0
Thursday 3 Sep 2015 20:54
انتہاء پسند دہشتگردوں کو کالعدم تنظیموں اور خارجیوں نے اپنے مدارس میں چھپنے کی جگہ دی

داعش اور القاعدہ سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں کا تعلق اہلسنت سے نہیں بلکہ تکفیری وہابی فکر سے ہے، فہیم الدین شیخ

پاکستان سمیت عالم اسلام میں ہونیوالی دہشتگردی کے پیچھے امریکا، اسرائیل اور بھارت ہیں
داعش اور القاعدہ سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں کا تعلق اہلسنت سے نہیں بلکہ تکفیری وہابی فکر سے ہے، فہیم الدین شیخ
پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فہیم الدین شیخ 1997ء سے سنی تحریک سے وابستہ ہیں، 2006ء سانحہ نشترپارک میں شدید زخمی ہوئے، پاﺅں اور ہاتھ کا آپریشن ہونے کے باوجود اپنے شہید قائدین کے مشن سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے اور مسلسل فعال رہے، بنیادی طور پر ان کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ مرکزی رابطہ کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے بھی وہ پاکستان سنی تحریک میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مختلف موضوعات کے حوالے سے فہیم الدین شیخ کے ساتھ پاکستان سنی تحریک کے مرکزی دفتر ’’مرکز اہلسنت‘‘ میں ایک مختصر نشست کی، اس حوالے سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا کراچی آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں گے یا یہ آپریشن بھی ماضی کی طرح سیاسی مصلحت کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔؟
فہیم الدین شیخ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔۔ کراچی آپریشن بڑی تیزی سے مطلوبہ نتائج کے حصول کی جانب گامزن ہے، پاکستان سنی تحریک نے اس آپریشن کی مکمل حمایت کی، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں، لینڈ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کراچی آپریشن کامیابی کی منزلیں طے کر رہا ہے، کراچی کے عوام اور تاجر برادری نے اس سال رمضان المبارک میں ریکارڈ توڑ کاروبار کیا، عوام اس آپریشن کی مکمل حمایت کر رہے ہیں، تاجر برادری اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ و دیگر جرائم میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے، 18 جون کو پاکستان سنی تحریک کے مرکز ”مرکز اہلسنت“ پر استقبالِ رمضان کی تقریب ہو رہی تھی کہ رینجرز اہلکاروں نے مرکز اہلسنت کا محاصرہ کرکے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران کوئی اسلحہ تو برآمد نہیں ہوا، مگر ہمارے کچھ کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا، اس کے باوجود ہم نے شور نہیں مچایا، کیونکہ پاکستان سنی تحریک کی قیادت و رہنماء کراچی آپریشن کو ہر حال میں کامیابی سے ہمکنار دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ کراچی میں امن و امان ہو اور ملک کی معیشت مضبوط ہو، ہماری پوری کوشش ہے کہ اس آپریشن کو سیاسی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے، یہ آپریشن دہشتگرد اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے، جرائم پیشہ یا مسلح ونگز کسی بھی جماعت میں ہوں، قانون کو حرکت میں آنا چاہیے، محب وطن تمام قوتیں کراچی آپریشن کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی میں جاری آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی پائیدار امن اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں رینجرز، پولیس و دیگر اداروں کو جرائم پیشہ عناصر اور مسلح ونگز کے خلاف فری ہینڈ دیا جائے، تاکہ دہشتگردی کا خاتمہ ہو اور عوام اپنی سوچ و منشاء کے مطابق زندگی گذاریں، جس سے جمہوریت کو تقویت ملے گی، قاتل، جرائم پیشہ سلاخوں کے پیچھے ہونگے۔ فوجی عدالتیں دہشتگردوں ملک دشمن عناصر کیلئے ضروری ہے، فوجی عدالتیں تیزی کے ساتھ کام کریں، تاکہ دہشتگردوں کا قانون کے مطابق فوری خاتمہ ہوسکے۔

اسلام ٹائمز: کالعدم سپاہ صحابہ ہو یا دیگر کالعدم تنظیمیں، کیا نام بدل کر فعال کالعدم تنظیموں اور انکے عہدیداروں پر پابندی عائد کئے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ممکن ہے۔؟
فہیم الدین شیخ:
انتہاء پسندی اور دہشتگردی کو فروغ دیکر کالعدم تنظیموں نے دین اسلام کے تشخص کو خراب کرنے کی ناپاک کوشش کی، جس کو مزارات اولیاء یعنی لبیک یارسول اللہؐ کا نعرہ لگانے والوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیکر اور دین اسلام کے حقیقی فلسفہ امن، محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت کو فروغ دیکر ناکام بنایا، دہشتگردی، انتہاء پسندی میں ملوث کالعدم تنظیموں پر پابندی تو 2001ء میں لگائی گئی، مگر ان کے اسلام و ملک دشمن عناصر کی نقل و حرکت کو نہیں روکا گیا، جو ملک کے آئین کے ساتھ مذاق ہے، کالعدم دہشتگرد تنظیموں پر پابندی کے ساتھ ان کو مکمل واچ کیا جاتا، اور کالعدم تنظیموں کو نام بدل کر کام کرنے سے روکا جاتا، تو ملک میں حالات بہتر ہوتے، ظالمان جو اپنا خود ساختہ مذہب طاقت کے زور پر مسلط کرنے کے درپے تھے، ان انتہاء پسند دہشتگردوں کو کالعدم تنظیموں اور خارجیوں نے اپنے مدارس میں چھپنے کی جگہ دی، آج بھی پاکستان میں ایسے مدارس ہیں، جن کی سرپرستی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے رہنما کر رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان درحقیت ملک کو دہشتگردی سے پاک اور انتہاء پسندوں و ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہے، تاکہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لایا جاسکے، لہٰذا اس تناظر میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں سمیت ان کے عہدیداروں اور کارکنان کی ہر قسم کی فعالیت پر بھی مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے، تاکہ منفی نقل و حمل کو روکا جاسکے، اسی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان کی پاکستان سنی تحریک نے بھرپور حمایت کی، تاکہ ملک میں امن ہو انتہاء پسندی، دہشتگردی اور کرپشن کا خاتمہ ہو، عوام میں خوف کی فضاء قائم کرنے والے قانون کے شکنجے میں اور سلاخوں کے پیچھے ہوں۔

اسلام ٹائمز: قبائلی علاقوں سے لیکر شہر قائد تک پاک فوج کے دہشتگردی کیخلاف حالیہ کردار کو کس نگا ہ سے دیکھتے ہیں۔؟
فہیم الدین شیخ:
پاکستان سنی تحریک پاک فوج کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتی ہے، شہید فوجیوں کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں کی بازی لگا کر آپریشن ضرب عضب کو بھرپور کامیاب بنانے کیلئے بلاخوف و خطر دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کئے، پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات کرکے دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے، پوری قوم پاک فوج پر فخر کرتی ہے، قبائلی علاقہ جات میں پاک فوج نے دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرکے وہاں کے عوام کو دہشتگردوں سے نجات دلائی ہے، فرار ہونے والے بزدل دہشتگردوں نے قبائلی علاقوں سے بھاگ کر شہروں میں چھپنے کی کوشش کی، تو رینجرز کے جوان کراچی سمیت دیگر شہروں میں دہشتگردوں کے خلاف متحرک نظر آئے، آئی ڈی پیز کی آڑ میں دوسرے شہروں کا رخ کرنے والے بزدل دہشتگردوں کیلئے پاک سرزمین تنگ کر دی گئی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی آپریشن ضرب عضب کا حصہ ہے، کراچی کا امن ایک خواب بن چکا تھا، یہاں لاقانونیت، دہشتگردی، جرائم پیشہ عناصر کا راج تھا، جو اب بہت حد تک ختم ہوگیا ہے، اب قانون کی حکمرانی بھی نظر آتی ہے اور جرائم کا خاتمہ بھی ہوا ہے، پاک فوج کی ملک کیلئے قربانیاں و کاوشیں قابل قدر ہے، پوری قوم فوج کے جرأت مندانہ اقدامات کو نہ صرف سراہ رہی ہے، بلکہ مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر القاعدہ ہو یا داعش، یا پاکستان میں طالبان، لشکر جھنگوی اور دیگر دہشتگرد گروہ ہوں، سب اہلسنت کا نام لیتے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
فہیم الدین شیخ:
سب سے پہلے تو میں آپ کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان علماء و مشائخ اہلسنت کی طویل جدوجہد و قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا، اگر 1940ء میں بنارس سنی کانفرنس نہ ہوتی، وہاں ہمارے اکابرین مولانا عبدالحامد بدایونی، مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم میرٹھی، پیر جماعت علیشاہ و دیگر اہلسنت کے اکابرین قائداعظم محمد علی جناحؒ کی حمایت کا اعلان نہ کرتے تو قیام پاکستان کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، تاریخ گواہ ہے کہ جب ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا تصور پیش کیا، تو وہ شرقپور شریف میں حضرت میاں شیر محمد شرقپوری کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا اور التجا کی۔ پاکستان ہمارے اکابرین کی دعاﺅں اور قربانیوں کا ثمر ہے، القاعدہ، داعش، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان و دیگر کالعدم دہشتگرد تنظیموں کا تعلق خارجی ٹولے سے ہے، جو نام تو اسلام کا لیتے ہیں، پر کام بیرونی ایجنڈے پر کرتے ہیں، خارجیوں نے اسلام کے تشخص کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں پامال کیا ہے، پاکستان میں اکثریت اہلسنت یعنی یارسول اللہ کا نعرہ بلند کرنے اور مزارات کے ماننے والوں کی ہے، ملک کی اکثریت بھولے بھالے سنیوں کو بھکانے یا ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے یہ خارجی ٹولہ اہلسنت کا نام استعمال کرتے ہیں، جو قانون اور اہلسنت کے خلاف عمل ہے، علماء و مشائخ اہلسنت بالخصوص پاکستان سنی تحریک نے ان کے اسلام و ملک دشمن چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا، عوام اب انہیں اچھی طرح پہچان چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خارجی دہشتگرد ملک میں دن بدن کمزور ہو رہے ہیں، آپریشن ضرب عضب نے نہ صرف ان کی کمر توڑی، بلکہ ان کی پاکستان و اسلام دشمن کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔ آج عوام جان چکی ہے کہ پاکستان بنانے کی مخالفت کرنے والے ہی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کو تعلیم، شعور اور قلم کی طاقت سے ختم کیا جاسکتا ہے، جس پر علماء و مشائخ اہلسنت شب و روز کام کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ بات صحیح ہے کہ داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیمیں امریکی اسرائیلی پیداوار ہیں، اور ان سب نے عالم اسلام کو ہی نشانہ بنا کر اسرائیل کو تحفظ بخشا۔؟
فہیم الدین شیخ:
سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اسلام میں بادشاہت کی قطعی گنجائش نہیں ہے، جہاں تک آپ کا سوال ہے، تو یہ سو فیصد درست ہے کہ داعش، القاعدہ جیسی تمام دہشتگرد تنظیمیں امریکا اور اسرائیل کی پیداوار ہیں، جو پوری دنیا میں مسلم ممالک کے حالات خراب کرکے امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو تقویت پہنچا رہے ہیں، امریکا اور اسرائیل مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کرکے پوری دنیا میں حکمرانی چاہتے ہیں، جس کی مثال آپ کے سامنے عراق، افغانستان، فلسطین، مصر وغیرہ کی صورت میں موجود ہیں، آج خود سعودی عرب میں بھی دہشتگردی امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے کے تحت ہو رہی ہے، جس میں داعش جیسی دہشتگرد تنظیمیں ملوث ہیں، پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلم ممالک میں ہونیوالی دہشتگردی کے پیچھے امریکا، اسرائیل اور بھارت ملوث ہیں، داعش و القاعدہ جیسے خارجی دہشتگرد عناصر عالم اسلام کو نشانہ بنا کر اسرائیل اور امریکا کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں، پرانے شکاری نئے جال کے ساتھ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں انتہاء پسندی کو فروغ اور دہشتگردی کے ذریعے نئی نسل کو دور حاضر کی جدید تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کوئی امریکا یا اسرائیل کے خلاف کھڑا نہ ہوسکے، پاکستانی عوام امریکا، اسرائیل اور بھارت کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں، پاکستانی عوام باشعور ہیں، جو دشمن کی گولی کا جواب قلم کی طاقت سے دیتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آخر کیا وجہ ہے کہ داعش ہو یا القاعدہ تمام دہشتگرد گروہوں کا تعلق تکفیری وہابی فکر سے ہے، جس فکر کا بانی ایک اہم ترین عرب اسلامی سعودی عرب کو قرار دیا جاتا ہے، اگر اس میں صداقت ہے تو اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
فہیم الدین شیخ:
یہ بات سو فیصد درست ہے کہ داعش ہو یا القاعدہ ان سب کا تعلق تکفیری وہابی فکر سے ہے، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو عبدالوہاب نجدی نے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا اور آج اسی کی ناجائز اولادیں اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، سعودی عرب نے مشرق وسطٰی سمیت دیگر ممالک میں جہادیوں کو بھیجا، مگر اپنی سلطنت کو محفوظ بنانے کیلئے جہادیوں کو پیدا ہونے نہیں دیا، سعودی عرب نے جہادیوں کو تقویت دی، انہیں مالی سپورٹ کی، مگر آج یہ جہادی یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، یہودیوں کے مفادات کیلئے کام کرتے ہیں، مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادت کرا کر مذہبی عبادتگاہوں پر دہشتگردی کرتے ہیں، آج داعش، القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں یہودیوں کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان سے اسلام دشمن تکفیری وہابی سوچ اور خوارج کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔؟
فہیم الدین شیخ:
پاکستان بننے کے بعد ہمارے اکابرین خانقاہوں، محراب و منبر تک مصروف ہوگئے، جبکہ پاکستان مخالف اور اسلام دشمن قوتوں نے سازشیں کرنا شروع کر دیں، اور نصاب تعلیم میں پاکستان کے حقیقی اکابرین کا نام شامل کرنے کی بجائے پاکستان کے مخالفین کا نام شامل کر دیا گیا، جو لمحہ فکریہ اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا پاکستان سے اسلام دشمن خارجیوں کا خاتمہ دینی اور دور حاضر کی جدید تعلیمات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، حکمرانوں نے تعلیم کو عام کرنے کیلئے بڑے دعوے ضرور کئے، مگر بدقسمتی سے تعلیم کو امیر اور غریب کے نام پر تقسیم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے غریب تعلیم سے دور ہوگیا، اور خوارج کو موقع مل گیا کہ وہ شرانگیزی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کر دیں، مگر علماء و مشائخ اہلسنت نے خوارج کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرکے عوام کو ان کے مکر سے بچایا، بلکہ دہشتگردی کے خلاف فتوے بھی دیئے، ہم سمجھتے ہیں کہ خوارج کا پاکستان سے خاتمہ تعلیم اور قلم کی طاقت سے ہی کیا جاسکتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت تمام علوم میں جدید تعلیم کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرے۔
خبر کا کوڈ : 483825
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب