0
Sunday 22 May 2016 22:29
مسلمانوں کو اپنے بنیادی نکتے کلمہ لا الہ الا اللہ پر متحد و متفق ہونا چاہیئے

دشمن اسلام کی بیخ کنی کرنیکا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، میرواعظ سید عبدالطیف

فلسطین کا مسئلہ عرب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے
دشمن اسلام کی بیخ کنی کرنیکا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، میرواعظ سید عبدالطیف
میر واعظ وسطی کشمیر مولانا سید عبدالطیف بخاری کا تعلق جموں و کشمیر کے بیروہ سے ہے، وہ مولانا سید علی شاہ کے فرزند ہیں جنہیں انکی تعلیمی خدمات کی بناء پر لوگ سر سید ثانی کے نام سے یاد کیا کرتے ہیں۔ مولانا سید عبدالطیف بخاری مظہر الحق ہائی اسکول کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں جو اسکول 1934ء سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے اور اس اسکول کے پروندے جموں و کشمیر کے مختلف شعبہ جات میں اعلٰی خدمات انجام دے رہے ہیں، میر واعظ مولانا سید عبدالطیف بخاری جموں و کشمیر انجمن مظہرالحق کہ جس کا قیام 1955ء میں عمل میں لایا گیا کے سربراہ بھی ہیں، جس کے ذیل میں ایک مقامی شریعت بورڈ بھی فعال ہے، وہ تقریباً 35 سال سے جامع مسجد بیروہ میں امام جمعہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں، میر واعظ وسطی کشمیر سید عبدالطیف بخاری ملی اتحاد فورم کے سرپرست بھی ہیں، جس کا قیام جموں و کشمیر میں اتحاد و اتفاق بین المسلمین کے پیش نظر عمل میں لایا گیا، ملی اتحاد فورم کے زیر اہتمام جموں و کشمیر میں کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے، میر واعظ کی کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ملت مسلمہ میں اتحاد قائم ہوجائے اور اسلامی احکامات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کی جائے، اسلام ٹائمز نے میر واعظ سنٹرل کشمیر سید عبدالطیف بخاری سے ایک نشست کے دوران ان سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین حضرات کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: عالم اسلام میں جو ہر چہار سُو انتشار اور تفرقہ کی ایک آگ برپا ہے، اسکی وجوہات کیا ہیں اور اسکا راہ حل کیا ہوسکتا ہے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
حقیقت یہ ہے کہ جو امت مسلمہ ہے وہ ایک مشن کی حامل ہے، مسلم امہ کو دنیا میں عدل کے قیام کے لئے کوششیں کرنی ہے، اس امت کو دنیا میں سچائی کی سربلندی کے لئے کام کرنا ہے، دنیا سے برائی کو مٹانا ہے اور نیکیوں کو قائم کرنا ہے، اس امت کو دنیا میں عدل و انصاف برپا کرنے کیلئے کوششیں کرنی ہے تو اس وقت جو ہماری ملت ہے اس کو اپنے مشن کا شعور نہیں ہے، اس کو پتہ نہیں جو اللہ کے دین کی امانت ہمارے سپرد ہوئی ہے، اس کی سربلندی اور اس کی ترویج کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، ہمارے علماء بھی اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور امت میں بھی اس شعور کا فقدان ہے۔ دوسری بات یہ کہ کلمہ ’’لا الہ الا للہ‘‘ ہماری اساس ہے، ہماری بنیاد رنگ نہیں، نسل نہیں، وطنیت نہیں، سرحد نہیں، ہماری قومیت کی بنیاد کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ص)‘‘ ہے اور اب یہ بنیاد کمزور ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ ہمارے علماء صرف فروعی مسائل اور جزوی مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ پھیر لیتے ہیں اور جو اصل بات ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو وطنیت کو اپنی اساس ماننے لگے، آج ہر ملک کا رہنے والا مسلمان پہلے وطن کے بارے میں سوچتا ہے، پھر ملت کے بارے میں سوچتا ہے، جس کی وجہ سے انتشار برپا ہے۔ یعنی وطنیت، اسلام اور ملت پر غالب آگئی ہے، اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔

پہلے جو سامراجی قوتیں تھیں، انھوں نے کلونلزم کے تحت مسلمان ممالک پر قبضہ کیا، ان کو غلام بنایا اور اب مسلمان ملکوں کو کمزور کرنے کے لئے ان کو آپس میں لڑوانے کی سازشیں کر رہے ہیں، اس میں صہیونی و سامراجی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ہمارے سامنے افغانستان کی مثال ہے، پہلے اس کو دہشتگردی کی طرف دھکیلا گیا اور بعد میں اس پر حملہ کیا گیا۔ یہی اس وقت شام، عراق، یمن وغیرہ میں ہو رہا ہے، مسلمانوں کو دین کی ایک غلط تعبیر دی جا رہی ہے اور ان کو دہشتگرد بنایا جا رہا ہے، اس کے پیچھے سامراجی و صہیونی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دشمن کو پہچانیں، اگر وہ اپنے دشمن کو پہچان نہیں پاتے تو یہ ہیجان و انتشار یوں ہی برقرار رہے گا۔ روس کے بکھر جانے کے بعد امریکہ دنیا میں واحد طاقت بن کر ابھر آیا اور اس طاقت کو برقرار رکھنے کی راہ میں اسے صرف مسلمان ممالک ہی ایک رکاوٹ نظر آئے، اس لئے وہ مسلمانوں کے خلاف مختلف حربے استعمال کرنے لگا، جیسے اسرائیل کو اس لئے قائم کیا گیا، تاکہ عرب ممالک کے سینے میں ایک کیل ٹھونکی جائے اور ان کے یہاں جو تیل کے ذخائر ہیں، ان پر مختلف بہانوں سے قبضہ کیا جائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دشمنوں کو پہچانیں اور آپس میں اتحاد رکھیں، تبھی مسلمانوں کے مسائل و مشکلات حل ہوسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: امریکہ، اسرائیل اور انکے ایجنٹوں کی بھینٹ چڑھنے سے بچنے کیلئے مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
دیکھئے میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہمارے ذمہ جو مسائل ہیں، ہم انہیں حل کرنے میں سنجیدہ ہیں اور اسلام کے تئیں مخلص ہیں اور دین محمدی (ص) کی ترویج و تبلیغ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویئے میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارے حکمران سامراجی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے اور ٹکرانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور بہت ذرائع مع پیسے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ جب مولوی بک جاتے ہیں تو وہ فرقہ وارانہ فسادات اور آپسی منافرت پھیلانے میں مصروف ہوتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ جب تک مسلمان متحد نہیں ہوتے اور مسلمان اپنے اپنے طریقہ کار کو بدل نہیں دیتے ہیں، تب تک مسلمانوں کے حالات نہیں بدلیں گے اور مسلمانوں کو اپنے بنیادی نکتے کلمہ لا الہ الا اللہ پر متحد و متفق ہونا چاہیئے، فروعی اختلافات و مسائل میں نہیں الجھنا چاہیئے اور جو مسائل و شبہات ہمارے درمیان ہیں، انہیں مل بیٹھ کر دور کیا جاسکتا ہے۔ علمی اختلافات عام لوگوں تک نہیں پہنچنے چاہیئں، ان علمی اختلافات کو ہمیں عام لوگوں پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔ جو یہ نفرتیں شیعہ و سنی کے خلاف پھیلائی جا رہی ہیں، اس کے پیچھے سامراجی قوتوں کے ڈالرز بھی کارفرما ہیں اور علماء سوء کی غلطیاں بھی، ہمارے بعض حکمران بھی مغربی سازشوں میں برابر کے شریک ہیں، بعض اسلامی ممالک میں ابھی بھی شہنشائیت کا نظام ہے، ظلم و بربریت و تسلط و بالادستی کی حکومت ہے، وہ حکمران استعماری قوتوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں، جو مسلمانوں کے لئے سم قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سامراجی و طاغوتی طاقتوں کی یہ کوشش ہے کہ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرکے فلسطین کے مسئلے کو کمزور کیا جائے اور عالم اسلام اس حساس مسئلے کو فراموش کرے، اس حوالے سے پوری مغربی طاقتیں اس بات پر جمع ہوئی ہیں کہ اسرائیل کو مضبوط اور فلسطین کو کمزور کیا جائے، فلسطین کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبد الطیف بخاری:
فلسطین کا مسئلہ عرب کا مسئلہ نہیں، پوری ملت کا مسئلہ ہے، ہمارا قبلہ اول اس وقت یہودیوں کے زیر تسلط ہے، اگر ہم اس مسئلہ کو عرب ملکوں کا مسئلہ تصور کریں گے اور ملت کا مسئلہ تسلیم نہیں کریں گے تو ہم اس حساس مسئلہ کو کبھی حل نہیں کرسکیں گے۔ اگر پوری ملت یہ سمجھے گی کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے تو وہ دن دور نہیں جب قبلہ اول آزاد ہو جائے گا اور فلسطینی عوام ایک بار پھر آزادی کی فضا میں سانس لے سکیں گے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ سامراجی قوتیں اسرائیل کو اس لئے مضبوط کر رہی ہیں، تاکہ مسلمان اپنے تمام وسائل اپنے دفاع میں خرچ کریں اور اپنے قدرتی ذخیروں سے محروم ہو جائیں اور دشمن ان کے تیل کے ذخیروں پر قابض ہوجائے۔

اسلام ٹائمز: اگر اسلام کا آئین اسلام کے اہداف بلند ترین و مقاصد کیلئے پکارتا ہے، پھر بھی کیوں مسلمان دشمن کے آلہ کار ثابت ہو رہے ہیں، قرآنی دستور و تعلیمات اور سنت رسول (ص) ہمارے بیچ ہونے کے باوجود بھی ہم مسلمان ہمارے علماء ہمارے دانشوران کیوں دشمن کے آلہ کار ثابت ہو رہے ہیں، اسکی وجہ کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبد الطیف بخاری:
اصل بات یہ ہے کہ مسلمان مدتوں تک گہری نیند میں سوگئے تھے، اس دوران مغربی ممالک نے علم و تحقیق میں، مختلف انکشافات میں، ایجادات میں اور ٹیکنالوجی میں کافی ترقی کی اور جب مسلمانوں نے آنکھیں کھولی اور بیدار ہوئے تو مغرب بہت آگے جا چکا تھا، نتیجہ مسلمان ذہنی غلامی میں مبتلا ہوگئے اور مغرب کے زیر اثر آگئے، مسلمان اس بات سے بے خبر ہیں کہ ہمارے پاس جو اسلام ہے، جو تعلیمات ہیں، اس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے اور انسانیت کی فلاح ہے، ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم اسلام اور اس کی تعلیمات سمجھتے اور اس پر عمل کرتے، مگر ہم مغربی تہذیب سے مرعوب ہوگئے اور ہو رہے ہیں، مغربی قوموں کے پاس جو ملٹری مائنڈ ہے، اس سے مرعوب ہو رہے ہیں، اس وجہ سے مسلمان ان کے آلہ کار بنتے جا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایسی پیچیدہ فضا میں اتحاد اسلامی کی کتنی ضرورت ہے، کیونکہ دشمن اپنی ناپاک مہم کو گھر گھر پہنچا رہے ہیں، ہمیں اس حوالے سے کیا کرنا ہوگا اور ہماری ذمہ داری کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبد الطیف بخاری:
بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی دعوت ’’دعوت اتحاد‘‘ ہے، جیسے علامہ اقبال (رہ) نے فرمایا ہے کہ اسلام کا مقصد پوری بنی نوع انسان کو ایک ملت بنانا ہے اور ایک خدا کی بندگی پر ساری دنیا کے لوگوں کو متحد کرنا ہے، مگر یہ افسوس کی بات ہے کہ مسلمان اس مقصد کو بھول گئے اور اس کے بجائے مسلکی اور مکتبی اختلافات میں مبتلاء ہوکر رہ گئے، اس وقت اتحاد پر سب سے زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے، اس وقت جو ہمارے علماء ہیں، خطباء ہیں اور جو دعوت کا کام انجام دے رہے ہیں یا قلم کار ہیں، سبھی کو اتحاد بین المسلمین کی طرف توجہ دینی چاہئے، کیونکہ اتحاد کی دعوت اسلام کی دعوت ہے اور توحید خود اتحاد پیدا کرنے کی دعوت دیتی ہے، توحید کا کانسپٹ ہی یہی ہے کہ سبھی کو ایک خدا کی عبادت پر متحد کیا جائے، اس کے علاوہ ہمارے خطباء اور ہمارے واعظین کی تربیت کا بھی انتظام ہونا چاہئے، تاکہ ان کو پتہ چلے کہ کس بات پر ہمیں زیادہ زور دینا ہے، عملی طور ہم سب مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہم متحد رہیں، اس سلسلے میں سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ ہمیں اکٹھے نماز پڑھنے کا رجحان اپنانا چاہئے اور ایک دوسرے کی مجالسوں میں بیٹھیں اور ایک دوسرے کی بات سمجھیں، تبھی جاکر ہم دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے اس علاقے میں اتحاد اسلامی کی مثال قائم کر دی اور جس مسجد کے آپ امام ہیں، وہاں اتحاد کی ایک زبردست مثال دیکھنے کو مل رہی ہے اور ہر مسلک سے وابستہ لوگ اکٹھے نماز پڑھتے ہیں، کیا ابھی تک کسی شدت پسند عناصر کی طرف سے کوئی بھی رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
دیکھئے، شدت پسند اتحاد کو پسند نہیں کرتے، جس طرح ایک مکھی گندگی پر پلتی ہے، اسی طرح ہمارے بھی کچھ علماء ہیں جو تفرقہ برپا کرکے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں، ایسے لوگ اتحاد اسلامی کو پسند نہیں کریں گے، لیکن ہمیں کوشش کرنی ہے اور ہمیں چاہئے کہ اتحاد بین المسلمین برپا کرنے کی کوشش کریں، اس راہ میں بیشک بہت سی رکاوٹیں ہیں، لیکن ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ان شاء اللہ ایک دن کامیابی ہمارے قدم ضرور چومے گی۔

اسلام ٹائمز: شام، عراق، یمن اور بحرین کے بارے میں جہاں سالہا سال سے غریب عوام پسے اور مارے جا رہے ہیں اور مسلمان جو مار رہے ہیں، وہ بظاہر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے انکو مار رہے ہیں اور انکے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیل رہے ہیں، نہتے عوام پر بمباری جاری ہے، اس صورتحال کے بارے میں آپکی تشویش کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ دشمن اسلام کی بیخ کنی کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، ایسے عناصر اسلام دشمنوں کی پیداوار ہے، اس سے دنیا میں اسلام کی شبیہ متاثر ہو رہی ہے اور اسلام کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش ہو رہی ہے، یہ سب کچھ جو ان ممالک میں ہو رہا ہے، اسلام کی تعلیم نہیں ہے، اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے بے گناہوں کا سر قلم کرنا، اسلامی کام نہیں ہے اور نہ اس کا اسلام سے کوئی واسطہ ہے۔

اسلام ٹائمز: ابھی جو بڑا اور اہم مسئلہ ابھر کر سامنے آرہا ہے، جموں و کشمیر میں وہ سینک کالونیوں کا قیام اور پنڈتوں کیلئے الگ رہایشی بستیوں کا منصوبہ ہے، اس سلسلے میں آپکی تشویش کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبد الطیف بخاری:
دیکھئے یہ جو کشمیر ہے، یہاں ہمیشہ بھائی چارہ رہا ہے، یہاں جتنے بھی ہندو، سکھ یا دوسرے مذاہب کے لوگ رہتے تھے، سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر رہتے تھے، یہاں کے صوفی بزرگوں اور اولیاء نے امن و محبت کا پیغام دیا تھا، لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اگر پنڈتوں کے لئے کوئی الگ بستی قائم کی جاتی ہے تو اس سے یہاں کے بھائی چارے کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح اگر سینک کالونیاں قائم ہوگئیں تو اس سے بھی کشمیر کی جو خصوصی پوزیشن ہے، اس کو بھی نقصان پہنچے گا اور کشمیر میں جو اخلاقی قدریں و روایتی قدریں ہیں، اس کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اسلام ٹائم: اگر ایسا ہوا اور عملاً اسکا مظاہرہ ہوا تو یہاں کی عوام کا کیا ردعمل ہوگا۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
مجھے لگتا ہے کہ لوگ اس چیز کو پسند نہیں کریں گے اور احتجاج کریں گے اور سڑکوں پر نکل کر ان مذموم عزائم کی تکمیل نہیں ہونے دیں گے اور ایسا ہونا بھی چاہئے، کیونکہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ کشمیر جیسے حساس مسئلے کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی کشمیری عوام پر تھونپے، یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان منصوبوں کے خلاف ایک آواز ہو کر احتجاج کریں اور ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملائیں۔

اسلام ٹائمز: کشمیر جو صوفیوں اور اولیاء کی سرزمین ہے، اس پر ایک خاص سوچ کے لوگ آہستہ آہستہ اپنی فکر دوسروں پر تھونپنے کی کوشش میں لگے ہیں، اس حوالے سے آپکی تشویش کیا ہے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
دیکھئے اگر یہاں سلفیت کی موومنٹ زیادہ ہے تو اس کی وجہ سعودی عرب سے بے شمار پیسوں کا آنا ہے اور پیسوں کے بل بوتے پر یہ فکر یہاں پھیل رہی ہے۔ وہ یہ پیسہ لوگوں کی تعلیم، بے سہارا بچوں کی پرورش، یتیموں کی کفالت اور دوسرے فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کے بجائے مسجدوں کی تعمیر اور مسجدوں کی بندر بانٹ اور اپنے عقیدے اور مسلک کو پھیلانے پر خرچ کرتے ہیں، تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس کو میں پسند نہیں کرتا، مسجدیں اس لئے ہوتی ہیں کہ لوگوں کو جوڑا جائے نہ کہ توڑٖا جائے، لیکن یہ لوگ صرف اپنے عقیدے کو صحیح کہہ کر باقی تمام عقائد کی نفی کرتے ہیں، جس سے لوگوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: غالباً ہر سال یوم القدس جسکا اہتمام فلسطین کے حوالے سے ہر سال جمعۃ الوداع کو کیا جاتا ہے، اس علاقے میں آپکا اس سال اس بابرکت دن کیلئے کیا پروگرام اور برنامہ ہے۔؟
میر واعظ سید عبدالطیف بخاری:
یوم القدس منانے سے لوگوں کی توجہ فلسطین کے مسئلے کی طرف، مسجد الاقصٰی کی طرف مبذول ہوتی ہے، جو بہت اچھی بات ہے، ہم ہر سال یہاں یوم القدس مناتے ہیں اور فلسطین کے مسئلہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں، اس طرح سے تمام دنیا کے لوگوں کی ہمدردیاں فلسطینی عوام کی طرف ہو جاتی ہیں اور فلسطینیوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں، اس کے خلاف ایک رائے عامہ منظم ہو رہی ہے۔ ہر سال کی طرح ہمارا اس سال بھی پروگرام ہے کہ یہاں کی ہر بستی چاہے شیعہ ہو یا سنی، مل جُل کر یوم القدس کی تقریب کو کامیاب بنائیں گے اور عالم اقوام کو واضع پیغام دیں گے کہ ہمارے جذبات اور ہمارے احساسات فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں اور تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا، جب تک نہ قبلہ اول صہیونیوں کے چنگل سے آزاد ہوگا اور فلسطینیوں کو اپنے سلب شدہ حقوق نہیں ملیں گے اور وہ ایک پرامن زندگی نہیں گزاریں گے۔
خبر کا کوڈ : 540263
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب