0
Wednesday 28 Oct 2015 23:51
امریکا نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کیلئے وہ کردار بھی ادا نہیں کیا جو وہ کر سکتا تھا

روس کی داعش مخالف کارروائی سے بشار حکومت کی مضبوطی امریکا، اسرائیل و سعودی عرب کیلئے مشکل کا باعث ہوگی، ڈاکٹر نعیم احمد

بھارتی سرحدی جارحیت سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑیگا
روس کی داعش مخالف کارروائی سے بشار حکومت کی مضبوطی امریکا، اسرائیل و سعودی عرب کیلئے مشکل کا باعث ہوگی، ڈاکٹر نعیم احمد
ڈاکٹر نعیم احمد پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 1997ء میں جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اسکے بعد 1999ء میں بحیثیت کوآپریٹو ٹیچر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ہوئے تھے۔ اسی دوران 2004ء میں ان کو امریکا میں فل برائٹ اسکالرشپ مل گئی، وہاں سے بھی انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، پاکستان واپسی کے بعد وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے دوبارہ وابستہ ہوئے، اور آج کل بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، انہوں نے 2007ء میں جامعہ کراچی سے ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ مشرق وسطیٰ سمیت ملکی و عالمی ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر نعیم احمد کے ساتھ پاک بھارت تعلقات، شام کے قضیے میں روس کی شمولیت اور داعش کے خلاف کارروائی سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاک بھارت تعلقات کی راہ میں کن تنازعات کو رکاوٹ سمجھتے ہیں اور قیام امن کیسے ممکن ہے۔؟
ڈاکٹر نعیم احمد:
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم اور بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، اس کے ساتھ ساتھ پانی کا تنازعہ ہے، سیاچن کا مسئلہ ہے، جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ ہے، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کشمیر اور پانی کے تنازعات برصغیر کی تقسیم کے بعد سے چلے آ رہے ہیں، 1960ء میں ورلڈ بینک کی مدد سے کوشش کی گئی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کا مسئلہ حل ہو جائے، جس میں وقتی طور پر کامیابی بھی ہو گئی تھی، اور انڈس واٹر ٹریٹی (indus water treaty) پر پاکستان اور بھارت نے دستخط کئے تھے، دونوں کے حصے میں تین تین دریا آئے تھے، لیکن بعد میں بھارت نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی، اور ڈیمز بنانے شروع کر دیئے، بین الااقوامی قوانین کے مطابق پانی کے اوپری کنارے واقع ریاستیں (upper riparian states) ڈیمز نہیں بنا سکتیں، کیونکہ پانی کا بہاؤ نچلے کنارے پر واقع ریاستوں کی جانب ہوتا ہے کہ اوپری ریاستیں ڈیمز بنا کے پانی کو روک نہ سکیں، اس لئے ڈیمز بنانا بھی نچلی ریاستوں کا حق ہوتا ہے، لیکن بھارت نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا ڈیم سمیت مختلف ڈیمز بنائے، مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے، لیکن آنے والے سالوں میں پانی کا تنازعہ بنیادی مسئلہ بننے جا رہا ہے، اگر یہ حد سے آگے بڑھا اور بات جنگ تک جا پہنچی تو چونکہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں، ڈر ہے کہ کہیں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہ ہو جائے، حالانکہ پاکستان کی پوری کوشش ہے اس طرح کا کوئی تنازعہ نہ ہو، اور مسائل حل ہوں، جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں چار نکاتی حل پیش کیا ہے، جن میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو 2003ء کے لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا چاہیئے، دونوں ملکوں میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپوں کو مزید فعال کیا جائے، دوسرا یہ کہ پاکستان اور بھارت کسی بھی طرح کے حالات میں طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا مرکزی حصہ ہے، تیسرا یہ کہ کشمیر کو ڈی ملیٹرائز یعنی غیر عسکری کرنا، اور چوتھا یہ ہے کہ دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن سے فوجوں کی غیر مشروط واپسی۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اگر بھارت نے اسے قبول کر لیا ہے، تو خطے میں قیام امن ہو سکتا ہے، اور اگر تنازعات حل نہیں ہوتے، اور بات جنگ تک جاتی ہے، تو یہ ناصرف خطے کیلئے، بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔

اسلام ٹائمز: دونوں ممالک میں کون بہتر تعلقات اور تنازعات کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔؟
ڈاکٹر نعیم احمد:
بین الاقوامی تعلقات میں مطلقاً یہ نہیں کہتے کہ یہ صحیح ہے یا یہ غلط۔ ریاستوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ایک دوسرے کے خلاف خیالات (perception) بہت زیادہ منفی بنے ہوئے ہیں، دونوں ممالک شروع سے ہی ایک دوسرے پر ممالک کے اندر مداخلت کرنے کے الزامات لگاتے آ رہے ہیں، اب اس میں اہم ترین چیز یہ ہے کہ آگے کیسے بڑھا جائے، اگر دونوں ممالک اپنے تنازعات حل نہیں کریں گے، الزامات کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تو خطے میں آس پاس کے ممالک جو پہلے ہی آگ لگی ہوئی ہے، یہاں بھی لگنے کا خطرہ ہوگا۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پچھلے ایک سال سے جب سے بھارت میں مودی سرکار آئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ نریندر موودی کے وزیراعظم بننے پر پاکستان نے مثبت جذبات پر مبنی پیغام بھیجا تھا، لیکن بھارت کی جانب سے کوئی مثبت پیغام سامنے نہیں آیا، بہرحال دنیا آگے بڑھ رہی ہے، اگر دونوں ممالک نے اپنے تنازعات حل نہیں کئے، تو دنیا میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ خیال درست ہے کہ کچھ عالمی طاقتیں پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں چاہتیں۔؟
ڈاکٹر نعیم احمد:
عالمی قوتیں اگر آپ کا اشارہ امریکا کی طرف ہے تو عالمی قوتیں خصوصاً امریکا نے ماضی میں کبھی بھی نہیں چاہا کہ پاک بھارت تنازعات بہت آگے بڑھیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کیلئے وہ کردار بھی ادا نہیں کیا، جو وہ کر سکتا تھا۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین اور کمیونیزم پر قابو پانے کیلئے امریکا کی خواہش تھی کہ پاکستان اور بھارت دونوں اسکے دائرہ اثر و رسوخ میں رہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہ ہو، کیونکہ امریکا کیلئے یہ مناسب نہیں تھا۔ آج نائن الیون کے واقعہ کے بعد بھی امریکا کیلئے مناسب نہیں ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ خطے میں کوئی جنگ ہو، جس سے اس کے اپنے مفادات متاثر ہوں۔ نائن الیون کے بعد جب اس خطے میں امریکا وارد ہوا، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر، تو اس کے مفادات کے خلاف تھا کہ پاک بھارت جنگ ہو، اس لئے اس نے 2004ء میں پاک بھارت جامع مذاکرات کیلئے پس پردہ کوشش بھی کیں، لیکن امریکا کی دہشتگردی کیخلاف جنگ کو اس وقت دھچکا لگا، جب ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت دوریاں ایکبار پھر بڑھ گئیں۔ بھارت جو کہ خطے کی بڑی طاقت ہے، جب تک وہ نہیں چاہے گا، تب تک کوئی تیسری قوت یہ مسائل حل نہیں کروا سکتی، اور امریکا بھی نہیں چاہے گا کہ وہ بھارت پر زیادہ دباؤ بڑھائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرے، کیونکہ اسکی نظر میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی اہمیت زیادہ ہے، پھر امریکا کو چین پر قابو پانے کیلئے، اقتصادی مفادات کیلئے، خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اسے آگے بڑھانے کیلئے اسے بھارت کی مدد چاہیئے، لہٰذا امریکا کبھی بھی پاکستان کی خاطر بھارت سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا بھارتی سرحدی جارحیت کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا ردعمل کہہ سکتے ہیں۔؟
ڈاکٹر نعیم احمد:
ہر ریاست اپنے مفادات کے حصول کیلئے طاقت کو بڑھانا چاہتی ہے، اور ساتھ پھر یہ بھی چاہتی ہے کہ مخالف ریاست کمزور رہے، اس کیلئے وہ مختلف ٹیکٹکس اور اسٹریٹیجی بناتی ہے، دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چین کے پاکستان میں بلاواسطہ معاشی مفادات ہوئے ہیں، جیسا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی صورت میں نظر آ رہا ہے، لیکن آج سے پہلے یہ تعلقات سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ تھے، لیکن اب بھارت دیکھ رہا ہے کہ اگر چین اقتصادی طور پر پاکستان آتا ہے، تو پاکستان کی طاقت میں چین کی مدد سے بہت زیادہ اضافہ ہو جائیگا، لہٰذا بھارت کو اس چیز سے بہت مشکل ہوتی ہے کہ پاکستان اس کے مدمقابل کھڑا ہو۔ اقتصادی راہداری جو بننے جا رہی ہے، یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے، اس سے پاکستان اور چین ناصرف اقتصادی طور پر قریب آئیں گے بلکہ پاکستان میں بےانتہا ترقی کے مواقع پیدا ہونگے، اور پاکستان خود ایک اقتصادی قوت میں تبدیل ہو جائیگا، اور پاکستان سمیت پورے خطے میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ جہاں تک بات ہے بھارت کی جانب سے سرحدی جارحیت کی تو یہ پریشر ٹیکٹکس ہوتی ہیں کہ مخالف کو سرحد پر مصروف رکھا جائے، تاکہ وہ دوسری اہم چیزوں کی طرف توجہ مرکوز نہ رکھ سکے، لیکن بھارتی سرحدی جارحیت سے اقتصادی راہداری منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑیگا، کیونکہ پاکستان اور چین نے اس منصوبے کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہچانے کا عزم کر رکھا ہے، لہٰذا سکیورٹی کے حوالے سے آپریشن ضرب عضب ہو یا کراچی آپریشن، انہیں اسی عزم کا حصہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ امن و امان کے قیام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت اس اقتصادی راہداری منصوبے سے بھی بہت پہلے سے جاری ہے، اس مداخلت کے ثبوت پاکستان کافی مواقع پر بھارت کو، امریکا کو اور اقوام متحدہ کو دے چکا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ پاکستان میں فعال ہے۔

اسلام ٹائمز: آخر میں آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ شام کے قضیے میںروس کی شمولیت اور داعش کے خلاف فوجی کارروائی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ڈاکٹر نعیم احمد:
روس کے شام کے ساتھ بہت گہرے اور پرانے فوجی تعلقات ہیں، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد پہلی بار روس نے اپنے خطے سے باہر جاکر کارروائی کی ہے، گو کہ یہ کارروائی شامی حکومت کی درخواست پر کی گئی ہے، جو کہ امریکا اور اس کے اتحادی جیسے سعودی عرب کیلئے مشکل کا باعث ہے کہ روس علاقائی مسائل میں حصہ بن رہا ہے، پھر داعش جو کہ شام کے خلاف ہے، داعش سعودی عرب اور امریکا کے بھی خلاف نظر آتی ہے، لہٰذا اگر روس داعش کو نشانہ بنا رہا ہے تو یہ شام کے ساتھ ساتھ امریکا اور سعودی عرب کو بھی فائدہ ہو رہا ہے، لیکن کیوں ایک ردعمل آ رہا ہے امریکا اور سعودی عرب کی طرف سے، تو اس کا ایک پہلو یہ ہے سعودی عرب کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ داعش کا خاتمہ بشار الاسد کی شامی حکومت کی مضبوطی کا باعث بنے، سعودی عرب کیلئے بشار حکومت بھی اتنا مسئلہ ہے کہ جتنا داعش، امریکا کیلئے بھی یہی صورتحال ہے، لہٰذا یہاں پر بھی سعودی عرب اور امریکا کے مفادات ایک ہو جاتے ہیں، دونوں چاہتے ہیں کہ داعش کے ساتھ ساتھ بشار حکومت کا بھی خاتمہ ہو جائے، لیکن ان دونوں کیلئے مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ روس کی کارروائی سے جہاں داعش کا خاتمہ ہوگا، وہیں بشار حکومت مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ دوسری جانب ایران کے بشار حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لہٰذا یہ خود امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کیلئے مشکلات کا باعث ہے، کیونکہ بشار حکومت، ایران اور حزب اللہ کے روابط مزید مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں تو اس سے ان تینوں ممالک کے مفادات پر ضرب پڑے گی، ان کیلئے مسائل پیدا ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 494341
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب