0
Friday 18 Sep 2015 14:24
چین کے پاکستان سے تعلقات اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثرات سے امریکا اور بھارت پریشانی کا شکار ہیں

پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عسکری اسٹیبلشمنٹ ہے، پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد

سیاسی قیادتوں کو مائنس کرنا اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہونا چاہیئے
پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عسکری اسٹیبلشمنٹ ہے، پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ پاکستان اسٹڈی سینٹر کے سربراہ ہیں، وہ جامعہ کراچی سے ماسٹرز کرنے کے بعد 1984ء میں پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی سے بحیثیت لیکچرر وابستہ ہوئے تھے، یہیں سے انہوں نے پاکستان اسٹڈیز سے ہی ایم فل کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد ان کو cambridge commonwealth trust, UK سے اسکالرشپ مل گئی، جہاں سے انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، وہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ بھی فعال ہیں، وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور مشرق وسطٰی سمیت عالمی ایشوز پر وہ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر جعفر احمد کے ساتھ پاکستان کے موجودہ حالات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مستقبل میں پاکستان کے حالات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
کسی نے ہم جیسے پروفیسرز کیلئے بڑی اچھی بات کہی تھی کہ پروفیسرز کو پیش گوئی نہیں کرنی چاہیئے، دعویٰ نہیں کرنا چاہیئے، لہٰذا میں کوئی پیش گوئی تو نہیں کرسکتا، لیکن ہم اندازے قائم کرسکتے ہیں، میرا خیال ہے کہ پاکستان ماضی میں جیسے بھی حالات سے گزرا ہے، بڑے اتار چڑھاؤ پاکستان میں آئے ہیں، ان سب کے باوجود میں پاکستان میں ایک امید افزا منظر ہمیشہ سے دیکھتا رہا ہوں، عام طور پر ہم پاکستان میں ہونے والی منفی چیزوں کو تو زیر بحث لاتے ہیں، لیکن مثبت چیزوں کی طرف نہیں دیکھتے، جو 68 سالوں سے پاکستان کی بقاء کی ضامن بنی رہی ہیں، یہی چیزیں آئندہ کیلئے امید کا پیغام دیتی ہیں، میرے خیال میں پاکستان کیلئے جو چیز سب سے امید افزا رہی ہے، وہ ہے پاکستانی عوام میں موجود قوت مدافعت، ان کے اندر اپنی بقاء کیلئے جہت ہے، مثال کے طور پر پاکستان میں بہت بڑے بڑے زلزلے آئے، جس میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، خیال یہ تھا کہ حکومتی و عالمی اداروں کی امداد کے نتیجے میں چار پانچ سال میں یہ علاقے دوبارہ تعمیر ہوجائیں گے، لیکن متاثرہ پاکستانی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ڈیڑھ سال میں اپنے گھر دوبارہ کھڑے کرلئے، اپنی دکانیں دوبارہ بنی لیں، کاروبار زندگی دوبارہ بحال کر لیا، 2010ء میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں تقریباً دو کروڑ کی آبادی متاثر ہوئی، بے گھر ہوئے، مکانات و کاروبار تباہ ہوگئے، فصلیں برباد ہو گئیں، لیکن ایک سال بعد ہی متاثرہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا کاروبار زندگی بھی دوبارہ چلا لیا، یہ سب عوام میں موجود قوت مدافعت کے باعث ہوا، یہ کسی حکومت، کسی بڑے ادارے، کسی بڑے منصوبے کی دین نہیں ہے، بلکہ لوگوں میں موجود قوت کے باعث ہوا ہے۔

پچھلے پندرہ بیس سالوں میں جتنی بھی کتابیں باہر ممالک میں پاکستان کے بارے میں لکھی گئیں، اس میں پاکستان کا منظر نامہ ایسا کھینچا گیا کہ پاکستان تباہی کے کنارے پر ہے، پاکستان ناکام ریاست ہے وغیرہ وغیرہ، واحد کتاب جو پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت پیغام کے ساتھ آئی وہ Anatol Lieven کی کتاب تھی Pakistan: A Hard Country۔ اس نے اپنی کتاب میں کم و بیش یہی بات کہی کہ پاکستان میں لوگوں کے اندر کچھ ایسا ہے کہ یہ اپنی زندگی کو بچا لے جاتے ہیں، لہٰذا تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پاکستان برقرار رہے گا اور مثبت سمت میں جائے گا۔ اس حوالے سے پھر دو اور چیزیں بھی بہت اہم ہیں، پہلا یہ کہ پاکستان میں اندرونی طور پر جو ہجرتیں ہوئی ہیں، جس سے بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، آپ کہیں کہ کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں پختون آگئے ہیں، سندھ کی آبادیاتی پروفائل (demographic profile) بدل گئی ہے، جس سے سندھ میں نسلی اختلافات کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے، اس کا حل بھی ہونا چاہیئے، اس کیلئے ہمیں political settlements کرنے ہونگے، لیکن خود اتنی بڑی پختون آبادی کا اپنے آبائی علاقوں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل جانا، یہ اس پختونستان کے قصے کو ختم کر دیتا ہے، جو پاکستان میں شروع کے چار عشروں میں ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔

اب پختونوں کا دنیا میں سب سے بڑا شہر کراچی بن چکا ہے، کراچی کی پختون آبادی پشاور اور کابل کی پختون آبادی سے زیادہ ہوچکی ہے، لہٰذا پختونوں کا ایک بہت بڑا مفاد ہے پاکستان کی بقا و سلامتی میں، اسی طرح پنجابی پنجاب سے نکل کر مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں، اسی طرح بڑی تعداد میں اندرون سندھ کے لوگ شہری علاقوں میں آگئے ہیں، دیہی و شہری سندھ کی تقسیم بھی اب برقرار نہیں ہے، انہی اندرون ملک ہجرتوں نے بھی پاکستان کو جوڑے رکھنے کی صورت پیدا رکھی ہوئی ہے۔ تیسری اہم چیز یہ کہ ایک غیر محسوس طریقے سے پاکستان میں باہم منحصر معیشت (interdependent economy) وجود میں آچکی ہے کہ اس میں ایک صوبے کے مفاد دوسرے صوبے سے جڑ گئے ہیں، اس معیشت کا اپنا ایک دباؤ ہے، جو پاکستان میں وفاق کو مضبوط بنانے کا وسیلہ بنا ہوا ہے، لہٰذا پاکستان میں ملک کو متحد رکھنے والی سماجی اور اقتصادی اشاریئے بھی وجود میں آچکے ہیں، جنہیں اگر صحیح معنیٰ میں آگے لے کر چلا جائے، تو ایک قومی وحدت کی شکل بدلے گی۔

اسلام ٹائمز: حالیہ پاکستانی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت سے حلقوں کی رائے یہ ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ میں اسوقت مائنس الطاف، مائنس زرداری اور مائنس نواز شریف یا شریف برادران فارموے پر کام کیا جا رہا ہے، مستقبل میں ایم کیو ایم، نواز لیگ، پیپلز پارٹی ہونگی لیکن ان کے موجودہ سربراہان نہیں ہونگے، اسی لئے الطاف حسین اور آصف زرداری کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، اسکے بعد شریف برادران کی باری آئیگی؟ کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
میں اس کا جواب دوسری طرح سے دینا چاہتا ہوں، ہمارے ملک میں سول عسکری عدم توازن شروع سے موجود ہے، ان کے درمیان فاصلہ اور اختیار کا عدم توازن ملکی تاریخ کی حقیقت ہے، ہمارے ملک میں سیاسی و جمہوری قوتوں کو مضبوط ہونا چاہیئے، کیونکہ ملکی مستقبل کی ضمانت سیاسی اور جمہوری عمل سے ملتی ہے، کچھ سالوں سے ملک کے اندر تین مسائل بہت زیادہ نمایاں ہو رہے تھے، جن میں کرپشن، امن و امان کا فقدان اور حکمرانی کا بحران شامل ہیں، اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو عوام اور میڈیا کی جانب سے بہت دباؤ، تنقید اور اعتراضات کا سامنا تھا، پھر جب وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا، 16 دسمبر 2014ء کو سانحہ آرمی پبلک اسکول ہوا، تو معلوم یہ ہوا کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی امن و امان کی صورتحال سے مطمئن نہیں ہے، پھر حکومتوں پر بہت بڑا دباو آیا کہ کیا کریں، چنانچہ طالبان سے جو طویل مذاکرات ہوئے، پھر آل پارٹیز کانفرنس بھی ہوئی، جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی بیٹھے، پھر طے یہ پایا کہ امن و امن کی خراب صورتحال سے نمٹنے کیلئے آئین میں ترمیم کرکے کوئی راستہ نکالا جائے، پھر اکیسویں آئینی ترمیم کرکے ہم نے عسکری اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ گنجائش فراہم کی، فوجی عدالتیں قائم کی گئیں کہ آپ آکر براہ راست خود بعض چیزوں کو دیکھیں، جو کہ اب وہ خود دیکھ رہے ہیں

جو کچھ ہو رہا ہے، اگر اس کا مقصد آئین کا تحفظ ہے، جمہوری عمل کو جاری رہنے دینا ہے، تب تو اس مشکل صورتحال میں کئے جانے والے فیصلے جائز رہیں گے، لیکن اگر اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا اپنا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے، تو میں گزارش کروں گا کہ پاکستان میں چار بار فوجی حکومتیں آچکی ہیں، اڑسٹھ سالہ پاکستانی تاریخ میں تقریباً 33 سال فوجی حکومتیں رہی ہیں، ان فوجی حکومتوں کو بڑے طویل دورانئے میسر آئے ہیں، ایوب خان کو ساڑھے دس سال، جنرل ضیاء کو ساڑھے گیارہ سال، جنرل مشرف کو ساڑھے آٹھ سال، یہ طویل مدت میں ملکی مسائل حل نہیں کرسکے، کیونکہ ملک کے مسائل حل ہونگے آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے، اب کیونکہ جمہوری حکومتیں اور ریاست کا جمہوری ڈھانچہ کمزور ہے، لہٰذا غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں، فوج کی مدد لینی پڑتی ہے، لیکن فوج کی مدد، مدد رہنی چاہیئے، اسکا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہونا چاہیئے، اس لئے یہ چھوڑ دیں کہ مسلم لیگ کا قائد کون ہونا چاہیئے، یا پیپلز پارٹی، تحریک انصاف کا قائد کون ہونا چاہیئے، ہوسکتا ہے کہ یہ اچھے قائد نہ ہوں، ہمیں بھی کسی کی بھی قیادت پر اعتراض ہوسکتا ہے، لیکن ملکی تاریخ میں جب جب اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی جماعتوں کی قیادت کا تعین کرنے کیلئے اقدام کیا، تب تب غلطیاں ہوئیں اور فیصلے غلط ثابت ہوئے، لہٰذا سیاسی قیادتوں کو مائنس کرنے والا عمل اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہونا چاہیئے، اسے سیاسی جماعتوں اور سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیئے، سیاسی جماعتیں خود اپنے قائدین کو لائیں، ان کو نکالیں، یا جو چاہے کریں۔

اسلام ٹائمز: مختصراً بتایئے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ کون ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
عملاً پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے، لیکن پاکستانی آئین طاقت کا سرچشمہ عوام کو کہتا ہے، ہم ایک جمہوریہ ہیں، ہماری ریاست کے نام میں جمہوریہ کا لفظ شامل ہے، اگر ہم جمہوریہ ہیں تو اس میں اقتدار اعلٰی عوام کے پاس ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں سیاسی نظام آئے یا نہ آئے، چلے یا نہ چلے، اس کے اندر کلیدی فیصلہ عسکری اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں کیا ہے، لیکن جیسی تیسی ہماری کمزور بنیادیں جمہوریت کی ہیں، بہتر ہے آئندہ جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔ اگر ابھی اچھی قیادتیں میسر نہیں ہیں، تو بھی اس عمل کو چلنے ہیں، نہ روکیں، مستقبل میں یقیناً اچھی قیادتیں آئیں گی۔

اسلام ٹائمز: پاک فوج کے حالیہ کردار کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے کہ عوام اسوقت فوج کو نجات دہندہ کہہ رہی ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
جب ہمارے ہاں قدرتی آفات مثلاً سیلاب، زلزلے وغیرہ آتے ہیں تو اس سے نمٹنے کیلئے فوج سے مدد لی جاتی ہے، کیونکہ کسی اور ادارے کے پاس اتنی صلاحیت، انفرااسٹرکچر اور وسائل نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ ہمیں سیلاب میں مدد کر رہے ہیں، قیام امن کیلئے آپ اپنے وسائل کے ساتھ مدد کر رہے ہیں، تو آپ سیاسی اقتدار پر بھی فائز ہوجائیں، ایسا کسی اور ملک میں بھی نہیں سوچا جاتا، ہمیں بھی نہیں سوچنا چاہیئے، ہماری مسلح افواج ہماری ہیروز ہیں، کیونکہ وہ مشکل حالات میں ہماری مدد کرتے ہیں، لیکن کیا وہ ملک کو سیاسی قیادت بھی دے سکتے ہیں، وہ ہم چار بار فوجی حکومتوں میں دیکھ چکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا پاک فوج اور چینی معاشی و اقتصادی یقین دہانی کی وجہ سے پاکستان تاریخ میں پہلی بار امریکی سعودی دباؤ سے آزاد خارجہ پالیسی بنانے جا رہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
یہ بالکل درست ہے کہ پاکستان کا امریکی و مغربی بلاک پر جو ایک انحصار تھا، لیکن چین کے اس پورے منظر نامے میں داخل ہونے سے ہمارا وہ انحصار کم ہوگا، انحصار کم ہوگا تو اس طرح امریکی و مغربی بلاک کا ہم پر دباو بھی کم ہوگا، لیکن ہمیں نہ تو امریکا و مغرب کا تابعدار بن جانا چاہیئے، جیسے ہم ماضی میں رہے، اور نہ ہمیں چین کا ایسا تابعدار بن جانا چاہیئے کہ پھر ہم اپنے قومی مفاد کو بھی نہ پہچانیں، اور جو دوسرے طرف سے کہا جائے، وہ ہم کر رہے ہوں، بہرحال پاکستان کو تاریخ میں بہت بڑا موقع ملا ہے کہ اگر ہم تدبر اور ہوشمندی کا مظاہرہ کریں تو ہم امریکا، مغرب، چین، عرب وغیرہ ان سب کے درمیان رہتے ہوئے اپنی خود مختاری کی بھی حفاظت کرسکیں، اور ان میں سے کسی کو بھی غیر ضروری طور پر ناراض بھی نہ کرسکیں۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ درست ہے کہ بڑھتی ہوئی پاک چین اقتصادی قربت سے امریکا اور بھارت پریشانی کا شکار ہوچکے ہیں، اور امریکا کو ڈر ہے کہ پاکستان اگر چین، ایران اور روس کے ساتھ مل گیا تو خطے میں امریکا کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔؟
پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد:
میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان، چین اور ایران کا کوئی بلاک بننے کا امکان ہے، کیونکہ بھارت ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہ رہا ہے، اب بھارت نے متحدہ عرب امارات سے دوستی بڑھا لی ہے اور وہاں سے بھی بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا ہے، خطے میں مختلف ممالک اپنے اپنے اقتصادی مفادات کے تحت اس طرح کی معاہدے کر رہے ہوتے ہیں، تعلقات قائم کر رہے ہوتے ہیں، ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہمارا ملک اپنے مفاد میں فیصلے کر رہا ہے یا نہیں کر رہا، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اگر بنتا ہے، تو وہ بھارت بھی جائے گا، اب اگر گیس وہاں جائے گی تو بھارت کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیئے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح اس پورے خطے میں چین کا عمل دخل بڑھ رہا ہے، اثرات بڑھے رہے ہیں، اس سے امریکا پریشانی کا شکار ہے، اس سے کسی حد تک بھارت بھی پریشان ہے، بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ بات کہی اور لکھی جا رہی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان جو اقتصادی تعلقات بڑھ رہے ہیں، یہ چین کو خطے کی سپر پاور بنا دے گا، لیکن دوسری جانب بھارت چین کے ساتھ بھی اپنے روابط بنا رہا ہے، میرے خیال میں بھارت کی پریشانی صرف اس حد تک ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ ملکر پاکستان کو اتنا طاقتور نہ بنا دے کہ اس سے ہمیں کچھ نقصان پہنچے۔

دوسری جانب امریکا کی پریشانی بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر چین ایک سپر پاور بن جائے، ایک بڑی معاشی پاور بن جائے، تو اس سے امریکی معاشی مفاد متاثر ہوسکتے ہیں، لیکن ابھی تک میرے خیال میں امریکا کی جانب سے کوئی مخالف اقدام نہیں اٹھائے گئے ہیں کہ ہم کہیں کہ امریکا نے پاک چین بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی مخالفت میں اقدامات کئے۔ تھوڑا سا ایک اشارہ ملا کہ جب افغانستان نے پاکستان کیلئے اپنا لہجہ بدلا، کیونکہ افغان صدر اشرف غنی منتخب ہونے کے بعد بہت تیزی سے پاکستان کی جانب بڑھے، لیکن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے اعلان کے بعد پاکستان کیلئے منفی بیانات آنے شروع ہوگئے، تو مجھے تھوڑا سے شک یہ ہے کہ منصوبے کو متاثر کرنے کے حوالے سے امریکا شاید افغانستان والا چینل استعمال کرے، لیکن ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ امریکا واقعاً اس منصوبے کو کاؤنٹر کرنا چاہے گا، اور اگر چاہے گا تو اس کیلئے افغانستان والا چینل استعمال کرے۔
خبر کا کوڈ : 486227
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش