0
Thursday 22 Oct 2015 01:22
محرم میں دہشتگردی کی تمام تر ذمہ داری پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور نواز لیگ کی وفاقی حکومت پر عائد ہوگی

حکمرانوں کی عزاداری سیدالشہداءؑ مخالف سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے، علامہ مختار امامی

عزاداری ہمارا آئینی و بنیادی حق ہے، جس پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جا سکتی
حکمرانوں کی عزاداری سیدالشہداءؑ مخالف سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے، علامہ مختار امامی
علامہ مختار احمد امامی کا تعلق سندھ کے تاریخی شہر نواب شاہ سے ہے، ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم نواب شاہ سے حاصل کرنے کے بعد اعلٰی دینی تعلیم کے حصول کیلئے حوزہ علمیہ قم، اسلامی جمہوری ایران کا رخ کیا، قم المقدسہ میں طویل قیام اور حصول علم کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ساتھ تبلیغی امور کی انجام دہی میں مصروف ہوگئے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی تشکیل کے سلسلے میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری و دیگر علماء کرام کے ہمراہ سندھ بھر میں ہنگامی دورہ جات کرکے پیغام وحدت کو صوبہ بھر میں پہنچایا۔ علامہ مختار احمد امامی کا شمار ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، وہ اس وقت مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ محرم الحرام میں مجالس عزا اور تنظیمی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود علامہ صاحب نے اسلام ٹائمز کیلئے اپنا قیمتی وقت نکالا۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ مختار احمد امامی کے ساتھ محرم الحرام میں اندرون سندھ دہشتگردی کے خطرات اور عزاداری سیدالشہداءؑ پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کیجانب سے مختلف پابندیوں کے عائد کئے جانے کے حوالے سے مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے سانحہ منٰی میں شہید ہونیوالے مجلس وحدت مسلمین قم کے سیکرٹری جنرل علامہ فخر الدین کے حوالے سے آپکے تاثرات معلوم کرنا چاہیں گے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ سرزمین منٰی پر سعودی حکومت کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہزاروں حجاج شہید ہوئے، جن میں ہمارے انتہائی قابل قدر، فعال، عالم باعمل ڈاکٹر علامہ فخر الدین بھی اس سانحہ دلخراش میں لقاءاللہ کو پہنچے، خدا ان کی روح کو آئمہ معصومین (ع) کے ساتھ محشور فرمائے، شہید علامہ فخر الدین کی شخصیت عالم تشیع، ملت جعفریہ پاکستان اور خصوصاً خطہ گلگت بلتستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل تھی، آپ انتہائی انقلابی اور مجاہد عالم دین تھے، بہت امید تھی کہ مستقبل میں آپ پاکستان میں انقلابی تحریکوں کیلئے، انقلابی طبقے کیلئے، نوجوان نسل کیلئے مفید ترین فرد کی حیثیت سے پاکستان تشریف لاتے، لیکن خدا کو شاید ان کی شہادت منظور تھی اور یہ عظیم نعمت ہم سے جدا ہوگئی۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف تو پاک فوج کی دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب آپکی جماعت ایم ڈبلیو ایم مسلم لیگ نون کی وفاقی و پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ عزاداری میں رکاوٹیں پیدا کرکے ان کارروائیوں اور نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنیکی کوشش کر رہی ہیں، حقیقت کیا ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
سب لوگ کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پاک فوج پوری توجہ کے ساتھ دہشتگرد عناصر کیخلاف آپریشن ضرب عضب کے تحت کامیاب کارروائیاں کر رہی ہے، قوی امید تھی اور ہے بھی کہ دہشتگرد عناصر کی کمر توڑ کر انکا خاتمہ کر دیا جائیگا، ان حالات میں چاہیئے تو یہ تھا کہ حکومتی مشینری اور ادارے پاک فوج کے ساتھ دہشتگرد عناصر کے خلاف ہم آہنگ ہوتے، ان کو سپورٹ کرتے، مدد کرتے اور پاک فوج کی توجہ ہٹا کر کسی اور طرف کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، لیکن حکمرانوں نے نیشنل ایکشن پلان کی روح سے ہٹتے ہوئے اسکا رخ محب وطن پُرامن ملت جعفریہ پاکستان اور خصوصاً عزاداری سیدالشہداءؑ کی طرف کر دیا ہے، تاکہ پاک فوج کی توجہ دہشتگرد عناصر کی طرف سے ہٹائی جاسکے اور عملاً دہشتگرد قوتوں کو ریلیف دیا جاسکے۔ پاکستان بھر میں عزاداری سیدالشہداءؑ پُرامن انداز میں جاری ہے، اگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت کہیں پر کوئی فرد غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو یقیناً اسکے خلاف ایکشن لیا جانا چاہئے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ علمائے کرام و ذاکرین عظام پر پابندی لگائی جائے، مجالس عزا کے دوران لاوڈ اسپیکر پر پابندی لگائی جائے، حتی کہ کچھ علاقوں میں سبیل امام حسین ؑ پر پابندی لگا دی گئی ہے، لیکن ہم حکمرانوں پر واضح کر دیں کہ وہ تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود عزاداری سیدالشہداءؑ کو محدود کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے، اس طرح سے یہ حکمران اپنے ہی منہ پر کالک مل رہے ہیں اور یزیدیت کی صف میں کھڑے ہو رہے ہیں، ہم حکمرانوں کو انکی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے، لہٰذا حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عزاداری مخالف سازشوں سے باز آتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان جو کہ دہشتگرد عناصر اور تکفیری قوتوں کیخلاف بنایا گیا ہے، اس پر اسکی روح کے مطابق عمل کریں۔

اسلام ٹائمز: محرم الحرام میں دہشتگردی کے خطرے کے حوالے سے اندرون سندھ کی کیا صورتحال ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
ماضی قریب میں رواں سال 30 جنوری کو شکار پور میں امام بارگاہ کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، جس میں 65 سے زائد نمازی شہید ہوئے، سو سے زائد شدید زخمی ہوئے، جس کے بعد ہم نے سندھ حکومت کے خلاف شکار پور تا کراچی کامیاب لانگ مارچ کرتے ہوئے انہیں احساس دلایا کہ وزیرستان میں پاک فوج کے کامیاب آپریشن ضرب عضب کے بعد وہاں سے دہشتگردوں کی بڑی تعداد نے اندرون ملک، خصوصاً اندرون سندھ کے پُرامن علاقوں شہداد کوٹ، خیرپور، جیکب آباد، کندھ کوٹ، شکار پور و دیگر کا رخ کیا تھا، ہم نے اسی وقت حکمرانوں کو نشاندہی کر دی تھی، کیونکہ ان علاقوں میں مدارس کے نام پر دہشتگردوں کے بڑے بڑے کیمپس قائم ہیں، جہاں عسکری تربیت و دیگر فعالیت جاری ہے، ہمارے لانگ مارچ کے بعد سندھ حکومت نے جو وعدے اور معاہدے کئے اور کہا کہ ہم ان تمام علاقوں کو آپریشن ضرب عضب کی طرح سے کارروائیاں کرکے دہشتگرد عناصر سے صاف کرینگے، لیکن سندھ حکومت کی جانب سے آج تک کس قسم کا عملی اقدام نہیں کیا گیا، لہٰذا آج بھی ان علاقوں میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی کھلے عام ہر طرح کی فعالیت جاری ہے، کالعدم تنظیموں کی جانب سے کھلے عام جلسے جلوسوں، پروگرامات، اجتماعات، تشہیری مہم وغیرہ کا سلسلہ جاری ہے، لہٰذا اگر یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری رہا اور حکومت نے اپنی آنکھیں بند رکھیں، تو اس ماہ محرم الحرام میں یا اس کے بعد بھی دہشتگردانہ واقعات رونما ہوسکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور نواز لیگ کی وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

اسلام ٹائمز: اندرون سندھ کالعدم جماعتوں اور دہشتگرد عناصر کی فعالیت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
ہر جگہ کی طرح یہاں بھی حکومتی ادارے اور مشینری ہر شہری کو امن و سکون میسر کرنے کے پابند ہیں اور کہیں پر انہیں عوامی مدد کی ضرورت ہو تو وہ بھی انہیں فراہم کی جاسکتی ہے، لیکن بنیادی طور دہشتگرد عناصر کی روک تھام کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،البتہ اگر یہ غفلت برتیں گے تو بہرحال ملت جعفریہ اپنے دفاع کیلئے بیدار ہے، ہم عزاداری سیدالشہداءؑ کی حفاظت، اپنی مساجد و ا مام بارگاہوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، لیکن یہ پھر بھی ناکافی ہے، کیونکہ ہمارے پاس نہ تو حکومتی وسائل و اختیارات ہیں اور نہ ہی اطلاعات کا نظام، جبکہ حکومت کے پاس اطلاعات ہوتی ہیں، وسائل، اختیارات، طاقت ہوتی ہے، وہ جہاں چاہے جاسکتے ہیں، کارروائیاں کرسکتے ہیں، کوئی انہیں روک نہیں سکتا، لہٰذا حکومت اپنے ریاستی وسائل اور اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے دہشتگرد عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لے۔

اسلام ٹائمز: اندرون سندھ میں دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟ اگر نہیں تو حکومت کو کیا اقدامات کرنے ہونگے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومتی اقدامات نمائشی نظر آتے ہیں، حساس ملکی حالات کے پیش نظر جو سکیورٹی اقدامات کرنے چاہیئے تھے، وہ نہیں کئے گئے، یہ تو سیدالشہداء مولا امام حسین علیہ السلام کا اپنے عزاداروں پر خاص لطف و کرم ہے، ورنہ حکومت کے اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔ اندرون سندھ روزانہ عزاداری کے سینکڑوں پروگرامات ہو رہے ہیں، لیکن حکومت نہ تو سکیورٹی فراہم کر رہی ہے اور نہ ہی مطلوبہ نفری فراہم کر رہی ہے، نہ واک تھرو گیٹ، میٹل ڈیٹکٹر سمییت دیگر سکیورٹی آلات فراہم کر رہی ہے، بلکہ دوسری جانب بجائے یہ کہ سکیورٹی فراہم کی جاتی، الٹا نیشنل ایکشن پلان کی روح کے برعکس عزاداری کو محدود کرنے کیلئے کارروائیاں کی جا رہی ہیں، عزاداروں کو، ماتم داروں کو، انجمنوں کو، ٹرسٹیز کو تنگ کیا جا رہا ہے، حتی سبیلیں لگانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، گاڑیوں میں نوحے سننے سے بھی روکا جا رہا ہے، چار دیواری میں بھی عزاداری کی مجالس کو روکا جا رہا ہے، اس قسم کی مجرمانہ کارروائیاں حکومت کے خلاف جائیں گی اور عوام میں بھی بے چینی پھیل جائے گی۔

اسلام ٹائمز: حکومت اگر غفلت برتتی رہی تو کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائیگا۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
عزاداری مخالف حکومتی تیور کے پیش نظر ایم ڈبلیو ایم تو اپنے طور پر لائحہ عمل بنا رہی ہے، لیکن دیگر تمام شیعہ تنظیموں اور اداروں کو بھی چاہیئے کہ سب ملکر مشترکہ جامع لائحہ عمل ترتیب دیں، نہ صرف اس بار کیلئے، بلکہ ہمیشہ کیلئے، کیونکہ عزاداری ہمارا آئینی و بنیادی حق ہے، جس پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جاسکتی، اس کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام اور سازش کو ہم قبول نہیں کرینگے، اس ماہ محرم الحرام میں اب تک حکمرانوں نے جو عزاداری مخالف سازشیں کی ہیں، جامع پالیسی اختیار کرکے حکومت کو اسکے عزاداری مخالف اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔
خبر کا کوڈ : 492796
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب