0
Wednesday 12 Aug 2015 18:19
ایران کیساتھ مغربی ایٹمی طاقتوں کا معاہدہ بہت سے قوتوں کی آنکھ کا کانٹا بن چکا ہے

ایٹمی معاہدے کو ایران اور انکے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کامیابی سمجھتا ہوں، مخدوم جاوید ہاشمی

الطاف حسین پاکستان کے نہیں بھارت کے بیٹے ہیں، انکا موقف غداری کے مترادف ہے
ایٹمی معاہدے کو ایران اور انکے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کامیابی سمجھتا ہوں، مخدوم جاوید ہاشمی
مخدوم جاوید ہاشمی ملتان کے نواحی علاقے مخدوم رشید میں پیدا ہوئے، جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان سے تعلق رکھنے والے مخدوم جاوید ہاشمی ایک باہمت، بہادر اور بااصول سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ نون کی باگ ڈور سنبھالی۔ جاوید ہاشمی نے سٹوڈنٹس یونین سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش نامنظور تحریک سے شہرت حاصل کی اور 1977ء میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف چلنے والی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں پیش پیش رہے۔ مسلم لیگ نون کے سابق رہنما نے کچھ عرصہ ائیر مارشل (ریٹائرڈ) اضعر خان کی جماعت تحریکِ استقلال میں گزار اور بعد میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں جاوید ہاشمی لاہور سے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے امیدوار بنے، تاہم قومی اتحاد نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ جاوید ہاشمی نے انتخابی سیاست کا آغاز 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لے کر کیا اور رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون کی قیادت اور جاوید ہاشمی میں دوریاں پیدا ہوئیں اور جاوید ہاشمی نے اپنی جماعت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور باالآخر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے، تحریک انصاف کے مرکزی صدر کے عہدے پر کام کیا، 2014ء میں دیئے گئے دھرنے سے اختلاف کرتے ہوئے تحریک انصاف کو بھی خیرباد کہا، ان دنوں میڈیا میں خبریں تھیں کہ مخدوم جاوید ہاشمی دوبارہ مسلم لیگ نواز میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گذشتہ روز اُن کے ساتھ ایک نشست کی، جس کا احوال حاضر خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ کیجانب سے فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، جو کہ ایک اختلافی فیصلہ ہے۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پارلیمنٹ کی رٹ قائم ہوئی ہے اور فوجی عدالتوں کو آئینی اور قانونی مینڈیت مل گیا ہے، الطاف حسین نے کراچی کے معاملے پر بھارت کو دعوت دے کر غداری کی ہے، اُنہیں پاکستان لا کر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ فوجی عدالتوں کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اگرچہ اختلافی فیصلہ ہے لیکن میرے نزدیک یہ اچھا فیصلہ ہے، اس سے پارلیمنٹ کی رٹ مضبوط ہوئی ہے۔ فوجی عدالتوں کو بلاامتیاز سب کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، اگر فوجی عدالتوں نے بھی انصاف ڈیلیور نہ کیا تو پاکستان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے یہ انصاف کا تازہ خون ہے، اس لئے دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ پوری قوم اس وقت فوجی عدالتوں کی جانب دیکھ رہی ہے کہ اب انصاف ملے گا اور ظلم کا سرنگوں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے حالیہ بیان میں بھارت اور نیٹو فورسز کی حمایت طلب کرنا پاکستان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے یا اپنے تحفظ کی کوشش۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
الطاف حسین اور اُن کی پارٹی کے بارے میں میرا موقف ہمیشہ نرم رہا ہے، الطاف حسین نے کراچی کے معاملے پر بھارت کو مدد کی دعوت دے کر اپنے ماں باپ کو پاکستان آنے کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے نہیں بھارت کے بیٹے ہیں، ان کا یہ موقف غداری کا مترادف ہے۔ میرے جیسا نرم گوشہ رکھنے والا شخص آج یہ کہنے پر مجبور ہے کہ الطاف حسین کو برطانیہ سے پاکستان لایا جائے، ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور اگر غداری ثابت ہوجائے تو اُسے غداروں کی سزا دی جائے۔ الطاف حسین نے اپنی ساکھ خود خراب کی ہے، کراچی میں جب سے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوا ہے، کافی حد تک امن ہوگیا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رینجرز کو مکمل اختیارات دینے سے کراچی کی ابتر صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے، کراچی میں صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت اور دیگر گروہ بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات ایک بار پھر مسائل کا شکار نظر آتے ہیں، عمران خان پارٹی رہنمائوں سے خائف ہیں یا پارٹی رہنما عمران خان سے بددل ہو رہے ہیں۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
حالات و واقعات نے میری باتوں کی تصدیق کر دی ہے، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین اور حامد خان آج تحریک انصاف میں وہ باتیں کر رہے ہیں جو میں نے کیں تھیں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ ڈکٹیٹروں نے اصغر خان کے ساتھ جو کیا ہے، آپ کو بھی ٹیکنوکریٹ کی حکومت 8 سال تک بنی گالہ میں بٹھا دے گی اور جب آپ 8 سال کے بعد بنی گالہ سے نکلیں گے تو آپ کی شناخت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، میں چاہتا تو فاروڈ بلاک بنا کر تحریک انصاف کو بھی تقسیم کرسکتا تھا، کیونکہ مجھے تحریک انصاف کے بہت سے کارکنان اور اراکین اسمبلی کی پیشکش موجود تھی، اس لحاظ سے میں تحریک انصاف کا بھی محسن ہوں اور مسلم لیگ نون کا بھی، لیکن میرے قومی اسمبلی کے استعفٰی پر نہ ہی مسلم لیگ والے خوش تھے اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف والے۔ میں نے عمران خان سے پارلیمنٹ ہائوس کی جانب جانے کی وجہ معلوم کی تو اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے آدمیوں کو لے کر پارلیمنٹ ہائوس کی جانب بڑھ چکے ہیں اور ہمارے پاس بندے نہیں ہیں، جن کو سامنے لا کر احتجاج کریں تو میں نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ڈی چوک نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: جسٹس (ر) وجیہ الدین کو تحریک انصاف سے فارغ کیا گیا ہے، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
عمران خان نے جسٹس (ر) وجیہ الدین جیسی شخصیت کو پارٹی سے فارغ کر دیا ہے، اسی لئے میں نے کہا تھا کہ عمران خان خود اپنے ہاتھوں سے پارٹی کو ختم کریں گے، جسٹس وجیہ الدین مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، اُنہوں نے چیف جسٹس بننے سے انکار کیا، اُنہوں نے پرویز مشرف کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کیا، یہ بات میرے علم میں ہے کہ پرویز مشرف کو انکار کے بعد اُنہوں نے کسمپرسی کی زندگی بسر کی، لیکن زبان پر ایک بھی حرف شکایت نہیں لائے۔ جسٹس وجیہ الدین کی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے لئے قربانیاں ہیں، کل جن خدشات کا اظہار میں نے کیا تھا اور تحریک انصاف میں جس لابی کا ذکر کیا تھا، آج اُس کا چرچا زبان زدعام ہے، اگر عمران خان کی یہی روش رہی تو ایک دن عمران خان خود کو بالکل تنہا محسوس کریں گے، عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا ضرور ہے لیکن اسے عملی جامہ نہیں پہنایا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں فرقہ واریت ہے یا کچھ اور۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
پاکستان میں فرقہ واریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، چند افراد کے عمل کو کسی مسلک اور مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا، پاکستان میں ایک مخصوص فکر کے لوگ جو ماسوائے اپنے کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے ہیں، اپنی فکر اور سوچ کو زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں، اگر خدانخواستہ پاکستان میں فرقہ واریت ہوتی تو جس طرح ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے، اُس کا بھی کوئی ری ایکشن سامنے آتا، کراچی میں آئے روز علماء، ڈاکٹرر، اسکالرز اور دیگر لوگوں کو مارا جا رہا ہے، اُن کا بھی کوئی ری ایکشن سامنے آتا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کو ایک آگ کی طرف دھکیلنے کی بیرونی سازش ہے، جس کے مہرے چند ڈالروں اور ریالوں پر پلنے والے انسان نما حیوان بنتے ہیں، پاکستان کے شیعہ سنی علماء دونوں نے اس گروہ کی مذمت کی ہے اور اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایران کے مغربی طاقتوں کیساتھ کامیاب مذاکرات کو کس کی فتح اور کامیابی سمجھتے ہیں۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
ایران نے اپنی استقامت اور محنت سے دنیا کی ایٹمی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے مجبور کیا ہے، ایران کے ساتھ ایٹمی طاقتوں کا معاہدہ بہت سے قوتوں کی آنکھ کا کانٹا بن چکا ہے، اس معاہدے کے بعد اب امریکہ بھی پھنس چکا ہے، اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو بھاری جرمانہ اور اسرائیل کی نابودی کا خطرہ ہے اور دوسری طرف کانگریس اس معاہدے کی منظوری کے لئے رُکاوٹ بنی ہوئی ہے، اس سارے معاملے میں ایران نہایت ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس کے مذاکرات مدبر اور سمجھدار ہیں، دوسری طرف ایٹمی معاہدہ کے بعد سے ایران کے دنیا بھر کے ساتھ تجارتی تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، میں ان مذاکرات کو ایران اور اُن کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای(سید علی خامنہ ای) کی کامیابی سمجھتا ہوں، ایران کے مضبوط ہونے سے پاکستان کو فائدہ ہے۔

اسلام ٹائمز: قصور کے حالیہ واقعے میں کس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ اور ان واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہے۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
قصور کا واقعہ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کے لئے انتہائی شرم کا باعث ہے، اس طرح کے واقعات سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے، پنجاب حکومت کو سوچنا چاہیے کہ آخر ابھی تک پولیس میں کرپٹ عناصر موجود ہیں، جو انسانیت سے نابلد ہیں، جب تک ان کرپٹ افسران کے خلاف مضبوط کارروائی نہیں کی جائے گی، جاگیر دار اسی طرح کے مظالم کرتے رہیں گے، اگر پولیس اپنا فریضہ انجام دے تو اس طرح دل دہلا دینے والے واقعے رونما ہی نہ ہوں۔ ابھی بھی پولیس پر دبائو ڈالا جا رہا ہے اور اس واقعے کو زمین کا تنازعہ بنایا جا رہا ہے جو کہ بالکل غلط ہے، اگر اس واقعے کے مجرموں کو کھلے عام سزا دی گئی تو آئندہ ایسی گھنائونی حرکت کوئی نہیں کرے گا اور اگر روایتی طریقہ کار کے بعد ان مجرموں کو بھی چھوڑ دیا گیا تو ان مجرمان کو مزید شہ ملے گی۔
خبر کا کوڈ : 479449
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب