0
Wednesday 15 Jul 2015 16:48

ایران کے جوہری معاہدے سے پاکستان سمیت خطے کے حالات بہتر ہوں گے، طلعت مسعود

ایران کے جوہری معاہدے سے پاکستان سمیت خطے کے حالات بہتر ہوں گے، طلعت مسعود
ایران اور پی پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری معاملے پر ایک تاریخی معاہدہ طے ہوگیا ہے، دنیا بھر کے تجزیہ نگار اس معاہدے کو بہت اہمیت دے رہے ہیں اور اسے خطے کی سلامتی کیلئے ناگزیر سمجھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ممتاز دفاعی تجزیہ نگار طلعت مسعود سے ہم نے تین سوال پوچھے ہیں، نمبر1، اس معاہدے سے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، سوال نمبر2 یہ کہ اس معاہدے سے ایران اور خود پاکستان کے عرب دنیا سے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور سوال نمبر3 میں ہم جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان عرب دنیا اور ایران کیساتھ تعلقات میں توازن کیسے برقرار رکھ پائے گا۔ ان سوالوں کے جوابات پیش خدمت ہیں۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ایران اور چھے بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان بلآخر جوہری معاہدہ طے پا گیا۔ اسکے خطے اور دنیا پر کیا اثرات دیکھتے ہیں۔؟
طلعت مسعود:
اس معاہدے کے بعد میرے خیال میں پاکستان سمیت پورے خطے میں مجموعی طور پر استحکام آنے کی توقع ہے، کیونکہ اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان تناو کافی حد تک کم ہوجائیگا، توقع ہے کہ ایران کے مغربی دنیا اور امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں گے۔ اس تناو کی وجہ سے خود پاکستان پر سخت حالات تھے، پاکستان اپنے پڑوسی ملک ایران سے تعلقات بڑھا نہیں سکتا تھا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان آگے بڑھتا تھا تو وہ امریکہ کو برا لگتا تھا، کیونکہ مغربی دنیا یہ تعلقات نہیں چاہتی تھی، لیکن اب اس میں بہتری آئیگی۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے سے عرب دنیا کیساتھ پاکستان اور خود ایران کے تعلقات پر کوئی فرق پڑیگا۔؟
طلعت مسعود:
میرے خیال میں عرب دنیا اس معاہدے سے بہت متاثر ہوئی ہے اور وہ اس معاہدے سے اختلاف کرتی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتی کہ یہ معاہد ہو، آپ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے ملکر اس معاہدے کی مخالفت کی ہے، اس کے باوجود امریکہ نے ایران کیساتھ یہ معاہدہ کیا ہے۔ میرے خیال میں اس خطے اور دنیا کی سلامتی کیلئے یہ کام صحیح ہوا ہے، اس لئے اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس سے فائد اٹھایا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا عرب دنیا کے پاکستان کیساتھ تعلقات پر اس معاہدے کے بعد کوئی فرق پڑسکتا ہے۔؟
طلعت مسعود:
جی پاکستان کیلئے یہ بڑا مشکل چیلنج ضرور ہے، کیونکہ پاکستان چاہتا ہے کہ وہ اپنے تعلقات سعودی عرب اور یو اے ای سمیت دیگر عرب ممالک سے مضبوط رکھے، پاکستان کے سعودی عرب کیساتھ مخصوص تعلقات ہیں جو کہ غیر معمولی رشتہ ہے، اس لئے پاکستان کسی صورت اس کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ ایران جو کہ اُس کا ہمسایہ ملک ہے کوشش کی جائے کہ ان سے بہتر تعلقات بڑھائے، اس لئے ضروری ہے کہ اس میں توازن پیدا کیا جائے۔ میں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک بہت بڑا چینلج سمجھتا ہوں۔
خبر کا کوڈ : 474034
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے