0
Wednesday 6 Jan 2016 18:30
شیخ نمر اور انکے دیگر ساتھیوں کو غیر شرعی سزا دی گئی ہے

ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنیوالے ممالک دراصل انقلاب اسلامی کا خاتمہ چاہتے ہیں، قاری عبدالرحمان

ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنیوالے ممالک دراصل انقلاب اسلامی کا خاتمہ چاہتے ہیں، قاری عبدالرحمان
قاری عبدالرحمان کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ جامعہ مسجد کوئٹہ کے خطیب ہیں، وہ صوبہ بلوچستان میں ایک جانی پہنچانی شخصیت اور اتحاد امت کے داعی ہیں۔ دار الامور اسلامی کوئٹہ کے سیکرٹری جنرل کے بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جماعت اسلامی کوئٹہ کے سابق منتظم بھی رہ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے قاری عبدالرحمان سے شیخ نمر کی شہادت اور اس کے بعد سعودی عرب کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر انٹرویو کیا ہے۔ جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: شیخ باقرالنمر اور انکے کچھ دیگر ساتھیوں کے سعودی حکمرانوں نے سر قلم کرا دئیے، جس پر پوری دنیا سے مذمت کی گئی ہے۔ عوام نے کھل کر اپنی برات کا اظہار کیا ہے، لیکن سعودی حکمرانوں نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دئیے ہیں اور ساتھ ہی دیگر ممالک پر دباو بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ بھی ایران کیساتھ سفارتی تعلقات توڑ دیں۔ آپ سعودی عرب کے اس اقدام کو کس طرح دیکھ رہے ہیں۔؟
قاری عبدالرحمان:
امریکہ نے امت مسلمہ پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور یہ اس کی ایک کڑی ہے۔ سعودی حکمرانوں کو امریکہ استعمال کر رہا ہے، امت مسلمہ کے حقیقی علماء کو چاہیئے کہ وہ مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرائیں، پاکستان کا مفتی اعظم جس نے دو فٹ داڑھی چھوڑی ہوئی ہے، وہ اٹھے اور ان کی صلح کرا دے۔ تنازعات کے حل کرانے کی کوشش کریں، قرآن بھی کہتا ہے کہ تنازعات کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تنازعات کا حل قرآن و سنت میں ڈھونڈا جائے، امت کے علماء مل بیٹھیں اور ان مسائل کا حل سوچیں۔ ایک آزاد خود مختار علمی فورم بنایا جائے، جہاں یہ مسئلے حل کرسکیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی علماء کا اس میں کیا کردار ہوسکتا ہے جو وہ ادا کریں۔؟
قاری عبدالرحمان:
پاکستان کے مولوی موجودہ فضاء سے استفادہ اٹھانے اور امریکہ سے ڈالروں کے انتظار میں نہ بیٹھیں۔ اٹھیں اور یہ مسئلہ حل کرائیں، یہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں ہوسکتی اور نہ ہے۔ نواز شریف سے امید نہ رکھیں کہ وہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے میں کوئی کردار ادا کریں گے۔ خود اٹھیں اور اس مسئلہ کی اصلاح احوال کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم صاحب تو مزید تفرقہ اور انتشار کی کوشش کریں گے۔ ہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے درخواست کرتے ہیں، وہ اٹھیں اور اپنا مصالحانہ کردار ادا کریں، وہ کمانڈر انچیف ہیں۔ قوم کی ان سے توقعات ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کے علاوہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی آرمی چیف کی ہی ذمہ داری ہے۔

اسلام ٹائمز: اسوقت جو نہیں بول رہے یا کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش ہیں، انکے بارے میں کیا کہیں گے۔؟
قاری عبدالرحمان:
میں پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس حساس مسئلے میں قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح اور درست رہنمائی دیں۔ امریکہ، اسرائیل، فرانس سمیت دیگر مغربی ممالک ہمارے ازلی دشمن ہیں، وہ اس فضا سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں امت مسلمہ کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ جو نہیں بول رہے انہیں بولنا چاہیئے۔ کب تک وہ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے۔ بہت حساس صورتحال ہے، اس پر جماعت اسلامی سمیت سب کو بولنا چاہیے اور حکومت پر دباو ڈالنا چاہیے کہ وہ اس معاملے میں فریق نہ بنے، اس معاملے میں ہمارا اگر کوئی کردار بنتا ہے تو وہ ثالثی ہے۔

اسلام ٹائمز: شیخ باقر النمر سمیت 47 افراد کے سر قلم کر دیئے گئے۔ کیا یہ سزائیں شرعی کہلا سکتی ہیں۔؟
قاری عبدالرحمان:
امت مسلمہ کی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں پھانسیاں نہیں دی گئیں۔ حتیٰ اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایسا نہیں ملتا کہ کسی ایک ملک نے اتنی بڑی تعداد میں پھانسیاں دی ہوں، یہ مسلمان ملک ہے، جہاں اتنی بڑی تعداد میں پھانسیاں دی گئی ہیں۔ مسلمان کو پھانسی نہیں دی جاسکتی، جب تک ان پر قتل ثابت نہ ہو جائے، جبکہ انہوں نے کوئی قتل نہیں کیا تھا، پھر انہیں پھانسیاں کیسے دی جاسکتی تھیں۔

اسلام ٹائمز: قاری صاحب 47 افراد کو پھانسی نہیں بلکہ ان کے سر قلم کئے گئے ہیں، شرعاً سر قلم کرنیکی کوئی سزا ہے کیا۔؟
قاری عبدالرحمان:
سرقلم کرنا اسلام میں جرم ہے، پھانسی دی جاسکتی ہے لیکن سرقلم کرنا غیر اسلامی ہے۔ سر قلم کرنے کی سزا اسلام میں نہیں ہے، انسان کا سر قلم کرنا یا سر تن سے جدا کرنا، یہ انسانیت کی توہین ہے، انسانی جسم کی توہین ہے بلکہ یہ خدا کی تخلیق کی توہین ہے۔

اسلام ٹائمز: سعودی دباو پر بحرین، سوڈان اور کویت نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرکے سفارتی مشن واپس بلا لیا ہے، اس نئی ڈیویلپمنٹ پر کیا کہیں گے۔؟
قاری عبدالرحمان:
اس کا جواب یہ ہے کہ عالمی یہودیت اور عیسایئت کا یہ طے شدہ پلان ہے کہ مسلم اُمہ کو ٹکروں میں تقسیم کرو، یہ قطعاً اس ریاست اور ملک کو برداشت نہیں کرتے جو اللہ اور اس کے دین کی بات کرتی ہو، یہودی ایسے نام نہاد حکومتوں اور حکمرانوں کے چاہنے والے ہیں، جہاں اسلام یتیم ہو، یہ حقیقی اسلامی ریاست کے خیر خواہ نہیں ہیں، انہوں نے ملکر ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف پلان بنایا ہے اور یہ ان کا پورا منصوبہ ہے کہ ایران سے اسلامی انقلاب کو سبوتاژ کر دیا جائے۔ یوں کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ یہ یہودی، عیسائی، مشرکین اور منافقین کا مشترکہ منصوبہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کو کمزور کیا جائے۔ میں پھر کہوں گے کہ علماء، دانشور، مجہتدین ملکر اس سازش کو ناکام بنائیں۔

اسلام ٹائمز: تو آپکو اصل سازش انقلاب اسلامی ایران کیخلاف نظر آرہی ہے۔؟
قاری عبدالرحمان:
جی مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ سازش اسلامی انقلاب ایران کے خلاف ہے۔ ان کا مقصد ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اسلام اور اسلامی تحریکوں کیلئے کام ہو رہا ہے، ان سب کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔ انکا وجود تک ختم کر دیا جائے اور اسلامی تحریکوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: تو کیا مغربی ممالک کیجانب سے بادشاہتوں کو سپورٹ کرنا خود اس گریٹ گیم کا حصہ ہے۔؟
قاری عبدالرحمان:
یہ بالکل!، آپ نے ٹھیک بات کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان کی کوشش اور خواہش بھی ہے کہ حقیقی اسلام کو مٹا دیا جائے، کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے، 80ء کی دہائی میں روس کو شکست ہوئی، انہیں مسلمانوں کی اصل طاقت کے بارے میں معلوم ہوگیا کہ مسلم زور آور ہیں کہ یہ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو آپس میں دشمنی اور عداوت میں لانا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کل سعودی وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہیں، حکومت کو کیا پیغام دینا چاہیں گے کہ وہ اس موقع پر کیا اقدام کرے۔؟
قاری عبدالرحمان:
حکومت پاکستان ان مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہے، یہ لوگ شریعت اور اسلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ حکومت اور یہ سسٹم اس انتشار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، علماء اور عوام کو متحدہ ہوکر انہیں مجبور کریں کہ یہ استقامت کرتے ہوئے حق کو حق کہہ سکیں۔ یہ ایسے اقدام کریں جن سے امت مسلمہ متحدہ ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 510716
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب