0
Monday 20 Jul 2015 00:19
عالمی استعمار و سامراج کیخلاف آواز حق بلند کرنے کیلئے پاکستان میں خواتین سب سے آگے نظر آتی ہیں

قومی اجتماعات و تحریکوں میں شرکت کرکے شیعہ خواتین ثابت کرچکی ہیں کہ وہ اجتماعی دھارے میں آگئی ہیں، خانم زہرا نجفی

ایم ڈبلیو ایم کی دعوت پر خواتین نے لبیک کہا ہے، شعبہ خواتین کی ملک گیر فعالیت اسکا کھلا ثبوت ہے
قومی اجتماعات و تحریکوں میں شرکت کرکے شیعہ خواتین ثابت کرچکی ہیں کہ وہ اجتماعی دھارے میں آگئی ہیں، خانم زہرا نجفی
خانم زہرا نجفی مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی آٹھ رکنی مرکزی کونسل کی فعال رُکن ہیں، وہ اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم کراچی اور سندھ کی سیکریٹری جنرل رہ چکی ہیں۔ وہ جامعة الزہرا قم المقدسہ ایران سے فارغ التحصیل ہیں، اس سے قبل زمانہ طالب علمی میں وہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (شعبہ طالبات) سے وابستہ رہیں، وہ آئی ایس او کراچی ڈویژن شعبہ طالبات کی ذیلی نظارت کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے خانم زہرا نجفی کے ساتھ ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ خواتین، شعبے کو درپیش مشکلات و مسائل اور اسکے حل سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کن اغراض و مقاصد اور نصب العین کے تحت فعالیت انجام دے رہا ہے؟
خانم زہرا نجفی:
ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین تنظیم کے دستور میں موجود نصب العین اور اغراض و مقاصد کے تحت فعال ہے، نصب العین یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے میں الٰہی اقدار کا احیاء اور چیدہ چیدہ اغراض و مقاصد یعنی دین اسلام کے صحیح و حقیقی چہرے کا احیاء، مملکت خداداد پاکستان کی سالمیت اور اسکے استحکام کے حوالے سے عملی کوششیں کرنا، اسی طرح امت مسلمہ کی وحدت کیلئے، مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان بہترین روابط اور ہم آہنگی پیدا کرنا، دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت کرنا، انکے خلاف ہونے والے مظالم کیخلاف آواز حق بلند کرنا، عالمی سامراج و استعمار کے خلاف جدوجہد، تعلیمات حضرت محمدؐ و آل محمدؐ کی روشنی میں عزاداری سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے فروغ اور اسکے تحفظ کیلئے سعی و کوششیں کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی سندھ خصوصاً کراچی میں فعالیت کی تفصیلات اور تنظیمی ڈھانچے سے آگاہ کریں۔؟
خانم زہرا نجفی:
ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کا آغاز کراچی سے ہی ہوا تھا، کراچی ڈویژن کی مسؤلیت بحیثیت سیکرٹری جنرل ہمیں ہی منتخب کیا گیا تھا، اسکے بعد صوبہ سندھ میں شعبہ خواتین کو فعال کرنے کیلئے صوبائی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری بھی ہمیں ہی دی گئی تھی، ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے قیام کے بعد جو بڑے بڑے سیمینارز و پروگرامات منعقد کئے گئے، اس میں خواتین کی شمولیت بھی رہی، کراچی میں شعبہ خواتین کو فعال کیا گیا، جلد ہی 25 باقاعدہ یونٹس اور 20 آرگنائزنگ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا، سندھ بھر میں حیدر آباد، سکھر، نواب شاہ سے لیکر شکار پور تک بہت سے اضلاع میں شعبہ خواتین کی تنظیم سازی ہوچکی ہے۔

اسلام ٹائمز: کراچی سمیت سندھ بھر میں ملت کی خواتین کو کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے، اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین درپیش مسائل و مشکلات کے حل کیلئے کیا کر رہی ہے۔؟
خانم زہرا نجفی:
اگر ہم اندرون سندھ کی بات کریں تو وہاں دینی، معاشرتی، ثقافتی، انفرادی، اجتماعی و دیگر حوالوں سے خواتین بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں، مثلاً دینی و دنیاوی تعلیم کے حوالے سے پسماندگی کا شکار ہیں، تعلیم کے بعد معاشی حوالے سے بھی انہیں انتہائی زیادہ مسائل کا سامنا ہے، روزگار و ملازمت کے حوالے مسائل کا سامنا ہیں، جو خواتین گھر سے باہر جا کر ملازمت نہیں کرسکتیں، انکے پاس گھر بیٹھے معاشی وسائل میں اضافے کے حوالے سے مواقع نہیں ہیں، جیسے مثلاً انڈسٹریل ہوم، اسمال بزنس وغیرہ کے مواقع نہیں ہیں۔ اندرون سندھ کے علاوہ خود کراچی میں بھی بہت سے علاقے ہیں مثلاً اورنگی، بلدیہ وغیرہ میں بھی خواتین تعلیمی و معاشی حوالے سے پیچھے ہیں، مالی و دیگر وسائل کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم نہیں دلوا پاتے، روک دیتے ہیں، یا پھر اعلٰی تعلیم نہیں دلوا سکتے، حالانکہ ایسے علاقوں کی لڑکیاں ذہانت میں پیچھے نہیں ہیں، وہ ذہین و باصلاحیت ہوتی ہیں، اعلٰی تعلیم کے حصول کے حوالے سے انکے اندر بہت لگن، جوش و جذبہ پایا جاتا ہے، لہٰذا اگر ان بچیوں کو وسائل و ذرائع فراہم کئے جائیں تو وہ اعلٰی تعلیم حاصل کرکے معاشرے میں، قوم و ملت کیلئے بہترین کردار دا کر سکتی ہیں، کیونکہ انکے اندر بے انتہا صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہماری قوم، خصوصاً مخیر حضرات اس حوالے سے مدد کریں، تو ملت کی وہ بچیاں جو واقعاً ذہین اور باصلاحیت ہیں، اعلٰی تعلیم کے حصول کی خواہشمند ہیں، جس کا مشاہدہ ہم آئے روز اپنے تنظیمی دورہ جات کے دوران کرتے رہتے ہیں، وہ اعلٰی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔

جہاں تک بات ہے کہ شعبہ خواتین اس حوالے سے کیا کر رہا ہے، تو دیکھیں ہم خود مالی لحاظ سے مضبوط نہیں ہیں، لیکن پھر بھی ہم نے خواتین کیلئے تعلیمی و معاشی حوالے سے تین پروجیکٹس بنائے ہیں، مثلاً وہ بچیاں اور خواتین جو تعلیم حاصل نہیں کر سکیں، انہیں دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرمند کرنے کیلئے ہم نے پروجیکٹ بنایا ہے، اس کے تحت کام تو شروع کر دیا ہے، مگر مالی وسائل کی کمی کے باعث ہم اسے وسعت نہیں دے پا رہے ہیں، کہ جس انداز میں ہم اس پروجیکٹ کو چلانا چاہتے ہیں، نہیں چلا پا رہے ہیں۔ اجتماعی شادی کا پروجیکٹ بھی ہے، اس حوالے سے بھی مخیر حضرات تعاون کریں تو اسے بھی ہم اعلٰی سطح پر لے جاسکتے ہیں، ایک ہمارا ووکیشنل سینٹر پروجیکٹ ہے، جس میں سلائی کڑھائی و دیگر حوالے سے ہم نے مختلف علاقوں میں کام شروع کیا ہے، اس حوالے سے بھی ہمیں وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ مرکز ووکیشنل سینٹرز، قرآن سینٹرز، اجتماعی شادی پروجیکٹس کے حوالے سے اپنی حد تک تعاون کر رہا ہے، لیکن ڈویژن کو خود اپنے طور پر اس حوالے سے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے، یعنی ڈویژنز خود اپنے لئے وسائل پیدا کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، اس حوالے ملت کے صاحب ثروت حضرات اپنا تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اصلاح معاشرہ کیلئے سرگرم افراد کیلئے اسلامی تعلیم و تربیت ناگزیر ہے، ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین نے کراچی سمیت سندھ بھر میں اپنی عہدیداران و کارکنان کی تربیت کا کیا جامع نظام وضع کیا ہوا ہے۔؟
خانم زہرا نجفی:
مرکز کی طرف سے مجلہ ”بصیرت“ شائع کیا جاتا ہے، تمام عہدیداران و کارکنان کیلئے اس کا پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس میں سوالات کا سلسلہ بھی ہوتا ہے، ان سوالات کو حل کرکے مرکز ارسال کیا جاتا ہے، شعبہ تعلیم و تربیت دینی و دنیاوی حوالے سے مختلف پروگرامات کرتا رہتا ہے، مختلف لٹریچر اور سوالات و جوابات کی اشاعت کا سلسلہ ماہانہ بنیاد پر جاری ہے، جسے ڈویژن کو فراہم کیا جاتا ہے، جو اسے یونٹس تک پہنچاتے ہیں، وہاں سے سوالات کے حل کی صورت میں، جوابات کی صورت میں ہمیں نتائج ملتے رہتے ہیں، جس سے ہمیں تعلیمی و تربیتی حوالے سے فیڈ بیک ملتا رہتا ہے۔ پھر تربیتی حوالے سے پورا سال مختلف پروگرامات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ان میں مذہبی پروگرامات بھی شامل ہیں، فکری، معاشرتی، تعلیمی پروگرامات بھی شامل ہیں، ملکی و عالمی حاضرہ و سیاسیات سے آگاہی کے حوالے سے پروگرامات جاری رہتے ہیں، ماہانہ، پندرہ روزہ و ہفتہ وار تنظیمی تربیتی پروگرامات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، لیکچرز، نشستوں کی صورت میں، روحانی و معنوی تربیت کیلئے دعائیہ اجتماعات و محافل کا سلسلہ بھی پورا سال جاری رہتا ہے، اس کے علاوہ بھی مختلف تربیتی پروگرامات جاری و ساری رہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیسے ممکن ہے کہ پاکستان بھر سے خواتین کو اکٹھا کیا جائے، تاکہ ملک میں تنظیمی اسٹرکچر مضبوط ہو اور اس شعبہ میں مزید فعالیت بھی ہو۔؟
خانم زہرا نجفی:
ایم ڈبلیو ایم کی جانب خواتین کو قومی و ملی اجتماعی دھارے میں لانے کیلئے دعوت کا سلسلہ جاری ہے، اس دعوت پر ملک بھر سے ملت کی خواتین نے لبیک کہا ہے، شعبہ خواتین کی پاکستان بھر میں فعالیت اس بات کا کھلا ثبوت ہے، ہم یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ ہم نے ملت کی تمام خواتین کو اکٹھا کر لیا ہے، لیکن ہمارا سفر کامیابی سے جاری ہے، اور ہمیں ملک بھر سے مثبت نتائج مل رہے ہیں، ہم نے اپنے پہلے سال میں خواتین کو ایک اجتماعی لڑی میں پرونے کیلئے ایک پروگرام ترتیب دیا تھا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کے معنی یعنی اتحاد و وحدت پیدا کرنا، لہٰذا ہم نے اس پروگرام میں اتحاد و وحدت کا عملی مظاہرہ کیا تھا، جس میں آئی ایس او، آئی او، مدارس، ایم ڈبلیو ایم بحیثیت میزبان سمیت دیگر ملی تنظیمات و ادارے شریک تھے، اس میں ہزار سے زائد مہمانوں نے شرکت کی تھی، جس میں ہم نے کوشش کی کہ تمام تنظیمیں مل کر اتحاد و وحدت کے ساتھ ایک ایسا پلٹ فارم تشکیل دیں، اس سے مراد کوئی نئی تنظیم بنانا مقصود نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم کہ جہاں تمام تنظیمیں و ادارے مل کر آپس میں ایک دوسرے کے کاموں میں شیئر کریں، مدد کریں، تعاون کریں، نئے سودمند پروگرامات بنائیں، پروجیکٹس بنائیں، تاکہ ملت کی خواتین کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے ساتھ ساتھ انہیں اجتماعی و قومی حوالے سے مزید فعال کیا جاسکے۔ اس حوالے سے ہم نے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس حوالے سے ہم نے روابط کا دائرہ بڑھاتے ہوئے اہلسنت تنظیمات و اداروں خصوصاً تحریک منہاج القرآن شعبہ خواتین سے روابط استوار کئے ہیں، اس حوالے سے ہم ایسے پروگرامات ترتیب ضرور دیتے ہیں، جہاں ان تنظیموں کی شرکت بھی ہوجائے اور وہاں اپنے اپنے مسائل اور انکے حل کے حوالے سے بات کرسکیں۔

اسلام ٹائمز: کیا ایم ڈبلیو ایم خواتین کو قومی اجتماعی دھارے میں لانے میں کامیاب ہوجائے گی، کیا پروگرام بنائے گئے ہیں، اور ان پر کتنا عمل درآمد ہو رہا ہے اور ہوچکا ہے۔؟
خانم زہرا نجفی:
کلی طور پر ایم ڈبلیو ایم خواتین کو اجتماعی دھارے میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے، نشتر پارک کراچی میں جب ایم ڈبلیو ایم کا تاریخ ساز اجتماع منعقد کیا گیا، اس میں کراچی سمیت سندھ بھر سے خواتین نے ریکارڈ توڑ شرکت کی، اس کے علاوہ مظالم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کیلئے پاکستان بھر میں جو پُرامن احتجاج یا دھرنے دیئے جاتے رہے ہیں، ان میں خواتین کی شرکت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ خواتین میں اجتماعی دھارے میں آچکی ہیں، ان میں آگہی و بیداری آچکی ہے، عالمی استعمار و سامراج اور انکے دنیا بھر میں جاری مظالم و استحصال کے خلاف بھی آواز حق بلند کرنے کیلئے خواتین سب سے آگے نظر آتی ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ 100 فیصد خواتین قوم اجتماعی دھارے کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن ہم 100 فیصد خواتین کو اجتماعیت کا حصہ بنانے تک کوشش جاری رکھیں گے، اس حوالے سے ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین سے منسلک تمام عہدیداران و کارکنان خواتین کو بھرپور جدوجہد کرنی ہوگی، کہ جس طرح ہم نے آغاز میں بہت زیادہ تیزی سے کام کیا، اور اس میں ہمیں بہترین نتائج بھی ملے، کراچی کے نشتر پارک میں ہونے والا تاریخ ساز اجتماع ہو یا سیلاب زدگان کیلئے خدمات، انکی بحالی، اس حوالے سے اندرون سندھ میں شعبہ خواتین کی انتہائی فعالیت، پھر کراچی میں ہونے والے عام انتخابات کی مہم، احتجاجی دھرنے ہوں یا دیگر قومی پروگرامات سے لیکر حالیہ ہونے والے گلگت بلتستان الیکشن تک شعبہ خواتین نے اپنے آپ کو منوایا ہے، یہ بات میں شعبہ خواتین کی نمائندے کی حیثیت سے نہیں کہہ رہی، بلکہ سب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے، اور قومی میڈیا بھی اس بات کا گواہ ہے۔ بہرحال اگر ہم اب بھی اسی اخلاص، اسی تیزی، جوش و جذبے سے جہدوجہد جاری رکھیں، تو انشاءاللہ ہم اپنے الٰہی مقاصد میں ضرور کامیاب ہونگے۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کے عالمی سطح پر مسلم ممالک میں قائم خواتین کی مرکزی تنظیموں اور اداروں سے مسائل و معاملات کے حوالے سے روابط کتنے مستحکم ہیں۔؟
خانم زہرا نجفی:
اس حوالے سے شعبہ خواتین کے روابط نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ ہم خود اس حوالے سے روابط نہیں کرسکتے، بلکہ یہ ذمہ داری ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ امور خارجہ کی ہے، اس حوالے سے شعبہ امور خارجہ اگر چاہے تو ہمارے بھی اس طرح سے عالمی سطح پر روابط پیدا ہوسکتے ہیں کہ جس طرح برادران کے ہیں، یا جس طرح بعض اہلسنت جماعتوں کے شعبہ خواتین کے تعلقات استوار ہیں، اس طرح ہم بھی خواتین کی عالمی تنظیموں، یا دیگر ممالک میں خواتین کی تنظیموں سے آشنا ہوسکتے ہیں، ان سے روابط و تعلقات استوار کرکے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے پہلا قدم شعبہ امور خارجہ نے اٹھانا ہے، جہاں تک ہماری بات ہے، میں 2012ء میں ایران میں منعقدہ عالمی سطح کے سیمینار میں شرکت کرچکی ہوں، وہاں ہم نے دنیا بھر سے تقریباً 85 ممالک سے آنے والی مہمان خواتین سے ملاقات کی، ان سے ان کے ممالک میں خواتین کی اجتماعی فعالیت کے حوالے سے گفتگو کی کہ وہ خواتین یورپ میں کس طرح فعالیت انجام دیتی ہیں، عرب ممالک میں کس طرح فعال ہیں، خصوصاً فلسطین و لبنان سے آنے والی خواتین سے گفتگو کی کہ کس طرح وہ استعمار کے خلاف کامیاب جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہیں۔

میری خوش نصیبی تھی کہ میری ان خواتین سے ملاقات ہوئی، میرے ان تمام سے یہی سوالات تھے کہ آپ کس طرح سے انتہائی طاقتور دشمن یعنی استعمار سے مقابلہ کر رہی ہیں، ان تمام ممالک سے آئی ہوئیں خواتین اپنے ممالک میں بہترین کردار ادا کر رہی تھیں، بہت زیادہ فعال اور جدوجہد جاری رکھی ہوئی تھیں، ان کے جوابات ہمارے لئے بہت سودمند ثابت ہوئے، ان جوابات کی روشنی میں ہم نے یہاں آکر بھی کام کیا، میری کوشش تھی کہ ان سے مسلسل رابطے میں رہا جائے۔ بہرحال ہمارا شعبہ امور خارجہ اس حوالے سے کوشش کرے تو ہم اس خواتین کی عالمی تنظیموں سے روابط و تعلقات استوار کرکے انکے تجربات سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس حوالے سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب نے ہمیں کہا ہے کہ وہ مسلم ممالک میں بہت زیادہ فعال خواتین تنظیموں سے ہمارے روابط کروائیں گے، اب اس حوالے سے عمل درآمد شعبہ امور خارجہ ہی کے ذریعے ممکن ہوسکتا ہے۔ بہرحال ضروری ہے کہ ہمارے ان خواتین تنظیموں سے روابط و تعلقات ہوں، کیونکہ ان کی فعالیت اور کام کرنے کا انداز ہم سے بہت زیادہ بہتر ہے، جس سے ہم پاکستان میں رہتے ہوئے استفادہ کرسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کو کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اور انکا کیا حل ہے۔؟
خانم زہرا نجفی:
جہاں تک مسائل کی بات ہے تو سب سے زیادہ شعبہ خواتین کو مالی وسائل کی شدید کمی کا مسئلہ درپیش ہے، ہم اپنے بہت سارے تعمیری پروجیکٹس جنہیں ہم سوچ کے بعد تحریری شکل تو دے دیتے ہیں مگر مالی وسائل کی کمی کے باعث انہیں عمل جامہ نہیں پہنا پاتے ہیں، دوسرا یہ کہ ملت کی اعلٰی تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور پروفیشنل خواتین، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہر ہیں، ہمارے پاس ان کی کمی ہے، ہم ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین ان تمام اعلٰی تعلیم یافتہ اور پروفیشنل خواتین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور تعلیمی و پروفیشنل میدان میں کمزور رہ جانے والی بچیوں اور خواتین کو ان میدانوں میں اپنے تجربات، اپنی صلاحیتوں سے مستحکم بنانے کیلئے ہماری مدد کریں، خصوصاً وہ باصلاحیت خواتین جو معاشرے میں کسی نہ طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، وہ اپنے تجربات کو ہم سے شیئر کریں، کیونکہ ہمیں صرف دینی حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی و دیگر حوالوں سے بھی ملت کی خواتین کو مضبوط کرنا ہے، لہٰذا ہمیں ایسی خواتین کی مدد اور انکے تجربات کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا ہماری ناصرف مالی وسائل کے ساتھ مدد کی جاسکتی ہے، بلکہ باصلاحیت خواتین ہماری اپنی تعلیم اور تجربات کے ذریعے سے مدد کرسکتی ہیں، ایسی خواتین کا آگے بڑھ کر مدد کرنا، ہمارے لئے بہت سودمند ثابت ہوگا، لہٰذا ہماری خواہش بھی یہی ہے، درخواست بھی یہی ہے کہ مخیر حضرات مالی وسائل کی کمی کو پورا کریں اور پروفیشنل حضرات خصوصاً اعلٰی تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور پروفیشنل خواتین ہماری مختلف شعبوں میں اپنی تعلیم، مہارت اور تجربات سے مدد کریں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
خبر کا کوڈ : 474609
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب