0
Tuesday 17 May 2016 20:28
ہمارا کوئی بھی کام مسلکی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن کی بنیاد پر ہے

ہم 72 گھنٹے میں قرآن مجید کے 86فیصد معنی و مفاہیم سکھا رہے ہیں، مولانا سجاد حسین نقوی

ہم 72 گھنٹے میں قرآن مجید کے 86فیصد معنی و مفاہیم سکھا رہے ہیں، مولانا سجاد حسین نقوی
مولانا سید سجاد حسین نقوی ادارہ التنزیل کے بانی مسئول ہیں۔ دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ابتدائی تعلیم کے بعد دینی تعلیم کے حصول کا آغاز کیا۔ میٹرک کے بعد جامعہ اہلبیت میں شیخ محسن علی نجفی سے تعلیم حاصل کی اور پانچ سال انہی کے زیرسایہ جامعہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ اس کے بعد ایک سال جامعۃ الکوثر میں تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ یوں دینی تعلیم کے چھ سال پورے کئے۔ اس کے بعد حصول علم کی خاطر قم چلے گئے، وہاں قم میں پہلے ایم اے پھر ایم فل کیا۔ قم میں دس سال درس و تدریس سے منسلک رہے۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آئے اور قرآن مجید فرقان حمید سے متعلق التنزیل نامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ گذشتہ ڈیڑھ سال سے قرآن مجید کے حوالے سے معاشرے میں فہم قرآن کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ادارہ التنزیل کے حوالے سے مولانا سید سجاد نقوی سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ادارہ التنزیل پاکستان کیا ہے، اسکے بنیادی اہداف و مقاصد کیا ہیں۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
میں نے قم سے تاریخ اہلبیت (ع) میں اپنا ایم فل مکمل کیا ہے۔ مجھے ابتدا سے ہی قرآنی معارف، ترجمہ، تفسیر، مسائل اور کورسز کا شوق تھا۔ قم میں قرآنی حوالے سے بھی میں نے کورسز کو جاری رکھا۔ ادارہ التنزیل کی چند دوستوں نے ملکر بنیاد رکھی، چونکہ پہلے سے ہی قرآنی کورسز کا شوق تھا، اس لئے اس ادارے میں زیادہ دلچسپی لی۔ ادارہ التنزیل کا جو بنیادی ہدف اور نصب العین ہے، وہ حقیقی معارف قرآن کی تبلیغ اور ترویج ہے۔ قرآنی حاکمیت کیلئے عملی کوشش کرنا، کیونکہ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ قرآن کریم ہمارے معاشرے میں ایک رسمی کتاب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ہم جتنی توجہ دیگر چیزوں کی طرف دیتے ہیں، قرآن مجید کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتے اور اگر رسمی طور پر بچوں کو قرآن مجید پڑھنا سکھا بھی دیا جائے، مگر قرآن فہمی کی جانب ذرا برابر بھی توجہ نہیں۔ حالانکہ قرآن کریم پر عمل پیرا ہونے کیلئے اس کا فہم ہونا ضروری ہے، فہم نہیں ہوگا تو عمل پیرا بھی نہیں ہوسکتے۔ قرآن کریم جس طرح سے کتاب زندگی ہے، اس طرح سے ہمارے اندر راسخ نہیں ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالٰی نے ہمیں، ہمارے معاشرے کو سنوارنے کیلئے دیا ہے، اس میں بہترین قوانین موجود ہیں۔ التنزیل کا بنیادی ہدف قرآن کریم کو بچوں خصوصاً نوجوانوں میں کتاب زندگی کے طور پر پیش کرنا ہے۔ قرآن سے متعلق نئی نسل میں تفکر و تدبر اور شوق پیدا کرنا ہے۔ قرآن سے متعلق معلومات فراہم کرنا۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قائم قرآنی اداروں و شخصیات سے روابط قائم کرنا او مخلتف مناسبتوں سے متعلق قرآنی معارف و پیغامات ان تک پہنچانا۔ عصر حاضر میں قرآن پر اٹھائے جانے والے سوالات یا شکوک و شبہات کے جوابات دینا ہے۔ ہمارے اہداف میں قرآنی یونیورسٹی، مکتب القرآن، دارالقرآن کا قیام بھی شامل ہیں۔

اسلام ٹائمز: التنزیل بچوں کو صرف قرآن مجید پڑھاتا ہے یا ادارے نے اپنا کوئی نصاب بھی ترتیب دیا ہے۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
التنزیل ایک ایسا ادارہ ہے جو کہ قرآنی کورسز بناتا ہے اور پھر ان کورسز کو معاشرے میں اجراء کرانے کیلئے تگ و دو کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہم ان قرآنی کورسز کو پڑھانے کے لئے اساتذہ تیار کریں۔ ہم اساتذہ کو تربیت دیں۔ اس حوالے سے ہم ٹیچرز ٹریننگ کورسز کی مختلف کلاسز کراتے رہے ہیں۔ تقریباً پچاس سے زائد ٹیچرز ٹریننگ پروگرام ہم کرا چکے ہیں، ان میں سے کچھ پروگرام قم اور مشہد میں بھی ہوئے ہیں۔ ان پروگراموں میں تقریباً تین ہزار سے زیادہ ٹیچرز کو ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ جو یہ سیکھیں وہ آگے سکھائیں، معاشرے میں قرآن کا نور پھیلائیں۔ جس سے خود بخود ایک سرکل چلنا شروع ہوجاتا ہے۔ ادارہ التنزیل کے دفتر میں عام لوگوں کے لئے بھی ہفتہ وار کلاسز ہوتی ہیں، مگر اس کے علاوہ مختلف جگہوں پر جو ہمارے سنٹرز چل رہے ہیں، جیسے دھرم پورہ، فیصل ٹائون، جعفریہ کالونی میں ہماری کلاسز چلتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں سے ہمیں دعوت ملتی ہے، وہاں ہم کلاسز منعقد کرتے ہیں۔ البتہ ہمارا زیادہ زور ٹیچرز کی ٹریننگ پر ہوتا ہے کہ ہم انہیں ٹریننگ دیں اور وہ آگے منتقل کریں۔ ملک بھر میں ہمارا کورس پہنچ چکا ہے اور جگہ جگہ اس کی کلاسز منعقد ہو رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: کلاسز میں پڑھایا جانے والا نصاب ادارہ التنزیل کا اپنا تیار کردہ ہے یا دوسرے اداروں کا نصاب پڑھا رہے ہیں۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
قرآن کریم کو کتاب زندگی کے طور پر پیش کرنا، متعارف کرانا ہمارا بنیادی ہدف ہے، لہذا سب سے پہلا کام ہم نے یہی کیا کہ نصاب ترتیب دیا جائے۔ یہ نصاب اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کو پڑھنے سے قرآن کریم کے چھیاسی فیصد الفاظ کے معنی سے آشنائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ کورس آٹھویں جماعت اور اس سے اوپر والی کلاسوں کے بچوں کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نچلی کلاسز کے بچوں کیلئے بھی کورس ترتیب دیا ہے، جس کی الحمداللہ تین جلدیں چھپ چکی ہیں۔ پانچ جلدوں پہ مشتمل یہ کورس پہلی کلاس سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں بھی آیات کی مدد سے بچے مفاہیم سے آشنائی حاصل کر لیتے ہیں۔ بڑوں کیلئے جو کورس ہے وہ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ کورس کا کل دورانیہ 72 گھنٹے پر مشتمل ہے۔ اس کے متعلق ہم یوں کہتے ہیں کہ 72 گھنٹے میں قرآن کریم کے 86 فیصد معنی و مفاہیم سیکھئے۔ ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو ہماری کلاسز میں آئے، اس کے بعد وہ یہ چیز دوسروں کو بھی سکھائے۔ صرف 72 گھنٹے میں ہم 86 فیصد قرآن کریم کے معنی و مفاہیم سکھا دیتے ہیں۔ اس کورس میں کل 48 سبق ہیں۔ اگر آپ کہیں کہ قرآن کریم میں کل 72 ہزار الفاظ ہیں تو اس میں سے 1200 الفاظ ایسے ہیں، جن کی بار بار تکرار ہوئی ہے اور ان 48 اسباق کے مختلف موضوعات ہیں۔ پھر ان میں موضوعات کی مناسبت سے آیات شامل ہیں۔ جن کی ترتیب بہت اچھی ہے۔

اس کورس کی ترتیب اس طرح کی گئی ہے کہ انسان بوریت کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ مشقوں کی مدد سے اسے حل کرنے سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ اس کورس کے علاوہ مخلتف کوئز پروگرام ہیں اور ہم بچوں کیلئے دیگر اچھے اچھے کورسز بھی تیار کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ معارف قرآن کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ کورسز تیار کئے جائیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کیلئے تربیتی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ جس میں بالکل ابتدائی سطح سے لیکر گریجویٹس تک کیلئے کلاسز ہوتی ہیں۔ جسے ہم طفلان مسلم تربیتی ورکشاپس کا نام دیتے ہیں۔ اس سال ساتویں سالانہ طفلان مسلم ورکشاپ منعقد ہوگی، یہ ورکشاپ پندرہ جولائی سے یکم اگست تک لاہور میں ہوگی۔ اس کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ہمارے تعاون سے ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں۔ ان ورکشاپس میں اچھے ٹیچرز لیکچرز دیتے ہیں، اس کے علاوہ قم سے بھی اساتذہ ہمارے پاس تشریف لاتے ہیں اور مختلف موضوعات پر لیکچرز دیتے ہیں۔ جن میں قرآن، احادیث، احکام، حالات حاضرہ، تجوید، مفاہیم، اخلاق، سیرت معصومین (ع) ہے۔ اس ورکشاپ میں ماحول سازی اچھی ہوتی ہے۔ جو بچہ ایک دفعہ شریک ہوتا ہے، آئندہ بھی شرکت کرتا رہے۔ جبکہ ورکشاپ کے آخر میں روز شہداء بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان ورکشاپس میں بچوں کیلئے سیر و تفریح کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری ایک اور ایکٹویٹی نمائشوں کی ہے۔ مختلف مواقع پر نمائشیں کرتے ہیں، شہداء کے حوالے سے و دیگر حوالوں سے نمائشیں ہوتی ہیں۔

اسلام ٹائمز: التنزیل کے زیراہتمام نمائشیں ہوتی ہیں، ورکشاپس ہوتی ہیں، ادارہ اخراجات کیسے پورا کرتا ہے۔ التنزیل کو اندورنی یا بیرونی مدد بھی حاصل ہے۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
ادارہ التنزیل کی جب بنیاد پڑی تو اس کی بنیاد رکھنے والے پرجوش نوجوان تھے۔ جن کے ساتھ طالب علم بھی تھے، علماء بھی تھے اور اس ادارے کی قم میں بنیاد پڑی۔ ابتدائی طور پر ایک انجمن بنی، جسے حوزہ علمیہ قم اور جامعۃ المصطفٰی کی معاونت حاصل تھی۔ جب ہم نے پاکستان میں قدم رکھا تو کوشش کی کہ مقامی وسائل سے ہی استفادہ کیا جائے۔ پہلے مرحلے پر کچھ دوستوں نے مدد اور مالی معاونت کی، جیسے کہ مکان کے کرائے کے حوالے سے، پھر کچھ دوستوں نے مدد کی کہ ہم کتابیں وغیرہ چھاپ سکیں۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چلنا شروع ہوا۔ پھر دوستوں کے مشورے پر ہم نے صندوق پراجیکٹ شروع کیا۔ پھر الحمداللہ یہ سلسلہ اس طرح چل پڑا کہ کچھ سالوں سے ہمارا پبلی کیشنز کا سلسلہ کافی مضبوط ہوچکا ہے۔ پبلیکیشنز کے ذریعے ہمارے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ پھر ہم نے آن لائن کلاسز کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ چند مستقل دوست ماہانہ بنیادوں پر معاونت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں بھی سنٹرز ہوں، کلاسز ہوں، وہاں کے بانی افراد اخراجات برداشت کریں اور بچوں سے مختصر سی فیس بھی لی جاتی ہے۔ ادارہ التنزیل کی کوشش یہ ہے مقامی وسائل کو بروئے کار لاکر ان سے استفادہ کیا جائے اور کلاسز کرائیں۔

اسلام ٹائمز: ادارہ التنزیل کے مستقبل کے اہداف کیا ہیں۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
اس قرآنی ادارے کو لیکر ہم درجہ بہ درجہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پہلے نصاب ترتیب دیا۔ اب ہماری کوشش ہے کہ آئندہ کیلئے ایک ریسرچ اکیڈیمی بنائی جائے۔ ایسی ریسرچ اکیڈمی جس کے اند قرآنی کتاب خانہ ہو۔ جس میں ریسرچ کے حوالے سے تمام لوازمات موجود ہوں اور یہ عمومی ہو، سب کیلئے ہو۔ اسی میں مختلف قرآنی و تخصصی موضاعات پر ہماری کلاسز ہوں۔ اس کے بعد ہم قرآنی کالج کی طرف بڑھیں گے۔ مستقبل میں مدرسہ نہیں بلکہ جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایک قرآنی کالج اور قرآنی یونیورسٹی کی جانب بڑھیں گے۔

اسلام ٹائمز: ادارہ التنزیل کسی مدرسے یا ادارے سے بھی وابستہ ہے۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
التنزیل کی کسی ادارے یا مدرسے سے باقاعدہ وابستگی نہیں ہے۔ مستقل طور پر پوری ملت کیلئے کام کر رہا ہے۔ البتہ مختلف اداروں، مختلف سنٹرز کے ساتھ اتنی وابستگی ضرور ہے کہ ان کے تعاون سے ورکشاپس، نمائش اور کلاسز کا اہتمام کرتا ہے۔

اسلام ٹائمز: التزیل کسی خاص مکتب فکر یا مسلک کی بھی نمائندگی کرتا ہے، یا بلاتفریق کام کرتا ہے۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
قرآن کریم کتاب الٰہی ہے جو کہ تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہے۔ جو کہ ہمیں وحدت کی طرف دعوت دیتی ہے۔ ہمارے علماء حوزہ علمیہ قم سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ تمام ٹیچرز بھی حوزہ علمیہ قم سے فارغ التحصیل ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ ہی وحدت اور اتحاد کی کوشش کی ہے۔ ہماری کلاسز میں اہلسنت احباب بھی شرکت کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے کورس کو اہلسنت کے ہاں بھی پہنچایا ہے۔ ان کے جتنے قرآنی سنٹرز ہیں، جتنے قرآنی ادارے کام کر رہے ہیں، وہاں ہم نے اپنے کورس کو متعارف کرایا ہے۔ الحمداللہ انہوں نے ہمارے کورس کو پسند بھی کیا ہے اور حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ آیا شیعہ بھی اتنے منظم انداز میں قرآن فہمی پر کام کرسکتے ہیں۔ اہلسنت کے بعض اداروں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں اس کورس کو بھی شامل کریں گے۔ جیسے ادارہ منہاج القرآن نے بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ہم شیعہ ہیں اور اپنے مسلک و مکتب کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن قرآن کریم کی تعلیمات کے فروغ کے سلسلہ میں کسی مسلک، کسی مکتب سے مربوط نہیں بلکہ تمام تک قرآن کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہمارا کوئی بھی کام ہے وہ مسلکی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن کی بنیاد پر ہے۔

اسلام ٹائمز: ماہ رمضان المبارک میں کونسے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔؟
مولانا سید سجاد حسین نقوی:
رمضان المبارک بہار القرآن کا مہینہ ہے، اس میں خصوصیت کے ساتھ قرآنی پروگرام منعقد کراتے ہیں۔ ہم بہار قرآن کے نام سے ایک پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ ہمارے ادارے کی بنیاد بھی ماہ رمضان میں پڑی، لہذا یوم تاسیس کے حوالے سے پروگرام کرتے ہیں۔ اس میں مختلف قاری حضرات کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں و شخصیات کے تعاون سے نوجوانوں کیلئے اعتکاف منعقد کرتے ہیں۔ جس میں دیگر علماء بھی شریک ہوتے ہیں۔ قرآنی کلاسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ دورہ قرآن کرایا جاتا ہے۔ شب ہائے قدر کی مناسبت سے پروگرام کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں قرآنی نمائش بھی منعقد کراتے ہیں۔ کوشش یہی کی جاتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سے استفادہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ ادارہ التنزیل نے مقالہ نویسی کا مقابلہ شروع کرایا ہے۔ اس کا بہت اچھا رسپانس آرہا ہے۔ اس میں دس قرآنی موضوعات رکھے ہیں۔ جس میں مختلف کالجز، یونیورسٹی کے طالب علم حصہ لے رہے ہیں۔ بہت سارے افراد نے اس میں حصہ لیا ہے۔ بہت سے افراد مقالہ بھیج چکے ہیں اور کچھ باقی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پرکشش انعامات بھی رکھے گئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ اگر اس کا رسپانس اچھا رہا تو ہر سال یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 539107
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب