0
Friday 22 Jul 2016 14:03

رفاہی امور چلانے اور عوامی بہبود کیلئے کام کرنیکی خاطر اعلٰی فوجی عہدے سے ریٹائرمنٹ لی، کرنل نقوی

رفاہی امور چلانے اور عوامی بہبود کیلئے کام کرنیکی خاطر اعلٰی فوجی عہدے سے ریٹائرمنٹ لی، کرنل نقوی
کرنل غلام حسن نقوی کا تعلق بخاری سادات سے ہے۔ پیدائش پاکستان بننے سے پہلے انڈیا میں ہوئی۔ انڈیا کی تقسیم پر 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ابتدائی تعلیم ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ میں حاصل کی۔ پھر لاہور آگئے اور گریجویشن ایف سی کالج لاہور سے کیا۔ گریجویشن کے بعد 1966ء میں فوج میں بھرتی ہوئے، 1966ء سے لیکر 1994ء تک فوج میں رہے اور 1994ء میں بطور کرنل کے فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اسکے بعد جابر بن حیان ٹرسٹ کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس ٹرسٹ کے تحت ملک کے طول و عرض میں اسوہ پبلک سکول کے نام سے تعلیمی ادارے قائم کئے، جبکہ آج کل ہیومن ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے نام سے اپنا ایک ٹرسٹ چلا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے، سنا ہے کہ کسی اہم مقصد کی نیت سے اس اہم عہدے کو چھوڑا ہے، کونسی چیز سبب بنی کہ وقت سے پہلے ایسے اہم عہدے سے دستبردار ہوں۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
میری خواہش تھی کہ بہترین طریقے اور محبت کے ساتھ عوام کے ساتھ رہوں اور ان کی خدمت کرسکوں۔ اسی خواہش کے سبب میں نے 1994ء میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور اسکے فوراً بعد میں نے شیخ محسن علی نجفی صاحب کے ساتھ ملاقات کرکے انکی سربراہی میں پروگرام بنایا اور جابر بن حیان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی گئی، اسی ٹرسٹ کے تحت اسوہ ایجوکیشن سسٹم شروع کیا گیا۔ ہم نے شمالی علاقہ جات سے یہ سسٹم شروع کرکے پورے ملک میں تعلیمی جال بچھا دیا۔ ایسے کام کو آگے بڑھانے کیلئے مقامی لوگوں کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا ہر سکول کے لئے ایک علاقائی عوامی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو سکول کے نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسلام ٹائمز: اس منصوبے کا آئیڈیا آپ نے پیش کیا تھا اور شیخ صاحب کو تجویز دی تھی یا یہ شیخ صاحب کا اپنا منصوبہ تھا۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
ابتداء میں انہوں (شیخ صاحب) نے بلتستان پبلک سکول کی بنیاد رکھی تھی، جو کہ مخصوص علاقے کیلئے فائدہ مند تھا۔ پھر ان کے ساتھ مل بیٹھ کر اسوہ پبلک سکول کے نام سے تعلیمی ادارے کا آغاز کیا گیا۔ اسوہ کا نام پورے ملک میں مسلمانوں کیلئے قابل قبول ہے۔ سب سے پہلے چار سکول بنے تھے۔ ہر سکول میں 30، 30 بچے داخل ہوئے تھے اور ہم نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا کہ ہر سال ہر سکول میں 30 بچے اضافی داخل کرائیں گے۔ اسی طرح یہ پروگرام آگے بڑھتا رہا، جسے بہت پذیرائی ملی۔ اب الحمد اللہ ملک کے مختلف حصوں میں 65 سکولز و کالجز ہیں، جس میں ہائی سکولز و کالجز شامل ہیں۔ منیجمنٹ کالجز کے علاوہ 3 ریزیڈنسی کالجز بھی تشکیل پا گئے ہیں، جو میل اور فیمیل دونوں پر مشتمل ہیں۔ اب تک تقریباً 350 بچے ایسے ہیں جو اس پروگرام سے فارغ التحصیل ہوکر انجینئرز، ڈاکٹر اور فوجی اداروں میں اعلٰی افسرز بن چکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے اس ٹرسٹ کو خیر باد کہہ دیا ہے، اسکی وجہ کیا تھی۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
میں نے ٹرسٹ کو مکمل خیر باد نہیں کہا۔ پہلے یعنی 1994ء سے لیکر 2007ء تک میں نے اس ٹرسٹ کو مکمل ٹائم دیا تھا۔ میں جابر بن حیان ٹرسٹ کا بانی ممبر تھا اور اب بھی ہوں۔ میں نے 2007ء میں ملک کے مختلف حصوں میں جہاں ہمارے سکول یا کالجز تھے، ان کے بائی روڈ دورہ جات شروع کئے، اس کے علاوہ میں دو اور کالجز کا بھی ممبر ہوں۔ اسی وجہ سے مکمل ٹائم دینے کی بجائے اب کم وقت دے پاتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: سنا ہے کہ آپکا اپنا بھی کوئی ٹرسٹ چل رہا ہے، اسکی تفصیل بیان کرینگے۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
میں نے 2011ء میں ایک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی، جس کا نام ہیومن ڈویلپمنٹ ٹرسٹ ہے۔ اس ٹرسٹ میں ہم وہ افراد شامل کرتے ہیں جو پہلے سے ہمارے ساتھ منسلک ہوں۔ اس پروگرام کے تحت ہم فلاحی کام کرتے ہیں۔ جس میں ہیلتھ یعنی میڈیکل کیمپس، بلڈنگ کی مرمت وغیرہ شامل ہیں۔ اسی پروگرام کے تحت نجف اشرف میں پاکستانی دینی طلاب کے بچوں کیلئے سکول کی بنیاد رکھی گئی ہے، چونکہ نجف اشرف میں پاکستان سے جانے والے طلاب کے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی تھی، یا وہاں پر کوئی اردو میڈیم یا ہمارے یعنی پاکستانی طرز کے سکول موجود نہیں تھے۔ طلاب کے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے نجف اشرف میں پرائمری سکول کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کو آہستہ آہستہ پذیرائی ملی۔ تعداد بڑھتی گئی اور سکول بہت مقبول ہوتا گیا۔ اس سلسلے میں مدد بھی کی گئی۔ اب اس سکول کی مڈل یعنی سینیئر کلاس آٹھویں جماعت تک پہنچ گئی ہے۔ میں نے اسکا دورہ بھی کیا ہے اور اب الحمد اللہ بچوں کی تعداد 200 سے بھی بڑھ گئی ہے۔ سکول کو بہتر بنانے کے لئے بلڈنگ کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ آئندہ اپنی نئی بلڈنگ بنانے کا بھی پروگرام بنایا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس سکول میں صرف پاکستانی بچے ہیں یا دیگر ممالک کے بچے بھی۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
اس سکول میں پاکستانی بچوں کے علاوہ انڈین، بنگلہ دیش اور نیشنل بچوں نے بھی آنا شروع کر دیا ہے، جبکہ اس کو انٹرنیشنل سکول سسٹم بنانے کا بھی پروگرام ہے۔

اسلام ٹائمز: الحمداللہ آپ نے اسوہ سسٹم کو بہترین طریقے سے چلایا اور اس کام کا بہت تجربہ بھی رکھتے ہیں، کیا اسلام آباد میں اپنا کوئی سکول یا کالج سسٹم بنانے کا پروگرام ہے۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا کہ ہم ہمارے ساتھ منسلک کارکنوں کے پروجیکٹ میں تعاون کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنا سسٹم بنائیں تو محدود ہوجائیں گے، جبکہ دوسروں کے پروجیکٹ میں تعاون سے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سنا ہے کہ آپ امریکہ میں تھے، وہاں کا ماحول یہاں سے بہت ترقی یافتہ ہے، آج کل لوگوں کا وہاں جانا ایک آرزو بن گیا ہے۔ آپکو وہ ماحول پسند کیوں نہیں آیا، یہاں کیوں آگئے۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
میں امریکہ گیا تھا، وہاں کے لوگ دن رات مشین کی طرح مصروف رہتے ہیں۔ صرف Weekend (ہفتہ وار چھٹی) پر اکٹھے ہوتے اور آپس میں ملتے ہیں، جبکہ مجھے اس عمر میں پورا ہفتہ بے کار بیٹھنا پسند نہیں تھا۔ اسلئے یہاں آکر لوگوں کی خدمت میں دن رات مصروف رہنے کو پسند کرتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپکے پاس شہداء کے بچوں، مجروحین اور متاثرین کیلئے کوئی پروجیکٹ موجود ہے۔؟
کرنل غلام حسن نقوی:
جی بالکل، ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جو شہداء کے بچوں، مجروحین اور متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔ انکے ساتھ میرا مسلسل رابطہ ہے، ان کے ساتھ میرا مکمل تعاون ہے۔ جیسا کہ اسلام آباد میں ایسے لوگوں کی مدد کیلئے ایک ٹرسٹ بن گیا ہے۔ جس کا میں بھی ممبر ہوں اور آگے ان کا میڈیکل کمپلیکس و یتیم بچوں کیلئے سکول سسٹم کا پروگرام ہے، جس میں میرا حصہ بھی ہوگا۔ ملک بھر کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے افراد کی مدد کی جا رہی ہے۔ جس میں کرم ایجنسی، پارا چنار بھی شامل ہے۔
خبر کا کوڈ : 554622
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے