0
Monday 27 Jul 2015 11:04

نیوکلیئر معاہدہ ایران کے اصولی موقف کی تائید اور عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے، علامہ افتخار نقوی

نیوکلیئر معاہدہ ایران کے اصولی موقف کی تائید اور عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے، علامہ افتخار نقوی
علامہ سید افتخار حسین نقوی کا شمار پاکستان کی معروف مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے دور میں ہونیوالی مکتب تشیع کی تمام سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل رہے۔ ایک عرصے تک تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر رہے، اسکے بعد آپکو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر چن لیا گیا۔ ضلع میانوالی میں قائم مدرسہ امام خمینی (رہ) کے انچارج ہیں۔ علامہ افتخار نقوی سچ ٹی وی کے چیئرمین ہونے کے علاوہ امام خمینی ٹرسٹ کے بھی سربراہ ہیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے بھی رکن ہیں، ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ سید افتخار حسین نقوی صاحب کیساتھ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے نیوکلیئر معاہدہ کے حوالے سے گفتگو کی، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپ کے خیال میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین ہونیوالے معاہدے کے عالمی حالات پر کس حد تک اثرات مرتب ہونگے۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
اس معاہدہ سے خطہ میں ایران کی بالادستی واضح ہوئی ہے، ایران نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے، جب سے ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا، امریکہ اور اس کے جتنے بھی حواری و حامی تھے، انہوں نے اس انقلاب کو ختم کرنے کیلئے اپنے تمام وسائل استعمال کئے، لیکن ایرانی قیادت اور ان کے عوام کا اعتماد اللہ تعالٰی پر تھا، اور اسی غیبی مدد پر وہ کسی کے آگے ذلت و رسوائی کے حوالے سے نہیں جھکے اور کسی کی بالادستی قبول نہیں کی۔ اللہ تبارک تعالٰی نے ان کی ہر جگہ مدد کی، اور وہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچے ہیں کہ عالمی طاقتوں نے تمام حربے استعمال کرلئے، لیکن آج وہ مان گئے ہیں کہ ایران ایک حقیقت ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تمام عالمی طاقتوں کا اقتصادی اور معاشی نظام کا بہت سارا حصہ ایران سے وابستہ ہے، لہذا انہوں نے اسی میں بہتری سمجھی کہ ایران کیساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ایٹمی مسئلہ حل کیا جائے۔ ایرانی قیادت نے پہلے دن سے یہ بات کہہ دی تھی کہ ہم ایٹم بم نہیں بنانا چاہتے، لیکن ان کی اس بات کو کوئی تسلیم نہیں کر رہا تھا، معائنہ کرنے والی بین الاقوامی ایجنسیوں نے بھی یہ رپورٹ دے دی تھی کہ ایسے آثار نہیں ملے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہو، لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی، دھونس اور بالادستی کی پالیسی، یہ وجہ بنی کہ یہ معاملہ 12 سال تک لٹکا رہا۔

امریکہ بھی اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ پوری دنیا کی رائے عامہ کو نظرانداز نہیں کرسکتا، اسی لئے اوبامہ نے کہا کہ ہم 99 فیصد کی رائے کو ایک فیصد کی خاطر نظرانداز نہیں کرسکتے، اس نے کانگریس کو یہ پیغٖام دیا ہے ایران تو پیچھے نہیں ہٹا، بہت سارے پاکستان کے تجزیہ نگار ایسے ہیں جو دوسروں کی بات کرتے ہیں اور اپنی رائے کا استعمال بہت کم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران امریکہ کے آگے جھک گیا ہے یا ایران نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔ رہبر معظم نے اپنے خطاب میں واضح طور پر بتا دیا کہ ہماری ظالم کیخلاف پالیسی برقرار ہے، اور ہم کبھی بھی اس پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، پھر اسرائیل کیخلاف جو ہمارا موقف ہے کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے، وہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ پھر یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی امریکہ نے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے، وہاں مظلوموں کیساتھ ہم ہیں اور رہیں گے، ہمیں اس سے کوئی پیچھے نہیں ہٹا سکتا، ہم پہلے دن سے ایٹم بم نہیں بنا رہے تھے اور ہمارے اس موقف کو تسلیم کیا گیا ہے، ہم پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی چاہتے تھے اور یہ ہمارا حق تھا، جسے تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے اس حق کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور یہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کیلئے پیغام ہے کہ جو قومیں اپنے پاوں پر کھڑی ہوتی ہیں، اپنے رب سے رابطہ میں ہوتی ہیں اور کسی سے خوف نہیں کھاتیں، ان کو یقینی کامیابی ملتی ہے۔ اس وقت ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے کہ عالمی طاقتوں نے اس کا یہ حق تسلیم کرلیا ہے، جو کل تک تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان سمیت اسلامی دنیا پر اس معاہدہ کے کس حد تک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
پاکستانی قیادت کو چاہئے کہ اس معاہدہ سے بھرپور فائدہ اٹھائے، گیس پائپ لائن کا لٹکا ہوا معاہدہ اب حل ہوسکتا ہے، ایرانی قیادت کیساتھ پاکستانی قیادت کو اپنے قریبی تعلقات بڑھانے چاہئے، اگر یہ دونوں ممالک مل جائیں تو خطہ کی بہت بڑی طاقت بن سکتے ہیں، اور اس خطہ کے مسائل ملکر حل کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو سعودی عرب کے دباو میں نہیں آنا چاہیئے کیونکہ سعودی عرب نہ تو ہمارا ہمسائیہ ہے اور نہ سعودی عرب ہمیں وہ کچھ دے سکتا ہے جو ہمیں ایران کی حمایت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ ہاں پاکستان کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ سعودی قیادت کو سمجھائے کہ وہ غلطیاں نہ کریں اور ان کے اور ایران کے درمیان اختلافات کے خاتمے، اور اسی طرح یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان اور ترکی کو ملکر کردار ادا کرنا چاہئے۔ سعودی ہلاکت کے جس گڑھے میں جاگرے ہیں اور انہیں کوئی بچا سکتا ہے تو کہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسلام اور مسلمانوں کا ہے، اسے تباہ نہ کریں اور اسرائیل کے حامیوں میں شامل نہ ہوں، وگرنہ جس طرح اسرائیل ڈوبے گا تمہیں بھی لے ڈوبے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا اسرائیل اور سعودی عرب کی مخالفت سے اس معاہدہ پر کوئی فرق پڑسکتا ہے۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
یہ مضبوط معاہدہ ہے، کیونکہ یورپی ممالک اور امریکہ کے اپنے مفادات ہیں، ہر ملک کو اپنا مفاد عزیز ہے کیونکہ اس وقت اقتصادی نظام اس قسم کا ہے۔ اب پابندیوں کے باوجود مغربی ممالک ایران سے تیل اور گیس لیتے رہے۔ مغربی ممالک کی کمپنیاں پریشان بیٹھی تھیں کہ ایران جیسی مارکیٹ ان کے ہاتھ سے دور تھی، وہ تو اب خوشیاں منا رہے ہیں، اب وہ مارکیٹ انہیں واپس مل رہی ہے، تو ان کیلئے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اب آل سعود کو سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اسرائیل کیساتھ نہ لا کھڑا کرے، اس کی یہ سوچ بہت افسوسناک ہے، ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ سعودی عرب کو بھی اس معاہدہ کو ویلکم کرنا چاہئے تھا۔ یہ معاہدہ پچھلے سال بھی ہوجاتا، سعودی عرب نے بہت سرمایہ لگایا کہ یہ معاہدہ نہ ہو، لیکن دنیا میں ہر ملک اپنا مفاد دیکھتا ہے، امریکہ کا اپنا مفاد اس معاہدہ میں تھا، اس لئے اس نے یہ معاہدہ کیا، اگر ان کے مفاد میں نہ ہوتا تو ہرگز یہ معاہدہ نہ کرتے، سعودی عرب اور اسرائیل کی خاطر امریکہ اپنا اور اپنے عوام کا مفاد نظرانداز نہیں کرسکتا۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر اسلامی تحریکوں پر اس معاہدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
ظاہر ہے اسلامی تحریکوں کا حوصلہ بڑھے گا کہ جب حق کیلئے کام کیا جاتا ہے تو کبھی شکست نہیں ہوتی، ایک تو نام نہاد اسلامی تحریکیں ہیں، جو اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔ ان کے پیچھے بھی خود امریکہ ہے، جیسے داعش ہے، القاعدہ ہے، طالبان ہیں۔ مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے مروانے کیلئے یہ اسرائیل اور امریکہ کی سازش ہے۔ یہ خود ان کیخلاف بیانات بھی دیتے رہتے ہیں۔ اب دیکھیں کہ داعش کو جدید ترین اسلحہ کون دیتا ہے، نام ہی بدلنے ہیں ایجنٹ تو یہ ہیں۔ پہلے پاکستانی طالبان کے نام سے تھے اور اب داعش کے نام سے نہ آجائیں۔ یہ ایٹمی ملک کو ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں، تاکہ یہ کہیں کہ داعش آگئی ہے اور ان کے ایٹمی اثاثوں کو خطرہ ہے۔ لہذا یا پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ دھوئے یا ختم کرے، یا پھر یو این کی فوج آکر اسے اپنے قبضہ میں لے۔ تاہم ہماری عسکری قیادت بیدار ہے اور دہشتگردی کیخلاف مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ دشمن کی یہ امیدیں انشاءاللہ پوری نہیں ہونگی، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی یہی سازش ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے۔

چونکہ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے تو جو صحیح معنوں میں اسلامی تحریکیں ہیں، انہیں اس معاہدہ سے حوصلہ بھی ملا ہے اور انہیں کامیابی بھی ہوگی۔ لیکن سامراجیوں کی بنائی گئی تحریکوں سے مسلمانوں کو بچانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے راستے سے نہ بھٹکیں اور دشمن کی سازشوں پر نظر رکھیں، کیونکہ دشمن شناسی بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس وقت ہمارے عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ دشمن شناسی ہے، ہم دشمن کو نہیں پہچان رہے، وہ اللہ اکبر کے نعرے لگا کر میدان میں وارد ہوا ہے، یہ بہت خطرناک ہے، ہمیں اس خطرہ سے نمٹنا ہوگا، وہ بھی ایک صالح قیادت ہمیں اس سے نکال سکتی ہے۔ اس وقت عالم اسلام کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت سید علی خامنہ ای کی شکل میں ایک فرزند رسول (ص)، ایک بیدار مرد، رہبر و عالم ملا ہے، جو ہر وقت ایران سے ہٹ کر جہاں بھی مسلمان ہیں، انہیں شعور و بیداری دیتے رہتے ہیں، امید ہے کہ لوگ آگاہ ہوں گے اور علماء کی بھی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں، انہیں مشکل سے نکالیں اور دشمن شناسی پر زیادہ توجہ رکھیں، دشمن اس وقت ہماری صفوں میں کھڑا ہے، ہمارا ظاہری دشمن بڑے مزے لے رہا ہے۔ اس وقت شام، عراق اور یمن میں جو صورتحال ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے، اس کیلئے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ امت اس خطرہ سے نکلے۔
خبر کا کوڈ : 475851
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب