0
Wednesday 23 Sep 2015 17:28

انسانی وسائل اور مقبولیت کے اعتبار سے آئی ایس او کا کوئی ثانی نہیں، تہور عباس حیدری

انسانی وسائل اور مقبولیت کے اعتبار سے آئی ایس او کا کوئی ثانی نہیں، تہور عباس حیدری
منیجمنٹ اسڈیز کے طالب علم اور ابلاغ عامہ کے ماہر تہور عباس حیدری آئی ایس او پاکستان کے موجودہ مرکزی صدر ہیں، اس سے قبل ڈویژنل صدر، مرکزی سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ جز وقتی اور ہنگامی بنیادوں پہ کام کرنے کی روش کی بجائے تنظیمی امور کو طویل المعیاد منصوبہ بندی کی بنیاد پہ آگے بڑھانے کی خواہش رکھنے والے امامیہ طلبہ کی تنظیم کے سربراہ کا مرکزی کنونشن کے موقع پر اسلام ٹائمز کے ساتھ انٹرویو قارئین کے لئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ولایت نور ہدایت سالانہ کنونشن کی تیاریاں تکمیل کے مرحلے میں ہیں، کنونشن کے عنوان کی اپنے الفاظ میں وضاحت فرمائیں۔؟
تہور عباس حیدری: 
آئی ایس او کا 44 واں کنونشن امسال جشن غدیر کے دنوں میں آ رہا ہے، جو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کے ایام ہیں، تو ان ایام کی مناسبت سے کنونشن کو ولایت نور ہدایت کا نام دیا گیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایسے حالات میں کہ جب عالم کفر، اسلام کو نابود کرنے کے درپے ہے، ایسے میں وہ نظام کہ جس کو  خداوند متعال نے ہدایت بشری کیلئے بھیجا اور اس کا اعلان 18 ذوالحجہ کو کیا گیا اور خداوند متعال نے ارشاد فرمایا کہ میں نے آج اپنا دین مکمل کر دیا اور تم پر نعمت تمام کر دی، یہ ںظام ولایت و امامت ہمارے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہدایت کا نور ہے، آج دنیا کو اس نظام ولایت کی طرف پلٹنے کی ضروت ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای جو اس نظام ولایت کے امین بھی ہیں اور علمبردار بھی، وہ اسلام ناب کی نمائندگی کر رہے ہیں اور عالم کفر کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، آج مسلمانان عالم کی مشکلات کا حل اور ان کی کامیابی کا راز اسی نظام ولایت کو سمجھنے اور  اسکی پیروری کرنے میں ہے۔

اسلام ٹائمز: کنونشن کے ایجنڈے میں شامل چیدہ چیدہ پروگرامات کی تفصیل بیان کریں۔؟
تہور عباس حیدری:
مرکزی کنونشن آئی ایس او کا سالانہ اور ایک بڑا پروگرام ہے، امسال کوشش کی ہے کہ کچھ نئے پروگرامات کا اضافہ کیا جائے، جیسا کہ برادران کوششوں میں مصروف ہیں، کنونشن میں "جوان امید پاکستان کانفرنس" منعقد ہوگی، جس میں مختلف طلباء تنظیموں کے نمائندگان شریک ہونگے، اسی طرح سے ولایت نور ہدایت کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں اہم قومی و ملی شخصیات کی شرکت و خطابات ہوں گے۔ ایک اہم پروگرام "جشن ولایت ہے" جس میں روز عید غدیر کی مناسبت سے خطابات و منقبت خوانی ہوگی۔ محفل مذاکرہ میں سابقہ مرکزی صدور اپنے تجربات کی روشنی میں طلباء کے سوالات کا جواب دیں گے، دیگر اہم پروگرامات میں اسکائوٹ سلامی، محبین کا کنونشن، نئے سال کے لئے مرکزی صدر کا انتخاب اور کنونشن کے اختتام پر استحکام پاکستان ریلی بھی منعقد ہوگی۔

اسلام ٹائمز: مرکزی کنونشن تنظیم کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل اجتماع ہے، اس میں کارکنوں کی شرکت بڑھانے کیلئے اس سال کیا اقدامات کئے گئے ہیں، شرکت کا ہدف کیا مقرر کیا گیا ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
مرکزی سطح پہ منعقد ہونے والا سالانہ کنونشن آرگنائزیشن کی قوت کا مظہر ہوتا ہے، اس لئے کوشش کی جا رہی ہے کہ بھرپور رابطہ مہم کے ذریعے پاکستان بھر میں سابقین، علماء اور آئی ایس او کے کارکنان تک کنونشن کا پیغام پہنچایا جائے، اس سلسلہ میں ملک بھر میں دورہ جات کا سلسلہ مکمل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ سابقین کی کارنر میٹنگز بھی منعقد ہوئی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ ملت کے تمام اداروں، مدارس، آئی ایس او کے سابقین و کارکنان کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے پر شکوہ اجتماع منعقد کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ رمضان المبارک میں ناصران امام مہدی علیہ السلام  کے عنوان سے ورکشاپس کا تجربہ کیسا رہا، اس پر روشنی ڈالیں۔؟
تہور عباس حیدری:
یہ اپنی نوعیت کا اہم اور کامیاب تجربہ تھا۔ ہمارا ہدف گراونڈ لیول، مقامی سطح تک پہنچ کر اس دینی و الٰہی پیغام کو پہنچانا تھا، الحمداللہ ایک ماہ اور کچھ دنوں میں دس ہزار سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کی گئی اور ہم ان تک دین کا حقیقی پیغام  پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں، البتہ ہم نے اس کا اہتمام بہت کم وقت اور محدود وسائل میں کیا، آئندہ سالوں میں اس کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں ناصران امام مہدی علیہ السلام کے نام سے ورکشاپس کی مہم میں جامعہ بعثت کے ادارہ کاروان امت، آئی ایس او کے اداروں پیام عمل اور ادارہ تربیت کا اشتراک عمل کہاں تک مفید رہا ہے، اس میں مزید بہتری کی کیا گنجائش ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
یہ ایک مفید تجربہ تھا کہ ادارہ جات کے کوآرڈینشن کے ساتھ پروگرامات کا انعقاد کیا جائے، یعنی ورک لوڈ کو تقسیم کرکے آگے بڑھا جائے۔ لہذاٰ اس میں کامیابی نصیب ہوئی، بالخصوص جامعہ بعثت کے اساتذہ و طلاب کا کردار لائق تحسین ہے۔ اسی طرح اگر ادارہ پیام عمل اور ادارہ المہدی تربیت اسلامی کی اداراتی روش پر مشتمل کاوشیں شامل حال نہ ہوتیں، تو اتنے کم وقت میں ملک گیر ورکشاپس کا انعقاد ممکن نہ ہوتا۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ تنظیمی سال کو تجدید عہد کا عنوان دیا گیا تھا، اس سال کے جو تنظیمی اہداف مقرر کئے گئے، وہ کہاں تک حاصل ہوئے، اس پر روشنی ڈالیں۔؟
تہور عباس حیدری:
گذشتہ سال بعنوان تجدید عہد میں کوشش کی تھی کہ افراد کی تنظیم کے ساتھ اٹیچمنٹ کو بڑھائیں اور گرائونڈ لیول پر کام کریں۔ قومی مایوسی  کے اس ماحول میں نوجوانوں کو ایک نیا حوصلہ دیں اور تنظیم کی ضرورت و اہمیت کو ان پہ واضح کرتے ہوئے، انہیں انکی اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں۔ اسی طرح سال بہ سال ادارہ جات کی طرف بڑھتا ہوا سفر خوش آئند ہے، اور اسکی ایک مثال توسیع تنظیم کا ادارہ پیام عمل ہے، اس سال اسکا قیام عمل میں لایا گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ ورکشاپس کے انعقاد میں ادارہ کی برکات شامل ہیں، مزید یہ کہ آئی ایس او نے مستقل امور کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے لانگ ٹرم پلاننگ کی طرف قدم بڑھایا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں ملت تشیع کی ترقی اور استحکام کیلئے آئی ایس او کا کردار بہت نمایاں ہے، نئے آنیوالے مرکزی صدر کو اس سلسلہ میں کیا تجاویز دیں گے۔؟
تہور عباس حیدری:
نو منتخب صدر کیلئے جہاں اور بہت سی تجاویز ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ آئی ایس او پاکستان کا 44 سالہ وجود ہے، اسکی بے بہا پروڈکشن، یعنی سابقین و کارکنان  معاشرہ میں موجود ہیں، انسانی وسائل کے اعتبار سے آئی ایس او کا کوئی ثانی نہیں ہے، جبکہ قبولیت کے اعتبار سے بھی آئی ایس او کا مقام نمایاں ہے، ہمیں خلوص کیساتھ خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ آج  آئی ایس او کو کیسا ہونا چاہئے، بحثیت اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن ہم طلباء کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ ہم آہنگ و جذب کرسکتے ہیں، اگر ہم دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے آرگنائزیشن کو  وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اچھی پلاننگ کے ساتھ وارد ہوں، تو موجودہ ملکی و قومی صورتحال میں نوجوانوں کیلئے قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 487134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب