0
Wednesday 9 Sep 2015 00:13
ہمسائیوں سے اپنی بات منوانے کیلئے جارحیت پر مبنی پالیسی خود بھارت کے حق میں بھی نہیں ہے

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری پر بھارت کیساتھ ساتھ امریکا اور خلیجی ممالک بھی تشویش کا شکار ہیں، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر

جارحیت پر مبنی بھارتی پالیسی خطے کے دیگر ممالک سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش وغیرہ کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے
پاکستان میں چینی سرمایہ کاری پر بھارت کیساتھ ساتھ امریکا اور خلیجی ممالک بھی تشویش کا شکار ہیں، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کی آرٹس فیکلٹی کے سربراہ ہیں، وہ گذشتہ تیس سال سے زائد عرصے سے جامعہ کراچی سے وابستہ ہیں، انہوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی جامعہ کراچی سے ہی کئے، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اور جامعہ کراچی ہی کے ایریا اسٹڈی سینٹر برائے یورپ کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں، وہ مختلف موضوعات پر 20 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور یورپ، مشرق وسطٰی سمیت عالمی ایشوز پر آپ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری، پاک بھارت تعلقات، لائن آف کنٹرول پر حالیہ بھارتی جارحیت کے موضوع کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے اور اسکے پاکستانی معیشت پر متوقع اثرات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
اقتصادی راہداری منصونے کے تین بڑے بنیادی مقاصد ہیں، پہلا مقصد یہ کہ چین کی جو تجارت ہوتی ہے خصوصاً یورپ اور مشرق وسطٰی کے ممالک کے ساتھ، اسکا فاصلہ بہت طویل ہے، مثلاً چین کی شنگھائی و دیگر بندرگاہوں سے تجارتی سامان نکلے گا، وہ جائے گا ساؤتھ چائنا سی، وہاں سے انڈین اوشن آئے گا، پھر نہر سوئز جائیگا، پھر بحیرہ روم، پھر وہاں سے یورپ جائیگا، لہٰذا تین ہزار کلومیٹر لمبی گوادر کاشغر اقتصادی راہدری کے باعث انکا تقریباً پچاس فیصد وقت بچے گا، اتنا ہی فاصلہ کم ہوگا، ایک تو یہ بڑا فائدہ ہوگا، دوسرا فائدہ یہ کہ چین کو خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحیرہ روم وغیرہ جیسے اہم علاقوں میں قدم جمانے کا موقع ملے گا، تیسرا فائدہ یہ کہ چینی صوبے سنکیانگ میں جو علیحدگی پسندوں کی مزاحمتی تحریک چل رہی ہے، اسے پاکستانی تعاون سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کا فائدہ یہ ہے کہ ملک میں چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی، توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی، آئندہ چند سالوں میں دس ہزار میگا واٹ بجلی پاکستانی سسٹم میں داخل ہوگی، انفرااسٹرکچر جس میں ریلوے، پل، موٹر ویز و دیگر کو بنانے میں مدد ملے گی، پھر پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری کی مدد سے ترقی دینے میں کافی مدد ملے گی۔ پاکستان اقتصادی و معاشی حوالے سے کافی ترقی کریگا۔

اسلام ٹائمز: اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارتی تشویش کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
بھارت کو پاکستان میں چین کی اس بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری پر تشویش تو ہے، اس کے ساتھ ساتھ تشویش تو امریکا کو بھی ہے، کسی حد تک عرب امارات کو بھی ہے، خلیجی ممالک کو بھی ہے، مگر چین بھارت کا بھی بہت بڑا تجارتی پارٹنر ہے، دونوں ممالک کے درمیان پچیس تیس ارب ڈالرز کی تجارت ہوتی ہے، گذشتہ دنوں بھارتی وزراعظم مودی نے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ یہ منصوبہ بھارت کے مفاد کے خلاف ہے، مگر چین نے بھارتی مؤقف کو مسترد کر دیا، پھر یہ منصوبہ گلگت بلتستان سے گزرے گا، جو پاکستان کیلئے عسکری و دیگر حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے، اور بھارت کی نظر میں متنازعہ علاقہ ہے، بھارت پریشانی کا شکار ہے، اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اقتصادی و معاشی حوالے سے بہت مضبوط ہو جائیگا، اسی کے باعث وہ عسکری حوالے سے بھی مزید طاقتور ہو جائیگا، یہی وجہ ہے کہ بھارت اس منصوبے کی تکمیل نہیں چاہتا۔

اسلام ٹائمز: کیا لائن آف کنٹرول پر حالیہ بھارتی جارحیت کی وجہ بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
حالیہ بھارتی جارحیت کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس سلسلہ تو پچھلے ایک سال سے چل رہا ہے، پچھلے سال پاک بھارت جامع مذاکرات جب شروع ہونے والے تھے تو بھارت میں جو پاکستانی ہائی کمشنر ہیں، انہوں نے کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جس پر بھارت کو شدید اعتراض ہوا، اسی بنیاد پر بھارت نے مذاکرات ملتوی کئے، اس کے بعد روسی شہر اوفا میں ہونے والی پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا، لیکن بھارت میں ہونے والی پاک بھارت مشیران خارجہ و سلامتی کی ملاقات بھی بھارت نے ملتوی کر دی، کیونکہ پاکستان کا اصرار تھا کہ اس میں کشمیری حریت رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے، اس کے بعد حالیہ جو دولت مشترکہ کا پاکستان میں اجلاس ہونا تھا، جس میں پاکستانی کوشش تھی آزاد کشمیر کے اسپیکر کو بھی بلایا جائے، اور بھارتی کوشش تھی کہ مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو بلایا جائے، اسی باعث یہ مذاکرات بھی ملتوی ہوئے، یہ کشیدگی کافی عرصے سے چل رہی ہے، حالیہ جارحیت بھی اسی کا تسلسل ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ دباؤ ڈال کر پاکستان کے مسئلہ کشمیر کے مؤقف میں لچک پیدا کرائی جائے، جبکہ پاکستان تو پہلے ہی لچک دکھا چکا ہے، اکتوبر 2004ء میں اس وقت کے صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک غیر روایتی منصوبہ پیش کیا، جس کے مطابق پاکستانی حکومت جموں و کشمیر میں رائے شماری کی قرارداد سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے کسی حد تک دستبردار ہونے کو تیار تھی، مشرف کے فارمولے کے چار نکات تھے، یعنی پاکستان اور بھارت اپنے اپنے کنٹرول والے جموں و کشمیر کے علاقوں سے افواج باہر نکالیں گے، عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کو آمدورفت اور تجارت کے لئے نرم کیا جائے گا، آزاد و مقبوضہ کشمیر میں موجود گروپس کے درمیان بات چیت ہوگی، لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، اب صورتحال یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں ایک طرح کا جمود طاری ہے، لہٰذا آئے دن لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں، حالیہ بھارتی جارحیت بھی اسی کا تسلسل ہے، اس کا اقتصادی راہداری منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی عسکری و سول قیادت کا حالیہ بھارتی جارحیت و دھمکیوں پر ردعمل اور حکمت عملی کیا ہونی چاہیئے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو عسکری حوالے سے ردعمل ظاہر کرنے پر اکسایا جائے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک محدود قسم کی جنگ چھڑ جائے، لیکن پاکستانی عسکری و سول قیادت کو چاہیئے کہ وہ بھارت کو کسی قسم کا موقع فراہم نہ کرے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ یوم دفاع کے موقع پر پاکستانی عسکری و فوجی قیادتوں نے بھارت کو واضح پیغام دیا، خاص طور پر آرمی چیف جنرل راحل شریف نے کہا کہ پاکستان روائتی اور غیر روائتی جنگ کیلئے تیار ہے، روائتی جنگ وہ ہوتی ہے جس میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوتے، جبکہ غیر روائتی جنگ وہ ہوتی ہے کہ جس میں جوہری ہتھیار استعمال ہوں۔ بہرحال پاکستانی عسکری و سول قیادت کو بھارتی اکسانے میں نہیں آنا چاہیئے۔ پاکستان کو چاہیئے کہ بھارتی جارحیت کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے، عالمی عدالت انصاف میں لے جائے اور وہاں جا کر بھارت کو بے نقاب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، دونوں ممالک غربت، پسماندگی کا شکار ہیں اور جب تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہونگے، تنازعات حل نہیں ہونگے، عوام کے مسائل حل نہیں ہونگے اور نہ ہی یہ خطہ ترقی کریگا، لگتا یہی ہے کہ دنیا آگے جا رہی ہے، اور یہ دونوں ممالک پیچھے جا رہے ہیں، جو دونوں ممالک کیلئے اچھی بات نہیں ہے۔ بھارت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ وہ ایک بڑا ملک ہے، اگر اس نے اپنے ہمسائیوں سے اپنی بات منوانے کیلئے جارحیت پر مبنی پالیسی اختیار کئے رکھی، تو یہ پالیسی بھارت کے حق میں نہیں جائیگی، اسے یہ پالیسی ترک کرنا ہوگی، کیونکہ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوتے ہوں، تعلقات تھوپے نہیں جاتے، ہر ملک کو اپنی عزت نفس، بقاء و سلامتی اور خود مختاری عزیز ہوتی ہے، کوئی بھی ان پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ جارحیت پر مبنی بھارتی پالیسی خطے کے دیگر ممالک سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش وغیرہ کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ بھارت پاکستان کے ساتھ جارحیت کر سکتا ہے، جو کہ بھارت کیلئے ایک سخت حریف ہے، تو ان کمزور ممالک کا کیا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پاک بھارت تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
مجھے تو مایوسی ہے، کیونکہ پچھلے پندرہ بیس سالوں میں تعلقات بہتر بنانے کیلئے ٹریک ون، ٹریک ٹو، ٹریک تھری سمیت بہت زیادہ کوششیں کی گئیں، ٹریک ون یعنی ایسا ٹریک سفارت کاری کا کہ جس میں دونوں ممالک کے سرکاری آفیشلز کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں، ٹریک ٹو یعنی جس میں غیر سرکاری مذاکرات، جس میں سرکار کی بھی رضامندی شامل ہوتی ہے، ٹریک تھری یعنی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات ہوتے ہیں، ان تینوں ٹریک میں جمود ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے میڈیا یعنی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو چاہیئے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، کیونکہ جنوبی ایشیا ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، بہرحال مجھے تو پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوئی خاص امید نظر نہیں آرہی، خاص طور پر بھارت کی موجودہ قیادت مودی سرکار ہے، اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے بغیر بھارت کبھی بھی ایک کامیاب ملک نہیں بن سکتا، بھارتی قیادت کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اگر بھارت کی پاکستان اور دیگر ہمسائیوں کے ساتھ کشیدگی اور تنازعات جاری رہیں گے تو وہ نہ تو معاشی طور پر کامیاب ہوسکے گا، اور نہ ہی سیاسی طور پر۔

اسلام ٹائمز: کیا پاک فوج اور چینی معاشی و اقتصادی یقین دہانی کی وجہ سے پاکستان تاریخ میں پہلی بار امریکی سعودی دباؤ سے آزاد خارجہ پالیسی بنانے جا رہا ہے، جیسے یمن کے تنازعے میں فریق نہیں بنا۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
یہ بات آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں ایک طرح کی خود اعتمادی آئی ہے، اس میں سولہ دسمبر 2014ء کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جس سے آپریشن ضرب عضب شروع ہوا، کوشش کی گئی کہ پاکستان سے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ کیا جائے، مسئلہ یمن میں سعودی عرب، کویت، عرب امارات کے دباؤ کا مقابلہ کرنا، اسے مسترد کرنا بڑی بات ہے، لیکن ان سب کے باوجود میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر خود مختار ہوگئی ہے، واضح رہے کہ یمن میں پاکستان ملوث ہوتا تو پاکستان میں فرقہ وارانہ تنازعہ کھڑا ہو جاتا اور پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جاتا، لہٰذا سعودی، کویتی دباؤ کو مسترد کرنا صحیح پالیسی تھی، پاکستانی مؤقف صحیح تھا کہ یمن سعودی تنازعے کے خاتمے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 484815
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے