0
Friday 28 Aug 2015 17:22

مجلس علماء اہلبیت کے پلیٹ فارم سے پاراچنار میں اتحاد اور یکجہتی کیلئے بھرپور کوشش کرونگا، شیخ یوسف حسین جعفری

مجلس علماء اہلبیت کے پلیٹ فارم سے پاراچنار میں اتحاد اور یکجہتی کیلئے بھرپور کوشش کرونگا، شیخ یوسف حسین جعفری
مولانا یوسف حسین جعفری کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ سے ہے۔ ایک خوش الحان اور شعلہ بیان مقرر کے طور پر علاقے میں کافی شہرت کے حامل ہیں۔ ایک عرصے تک محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے اور چند سال قبل محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ ہوگئے۔ علاقے میں سیاسی اور سماجی لحاظ سے کافی فعال ہیں۔ عید الفطر کے فوراً بعد مجلس علمائے اہلبیت میں باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے بھاری اکثریت سے نئے صدر کے طور پر انکا انتخاب عمل میں آیا۔ اسلام ٹائمز نے علاقے میں پانی جانے والی نفرت کو اتحاد و اتفاق سے بدلنے اور اس حوالے سے مجلس کے پلیٹ فارم سے کردار ادا کرنے کے موضوع پر ان سے گفتگو کی ہے، جسے قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آغا صاحب، یہ بتائیں کہ مجلس علماء اہلبیت کی زمام سنبھالنے کی خواہش پہلے سے دل میں موجود تھی یا کسی نے مجبور کیا۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اسلام ٹائمز کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بعداً عرض یہ ہے کہ  دو سال پہلے صدارت کے انتخاب کے موقع پر دوستوں نے اس خدمت کے لئے مجبور کیا تھا۔ اس وقت بندہ ہار گیا تھا۔ اسکے بعد بھی دوست مسلسل مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ آئندہ انتخابات میں میں دوبارہ امیدوار بن جاوں۔ لہذا دوستوں کے اصرار کی وجہ سے میں راضی ہوا، اور مجلس علمائے اہلبیت کی صدارت کے لئے تین میں سے ایک امیدوار کے طور پر کھڑا ہوگیا، تاکہ علمائے کرام اور علاقے کے عوام کی خدمت کرسکوں۔

اسلام ٹائمز: کوئی بھی پراجیکٹ چلانے یا کوئی کام کرنے سے پہلے انسان کے کچھ ارادے ہوتے ہیں۔ عہدہ صدارت سنبھالنے پر آپکے پیش نظر کون کونسے نیک ارادے تھے۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
بندہ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ عوام خصوصاً تنظیموں کو جمع کروں اور علاقے کے اتحاد و اتفاق کی خاطر انکو ساتھ لیکر پورے علاقے کا طوفانی دورے کروں اور ہر ممکن حد تک علاقے میں پائی جانے والی نفرتوں کو دور کروں۔

اسلام ٹائمز: علاقے میں پہلے سے کافی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی عوام سے لیکر تنظیموں تک آپس میں کافی اختلافات موجود ہیں۔ آپکے پیش نظر کوئی تجویز ہے کہ انکے اختلافات کو دور کیا جاسکے۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
دیکھیں لوگ سوچتے ہیں کہ تمام تنظیموں کا مقصد اور ھدف ایک ہی ہے۔ میرے خیال میں تو جو شخص تنظیمی ہے وہ ہر تنظیم کو اپنی تنظیم خیال کرے گا۔ انکے لئے تنظیموں کا اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا کوئی شیعہ یہ کہہ سکتا ہے کہ آئی ایس او سے میرا تعلق نہیں؟ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا تحریک سے کوئی تعلق نہیں، یا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مجلس علمائے اہلبیت یا انصار الحسین سے میرا تعلق نہیں۔ ایسا کوئی جواز کسی کے پاس نہیں، بلکہ ہر تنظیمی شخص کا تعلق ہر تنظیم سے ہے۔ فقط نام مختلف ہیں، کام ایک ہی ہے۔ ہدف اور مقصد ایک ہی ہے۔

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی میں اہل تشیع کے درمیان فرقہ واریت اور نفاق کا جو بیج بویا جاچکا ہے، اسکے پیچھے کیا عوامل اور محرکات ہوسکتے ہیں۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
دراصل دہشتگرد عناصر خصوصاً ملک دشمن عناصر اور دیگر قوتوں کو ہمارے اتحاد سے بہت خوف لاحق تھا۔ انکو علم تھا کہ جب تک یہ قوم متحد ہے، انہیں نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ لہذا دشمن پہلے سے اس تاک میں بیٹھا ہوا تھا کہ اہل تشیع کے درمیان نفاق ڈال کر انکی طاقت کو نقصان پہنچایا جاسکے اور انہیں شکست دی جاسکے۔ چنانچہ انہوں نے یہ گھناونی سازش بنا کر ہمارے درمیان کسی ذریعے سے پھوٹ ڈلوایا اور ہمیں ایک دوسرے کا مخالف بنا دیا، تاہم یہ ایک وقتی مسئلہ ہے۔ انشاءاللہ یہ مسئلہ بہت جلد ختم ہوجائے گا۔

اسلام ٹائمز: نفاق کو ختم کرنے کیلئے اور دشمن کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے کیا کرنا چاہئے اور اس حوالے سے آپکے پیش نظر کیا تجاویز ہیں۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
پہلے ہی سے دل میں یہ خواہش تھی، اب جب ایک ذمہ داری مل گئی ہے تو میں گاوں گاوں کا دورہ کرونگا۔ علمائے کرام سے ملاقاتیں کرونگا۔ مشران قوم اور تنظیموں کے ذمہ داران سے ملکر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرونگا، بااثر افراد اور تنظیموں کے پاس خود جاکر ملنے کے علاوہ انہیں اپنے دفتر بلا کر انکی تجاویز لونگا، میرے خیال میں انہی قوتوں سے ملکر مسئلے کا مناسب حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی رائے حاصل کریںگے کہ کیا وہ اتحاد چاہتے ہیں؟ میرے خیال میں تو کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا، جو اتحاد اور اتفاق کا خواہاں نہ ہو۔ تو جب ہر شخص اتحاد چاہتا ہے تو پھر تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہاں ان سے یہ پوچھیں گے کہ اتحاد کے لئے انکی شرائط کیا ہیں۔؟

اسلام ٹائمز: مجلس کے حوالے سے ایک شکایت رہتی ہے کہ یہ تنظیم جوانوں اور کارکنوں سے خالی ہے، جبکہ جوانوں کے بغیر تنظیم کی کارکردگی نہایت غیر فعال رہتی ہے، جوانوں کے حوالے سے جناب عالی کی نظر کیا ہے۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں، ہمارے ہاں اب بھی جوان موجود ہیں۔ ہم جوانوں سے محبت کرتے ہیں، انکے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔

اسلام ٹائمز: مستقبل میں کوئی ایسا منصوبہ ہے کہ غیر علماء کو تنظیم میں رکنیت دی جائے۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
اس سے پہلے کئی صدور کا دور گزر چکا ہے، انہوں نے اپنی سطح پر جتنا کام کیا ہے، میں ان سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تاہم اگر ایسی کوئی کمی رہتی ہے، خصوصاً تنظیم میں رکنیت کے حوالے سے تو انشاءاللہ میں اسکی ابتداء کرونگا اور جوانوں کو تنظیم میں لاکر رکنیت دونگا۔ انکے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا۔ انشاءاللہ

اسلام ٹائمز: بطور نئے صدر کے طوری بنگش اقوام کے نام کیا پیغام دینا پسند کریں گے۔؟
شیخ یوسف حسین جعفری:
ابتداء میں بھی عرض کیا ہے کہ میں اتحاد کے لئے انتہائی کوشش کرونگا، تو میری عوام سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق کا دامن نہ چھوڑیں۔ جب تک ہماری قوم متحد رہے گی تو دشمن کی سازشوں سے محفوظ رہے گی اور اگر انتشار کا شکار رہی تو یہ قوم بکھر کر ختم ہوجائے گی، جس کی مثال تاریخ میں موجود ہے۔
خبر کا کوڈ : 482554
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب