0
Thursday 12 Nov 2015 14:08
روس عالمی سیاست میں اپنی کھوئی ہوئی سابقہ حیثیت کو واپس لے کر آگیا ہے

مشرق وسطٰی میں دہشتگردی کیخلاف روس ایران اتحاد مؤثر اور عوامی مقبولیت کا حامل ہے، ڈاکٹر نوشین وصی

امریکا کی اسوقت اصل لڑائی داعش یا دیگر انتہاپسند دہشتگرد قوتوں سے نہیں بلکہ روس سے ہے
مشرق وسطٰی میں دہشتگردی کیخلاف روس ایران اتحاد مؤثر اور عوامی مقبولیت کا حامل ہے، ڈاکٹر نوشین وصی
ڈاکٹر نوشین وصی پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 1997ء میں جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اسکے بعد وہ معروف تحقیقاتی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سے وابستہ ہوئیں، اسکے بعد 2004ء میں بحیثیت لیکچرار جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ہوئیں اور تاحال اسی شعبے میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہی ہیں، اسی دوران 2014ء کے اوائل میں انہوں نے جامعہ کراچی سے ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ماہر بین الاقوامی امور کی حیثیت سے ان کے تحقیقاتی مقالہ جات اکثر و بیشتر ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں، وہ ملکی و عالمی ایشوز سمیت انٹرنیشنل سکیورٹی پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر نوشین وصی کے ساتھ شام کے قضیے میں روس کی شمولیت اور داعش کے خلاف کارروائی، روسی شمولیت کے بعد امریکا اور اتحادی ممالک کو لاحق تشویش سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: شام کے قضیے میں روس کی شمولیت اور داعش کیخلاف فوجی کارروائی کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔؟
ڈاکٹر نوشین وصی:
انٹرنیشنل سکیورٹی کے حوالے سے اگر ہم بات کریں تو میں یہ دیکھتی ہوں کہ اب روس عالمی سیاست میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کر رہا ہے، پھر تاریخی حوالے سے دیکھیں تو مشرق وسطٰی میں روس کی پارٹنر شپ شام کے ساتھ رہی ہے، روس اسے سپورٹ بھی کرتا رہا ہے جبکہ امریکا نے اس خطے میں اپنے مفادات کو پروموٹ کیا ہے۔ روس یہ سمجھتا ہے کہ اب ہم عالمی سیاست میں اہم کھلاڑی ہیں اور اب ہمیں عالمی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس حوالے سے شام کے قضیے میں روس کی شمولیت کو میں عالمی سیاست میں پھر سے داخل ہونا سمجھتی ہوں، جو وہ مختلف مواقع پر ظاہر کر رہا ہے، جسے ہم نے یوکرائن کے بحران میں بھی دیکھا تھا، اب مشرق وسطٰی میں بھی اسکی مضبوط آواز موجود ہے۔ روسی صدر پیوٹن کا اپنا ایک اہم پس منظر ہے، بہت پہلے جب سے انہوں نے روس کی صدارت سنبھالی ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ روس نیچے (down) ہے لیکن باہر (out) نہیں ہے، اب میں یہ سمجھ رہی ہوں کہ روس عالمی سیاست میں اپنی کھوئی ہوئی سابقہ حیثیت کو واپس لے کر آگیا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا مشرق وسطٰی میں ایران، روس، عراق اور شام کا داعش سمیت دیگر دہشتگرد عناصر کیخلاف اتحاد مؤثر ثابت ہوگا، جس سے امریکا اور اسکے اتحادی مغربی و عرب ممالک پریشان ہیں۔؟
ڈاکٹر نوشین وصی:
میں سمجھتی ہوں کہ ان ممالک کا اتحاد بہت مضبوط ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ افغانستان کا مسئلہ دیکھیں، مشرق وسطٰی کا مسئلہ دیکھیں، عوامی سطح کی میں بات کر رہی ہوں کہ امریکا نے اپنے مفادات کیلئے اس علاقے، اس خطے کو استعمال کیا اور ان دہشتگرد گروہوں کو بھی استعمال کیا۔ مثال کے طور پر داعش نے القاعدہ سے جنم لیا ہے اور القاعدہ کو امریکا کی مکمل سپورٹ رہی ہے۔ پھر ہم اگر روس کے حوالے سے بات کریں تو سوویت یونین کے ٹوٹنے میں انہی طاقتوں کا اہم اور بنیادی کردار رہا ہے اور ماضی بہت اہم indicator ہوتا ہے مستقبل کی پالیسیز (policies) بنانے کیلئے۔ ایران کا اگر آپ کردار دیکھیں تو ایران کو افغانستان میں امریکی، سعودی پالیسیوں سے بہت زیادہ اختلافات رہے ہیں، اس لئے ایران ہمیشہ سے ہی ایک مختلف سیکٹر (sector) کو پروموٹ (promote) کر رہا تھا، پھر 1979ء کے بعد کی صورتحال اور خصوصاً 1988ء کے بعد تو ہم نے ایران اور روس کی سپورٹ دیکھی تھی، لہٰذا ان دونوں ممالک کے درمیان یہ کوئی نیا اتحاد نہیں بن رہا ہے۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایران اور روس کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، عراق 2003ء والا عراق نہیں ہے تو ہمیں یہ کمٹمنٹ (commitment) زیادہ close نظر آ رہی ہے کہ یہ مل جل کر اتحاد کے ساتھ مشرق وسطٰی میں بہتر پالیسیوں کا آغاز کرسکتے ہیں، جو ایک مؤثر اور مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے، اسی وجہ سے اس اتحاد کو مقبولیت بھی مل رہی ہے، کیونکہ اس اتحاد کی طاقت پر لوگوں کو اعتماد ہو رہا ہے۔ مختصراً یہ کہ میں سمجھتی ہوں کہ مشرق وسطٰی میں دہشتگردی مخالف روس ایران اتحاد مؤثر اور عوامی مقبولیت کا حامل ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکا اور اسکے اتحادی چاہتے تھے کہ ایران شام میں براہ راست فوجی مداخلت کرے، تاکہ امریکی اتحاد کو ایران پر چڑھائی کا موقع مل جاتا، کیا آپ سمجھتی ہیں کہ شام کے مسئلے میں روس کی براہ راست فوجی مداخلت کے باعث ایران شام میں براہ راست اور مؤثر فوجی مداخلت سے بے فکر ہوگیا ہے اور امریکا اور اسکے اتحادی پریشان نظر آ رہے ہیں۔؟
ڈاکٹر نوشین وصی:
میں پچھلے دس پندرہ سالوں سے اس بات کو کہہ رہی ہوں کہ امریکا کیلئے ایران پر حملہ کرنا عراق جتنا آسان نہیں تھا، کیونکہ 2003ء کے بعد لوگ یہ کہہ رہے تھے اگلا نشانہ ایران ہوگا، لیکن پچھلے اڑھائی تین سالوں سے ہم نے امریکا کی خارجہ پالیسی میں بھی ایک تبدیلی دیکھی ہے، ایران کے حوالے امریکی پالیسی نرم ہوئی ہے، تقریباً ڈیڑھ سال پہلے انٹرنیشنل میڈیا میں بہت زیادہ کالم اور مضامین آئے تھے امریکا ایران مفاہمت (US-Iran Rapprochement) کے بارے میں، خواہش یہ ہے کہ افغانستان میں ایران کے علاقائی قوتوں کے ساتھ جو اختلافات پیدا ہوئے، اور پھر جب امریکا کے اختلافات پیدا ہوئے علاقائی قوتوں کے ساتھ، خصوصاً پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے، تو امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوئی کہ اب امریکا کو اپنے پارٹنر تبدیل کرنے چاہیئے، تاکہ افغانستان کے مسئلے میں بھی دوسرے ممالک آسکیں، جو تاریخی طور پر آرہے ہیں، تو اس وجہ سے امریکا کی ایران کے ساتھ مفاہمت (Rapprochement) کی پالیسی شروع ہوئی اور امریکا نے ایک بیک ڈور پالیسی (backdoor policy) کا اس خطے میں آغاز کیا۔ بہرحال بہت سارے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ایران شام میں براہ راست آئے گا اور پھر امریکا پر حملہ کر دیگا، لیکن میرا خیال ہے کہ پچھلے دو اڑھائی سالوں سے امریکی خارجہ پالیسی میں بھی یہ آپشن نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: روس ایران اتحاد داعش سمیت دیگر دہشتگرد عناصر کیخلاف ہے، جنکے خلاف خود امریکا اور سعودی عرب بھی ہیں، تو یہ دو ممالک کیوں مخالفت کر رہے ہیں۔؟
ڈاکٹر نوشین وصی:
اس وقت یمن اور شام کی صورتحال میں ایک بہت ہی دلچسپ رجحان (phenomenon) سامنے آ رہا ہے، جو حکومتیں کچھ قوتوں کے خلاف لڑتی رہی ہیں، آج انہیں قوتوں کے ساتھ مل کر لڑنا پڑ رہا ہے، دنیا نے دیکھا کہ سعودی عرب کو داعش اور القاعدہ کے ساتھ مل کر لڑنا پڑا یمنی حوثی قبائل کے خلاف، دوسری جانب امریکا کا عظیم تر مفاد اب حکومت کی تبدیلی کی سیاست کے ساتھ ہے، باقی معاشرتی سطح (societal level) پر وہ انتہاپسند قوتوں کے ساتھ بھی لڑ رہے ہیں، میں ہمیشہ سے انتہا پسند دہشتگرد قوتوں کو اسٹراٹیجک قوت سمجھتی ہوں، اسٹراٹیجک قوت اس لئے ہیں کہ ان کو ریاستوں کی، جو بین الاقوامی تعلقات کے اہم کھلاڑی ہیں، ان کی سپورٹ حاصل ہے، اب یہ اپنے مقاصد کیلئے ان انتہاپسند قوتوں کو استعمال کرتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کیلئے اس وقت یہ لڑائی داعش یا دوسری انتہاپسند دہشتگرد قوتوں سے نہیں ہے، اب امریکا کی اصل لڑائی روس سے ہے، اس وجہ سے یہ اہمیت اختیار کرچکی ہے، روس چونکہ عالمی سیاست میں انکا مقابل (contender) ہے، تو وہ اس کے خلاف کام کر رہے ہیں، اب یہ حکومت بمقابلہ حکومت سیاست ہے، تو وقتی طور پر جو امریکی مفادات ہیں کہ انتہاپسند قوتوں سے لڑنا، داعش، القاعدہ سے لڑنا، لیکن فی الحال ان کی ترجیحات روس کا رستہ روکنا ہے، اسکے خلاف مقابلے کو برقرار رکھنا ہے۔ پھر امریکا واحد سپر پاور ہے، اگر طاقت کے نئے مراکز ابھر کر سامنے آتے ہیں تو اس کی طاقت کی پوزیشن کو خطرہ ہے، امریکا کا استحقاق اور استثنائی پوزیشن برقرار نہیں رہے گی۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ دنیا داعش کو خطرہ قرار دے رہی ہے، جبکہ عرب و خلیجی ممالک ایران کو خطرہ قرار دے رہے ہیں۔؟
ڈاکٹر نوشین وصی:
کسی بھی ریاست کو دو خطرے ہوتے ہیں، پہلا آپ کی ریاست کی خود مختاری کو خطرہ ہو اور دوسرا حکومت کو خطرہ ہو۔ مشرق وسطٰی یا عرب ریاستوں میں ہم نے زیادہ مسئلے حکومتوں کے دیکھے ہیں۔ پھر عرب بادشاہتوں کو خطرے یہ تھے کہ 1979ء میں جب ایران میں انقلاب آیا تو اس خطے میں خطرہ ہوا کہ ایران انقلاب کو برآمد کریگا، اگرچہ یہ انقلاب ایران سے باہر پھیلایا جاتا، برآمد کیا جاتا تو ظاہر ہے کہ تمام عرب ریاستوں میں حکومتوں اور بادشاہتوں کی بقا کا مسئلہ پیدا ہوتا، اسی لئے ایران کے انقلاب کو پھیلنے سے روکا گیا، اسے محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں، ایران کے انقلاب کے خلاف رائے عامہ ہموار کی گئی، اب اگر ایران خطے میں تبدیلی کی آواز دیتا ہے، توازن یا مساوات کی آواز دیتا ہے، جس پر ہم نے ایران کی پالیسیاں بنتے ہوئے دیکھی ہیں، تو وہ خطے میں ان پرانے نظام یا اسٹیٹس کو (status quo) کیلئے خطرہ بنتی ہے، اسی باعث فی الحال مشرق وسطٰی کی سیاست پر ایران مخالف بلاک غالب ہے، 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ہم نے ایران کی سیاست میں differences of opinion کو دیکھا ہے، جس کے اثرات علاقائی سیاست پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 497296
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش