?>?> تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یوم القدس کو بھرپور انداز میں منائیں، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر - اسلام ٹائمز
0
Thursday 30 Jun 2016 15:18

تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یوم القدس کو بھرپور انداز میں منائیں، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر

تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یوم القدس کو بھرپور انداز میں منائیں، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) کا نفاذ ان کی جماعت کا مشن ہے۔ اسلام ٹائمز نے صدر ملی یکجہتی کونسل سے یوم القدس اور پاکستان کے حالات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: القدس کی آزادی اور ہمارا کردار، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومتی سطح پر پاکستان وہ کردار ادا کر پایا ہے جس طرح کشمیر کیلئے رول ادا کرتا ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
جی یہ اپنا ایشو نہیں اٹھا رہے، کل بھوشن یادیو کا معاملہ ہی دیکھ لیں، بار بار ہندوستان ہم پر حملے کرتا ہے، ہمیں بدنام کرتا ہے، اس صورتحال پر وزیراعظم کا ایک بیان تک نہیں آیا، آپ ان سے توقع رکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ عالم اسلام کے مسئلے پر کوئی بیان دیں گے، یہ حکومت تو اپنے ملک کے مسئلے حل نہیں کر پا رہی، اتنی نااہل اور بےغیرت حکومت ہے جو ہندووں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، ان کے آگے ہاتھ جوڑ رہی ہے کہ وہ ناراض نہ ہو جائیں، ان سے توقع رکھتے ہیں کہ القدس کے مسئلے پر اپنا کردار ادا کریں گے، جو باغیرت لوگ ہوتے ہیں، وہ مظلوموں کی آواز اٹھاتے ہیں، ان سے تو اچھا ترکی کا صدر ہے جس نے ہمارے ایشو پر آواز اٹھائی۔ بنگلہ دیشن میں ہونے والی پھانسیوں پر یہ خاموش رہے، کوئی ایک بیان تک نہ آیا۔ یہ کام ان کو کرنا چاہیے تھا، یہ اپنے اہم مسائل جن کا تعلق اپنے ملک کی سرحدوں سے ہے، اس پر آواز نہیں اٹھاتے۔

اسلام ٹائمز: اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ یہ لوگ خاموش ہیں اور بیان تک دینے سے ڈرتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
امریکی غلامی ہے اور کچھ نہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ہمیں اقتدار دیتا ہے، جبکہ اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اقتدار دیتے ہیں، یہ اس چیز پر یقین نہیں رکھتے کہ اقتدار دینے والی اللہ کی ذات ہے اور وہی چھین بھی سکتا ہے، انہوں نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے ممتاز قادری کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد یہ سزا بھگتیں گے، عید کے بعد ان کے خلاف تحریک چلے گی، وقت آ رہا ہے کہ قوم کی ان سے جان چھوٹے گی۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کے ساتھ کہاں ہمارے تعلقات اچھے ہیں؟، ایف سولہ انہوں نے نہیں دیئے، ڈرون حملے وہ کر رہے ہیں، افغانستان سے متعلق امریکہ اور پاکستان ایک پیج پر نہیں تو ہماری پالیسی ہے کیا، ہم کہاں کھڑے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
غلامی اسے کہتے ہیں، غلامی میں اپنے مفادات نہیں دیکھے جاتے، بس Yes Sir اور جی حضوری کا نام ہی غلامی ہے، آقا جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، ان حکمرانوں کے سامنے ملک کے مفاد نہیں ہوتے، بس جو آقا کی مرضی ہوتی ہے وہی ہوتا ہے۔ امریکہ ہندوستان کی کھل کر حمایت کر رہا ہے، امریکیوں نے بھارت کے نیوکلئیر گروپ میں شمولیت کیلئے کھل کر حمایت کی ہے۔ ان کی پالیسیاں واضح ہیں، بلوچستان میں ڈرون سے ملا منصور اختر کو مار کر سارے امن پراسس کو تباہ کر دیا گیا ہے، وہ اپنا سب کچھ کر رہے ہیں، جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے مفاد کیلئے کام کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ہماری خارجہ پالیسی کہاں ہے، چار میں سے تین ہمسایہ ملکوں کو دشمن بنایا لیا ہے، ہم نے ایران سے تعلقات خراب کئے تو اس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور وہ اس وقت ایران کے قریب ہو رہا ہے اور ہم دور ہوگئے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
ہم کھڑے ہیں بس، بدتر صورتحال ہے، پہلے بھارت دشمن تھا اور مشرقی سرحد غیر محفوظ تھی، اب ہم نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان کےساتھ تعلقات خراب کر لئے ہیں، اب صورتحال یہ ہے کہ ہم نے ایران کے ساتھ بھی تعلقات خراب کر لئے ہیں، ایران نے کئی ارب ڈالر لگا کر گیس سرحد تک پہنچا دی، لیکن پاکستان کی طرف سے کام شروع نہیں کیا جا رہا، پہلے کہہ رہے تھے کہ ایران پر عالمی پابندیاں ہیں، اس لئے نہیں کر پا رہے، اب تو وہ پابندی بھی اٹھ چکی ہیں، پھر کیوں گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل نہیں کر رہے۔؟ صرف امریکہ کو خوش کرنے کیلئے، یہ لوگ ملک کا مفاد قربان کر رہے ہیں، اگر ایران کی گیس سسٹم میں شامل ہو جاتی تو ہمارا بجلی کا بحران حل ہو جاتا اور بند پڑیں صنتیں بحال ہو جاتی ہیں، ہم اس بحران سے نجات پا جاتے۔ جتنے پاور اسٹیشنز بند پڑے ہیں، وہ چل پڑے ہوتے، عجیب ہے کہ یہ لوگ تاجکستان سے مہنگی بجلی خریدنے کیلئے تیار ہیں، لیکن ایران جو سستی بجلی دینا چاہتا ہے، اس سے نہیں لے رہے۔ یہ پاکستان سے غداری اور دشمنی کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: معروف قوال امجد صابری کو شہید کر دیا گیا، کیا عوامل دیکھ رہے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
یہ انتظامیہ اور ایجنسیوں کا کام ہے جن پر کروڑوں، اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں وہ بتائیں، یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے دہشتگردوں کو ختم کر دیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کہاں ختم کر دیا ہے۔؟ ایک دو دہشت گردوں کو ختم کرنے سے دہشتگرد تھوڑی ختم ہو جاتے ہیں، یہ لوگ دہشت گردوں کی نرسریاں ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جب موقع دیکھتے ہیں کہ وہ باہر آجاتے ہیں اور کارروائی کرکے چلے جاتے ہیں، ان کی ہمت نہیں ہے کہ ان کو پکڑیں اور گرفتار کریں۔

اسلام ٹائمز: وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ جیت رہے ہیں دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کے سترہ نکات ابھی بھی معطل ہیں، کالعدم جماعتیں اسی طرح کام کر رہی ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
یہ لوگ اپنے دعووں کی خود نفی کر رہے ہیں، ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں، دوسری طرف نیکٹا جیسا ادارہ فنگشنل ہی نہیں ہوا، یہ اتنا تک نہیں بتاتے کہ کتنا کام ہوچکا ہے کتنا باقی ہے، کچھ نہیں ہو رہا ہے، بس دعوے ہو رہے ہیں۔ یہ بغیر کسی سمت کے چل رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی ہونے کے ناطے ہم القدس کیلئے کیا کردار کرسکتے ہیں، علماء کو اس معاملے پر کیا کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
ہمیں علماء کو چاہیئے کہ القدس کو بھرپور انداز میں منائیں، اس طرح آواز بلند کریں کہ فلسطینیوں کو احساس ہو کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیلی مظالم کیخلاف مظاہرے کرنے چاہیئے، میں ملی یکہتی کونسل کے صدر ہونے کے ناطے کونسل میں شامل تمام جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بار زبردست انداز میں القدس منائیں، آخری جمعۃ الوداع کو جمعہ کے خطابات میں مسئلہ فلسطین کو بھرپور انداز میں اٹھائیں، تمام ذاکرین، علماء، خطباء، مفتی حضرات سب ملکر اس ایشو کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔ اسرائیلی مظالم پر آواز اٹھائیں اور ان حکمرانوں کی بھی مذمت کریں جو اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں، محفوظ راستہ دیتے ہیں، یہ بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہوگی کہ یہ لوگ اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں اور اسے سپورٹ کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا کہتے ہیں کہ مشرق وسطٰی میں لگی آگ اسرائیل کو سپورٹ نہیں کرتی، اسرائیل تو خوش ہو رہا ہوگا کہ چلو اچھا ہے یہ اپنے ہی گھروں میں لڑ رہے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ تفرقہ میں مت پڑھنا، اتحاد قائم رکھنا، انتشار مت کرنا، قرآن نے صاف کہہ دیا کہ اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہ ہوا اکھڑی ہے، تب یہ اسرائیل جو ایک شہر سے بڑا نہیں، وہ ایسی سازشیں کرنے میں کامیاب ہے۔ اگر ہم متحد ہوتے، ان کی یہ سازشیں کبھی کامیاب نہ ہوتیں، شام، یمن میں یہ سازشیں اسرائیل کر رہا ہے، تاکہ بدامنی قائم رہے۔
خبر کا کوڈ : 549592
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش