0
Friday 29 Apr 2016 00:11
پانامہ لیکس کا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے

چھوٹو نے چھوٹے شریف کی گڈگورننس کا پول کھول دیا ہے، اسد عمر

فوج میں احتساب کے بعد سیاستدانوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں
چھوٹو نے چھوٹے شریف کی گڈگورننس کا پول کھول دیا ہے، اسد عمر
اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہیں، وہ 8 ستمبر 1961ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام اسد فاروق ہے لیکن سیاسی میدان میں اسد عمر کے نام سے مشہور ہیں۔ اسد عمر کے والد غلام عمر ریٹائرڈ میجر جنرل ہیں، اسد عمر اینگرو کارپوریشن میں سی ای او کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ اینگرو کارپوریشن اسد عمر کو ساڑھے 4 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دے رہی تھی۔ انہوں نے سی ای او کے عہدے سے استعفٰی دیا اور عمران خان کیساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ ٹی وی چینلز میں تحریک انصاف کی بھرپور نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نڈر سیاست دان ہیں۔ فوجی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی میں بھی ڈسپلن کافی زیادہ ہے۔ ٹائم کے پابند ہیں۔ اسد عمر کو ان کی خدمات پر ستارہ امتیاز پاکستان بھی مل چکا ہے۔ "اسلام ٹائمز" نے موجودہ ملکی حالات کے حوالے سے لاہور میں ان کیساتھ ایک مختصر نشست کی، جس کا احوال قارئین کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آرمی چیف نے "اپنے گھر" سے احتساب کا عمل شروع کر دیا، کیا فوج کا یہ اقدام سیاستدانوں کے گرد شکنجہ کسنے کا منصوبہ تو نہیں؟ اور وزیراعظم کو اس حوالے سے کیا اقدام کرنا چاہیں؟
اسد عمر:
فوج میں احتساب کا عمل اچھی شروعات ہیں، قوم اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اب شریف خاندان کو بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر دینا چاہیئے، محض جمہوریت کو خطرات کا راگ الاپنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب یہ لوگ جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت کو نہیں ان کے اقتدار کو خطرہ ہے، جونہی ان کی کرسی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہ "چور مچائے شور" کی مثال بن جاتے ہیں، پتہ نہیں انہیں کس بات کا خطرہ ہے کہ فوج کے احتساب سے خوفزدہ ہیں، اگر کسی ادارے نے اپنے اندر احتساب کی فضا قائم کی ہے تو یہ ہمارے دوسرے اداروں کیلئے ایک سبق ہے کہ آپ جسے مقدس گائے سمجھتے تھے، انہوں نے خود احتساب کے سلسلے میں پہل کرکے ثابت کر دیا ہے کہ یہاں کوئی مقدس گائے نہیں، احتساب سب کا ہونا چاہیئے۔ اگر ہم بڑوں کو معاف کرتے ہیں اور چھوٹوں کو سزا دیتے ہیں تو اس سے نظام عدل مشکوک ہو جاتا ہے، یہ ناانصافی معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ وزیراعظم کو اب حالات کی نزاکت کا احساس کر لینا چاہیئے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دینا چاہیئے جو سب کیلئے قابل قبول حل ہے۔

عوام انہیں اب سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے اور نہ ہی جدہ بھاگنے دیں گے، اس لئے قوم حقیقت جان چکی ہے، انہیں پتہ چل چکا ہے کہ ہمارے حکمران کس طرح کرپشن کرکے دولت بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ حکمرانوں کی دولت بیرون ملک پڑی ہے، الیکشن میں ہماری بات پر دھیان نہیں دیا گیا، مگر دنیا کے بہترین تحقیقی صحافیوں کی ٹیم نے دن رات ایک کرکے دنیا کے کرپٹ ترین سیاستدانوں کی آف شور کمپنیوں میں جمع دولت کی لسٹ جاری کر دی ہے۔ تو اس سے نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ دنیا بھر میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ مہذب دنیا میں تو بعض حکمرانوں اور وزراء نے استعفے پیش کر دیئے، مگر ہمارے ہاں اس معاملے پر بھی "مٹی پاؤ" پالیسی اختیار کی گئی، مگر یہ معاملہ دبنے والا نہیں۔ اگر آصف علی زرداری یا کوئی اور اس معاملے می نواز شریف کا ساتھ دے کر انہیں بچانے کی کوشش کرے گا تو قوم اس کو بھی پہچان لے گی۔ اس لئے میری تو یہی گزارش ہوگی کہ وزیراعظم قوم کے سامنے سچ بول دیں۔ سچ میں طاقت ہوتی ہے۔ اگر ان کی کمائی جائز ہے اور ذریعہ ٹھیک ہے تو پھر ڈر کس بات کا ہے۔

اسلام ٹائمز: پانامہ لیکس کا معاملہ کہاں تک جائے گا، عمران خان بھی اس معاملے میں کافی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں، کیا یہ معاملہ احتجاج اور دھرنوں کے بجائے مل بیٹھ کر پرامن طریقے سے حل نہیں ہوسکتا؟
اسد عمر:
دیکھیں جی، پانامہ لیکس کے حوالے سے عمران خان نے نواز شریف سے 4 سوال کئے ہیں، وہ ان کے جوابات تو دے لیں، پھر آگے کی بات کی جائے گی کہ پیسہ کہاں سے آیا، کیسے باہر گیا، جائیداد کب خریدی اور اس پر کیا ٹیکس دیا تھا؟ اس کے بعد کمیشن بنا لیں اور یہ کمیشن چیف جسٹس کی قیادت میں بننا چاہیے، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ پھر آپ دیکھ لیں کہ جس پر الزام عائد ہو رہا ہے، وہ خود اپنے پسندیدہ افراد پر مشتمل کمیشن کیوں بنانا چاہتا ہے، حالانکہ اسے چاہیے کہ اگر اس کے ہاتھ صاف ہیں تو کوئی سا بھی کمیشن بن جائے، اس سے اسے بھلا کیا فرق پڑتا ہے، مگر چونکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، اس لئے وہ اپنی مرضی کا کمیشن بنانے کیلئے زور دے رہے ہیں۔ جب ان کے اپنے گھر کے افراد کے بیانات میں تضاد ہے تو پھر کوئی کیوں کنفیوژن کا شکار ہو۔ اگر وزیراعظم پیسوں کا حساب نہیں دیتے اور معاملے کو گول کرنا چاہیں گے تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ ضرور کرپشن ہوئی ہے، ملک میں کرپشن کی روک تھام کیلئے اب تو ساری سیاسی جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔

ایسے میں پاک فوج کے سربراہ کا بیان کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا اور پھر انہوں نے بلاامتیاز احتساب کی بات کرکے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ آرمی چیف کے بیان کا ہر طبقہ فکر نے خیر مقدم کیا ہے۔ جس طرح آرمی چیف نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، اس طرح پوری قوم کرپشن کے خاتمہ کیلئے ان کیساتھ کھڑی ہے۔ اگر حکمرانوں کے ہاتھ صاف ہیں تو اس حوالے سے آئیں بائیں شائیں کرنے اور دوسروں پر کیچر اچھالنے کی بجائے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر دینا چاہیے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خاندان تو 1972ء سے ہی مشکلات کا شکار ہے، تو دوسری طرف ان کی بڑھتی ہوئی دولت کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ وزیراعظم اپنے تمام اثاثے اور ذرائع آمدن صرف قوم کے سامنے پیش کر دیتے تو شائد انہیں اتنی زحمت نہ اٹھانا پڑتی کہ جس کیلئے انہیں لندن یاترا کرنا پڑ رہی ہے۔ حکمران دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، وہ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں۔ کبھی شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز میں کرپشن کا الزام عائد کرتے ہیں تو کبھی لوگوں کی توجہ کسی اور معاملے کی جانب مبذول کروائی جاتی ہے۔ مگر انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ یہ 90ء کا زمانہ نہیں، آج میڈیا اور سول سوسائٹی جاگ رہی ہے، اس قسم کے اسکینڈلز پر مٹی نہیں ڈالی جا سکتی۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف واضح کہہ چکے ہیں کہ آف شور کمپنیوں سے انکا کوئی تعلق نہیں، پھر بھی اپوزیشن شور مچا رہی ہے؟
اسد عمر:
ٹی وی پر آ کر بھولے منہ سے یہ کہہ دینا کہ وہ کرپشن میں ملوث نہیں، اس سے ان کے خاندان پر بدنامی کا داغ دھل جائے گا؟ نہیں، بلکہ اس کیلئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں پر سرمایہ کاری کیوں کی ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ یہاں سے سرمایہ کس طرح بیرون ملک منتقل ہوا، لوگ جاننا چاہتے ہیں۔ جب اتفاق کی نیشلائزیشن کے بعد شریف خاندان کنگال ہوگیا تھا تو پھر 18 ماہ میں کس طرح انہوں نے 6 کمپنیاں قائم کر لی تھیں، پھر وہ پانامہ لیکس آنے سے ایک ماہ پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کرچکے ہیں کہ وہ برے وقت کیلئے پیسہ ملک سے باہر لے کر گئے تھے، اب مسئلہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ جوڈیشل کمیشن کا اعلان تو محض لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اگر وزیراعظم کا دامن صاف ہے تو پھر باہر جا کر آف شور کمپنیاں کیوں بنائیں، صرف ٹی وی پر وزیراعظم کا یہ کہہ دینا کہ ایک رکنی عدالتی کمیشن بنایا جائے، کافی نہیں، بلکہ چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر کسی بڑے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کریں۔ اس کیلئے فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے کہ کس طرح دولت بیرون ملک بھیجی گئی اور بیرون ملک اتنے بڑے اثاثے کیسے بنے۔

اسلام ٹائمز: آپ چھوٹو گینگ کی گرفتاری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، کیا پردہ نشینوں کے نام سامنے آسکتے ہیں، اور ادھر رانا ثناءاللہ کہتے تھے کہ پنجاب میں کوئی نوگوایریا نہیں، لیکن راجن پور میں موجود نوگو ایریا بھی نکل آیا، پولیس بھی بےنقاب ہوگئی اور فوج کی مدد سے آپریشن کامیاب ہوا۔؟
اسد عمر:
پنجاب میں سب اچھا کی تکرار کرنیوالوں کی گڈگورننس کا جھوٹ تو چھوٹو کی گرفتاری پر سامنے آچکا ہے، پنجاب کے حکمران تو یہی کہتے آئے ہیں کہ پنجاب میں کوئی نوگوایریا نہیں، اگر نوگو ایریا نہیں تو پھر دو ہفتے کس طرح چھوٹو نے پنجاب پولیس کو بھگائے رکھا اور ان کے کئی اہلکار قید بھی کر لئے گئے۔ یہ تو خدا بھلا کرے پاک آرمی کا، جس نے بروقت کارروائی کرکے کچے کا نوگوایریا واگزار کروا لیا۔ اس طرح پنجاب میں کئی نوگوایریاز ہیں، اصل میں اسمبلیوں میں بیٹھے بعض وڈیرے اور جاگیر دار ایم این ایز اور ایم پی ایز کی انہیں سرپرستی حاصل ہے۔ اب لوگوں نے اپنے مخالفین کو اغوا کرانے کیلئے ایسے ڈاکوؤں کے گروہ بنا رکھے ہیں، چھوٹو کی گرفتاری کے بعد اب اس کے پیچھے کئی بڑوں کے چہرے سامنے آئیں گے۔ اس لئے چھوٹو پولیس کو گرفتاری نہیں دے رہا تھا کہ کہیں اسے مقابلے میں پار ہی نہ کر دیا جائے، اب فوج نے اسے اپنی حراست میں لے لیا ہے، جس سے توقع ہے کہ کئی لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوں گے۔

ان کی گڈ گورننس کا یہ حال پنجاب میں ملسم لیگ (ن) 8 سال سے اقتدار میں ہے، ہسپتالوں میں بیمار افراد کو علاج معالجے کی سہولیات تو درکنار بستر تک میسر نہیں، ایک ایک بستر پر 4،4 مریض لٹائے جاتے ہیں۔ پھر دل کے مریضوں سے لے کر عام مریض تک کسی کو دوائی کی ایک گولی تک نہیں ملتی، اگر کسی سرکاری ہسپتال کے لوگوں کو مفت دوا ملتی بھی ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ دو نمبر ادویات دی جاتی ہیں، گذشتہ برس پی آئی سی میں دو نمبر ادویات سے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پھر غریبوں کیلئے 2 روپے کی روٹی کی آڑ میں خوب لوٹ مار کی گئی۔ عوام کا لاکھوں روپیہ تنوروں میں جھونک دیا گیا۔ نیب جب کرپشن کی فائلیں کھولتی ہے تو اسے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ کبھی اس کے پر کاٹنے کی دھمکی دی جاتی ہے تو کبھی نئی قانون سازی کی بات کی جاتی ہے۔ اصل میں تمام کرپٹ سیاست دان ایک صفحہ پر ہیں۔ وہ اپنی اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کی لئے جمع ہو جاتے ہیں، جبکہ جمہوریت اور انصاف پسند قوتیں منتشر ہیں۔ انہیں لوٹ مار کیخلاف ایک پیج پر آنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور انکی پارٹی حکومت مخالف تحریک میں آپکا ساتھ دیں گے۔؟
اسد عمر:
خورشید شاہ کبھی چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کی بات کرتے ہیں تو کبھی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کی بحث و تکرار ہی دراصل نورا کشتی ہے۔ گذشتہ دور حکومت میں نواز لیگ نے پیپلز پارٹی پر یہ الزام عائد کیا کہ حکومت کشکول ہاتھ میں لئے قرضے مانگ رہی ہے۔ جس سے پاکستان کی غیرت و حمیت کا سودا ہوتا ہے۔ اب جبکہ غیرت مند مسلم لیگ نون کی حکومت ہے تو انہیں نے گذشتہ اڑھائی برسوں میں مسلسل بیرونی قرضے لے کر پیپلز پارٹی کے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عمران خان کا یہ 5 نکاتی فارمولا کیا ہے، اس سے ملک معاشی بحران سے نکل آئے گا، تفصیل سے بتائیے کپتان کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے، جس کے ہلاتے ہی ملک تمام مسائل سے باہر نکل آئے گا۔؟
اسد عمر:
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ میں غالباً یہ پہلا مطالبہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پٹرول کو مزید 5 روپے کم کیا جائے، ڈیزل کو 20 روپے نیچے لایا جائے۔ دیکھا جائے تو عام ٹرانسپورٹرز اور ٹیوب ویل انہیں سے چلتے ہیں، اس کے علاوہ عام آدمی کیلئے ٹرانسپورٹ کرائے بھی کم ہو جاتے ہیں۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت تو کم کی، لیکن مارکیٹ میں اشیاء خورد و نوش کی قیمت کم نہیں کروا سکی۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک کا غریب اور عام شہری کس انداز میں اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید جائز ہے، مگر حکومت اپنے کاروبار اور صنعتی طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتی، جس کی وجہ سے وہ آئے روز عوام کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔ جس کی مثال یہ ہے کہ ایمنسٹی سکیم جس کو عام آدمی کے فائدے کی سکیم کہا گیا ہے، اس کا عام آدمی کیساتھ دور دور تک لنک نہیں، خود ہی دیکھ لیں کہ جس ملک کا شہری بھوک اور پیاس میں اپنا دن گزارتا ہے، اس کے پاس اشیاء خورد و نوش خریدنے کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ اس کا اصل فائدہ تو وزیراعظم اور ان کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ افراد کو ہی ہوگا، جن کے پاس لوٹ کھسوٹ کا پیسہ بڑی مقدار میں جمع ہوچکا ہے۔

تحریک انصاف نے جہاں ملکی اداروں کی نجکاری میں مینجمنٹ کو ٹھیک کرنے کی بات کی ہے، اس میں مسئلہ پی آئی اے، سٹیل ملز کی نجکاری کا ہو یا ان کے ملازمین کی تنخواہوں کا، اس کا کریڈٹ حکومت کی خراب کار کردگی کو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی نے 5 مطالبات کیساتھ جو تجاویز دی ہیں، جس پر حکومت یہ سوچے کہ ان تمام معاملات کو ٹھیک کیسے کیا جائے گا؟ اور یہ کہ ٹیکس نہیں لگائیں گے تو پیسہ کہاں سے آئے گا؟ تو اس میں ایک تجویز کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکسوں کو جمع کرنے کے مسائل ہیں، جن میں خراب کارکردگی یعنی مینجمنٹ کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ان اداروں کو چلانے کیلئے آپ کے پاس پروفیشنل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ ان تجربہ کار لوگوں کو نظرانداز کرکے سیاسی اور منظور نظر افراد کو بٹھا دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ اچھی نوکری اسی کو ملتی ہے، جو حکام بالا کا سب سے زیادہ خدمت گزار ہوگا۔ جس سے نالائق لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے، جو اس ادارے کا کیساتھ ساتھ ملک کا بھٹہ بھی بٹھا دیتے ہیں۔

اسی طرح ایف بی آر سے ٹیکس جمع نہیں ہوتا، شوکت عزیز نے اسمبلی فلور پر انکشاف کیا تھا کہ ایف بی آر میں میں 600 سے 700 ارب روپے کی چوری ہوتی ہے۔ یہ بات تحریک انصاف نے کی ہے کہ یہ چوری روکی جائے۔ دوسری تجویز میں اسحاق ڈار کے بیان کو سامنے لایا گیا ہے کہ پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر ملک سے باہر پڑے ہیں، یعنی اس پیسے کو واپس لایا جائے۔ یہ بہت بڑی رقم ہے، مگر حکومت کے چونکہ ان "چوروں" کیساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس لئے ان کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی۔ یہ لوگ معیشت کی بہتری کی جھوٹی تعریفیں کرتے ہیں اور حکمران خوش ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پی آئی اے اور سٹیل ملز کے مسائل پر توجہ دی جائے، ملازمین نیک نیتی سے کام کریں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہیں تو ان کیخلاف ایکشن نہیں لیا جاتا۔ عمران خان اقتدار میں آکر ان کیخلاف ایکشن لیں گے۔ میرٹ پر بھرتیاں ہوں گے۔ ادارے بہتر ہوگئے تو ملک کی معیشت خود بخود بہتر ہوجائے گی۔ اس کیلئے کسی جادو کی چھڑی کی نہیں نیک نیتی کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: لاہور میں پی ٹی آئی جلسہ کرنے جا رہی ہے، کیا کوئی بڑا اعلان ہوگا۔؟
اسد عمر:
جی بالکل، لاہور کا جلسہ تاریخی ہوگا، اس میں ہم پانامہ لیکس کے حوالے سے بھی اپنا لائحہ عمل دیں گے اور تخت لاہور پر براجمان قبضہ گروپ کیلئے پی ٹی آئی کا یہ جلسہ ریفرنڈم ہوگا۔ ہم نے پہلے بھی لاہور کو فتح کیا تھا، مینار پاکستان میں تاریخی جلسہ کرکے نون لیگ کی نیندیں حرام کر دی تھیں، ہمارے جلسوں میں آنے والے لوگ خود آتے ہیں، پٹواریوں اور سکول ٹیچروں کی مدد سے زبردستی نہیں بلوایا جاتا۔ نون لیگ اگر پٹواریوں، سکول ٹیچرز اور سرکاری ملازمین کو مجبور نہ کریں تو ان کو ان کی اوقات کا پتہ چل جائے گا۔ 200 سے زیادہ بندہ ان کے جلسوں میں نہیں آئے گا۔ اب نواز شریف جلسے کرتے پھر رہے ہیں، چلیں ہماری وجہ سے عوام کا بھلا تو ہو رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں، کہیں گیس کی سہولت دے رہے ہیں تو کہیں سڑکیں بنوانے کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ بھی کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے نواز شریف متحرک ہوئے ہیں۔ آپ سوچیں کہ عمران خان کی وجہ سے اتنے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں تو عمران خان خود اقتدار میں آئے تو کیا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 535813
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے