0
Tuesday 31 May 2016 13:50

قومی اداروں کو طویل المدت بنیادوں پر کام کرنے کیلئے اسٹریٹیجک اپروچ اختیار کرنیکی ضرورت ہے، تہور عباس حیدری

قومی اداروں کو طویل المدت بنیادوں پر کام کرنے کیلئے اسٹریٹیجک اپروچ اختیار کرنیکی ضرورت ہے، تہور عباس حیدری
منیجمنٹ اسڈیز کے استاد اور ابلاغ عامہ کے ماہر تہور عباس حیدری آئی ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر  اور تنظیم کی مرکزی مجلس نظارت کے رکن ہیں، جز وقتی اور ہنگامی بنیادوں پہ کام کرنے کی روش کی بجائے تنظیمی امور کو طویل المعیاد منصوبہ بندی کی بنیاد پہ آگے بڑھانے کی خواہش رکھنے والے امامیہ طلبہ کی تنظیم کے سابق سربراہ کی نوجوانوں کو درپیش مسائل، امکانات، مواقع اور ملی اداروں کے مستقبل سے متعلق اسلام ٹائمز کے ساتھ گفتگو قارئین کے لئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: عمدہ خوبیوں کے حامل نوجوان کا آئیڈیل کیا ہونا چاہیے یا ایک آئیڈیل نوجوان کو کیسا ہونا چاہیے۔؟
تہور عباس حیدری:
کلی طور پر دیکھیں تو مولا علی علیہ السلام کا یہ فرمان سامنے رہنا چاہیے کہ اس طرح زندگی گذارو کہ جب تک لوگوں کے درمیان رہو تو وہ تمہارے مشتاق رہیں اور جب ان میں چلے جاو تو وہ تمارے لئے آنسو بہائیں۔ دوسرا یہ کہ ہمارے لئے زندگی کا ہدف عالی ترین، حقیقی اور واضح ہونا چاہیے، تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی اور فلاح و فوز نصیب ہوسکے۔ ذہن اور فکر کو فقط مادی اور دنیوی زندگی تک مقید نہ رکھیں، بلکہ حقیقی مقصد کو سمجھیں اور اس کی راہ میں زندگی گذاریں۔ اپنی اہمیت اور مقام کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ پس وہ شخصیات نمونہ عمل ہیں، جنکی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر پہلو یعنی تعلیم، معاشرت، معاشرہ سازی، خانوادگی، انقلابیت اور حماسی پہلو، پروفیشنلزم، تقویٰ الٰہی نیز ہر چیز جوانوں کے لئے مشعل راہ ہے اور رتبہ شہادت پا کر وعدہ الٰہی کے مطابق آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ وہی ایک نوجوان کے آئیڈیل قرار پاسکتے ہیں۔ شہید مصطفٰی چمران اور ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اسکی زندہ مثالیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی معاشرہ میں اس سطح کی فکر تک رسائی عام نوجوان کیلئے ممکن ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
ہمارے معاشرے میں اس طرح کا سازگار ماحول نہیں ہے، بلند انسانی فکر کو پروان چڑھانے میں معاون نہیں بلکہ بہت ساری رکاوٹیں ہیں، جنکا سامنا رہتا ہے۔ خاندان، تعلیمی اداروں سمیت ایسی مثالیں کم ہوتی ہیں کہ مذکورہ مطلوبہ سطح کی فکری اور ذہنی سمجھ بوجھ حاصل ہوسکے۔ زیادہ تر مادی زندگی کی حد تک محدود مقاصد ہی مدنظر رہ جاتے ہیں، اس ماحول میں پرورش پانے والے انسان کو صرف اپنی ذات کی حد تک زندگی گذارنے کی تلقین ملتی ہے، یہی اسکی ڈگر بن جاتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

اسلام ٹائمز: اس ناسازگار ماحول یا معاشرے کو اچانک سے بدلنا تو ممکن نہیں، اس صورت میں کوئی راہ موجود ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
اللہ تعالٰی نے انسان کو انتخاب کی صلاحیت دی ہے۔ ماحول انسان پر اثرانداز ہوتا ہے، لیکن انسان ماحول کا قیدی نہیں، انسان اپنے شعور اور عقل سے فیصلہ کرسکتا ہے، اپنی راہ اور اپنی منزل کو سمجھ سکتا ہے، اس کا انتخاب کرسکتا ہے، اس کے مطابق زندگی گذار سکتا ہے۔ بیرونی عوامل کے باوجود کوئی بھی انسان خود آگاہی، تخیل، ضمیر اور ارادے کی بنیاد پہ عالی ہدف کا انتخاب کرسکتا ہے۔ ہمارے ہاں مجموعی طور صورتحال حوصلہ افزا نہیں، لیکن ایسے عوامل موجود ہیں جو عام نوجوان کو یہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امامیہ طلبہ کی تنظیم آئی ایس او میں شامل ہونے والے نوجوانوں میں لازمی طور پر یہ تبدیلی آتی ہے یا یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے دائرے سے بڑھ کر ایک باہدف زندگی گذاریں۔ اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی اصلاح کے لئے صرف کریں، پوری انسانیت کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں۔ یہ ایک امتیاز بھی ہے اور ایک بہترین موقع بھی کہ جہاں ایسا موحول موجود ہے، جو معاشرے میں موجود رکاوٹوں کے باوجود نئی نسل کو حقیقی انسانی مقصد اور کمال کی راہ دکھاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا، امامیہ طلبہ کی تنظیم کی طرف، آپکی بات درست ہے، لیکن یہاں سے تیار ہونیوالے افراد کا معاشرے میں موثر کردار جیسا ہونا چاہیے، ویسا ہے، اگر نہیں تو اس کیا وجہ ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ ہمارے ہاں مثالی ماحول نہیں ہے، بلکہ اگر کوئی اعلٰی قدروں کا حامل رول ادا کرنا چاہے تو اسے شدید مشکل کا سامنا ہوتا ہے، بالخصوص حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، کوئی ہمت کرتا بھی ہے تو ہر قدم پہ رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے۔ خود ریاست کا یہ کام ہے کہ افرادی قوت کو پروان چڑھنے کا موقع اور ماحول فراہم کرے، لوگ آگے بڑھیں، لیکن یہاں اگر آپ ایک قدم بھی چلیں تو کسی نہ کسی ناسازگاری کی وجہ سے رکنا پڑتا ہے، ہمت کرکے اصلاح یا بہتری کے لئے قدم اٹھاتے بھی ہیں تو روک لیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں کرپشن اسکی مثال ہے، جہاں یہ صورتحال ہو، وہاں نیک نیتی کی بنیاد یہ لوگ کسی کو آگے آنے ہی نہیں دیتے، اسکا منفی اثر ہمارے تعلیمی نظام پر بھی پڑتا ہے، نوجوان تو بالخصوص اسکا شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے سامنے ایسی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ ایسے ادارے اور حلقے جو معاشرے میں مثبت انداز میں نوجوان نسل کی تربیت اور پرورش میں کردار ادا کر رہے ہیں، وہاں اس نکتے کو مدنظر رکھنے کی بہت ضرورت ہے کہ نئی نسلوں کو اس انداز میں تیار کیا جائے کہ موجودہ معاشرے کی شرائط، صورتحال، مشکلات اور چیلنجز کو سمجھتے ہوں اور ان سے نبردآزما ہوسکتے ہوں۔ دوسری بات کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس عمدہ اور اچھے ماحول سے جب ایک نوجوان نکل کر سوسائٹی میں جاتا ہے تو بہت زیادہ موثر کردار ادا کرتا ہے یا نہیں، میرے خیال میں ایک حد تک تو ہر ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب پریکٹیکل زندگی شروع کرتا ہے تو اسے کچھ مشکلات کا سامنا رہتا ہے، امامیہ نوجوانوں کو بھی یہ مسائل درپیش ہوتے ہیں، لیکن ایسے افراد کی نسبت یہ نوجوان معاشرے میں اپنا نقش ضرور چھوڑتے ہیں۔ انہی لوگوں میں سے نمایاں کرادر بھی سامنے آتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ وسیع تنظیمی تجربہ رکھتے ہیں، وابستہ بھی ہیں، آپکی نظر میں اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کرنیوالے گروہوں کا کردار کیسا ہے۔؟
تہور عباس حیدری:
بہت ساری مشکلات کے باوجود لوگ میدان میں موجود ہیں، یہ بات امید افزا ہے۔ کچھ پہلو تشنہ ہیں، جہاں بہرحال توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک کمی بھی محسوس ہوتی ہے، عوامی سطح پر مزید اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عوام کو نزدیک لانے اور انہیں امید دلانے کی گنجائش باقی ہے، اس پر اگر توجہ دی جائے تو مزید تقویت ملے گی۔ ایک ضروری چیز یہ بھی ہے کہ جو تعلیم یافتہ طبقہ فیلڈ میں زیادہ ٹائم نہیں دے سکتا، ان سے ممکنہ حد تک استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ دھارے میں موجود رہیں، انکی رائے سے استفادہ ہوتا رہے۔ ایسے افراد اصلاح احوال چاہتے ہیں، انہیں دور نہیں رکھنا چاہیے۔ حالات پر آشوب ہیں، چیلنجز سے نبٹنے کے لئے زیرک لوگوں کی اہمیت اور زیادہ ہوتی ہے۔ قومی سطح پر ہمیں درست تجزیہ کرکے طویل المعیاد منصوبہ بندی کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: فعال اور موثر عناصر، بالخصوص امامیہ طلبہ کا مستقبل کیا نظر آتا ہے آپکو، انہیں کیا کرنا چاہیے۔؟
تہور عباس حیدری:
آئی ایس او کا ماحول پاکیزہ اور زرخیز ہے۔ ہر سال نئے لوگ آتے ہیں، سب کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایسے میں یہ تبدیلی تنظیم میں تازگی کو برقرار رکھتی ہے اور تازہ خون بھی شامل ہوتا رہتا ہے۔ مسئولین کی سالانہ بنیادوں پر تبدیلی کی وجہ سے تمام شعبوں میں کام تو جاری رہتا ہے لیکن وقت گذرنے کیساتھ ساتھ جو ارتقا آنا چاہیے تھا، اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ روایتی طریقہ کار کو بدلتے ہوئے سابقہ تجربات اور زمانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی روشیں اپنانا ہوں گی، تمام شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے گذشتہ سالوں میں جو مستقل ادارے تشکیل دینے کا عمل ہوا ہے ان شاء اللہ اس سے بہتری کی امیدیں ہیں۔ طویل المدت بنیادوں پہ کام کرنے کے لئے اسٹریٹیجک اپروچ کی ضرورت ہے، اس کے لئے تجزیہ و تحلیل نہایت اہم ہے۔ مستقل اداروں کے قیام کے بعد ان کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ ان شاء اللہ یہ سفر جاری رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 542263
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب