0
Tuesday 19 Jan 2016 22:04
امریکی فوجی کشتیوں کو پکڑ کو ایران نے غیرت مندی و بہادری کا ثبوت دیا، جو مسلم حکمرانوں کیلئے لائق تقلید ہے

حرمین شریفین کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے، جس کیساتھ عرب بادشاہتیں تعلقات قائم کر رہی ہیں، مفتی خلیل احمد نورانی

داعش وہابیت کی پیداوار ہیں، جسکے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے
حرمین شریفین کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے، جس کیساتھ عرب بادشاہتیں تعلقات قائم کر رہی ہیں، مفتی خلیل احمد نورانی
مفتی قاری خلیل احمد نورانی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور اس وقت جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ضلع کورنگی کے مسئول بھی ہیں۔ وہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی مرحوم کے ساتھ بھی تنظیمی حوالے سے فعال رہے، وہ گذشتہ 30 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں، خطیب کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، آجکل وہ جامع مسجد غوثیہ، کورنگی کراچی میں خطیب و پیش امام کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مفتی قاری خلیل احمد نورانی کے ساتھ داعش، تحفظ حرمین شریفین، سعودی فوجی اتحاد، سعودی ایران تنازعہ اور پاکستانی ثالثی و دیگر موضوعات کے حوالے سے جامع مسجد غوثیہ میں ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان میں کالعدم دہشتگرد تنظیمیں ہوں یا القاعدہ، طالبان اور داعش، انکی تشکیل کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں، اصل حقیقت کیا ہے۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو واضح کروں کہ حقیقت کا چھپانا، اس کا اظہار نہ کرنا، ہمارے نزدیک خیانت کے زمرے میں آتا ہے، خیانت گناہ عظیم ہے، اس لئے ہم حقیقت کا کھل کر بلاخوف و خطر اظہار کرتے ہیں، طالبان ہو یا القاعدہ اور اب داعش، انکی فکر کا اسلام سے دور کا واسطہ نہیں ہے، یہ اپنے سوا سب کو کافر قرار دیتے ہیں، واجب القتل قرار دیتے ہیں، یہ سب وہابیت، نجدیت کی فکر کی پیداوار ہیں، جس کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے، یہ اپنی تکفیری فکر اور عقیدے کو زبردستی مسلمانوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اب جب داعش کی دہشتگردی کی آگ اب خود سعودی عرب تک پہنچ چکی ہے، تو سعودی عرب بھی اس سے خائف نظر آتا ہے، جس امریکا نے داعش کو خطے میں پروان چڑھایا ہے، اب جب یہ حقائق عوام کے سامنے آگئے ہیں، تو اس سے نظریں ہٹانے کیلئے انہیں مارنے کا ڈھونگ رچا رہا ہے، ان سب کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکا تو سامنے نظر آ رہا ہے، لیکن تکفیری خارجی فتنے داعش کے پیچھے اسرائیل ہے، جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کہہ رہے ہیں کہ داعش کے پیچھے اسرائیل ہے، لیکن دوسری جانب کئی عرب ممالک کے کھلے عام اسرائیل سے تعلقات ہیں، جبکہ کئی دیگر عرب ممالک کی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی خبریں عام ہو رہی ہیں، کیا کہنا چاہیں اس حوالے سے۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
عرب ممالک کی عوام اسرائیل کے خلاف ہے، لیکن بدقسمتی سے کئی عرب حکمران اور بادشاہتیں اسرائیل کے ساتھ ہیں، اس کے خلاف عوام کو آواز بلند کرنے نہیں دیتیں، عوام کو دبا کر رکھتی ہیں، حال ہیں میں آپ دیکھیں کہ سعودی عرب میں شیخ باقر النمر کے ساتھ کیا ہوا، انہوں نے آل سعود کے خلاف آواز بلند کی، تو سعودی بادشاہت نے انہیں سزائے موت دیدی، اب یہ جو عرب ممالک اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہو رہا ہے، یہ سیاسی ہے، اس کا اصل مقصد اپنے اقتدار، اپنی حکمرانی، اپنی بادشاہتوں کا تحفظ ہے، کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، مثلاً کویت، بحرین، دبئی، ابو ظہبی و دیگر عرب بادشاہتیں جو ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنے اقتدار کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آج کل پاکستان میں مخصوص فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی تنظیمیں تحریک تحفظ حرمین شریفین چلا رہی ہیں، کیا سعودی بادشاہت کا تحفظ بھی حرمین شریفین کا تحفظ ہے۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
نہیں، بالکل نہیں ہے، عرب بادشاہتوں اور حکمرانوں کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں، ہر کلمہ گو مسلمان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے تیار ہے، لیکن بات یہ کہ حرمین شریفین کو کس سے خطرہ ہے، درحقیقت حرمین شریفین کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے، جس سے عرب بادشاہتیں پینگییں بڑھا رہے ہیں، اسرائیل سے پیار محبت کی باتیں کر رہے ہیں، تعلقات قائم کر رہے ہیں، حرمین شریفین کو امریکا سے خطرہ ہے، اس سے تعلقات بڑھا رہے ہیں، اس کو بھر بھر کر سستا پیٹرول دے رہے ہیں، لیکن یہ یمن کو خطرہ قرار دے رہے ہیں، جس کیلئے حضور اکرم (ص) نے دعائیں فرمائی کہ اللہ ہمارے شام اور یمن میں برکت دے۔ وہاں تو عاشق رسولؐ رہتے ہیں، ابھی ربیع الاول میں یمن میں عظیم الشان اور تاریخی جشن میلادالنبیؐ کا انعقاد کیا گیا، یمن پر سعودی بمباری تحفظ حرمین شریفین کیلئے نہیں، بلکہ اپنی بادشاہت کے تحفظ کیلئے کی جا رہی ہے، حرمین شریفین کو یمن سمیت کسی اسلامی ملک سے کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ آل سعود صرف حرمین شریفین کے تحفظ کی آڑ لے کر اپنی بادشاہت کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کچھ شرائط کیساتھ سعودی فوجی اتحاد کا حصہ بن رہا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اتحاد کس کے خلاف ہے، کیا یہ اسرائیل کے خلاف ہے کہ جس کے خلاف ہم جہاد کیلئے تیار ہیں، جس کو نیست و نابود کرنے کیلئے ہم تیار ہیں، مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی مدد کرنے کیلئے ہم تیار ہیں، بیت المقدس کو آزاد کرانے کیلئے ہم تیار ہیں، لیکن سعودی فوجی اتحاد کبھی اسرائیل کے خلاف نہیں بنتا، یہ اتحاد صرف اپنی بادشاہتوں کے تحفظ کیلئے بنایا گیا ہے، لہٰذا اس اتحاد میں مجاہدین کو، اسلامی افواج کو حصہ نہیں لینا چاہیئے، ہماری افواج پاکستان جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ رکھنے والی اسلامی فوج ہے، لہٰذا اس کو کسی کے ذاتی تحفظ کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیئے، جیسا کہ ہمارے مرحوم قائد حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے آج سے پچیس تیس سال پہلے فرمایا تھا، ہمیں آج بھی وہ فرمان یاد ہے کہ ہماری پاک افواج کرائے کی فوج نہیں ہے، لہٰذا ہم اہلسنت مسلمان اس کا حصہ بننے کی مخالفت کرینگے۔ عوام خود مختاری چاہتی ہے، افواج پاکستان میں عوام کے ہی بچے ہیں، حکمرانوں کے بچے تو فوج میں ہیں نہیں، ہم نے تو نہیں دیکھا کہ کسی صدر، وزیراعظم، وزیراعلٰی، گورنر، وفاقی وزراء کا بچہ فوجی سپاہی بنا ہو، اگر انہیں اتنی ہی ملک سے محبت ہے تو اپنے بچوں کو فوج میں شامل کرائیں، لیکن ہم نے نہیں سنا کہ حکمران طبقے میں سے کسی کے بچے نے فوج میں شامل ہوکر لڑتے ہوئے شہادت پائی ہو، ایسا نہیں ہوا ہے، پاک افواج میں تو پاکستانی عوام کے بچے ہیں۔

اسلام ٹائمز: رواں ماہ جنوری میں چند روز قبل اسلامی جمہوری ایران نے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونیوالی دو امریکی جنگی کشتیوں کو پکڑ کر امریکی بحری اہلکاروں کو حراست میں لیا، بعد ازاں امریکہ کی معذرت کرنے کے بعد انہیں چھوڑا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم و عرب ممالک بھی اسکی تقلید کرتے ہوئے امریکا و مغرب سے ناتا توڑ کر خود مختار ہونیکا ثبوت دیں۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
یہ ایران کی غیرت مندی اور بہادری کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والی امریکی فوجی کشتیوں کو پکڑ لیا اور اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے والے امریکا سے اس حرکت پر معافی منگوائی، یہ ایران کی کھلی فتح ہے۔ ایران کی غیرتمندی، بہادری، جرأت و شجاعت تمام مسلم و عرب حکمرانوں اور بادشاہتوں کیلئے باعث تقلید مثال ہے کہ وہ امریکا، اسرائیل، مغرب، یہود و نصاریٰ کو اپنا سرپرست بنانے، ان سے تعلقات قائم کرنے، تعلقات بڑھانے کے بجائے خود مختار، غیرت مند اور حریت پسند ہونے کا ثبوت دیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے مشترکہ دورہ سعودی عرب و ایران کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مفتی قاری خلیل احمد نورانی:
دونوں اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے پاکستان کی کوششیں لائق تحسین ہیں، عالم اسلام کے واحد ایٹمی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ہی ادا کرنا چاہیئے تھا، جو کہ وہ بہتر احسن طریقے سے ادا کر رہا ہے، امید ہے کہ پاکستان اپنی ان کوششوں میں ضرور کامیاب ہوگا، ہم اس دورے کی حمایت کرتے ہیں، اور اسکی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، کیونکہ نواز شریف صاحب سعودی عرب کے قریب ہیں، اسے سمجھا سکتے ہیں، سعودی عرب کے مزاج سے واقف ہیں، دوسری جانب ایران ہمارے قریب ہے، پڑوسی ہے، ہمارے معاملات کو بہتر طریقے سے جانتا ہے، ہم ایران کے زیادہ تر معاملات کو جانتے ہیں، ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، لہٰذا امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 513719
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب