل کی نابودی کیلئے کام کرے۔
خبر کا کوڈ : 472448
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب