0
Monday 2 Nov 2015 21:59

گلگت بلتستان کا مسئلہ عالمی ایوانوں کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے، وجاہت حسین

گلگت بلتستان کا مسئلہ عالمی ایوانوں کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے، وجاہت حسین
وجاہت حسین کا تعلق گلگت سے ہے اور گلگت میں انکی شناخت ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ہے۔ گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی کے خاتمے کے خلاف چلنے والی تحریک میں عوامی ایکشن کمیٹی کے روح رواں تھے، مختلف جماعتوں کو باہم ملانے، اختلافات کو ختم کرنے اور تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بنیادی کردار رہا ہے۔ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کوارڈینیٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے اور اسوقت بھی اسی حیثیت سے گلگت بلتستان کے حقوق کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک انٹرویو کیا ہے، جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: عوامی ایکشن کمیٹی کے جن مطالبات پر حکومت نے عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا، ان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا اور اس سلسلے میں آپکی کمیٹی خاموش کیوں ہے۔؟
وجاہت حسین:
محترم! آپ کے اپنے سوال میں ہی عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کا اقرار موجود ہے، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں تمام مطالبات حل کیوں نہیں ہوئے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ جو مطالبات عوامی ایکشن کمیٹی نے کئے، ان سے عملی طور پر گلگت بلتستان کے عوام متاثر ہوں، تب وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہونگے اور باقی ماندہ مطالبات بھی حل ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: اس میں کس حد تک حقیقت ہے کہ عوام ایکشن کمیٹی عوام میں مقبولیت کھو بیٹھی ہے اور دوبارہ عوام میں جا نہیں سکتی۔؟
وجاہت حسین:
عوامی ایکشن کمیٹی سیاسی مقاصد کیلئے نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کی کمیٹی ہے، مقبولیت کھونا یا مقبولیت حاصل کرنا عوامی ایکشن کمیٹی کا مسئلہ نہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کی ہے اور کرتی رہے گی۔

اسلام ٹائمز: کیا ریاستی اداروں کی طرف سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انکی جان خطرے میں ہے۔؟
وجاہت حسین:
اس سوال سے میرے خیال میں اس پوری کہانی کا رخ کہیں اور چلا جائے گا۔ دھمکیاں اور جان کے خطرے جیسے معاملات کسی ایک شخص کے بارے میں اچھے لگتے ہیں، کیونکہ یہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کی ’’عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ ہے، اگر دھمکی ملتی یا جان کو خطرہ ہوتا تو پورے گلگت بلتستان کی عوام کو ہوتا۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم کی عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کی وجوہات کیا ہیں اور اسکے بعد کمیٹی کی حیثیت اور وقعت پر فرق پڑا ہے کہ نہیں۔؟
وجاہت حسین:
بار بار ایکشن کمیٹی کو سیاسی ترازو میں تولنے کی بجائے پہلے دیئے گئے جوابات پر غور فرمایئے، یہ سوال خود بخود حذف ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کا کیا موقف ہے اور اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھانے کا ارادہ ہے۔؟
وجاہت حسین:
اس سوال کا جواب بہت سارے زاویوں سے شروع ہوتا ہے، آپ کس زاویے سے جواب سننا چاہتے ہیں، کیونکہ گلگت بلتستان کے بچے بچے کو بھی حفظ ہوچکا ہے کہ یا تو مسئلہ کشمیر، یا یو این سی آئی پی یا آئین پاکستان میں شمولیت، عبوری صوبہ، مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ، آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ، یہ ساری صورتیں آئینی حقوق کی ہوسکتی ہیں۔ میں آپکو بتاتا چلوں کہ گلگت بلتستان کے مسئلے پیدا ہوئے ہیں اور اتنی الجھنیں ہیں کہ سلجھانے کی بجائے مزید الجھایا گیا ہے، کیونکہ یہ مسئلہ صرف گلگت بلتستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے اور عالمی ایوانوں کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی یا قومی اسمبلی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

اسلام ٹائمز: یہ حقیقت ہے کہ عوام نے ایکشن کمیٹی کو فراموش کر دیا ہے، کیا کوئی ایسا فوری ایشوز ہے، جسکے ذریعے عوام میں جائے اور دوبارہ وہ مقام حاصل کرسکے؟
وجاہت حسین:
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ عوام اپنے مسائل لے کر خود عوام کے پاس کیسے جائے، عوامی ایکشن کمیٹی عوام کا پلیٹ فارم جہاں عوام سمجھتی ہے مسئلہ ہے اور عوام نکل کر آئے تو مسئلہ حل ہوگا۔ ایکشن کمیٹی عوامی فورم ہے اور اسے عوامی فورم ہی رہنے دیں گے۔

اسلام ٹائمز: نواز لیگ کی موجودہ صوبائی حکومت اور پی پی پی کی سابقہ حکومت کی کارکردگی میں کوئی فرق نظر آرہا ہے۔؟
وجاہت حسین:
پانچ سالہ حکومت کو پانچ مہینے کی حکومت سے موازنہ کرانا ناانصافی ہوگی۔ وقت بتائے گا کہ ان کی کارکردگی میں کیا فرق ہے۔
خبر کا کوڈ : 494339
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب