0
Thursday 14 Apr 2016 21:21
سعودی بادشاہت کیجانب سے بھارتی وزیراعظم مودی کو اعلٰی ترین سول ایوارڈ دینا انتہائی افسوسناک ہے

سعودی خوشنودی کیلئے را ایجنٹ کو پیش کرکے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنیکی کوشش کی گئی، علامہ محمد اسلم لانگاہ

اندرون سندھ کئی مدارس لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ کے مراکز ہیں، جن کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی
سعودی خوشنودی کیلئے را ایجنٹ کو پیش کرکے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنیکی کوشش کی گئی، علامہ محمد اسلم لانگاہ
علامہ محمد اسلم لانگاہ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) سندھ کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں، ان کا تعلق اندرون سندھ کے علاقے رتو ڈیرو سے ہے۔ انہوں نے تنظیمی فعالیت کا آغاز جمعیت علمائے پاکستان سے کیا، وہ جے یو پی کی مرکزی و صوبائی مجلس شوریٰ کے بھی رکن ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خطیب و امام کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ محمد اسلم لانگاہ کے ساتھ اندرون سندھ میں دہشتگردی و انتہا پسندی کے مراکز اور کالعدم تنظیموں کی فعالیت سمیت دیگر موضوعات پر ان کے ساتھ ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: اندرون سندھ دہشتگردی و انتہا پسندی کے مراکز کے حوالے کیا کہیں گے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ یہ بات تو دنیا پر واضح ہے کہ سارے دیوبندی دہشتگرد نہیں ہیں، لیکن سارے یا اکثر دہشتگرد دیوبندی مکتب فکر کے نکلتے ہیں، اندرون سندھ بھی ایسے انتہا پسند مولوی و علماء موجود ہیں، جن کے مدارس شروع سے ہی لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ جیسی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے مراکز ہیں، اس میں بالخصوص شکار پور کے دیہاتی علاقے شامل ہیں، جہاں ایسے مدارس موجود ہیں جہاں پر دہشتگرد بنائے جاتے ہیں، انتہا پسندانہ ذہن سازی کی جاتی ہے، جیکب آباد سمیت کئی دیگر علاقوں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ کراچی آپریشن کے باعث دہشتگرد عناصر نے اندرون سندھ کا رخ کر لیا ہے، اس حوالے سے کیا حقائق ہیں، کیا آپریشن کا دائرہ کار اندرون سندھ وسیع کیا گیا ہے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
سب سے پہلے تو ہم یہ مطالبہ کرینگے کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ کار گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے چاروں کونوں تک وسیع کیا جائے، قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر ممکن بنایا جائے، تاکہ چادر، چاردیواری، انسانی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ ہوسکے، جہاں تک آپ نے دائرہ کار وسیع ہونے کا سوال کیا ہے، تو دائرہ کار اتنا وسیع نہیں کیا گیا ہے کہ جتنا ہونا چاہیئے تھا، اندرون سندھ ہمیں اب تک کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آیا، رینجرز کی طرف سے مدارس اور مخصوص علماء کے اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں، لیکن کوئی ایسی مؤثر کارروائی کہ جس کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر کی گرفتاریاں ہوتیں، ایسا کوئی عمل ہمیں نظر نہیں آیا، البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے باعث بہت سارے فرقہ پرست عناصر اپنے بلوں میں واپس جا کر چھپ گئے ہیں اور انکی زبانوں پر بھی تالے لگ گئے ہیں، بہرحال کراچی آپریشن کے بعد اور ملک میں جاری آپرشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے بعد اندرون سندھ بھی چیک اینڈ بیلنس (check and balance) والا معاملہ کچھ بہتر ہوا ہے اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسلام ٹائمز: سندھ خصوصاً اندرونی علاقوں میں دہشتگرد عناصر کیخلاف کن اقدامات کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
پاکستانی حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے والے بتیس ادارے ہیں، انہیں اپنے جاسوسی کے نیٹ ورک کو مزید مؤثر کرنا چاہئے اور ایسے مدارس جہاں تکفیر سازی ہوتی ہے، دہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہے، انتہا پسندی و دہشتگردی کے حوالے سے ذہن سازی کی جاتی ہے، ان کے خاتمے کیلئے، کنٹرول کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہیئے، ایسے مدارس جو دہشتگردی کے مراکز ہیں، جہاں سے دہشتگردانہ کارروائیوں کو آپریٹ کیا جاتا ہے، منصوبہ بندی کی جاتی ہے، دہشتگرد عناصر کیلئے سہولت کار بنے، انہیں فی الفور سیل کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا اندرون سندھ داعش کی موجودگی حقیقت ہے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
کچھ قوتیں پاکستان میں لشکر جھنگوی کو داعش میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، لیکن فی الحال ہمارے پاس اندرون سندھ داعش کی موجودگی کے واضح ثبوت موجود نہیں ہیں، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ داعش جیسی فکر کی حامل لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ و دیگر کالعدم دہشتگرد تنظیمیں تو موجود ہیں، جن کے اہداف ایک جیسے ہی ہیں، مثلاً دہشتگردی، انتہا پسندی، تکفیر، مسلمانوں کا خون بہانا۔ اندرون سندھ کالعدم دہشتگرد تنظیمیں اور گروہ تو موجود ہیں، کچھ نہیں پتہ کہ کب کوئی دہشتگرد گروہ اپنے مفادات کی خاطر ایک امیر کی اطاعت چھوڑ کر کسی دوسرے امیر کی اطاعت کرنے لگ جائے، کب اپنا نام بدل کر کوئی اور نام اختیار کر لے، کسی اور تنظیم میں شامل ہو جائے۔ صرف نام کا بدلا جانا ہی نیا ہے، ورنہ دہشتگرد عناصر تو پہلے سے موجود ہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: حال ہی میں سانحہ لاہور ہوا، اس سے قبل محرم الحرم کے ایام میں اندرون سندھ بھی کئی سانحات رونما ہوئے، کس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
دہشتگردی کے نتیجے میں ہونے والے سانحات کی ذمہ داری تو حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو بہت سارے دیگر ایشوز پر تو توجہ دے رہی ہے، لیکن ملکی بقاء و سلامتی کے معاملے یعنی دہشتگردی کے بحران پر توجہ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: کچھ حلقے فوج سمیت دیگر ریاستی اداروں کو دہشتگرد عناصر کے خاتمے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، آپکی کیا نگاہ ہے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
میں سمجھتا ہوں کہ اب حکمت عملی تبدیل ہوگئی ہے، اس حوالے سے خصوصاً سانحہ آرمی پبلک اسکول اہم ترین موڑ تھا۔ پاک فوج بالکل درست سمت میں دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں جہاں عوام نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں بھی بہت زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ آمر ضیاء جو خود بھی امریکی باقیات میں سے تھا، اسکی باقیات بھی لازمی طور پر موجود ہیں، ہوسکتا ہے کہ بہت سارے معاملات اسی پالیسی کے تحت چل رہے ہوں، لیکن بظاہر تو اب کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو جو سپورٹ ہے، وہ کچھ مذہبی حلقوں کی طرف سے ہے، وہ مذہبی حلقے جو غیر ملکی امداد کی بنیاد پر اس دہشتگرد نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: حال ہی میں دو اہم واقعات ہوئے، ایک تو ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے اہم دورہ پاکستان کے موقع پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ کو منظر عام پر لانا، اور میڈیا سمیت مختلف حلقوں میں ایران مخالف پروپیگنڈا کیا جانا، اور دوسرا بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا سعودی عرب کا اہم سرکاری دورہ، جس میں مودی کو سعودی بادشاہت کی جانب سے اعلٰی ترین سول ایوارڈ سے نوازا گیا، کیا کہیں گے ان دو کے حوالے سے۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
گذشتہ دنوں حیدرآباد میں ہونے والے ہمارے صوبائی ذمہ داران کے اجلاس میں جمعیت علمائے پاکستان کے قائد ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر را ایجنٹ کو پیش کرنا اور مودی کو سعودی بادشاہت کی جانب سے اعلٰی ترین سول ایوارڈ سے نوازنا، ان دونوں معاملات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے، ایک طرف تو ہماری ساری لڑائی بھارت سے ہے، دوسری طرف سعودی عرب کہ جس کی دوستی کی خاطر ہم نے یہ کام کیا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے اہم ترین دورہ پاکستان کے موقع پر بھارتی را کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کو منظر عام پر لاکر پیش کیا گیا، اور ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، یعنی سعودی عرب کو خوش کرنے کیلئے یہ کام کیا گیا، جبکہ وہ را ایجنٹ پہلے سے گرفتار تھا، پہلے بھی اسے میڈیا کے سامنے لایا جا سکتا تھا، لیکن عین ایران صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے اہم دورہ پاکستان کے موقع پر یہ معاملہ سامنے لایا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب کا عالم یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور مسلمانوں کے بدترین دشمن، جس نے احمد آباد کے اندر ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کروایا، زندہ جلوایا، عزتیں لٹوائی تھیں، اس شخص کو سعودی عرب بلا کر اعلٰی ترین سعودی سول ایوارڈ دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں وہ مذہبی جماعتیں جو اکثر و بیشتر بھارت کیخلاف سراپا احتجاج نظر آتی ہیں، جنہوں نے ”دفاع پاکستان کونسل“ بھی بنائی، ”بھارت کا جو یار ہے وہ قوم کا غدار ہے“ کا نعرہ بلند کرتی نظر آتی ہیں، لیکن بھارتی وزیراعظم مودی کے سرکاری دورہ سعودی عرب اور جس طرح اسے سعودی بادشاہت نے اعلٰی ترین سعودی سول ایواڈ سے نوازا، کیا وجہ یہ سب اس پر خاموش ہیں۔؟
علامہ محمد اسلم لانگاہ:
دفاع پاکستان کونسل انہی تنظیموں نے بنائی تھی، جن کے اوپر سعودی عرب سے فنڈز لینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، ان کے مدارس، ان کے منصوبے، انکی تنظیمیں سعودی چندے کے بل بوتے پر چل رہی ہیں، اب وہ کیسے اپنے آقاوں کے خلاف اپنی زبان کھول سکتے ہیں، کیسے اعتراض کرسکتے ہیں۔ اب یہ جن کا کھاتے ہیں، انہی کے ہی گیت گائیں گے، ان کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 533434
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب