0
Friday 29 Jul 2016 10:12
خودکش حملے کرنیوالے امت مسلمہ کو بدنام کر رہے ہیں

دہشتگردوں کو رقم اور اسلحہ فراہم کرنیوالے بہت جلد اس آگ کی لپیٹ میں آئینگے، ملک محمد آصف بھا

ہمارا دشمن ہمیں باہمی طور پر لڑا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے
دہشتگردوں کو رقم اور اسلحہ فراہم کرنیوالے بہت جلد اس آگ کی لپیٹ میں آئینگے، ملک محمد آصف بھا
صوبہ پنجاب کے وزیر برائے جنگلات، جنگلی حیات اور فشیریز ملک محمد آصف بھا کا تعلق خوشاب سے ہے، 1970ء میں پیدا ہوئے۔ ایل ایل بی اور ایگریکلچرسٹ ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون خوشاب کے نوجوان سیاسی رہنما مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلسل تیسری بار ایم پی اے منتخب ہونے والے ملک آصف بھا نے اپنے سیاسی کیئریر کا آغاز مقامی یونین کونسل سے کیا، پہلی بار 2002ء، دوسری بار 2008ء اور تیسری بار 2013ء کے قومی انتخابات میں حلقہ پی پی 41 خوشاب سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2003ء سے 2007ء تک بیت المال کے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رہے، 2012ء میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلیف اور کراسسز مینجمنٹ رہے۔ فعال بھی ہیں اور مقبول عام بھی، اپنے لئے خادم خوشاب کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ معتدل مزاج اور رواداری کی خو رکھنے والے سادہ طبیعت رکن صوبائی اسمبلی کیساتھ اسلام ٹائمز کی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے، عمران خان نے حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے، ایک ہی وقت میں نتیجے کو تسلیم کرنے اور احتجاج کا اعلان، آپ کیا کہیں گے۔؟
ملک محمد آصف بھا:
بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی بھاری اکثریت سے کامیابی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ عوام دھرنا پارٹی اور پیپلز پارٹی کیساتھ نہیں، بلکہ وہ میاں نواز شریف کی قیادت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ملک کی ترقی چاہتی ہے، جبکہ عمران خان ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں، کشمیر کے عوام نے اسی لئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ شکست نے عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ ایک صوبے میں ان کی حکومت بھی ہے، وہ میڈیا پر کارکردگی دکھانے کے بجائے گراﺅنڈ پر دکھائیں۔ عمران خان اور پرویز خٹک اپنی ناکامی کا اعتراف کرچکے ہیں، خود عمران خان نے تین سال حکومت گرانے کی کوشش میں ضائع کئے۔ مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی نے سازشی ٹولے کو سوچنے پر مجبور کیا ہے، تحریک انصاف کی صفوں میں ہلچل نون لیگ کی کامیابیوں کی وجہ سے ہے۔ مسلم لیگ نون سے لڑنے والوں سے اندر کی لڑائیاں نہیں سنبھالی جا رہی، یہ بوکھلاہٹ ہے۔ (ن) لیگ کو آزاد کشمیر میں توقع سے زائد نشستیں ملی ہیں، آزاد کشمیر میں (ن) لیگ کو کامیاب کرکے عوام نے کشمیر پالیسی کی حمایت کی، پانامہ لیکس کا معاملہ نان ایشو ہے، اسے جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں میں سے احتجاجی تحریک کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن واضح نہیں، ایک طرف اپوزیشن لیڈر اور وزیر خزانہ کی ملاقاتیں بھی جاری ہیں، دوسری طرف پی پی پی نے آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دیا ہے، یہ پی ٹی آئی سے الگ کوئی موقف ہے یا اس طرزعمل سے کسی اور کہانی کی نشاندہی ہوتی ہے۔؟
ملک محمد آصف بھا:
  جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے، ان کی کاکردگی خود شاہد ہے، الیکشن کے نتائج میں پی پی پی کی بدترین شکست کوئی انہونی بات نہیں۔ کاش بلاول زرداری اور لطیف کھوسہ آزاد کشمیر میں مجید حکومت کی کرپشن اور بدعنوانیوں کا بہت پہلے نوٹس لے لیتے تو شاید اتنی عبرتناک شکست نہ ہوتی، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، الیکشن میں دھاندلی کا خطرہ تو ہمیں تھا، عوام نے نواز شریف کے ترقی اور خوشحالی کے ویژن کو ووٹ دے کر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پورے پاکستان میں نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا پیغام دیا ہے۔ بلاول بھٹو صاحب کو کہوں گا کہ انگور کھٹے ہیں، اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور چوھدری مجید کی فْل کلاس لیں، خود پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر کی قیادت نے چوہدری مجید حکومت کی کرپشن اور بدعنوانی کو شکست کا ذمہ دار ٹھرایا ہے، ہم تو افواج پاکستان اور الیکشن کمشن کو پرامن اور شفاف الیکشن کروانے پر مبارک دیتے ہیں۔

اگر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور دوسری اپوزیشن جماعتیں اپنی حکمت عملی بنا رہی ہیں تو حکومت کی طرف سے بھی اب فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ پاناما لیکس پر اب مخالفین کو بھرپور جواب دیا جائیگا، حکومت کی طرف سے بنائے گئے ٹی او آرز پر مخالفین بوکھلا گئے ہیں، پاکستان میں شیر ہر جگہ موجود ہے اور مخالفین کو اندازہ ہے کہ مسلم لیگ 2018ء کے انتخابات میں ایک دفعہ پھر کامیاب ہوگی اور یہی بات مخالفین کو ہضم نہیں ہوتی، مسلم لیگ نون کی حکومت کی کارکردگی سے مخالفین کی نیندیں اڑ چکی ہیں، وزیراعظم کا اپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کرنا ایک اعلٰی روایت ہے اور یہ میاں نواز شریف کی اخلاقی فتح ہے۔ مسلم لیگ نون وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلٰی میاں شہباز شریف کی قیادت میں ملکی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کی مخالفین کو بہت تکلیف ہے، وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا اور اور ترقی کی راہ پر چلتا نہیں دیکھ سکتے، یہی وجہ ہے کہ کبھی دھرنوں اور کبھی مختلف سکینڈول کی وجہ سے ترقی کی راہ روکتے ہیں، لیکن مخالفین کو ناکامی کے ساتھ ساتھ مایوسی بھی ہوگی، کیونکہ پاکستان کے عوام کو میاں محمد نواز شریف کی قیادت پر مکمل یقین ہے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن کی طرف سے احتجاج بھی جاری ہیں، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی جیسے مسائل کی وجہ سے لوگ بھی تنگ ہیں، حکومت کا مستقبل کیا ہوگا۔؟
ملک محمد آصف بھا:
حکومت عوامی فلاحی منصوبوں کی شفاف طریقے سے تیزی سے تکمیل کا تسلسل جاری رکھے گی۔ ‎الزامات کی سیاست کرنے والوں کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، حکومت پوری ذمہ داری سے ملک و قوم کی خدمت کر رہی ہے، مسائل تیزی سے ختم ہونے سے عوام کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔ عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت بہت جلد بلدیاتی نمائندوں کو اختیار سونپ دے گی، جس کے بعد عوام کے منتخب نمائندے بہتر انداز میں ان کے مسائل حل کریں گے۔ میاں شہباز شریف نے خوشاب سمیت پورے صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی، پختہ سڑکیں اور ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپے کے منصوبے دیئے ہیں، جن پر کام پوری تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک و قوم کو بھنور سے نکالنے کے لئے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور ان شاء ﷲ اس دوران پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا اور پوری دنیا میں پاکستان ایک بلند مقام حاصل کرے گا۔ چین میں تیز رفتار منصوبوں کی تکمیل کے لئے شین زن سپیڈ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی، اب پنجاب حکومت کے تیز منصوبوں کے باعث شہباز شریف سپیڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ پہلے اپوزیشن ایک بار پھر ملکی ترقی اور جمہوریت کے استحکام میں رکاوٹ بننے کی کوشش میں ہے، لیکن باشعور عوام ملک میں انتشار پھیلانے والے مخالفین کی تمام سازشیں ناکام بنا دیں گے۔

اسلام ٹائمز: سندھ میں اقتدار کی کرسی کی تبدیلی سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے، اسکے اثرات ملک کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔؟
ملک محمد آصف بھا:
صرف نام یا چہرے کی تبدیلی سے کچھ نہیں بدلے گا، انداز حکمرانی بدلے بغیر سندھ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، جو جماعت اپنے صوبے میں کچھ نہیں کرسکی، وہ ملکی سیاست کو کیسے متاثر کرسکتی ہے، پرانا وزیراعلٰی ہو یا نیا، سب بے اختیار ہیں، طاقت کا مرکز اب ملک سے باہر ہے، نعرہ انکا جمہوریت ہے، تمام ناکامیوں اور برائیوں کی وجہ ہی یہی ہے۔ جب پارٹی کے اندر ہی اختیارات منتقل نہیں ہوتے، انکے اثرات عوام تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعلٰی کی تبدیلی صرف ایک ڈھونگ ہے، جس کا مقصد کرپشن کو نہ صرف چھپانا بلکہ مزید منظم انداز میں کرپشن کرنا ہے، موجودہ صورتحال میں تبدیلی چہروں سے نہیں بلکہ نظام سے تبدیلی آئے گی۔ مراد علی شاہ کے وزیراعلٰی بنے سے صوبے میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں ہے، پیپلز پارٹی نے اپنی 8 برس کی بیڈ گورننس کو چھپانے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے، وزیراعلٰی کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہونے والا۔ اگر فیصلے آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے کرنے ہیں تو صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، مراد علی شاہ کو جب تک مکمل اختیارات نہیں ملیں گے، تب تک وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔

سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ جلد ہی خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا، ہم نے کبھی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار نہیں کیا۔ رینجرز کے اختیارات کو مشروط نہیں کرنا چاہیے، بلکہ امن و امان کے قیام کے لئے رینجرز کو مکمل اختیارات دینے چاہئیں، تاکہ کراچی میں امن کو یقینی بنایا جا سکے، کراچی میں رینجرز آپریشن کی بدولت امن بحال ہوا ہے اور ٹارگٹ کلنگ سمیت بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے، ہم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو ہمارے عدم استحکام کا شکار کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں، ہم نے کبھی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار نہیں کیا، پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ سندھ میں اپنی گورننس کو بہتر بنائے اور یہاں کی عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے، پولیس سے سیاسی مداخلت کو کم کیا جائے، تاکہ یہاں رینجرز لانے کی نوبت ہی نہ آئے، وفاق تمام صوبوں کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کرتا ہے اور جس صوبے کا جو بھی مالی حصہ بنتا ہے، اسے فوری دیا جاتا ہے، ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں اور اس سلسلے میں سابق صدر آصف زرداری سمیت تمام لوگوں سے رابطے میں ہیں۔

اسلام ٹائمز: ‎جہاں سے آپ مسلسل رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو رہے ہیں، وہاں نوابوں اور ملکوں کا راج رہا ہے، اس جاگیردارانہ ماحول میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سیاسی ورکر کو کامیابی کیسے مل گئی۔؟
ملک محمد آصف بھا:
عوام غلامی کی زنجیریں توڑ کر باشعور ہوگئے ہیں، ہم نے نوجوان نسل کو وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری نظام سے نجات دلانے کا جو عزم کیا تھا، اسے پورا کر دکھایا ہے، عوام نے 30 سالوں سے مسلط رہنے والے جاگیرداروں کے سامنے ڈھال بن کر ہمیں تین مرتبہ کامیابی دلائی۔ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں صدیوں سے محروم علاقہ اب تعمیر و ترقی کی جانب رواں دواں ہے۔ میری کوشش ہے کہ اس شعور میں اضافہ ہو، علاقہ ترقی کی منزلیں طے کرے، اس کا ذریعہ تعلیم ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم کے حصول پر ہے، تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے، جسے حاصل کرکے ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے برابر ہوسکتے ہیں۔ میری ترجیح تعلیم کا فروغ ہے، اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں، ان شا اللہ بہتری آئے گی۔ جس طرح عوام نے میرا ساتھ دیا ہے، عوام کی محبت کو فراموش نہیں کرسکتا، جھوٹے وعدے نہیں کرتا، جو کہتا ہوں پورا کرتا ہوں۔ رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جذبے کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے پاس اس کی کوئی کمی نہیں۔
میں وہ سرکش ہوں جو آتا نہیں کبھی زیر دام
میں نہیں کرتا کسی سلطان دنیا کو سلام
ہاں مگر نام حسین ابن علی آ جائے تو
میں غلام، ابن غلام، ابن غلام ابن غلام


اسلام ٹائمز: پاکستان اسلام کے نام پہ بنا ہے، مذہبی رواداری کے بغیر شدت پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔؟
ملک محمد آصف بھا:
پاکستان میں مذہبی اختلافات اتنی شدت سے نہیں ہیں جو سمجھے جاتے ہیں، کچھ اپنوں کی نادانی ہے اور زیادہ تر دشمن کی سازش ہے، ہمارا دشمن ہمیں باہمی طور پر لڑا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جب سے پاکستان بنا ہے، تمام طبقات مل کر رہ رہے ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں میں دوزخ، جنت خود سے نہ بانٹیں۔ مذھب کے نام پر لڑنے کی بجائے اس پر عمل کریں۔ یہ تو واضح ہے کہ عقیدہ آپ کو کسی انسان سے نفرت سکھا رہا ہے، تو جان لیجئے کہ آپ غلط جگہ کھڑے ہیں۔ جہالت اور تعصب کی وجہ سے بھی لوگ مذہب کا سہارا لیکر عداوتیں پالتے ہیں، حالانکہ انکا مقصد اپنی انا کو تسکین دینا اور دوسروں کو نیچا دکھانا ہوتا ہے، رواداری کا ماحول بنا رکھنے کے لئے عاجزی ضروری ہے، پھر یہ نوبت ہی نہیں آتی۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، یہ معاشرے کا بھی مسئلہ ہے اور ریاست کا بھی، خودکش حملے کرنے والے امت مسلمہ کو بدنام کر رہے ہیں، ان دہشت گردوں کو رقم اور اسلحہ فراہم کرنے والے بہت جلد اس آگ کی لپیٹ میں آئیں گے۔ یورپ میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتیں اس کی ایک مثال ہیں، یورپ کے واقعات وہاں کی داخلی صورتحال سے زیادہ ان ممالک کی خارجہ پالیسیوں اور دنیا بھر امریکی استعمار کی حمایت کی وجہ سے ہو رہے ہیں، لیکن دہشت گردی ہر صورت میں قابل مذمت ہے۔ ہر لمحے دعا گو رہنا چاہیے، اپنے لئے، اپنی قوم کے لئے، اپنے ملک کے لئے، سب مسلمانوں کے لئے۔
يا رب مجھے بسلسلہء انبياؑ بخش دے
برائے شاهِ اوليا علی مرتضٰیؑ بخش دے
يا رب ہیں گناه میرے، پہاڑوں سے زیادہ
مجھے بحق فاطمہ خيرالنساؑ بخش دے


اسلام ٹائمز: مسلمان انتشار کا شکار ہیں، پاکستان میں بھی داخلی طور عدم استحکام کی فضا ہے، کشمیری مسلمانوں کیلئے ایک غیر مستحکم پاکستان کیا کرسکتا ہے۔؟
ملک محمد آصف بھا:
ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ پاکستان میں مسائل ہیں، لیکن پاکستان قوم، حکومت اور فوج کشمیری بھائیوں کی پشت پہ کھڑے ہیں، لیکن سب کچھ کے باوجود اہم کردار کشمیر کے غیور لوگوں کا ہے، وہ یہ کردار بڑی دلیری اور ہمت سے انجام دے رہے ہیں، انہیں اپنے حوصلے بلند رکھنے چاہیں، پاکستان کی حکومت، عوام، اپوزیشن، مذہبی جماعتیں، ریاستی ادارے، فوج کشمیر کی حمایت اور آزادی کی تحریک اور کشمیر کے پاکستانی شہ رگ ہونے کے موقف سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔ کشمیر میں شہید ہونے والے اور میدان میں جم کر آزادی کی جنگ لڑنے والے بچوں، خواتین، بزرگوں اور شہیدوں کو سلام ہے، وہ ڈٹے رہیں، انکا حق انکو مل کے رہے گا۔ یہی کہوں گا کہ ہمیں صرف سوگ منا کر یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم نے کشمیریوں کی حمایت کا حق ادا کر دیا، بلکہ مسلسل کشمیر کے مسئلے کو ملک میں دنیا میں زندہ رکھنا چاہیے۔
چلو حسینؑ کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہوگا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا
خبر کا کوڈ : 555864
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش