0
Sunday 19 Jun 2016 16:40
آیت اللہ خمینی کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا

اسرائیل کیجانب جھکاؤ صرف فلسطین یا امتِ مسلمہ سے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت سے انحراف ہے، پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی

صیہونی غاصب اسرائیلی حکومت سے تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے
اسرائیل کیجانب جھکاؤ صرف فلسطین یا امتِ مسلمہ سے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت سے انحراف ہے، پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی
معروف تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی پاکستان کی درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ جنیٹکس کے سینیئر استاد ہیں، وہ ایک عرصے تک ضیاءالدین اسپتال کے شعبہ مالیکیولر ڈایگناسٹکس کے نگراں بھی رہے ہیں۔ انہوں نے امریکا سے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ وہ ملکی و غیر ملکی حالات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، تجزیہ نگاری کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی سمیت مختلف ٹی وی چینل پر اکثر و بیشتر سماجی، مذہبی و حالات حاضرہ کے پروگرامات میں میزبانی کے فائض بھی انجام دیتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کی تحریریں مختلف اخبارات و جرائد کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی کے ساتھ مسئلہ فلسطین، مسلم و عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات، عالمی یوم القدس کے موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہ فلسطین کاز کیلئے نقصان کا باعث ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
مختصر یہ کہ عالمی سطح پر دہشت گردی بالعموم دراصل ہے ہی مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانے کی ایک انتہائی مربوط اور منظم سازش۔ داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے نام حقیقت میں فرنچائز ہیں، جن کا کاروبار مالی طور پر انتہائی مستحکم گروہ اور آزاد ممالک جہاں ٹیکنالوجی عروج پر ہے اور تجارت کی کھلی آزادی ہے، چلارہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطین کا دفاع اسلام کا دفاع ہے، اس حوالے سے آپکی کیا رائے ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
اس میں کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطین کا دفاع اسلام کا دفاع ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے کیلئے اور اس سے مربوط کئی اور اہم محاذ ہیں، جن پر بھی توجہ دینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ صہیونی غاضب حکومت اسرائیل کو سرزمین مقدس فلسطین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
صیہونی اور غاصب ہونا کسی بھی حکومت کے ناجائز ہونے کیلئے کافی ہے اور صہیونی اسرائیل سمیت کسی بھی ناجائز طاقت کو فلسطین سمیت کسی بھی سرزمین کے ٹکڑے پر حاکم نہیں بنایا جا سکتا۔

اسلام ٹائمز: کیا کوئی بھی مسلم ملک اسرائیل سے تعلقات استوار کرسکتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
صیہونی غاصب اسرائیلی حکومت سے تعلقات استوار نہیں کئے جاسکتے۔

اسلام ٹائمز: اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ عرب بادشاہتوں کے امریکا اور اسرائیل سے تعلقات کا مقصد اپنی اپنی بادشاہتوں اور اقتدار کا تحفظ ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
عرب بادشاہوں ہی پر کیا موقوف، اکثر مسلم جمہوری حکومتوں کا بھی یہی رویہ ہے اور جن مسلم ممالک مں ڈکٹیٹرز قابض ہیں، وہ تو بے شک ہر قیمت پر اپنے اقتدار کا تحفظ ہی چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اہم عرب ممالک کے اسرائیل کیجانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیا یہ فلسطین و امت مسلمہ سے غداری نہیں ہوگی۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
فلسطین کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ملک کا خواہ وہ عرب ہو یا نہ ہو، مسلم ہو یا نہ ہو، اسرائیل کی جانب التفات، اسرائیل کی جانب جھکاؤ انتہائی قبیح عمل ہے اور صرف فلسطین یا امتِ مسلمہ سے ہی نہیں بلکہ پوری انسانت سے انحراف ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ او آئی سی اور عرب لیگ نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات کے مصداق نے ستر سال سے زیادہ گزار دیا، نہ اپنا گھر مضبوط کیا اور نہ اپنا کردار، کہیں دم پکڑا تو حکمت کے بجائے غصہ اور انتقام کا سہارا لینے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی، چونکہ اپنا آرام اور آسائش قربان کرنا نہیں چاہتے، اس لئے خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں اور چونکہ خاموشی کی کوئی مناسب وجہ نہیں، اس لئے یہ خاموشی مجرمانہ خاموشی ہے۔ بہر حال او آئی سی مسلمانوں کے حقوق سے زیادہ ایک کاروباری تنظیم بن چکی ہے، او آئی سی ہو یا اقوام متحدہ، اس نوعیت کی تمام تنظیموں کا یہی رویہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا ضروری نہیں ہے کہ مسلم ممالک امریکا سے ناتا توڑ کر آپس کے تعلقات اور اتحاد و وحدت کی فضاء کو بہتر بنائیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
آپس کے تعلقات ضرور بہتر بنائیں اور اگر امریکا سے ناتا توڑ سکتے ہیں تو ضرور کوشش کرکے دیکھ لیں، لیکن حقیقت سے منہ موڑ لینا کوئی عقلمندی نہیں، لیکن امریکا کے دام سے آزاد ہوں تو کچھ سوچیں، لیکن اب صیاد سے اتنے مانوس ہیں کہ رہائی ملی بھی تو کدھر جائیں گے، بہرحال کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے پاکستانی حکومتوں کے آج تک کے کردار سے مطمئن ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
پاکستانی حکومت؟ وہ کیا ہوتی ہے؟ دیکھیں پاکستان مسئلہ کشمیر سے ہی نمٹ لے، ہی بڑا کام ہوگا، کیونکہ اپنے سرحد اور معیشت کے معاملات کی موجودگی میں ہم فلسطین کیلئے کوئی اطمینان بخش کردار ادا نہیں کرسکتے، یہ یک تلخ حقیقت ہے۔ لہٰذا پاکستان کو اپنی معیشت اور دفاعی قوت بہتر بنانی ہوگی، سرحدی معاملات حل کرنے ہونگے، پھر ہم فلسطین کے معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے، وگرنہ تو فی الحال ہم صرف زبانی جمع خرچ ہی کرسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی:
آیت اللہ خمینیؒ کے جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کے اعلان نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہ ایک انتہائی اچھا اقدام ہے، جس کے باعث نئی نسلوں کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے آگاہی حاصل ہوتی رہے گی۔ اگر مسلم ممالک کے سفارت خانے مغربی ممالک میں اس سلسلے میں یکجا ہو کر تقریبات منعقد کریں، تو دو ایک سال میں ہی مسئلہ فلسطین میں بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 547062
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش