0
Friday 9 Sep 2016 11:03
آل سعود اور آل خلیفہ وقت کے استبداد ہیں

فکری اور نظریاتی انحطاط ختم کئے بغیر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا، سید سرفراز نقوی

وقت کا تقاضا ہے کہ تمام اہل وطن ایک قوم بن کر زندگی بسر کریں
فکری اور نظریاتی انحطاط ختم کئے بغیر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا، سید سرفراز نقوی
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نو منتخب مرکزی صدر سید سرفراز حسین نقوی گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔ 2009ء میں آئی ایس او میں شامل ہوئے، فیصل آباد یونیورسٹی، فیصل آباد ڈویژن کے صدر کی ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں اور دو سال مرکزی نائب صدر کی ذمہ داری پہ فائز رہے ہیں۔ وسیع المطالعہ اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ امامیہ نوجوانوں میں ہردلعزیز ہیں، یونیورسٹیز اور فکری تربیت کو ترجیح قرار دیتے ہیں۔ نئے تنظیمی سال کے آغاز میں امامیہ طلبہ کے میر کارواں کیساتھ ملکی حالات، قومی مسائل اور تنظیمی ترجیحات سے متعلق اسلام ٹائمز کی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آپکی نظر میں پاکستان اور بحیثیت پاکستانی قوم ہمارا سب سے اہم مسئلہ کیا ہے، اسکا حل کیا ہے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
ہمارے ملک کا بنیادی ترین مسئلہ علمی شعور کی کمی ہے اور اسکا سبب بہترین نظام تعلیم کا نہ ہونا ہے، اس میں بہتری کی ضرورت ہے، اسی طرح پاکستان میں فکری اور نظریاتی انحطاط کو ختم کرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔ دوسرے مسائل میں سے اہم یہ ہے کہ جس نظریئے کے تحت پاکستان وجود میں آیا، حکمران اشرافیہ نے اسے نافذ نہیں ہونے دیا۔ موجودہ حکمران طبقے کی پالیسیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس نظریئے سے ہٹ رہا ہے۔ حکمرانی اور حکمرانوں کے لئے جو بنیادی اسلامی اصول ہیں، ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح بحیثیت قوم ہم بکھرے ہوئے ہیں، دھڑوں اور طبقات میں تقسیم ہیں، علاقائی، لسانی، مسلکی رنگ زیادہ غالب ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ایک قوم بن کر زندگی بسر کریں۔

اسلام ٹائمز: ہمارا ملک ترقی اور خوشحالی کی منزل کیسے حاصل کرسکتا ہے؟ ترقی سے مراد کیا لیں گے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
ملکی اور قومی خوشحالی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کی ذہنی سطح بلند ہو، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اچھی ہو۔ معاشرہ علمی، سائنسی میدانوں میں ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہو۔ ذہنی اور فکری طور پر اس قدر استحکام ہونا چاہیے کہ وہ دوسری اقوام سے مرعوب نہ ہوں، بالخصوص دنیا کی ظالم اور استعماری طاقتوں کے نظریات سے متاثر نہ ہوں، ذہنی طور پر انکے غلام نہ بنیں۔ اس نظریاتی و فکری استحکام اور سائنسی و علمی ترقی کے لئے لازمی ہے کہ لوگوں کی بنیادی ضروریات اپنے ملک میں ہی پوری ہو رہی ہوں، جیسے روزگار ہے، امن و امان اور سکیورٹی کے مسائل حل ہوں، اگر یہ بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ لوازمات اور مقدمات فراہم ہوں تو ہماری قوم میں پوٹینشل موجود ہے، ہمارا معاشرہ ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے، موجود رکاوٹوں کو ہٹا دیا جائے اور مواقع فراہم کئے جائیں تو پاکستانی قوم کسی سے کم نہیں، ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکتی ہے، دنیا میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو کر ملک و قوم کو عظیم مقام دلا سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ہمارا ملک ایٹمی طاقت ہے، بہترین محل وقوع پہ واقع ہے، اسی لئے مشرق وسطٰی کے حالات ہمیں براہ راست متاثر کرتے ہیں، اسوقت ہمیں کیا خطرات درپیش ہیں، انکا تدارک کیسے ممکن ہے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
پاکستان اپنے محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین مقام پر واقع ہے، قیمتی وسائل سے مالا مال ہے، جغرافیائی اعتبار سے پاکستان اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ملک ہے۔ دنیا کے اہم ممالک کے سنگم میں واقع پاکستان کے حالات اور ان میں آنے والی تبدیلیاں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ خطے میں اہم حیثیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی نظر پاکستان پہ ہے، وہ خطے میں کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے خطے کے دوسرے ممالک کے پاکستان کیساتھ تعلقات کو سازشوں کی زد میں رکھتے ہیں، بالخصوص سی پیک منصوبہ اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے انکی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ اس وقت اسٹریٹیجک نقطہ نظر سے پاکستان کو درپیش چینلجز میں خارجہ پالیسی کا محاذ سب سے اہم ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، بالخصوص ہمیں اپنے ہمسایہ دوست ممالک کیساتھ تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح اندرونی طور پر استعمار کے آلہ کار عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ترقی اور استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی اچھے اصولوں پہ استوار ہو، مشرق وسطٰی میں کسی ایسے ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جو خود پاکستان کیساتھ مخلص نہیں، بلکہ عالم اسلام میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، پالیسی ایسی ہونی چاہیے جس سے حالات میں بہتری آئے اور کسی ظالم کو تقویت نہ ملے۔

مشرق وسطٰی کے حالات براہ راست پاکستان سے وابستہ ہیں اور ہماری صورتحال کو متاثر کر رہے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے کہ سوء تفاہم کی وجہ سے محبتون کی بجائے نفرتوں کا ماحول اور فضا بن گئی ہے، ورنہ کون نہیں جانتا کہ داعش کی سرپرستی اسرائیل اور امریکہ کرتے ہیں، عراق اور شام میں انکے مقاصد کس قدر مذموم ہیں، ہمیں بحیثیت امت اور بحیثیت پاکستانی قوم بین الاقوامی تناظر میں استعماری طاقتوں کی چالوں کو سمجھنا ہوگا، تاکہ دھوکہ نہ کھائیں۔ اسی طرح عالم اسلام کے داخلی مسائل اور انکے اسباب کو حقیقت بین نگاہوں سے دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ جس طرح رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای فرمایا ہے کہ حج جیسے مقدس اور اہم معاملے کو غیر ذمہ دار ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے، مثال کے طور ہر امت مسلمہ کو درپیش مسائل میں سے یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس پر نکتہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے، کہ اگر ایک ہی خاندان کسی طرح حرمین پہ قابض ہوگیا ہے تو ہر جائز و ناجائز طریقے سے انکے انداز حکمرانی کو قبول کئے رکھیں، ذمہ داری کا احساس کیوں نہ کریں، ضروری ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ جیسے استبدادی چہروں سے تقدس کا نقاب اتار کر عالم اسلام کو ان سے نجات دلائی جائے۔

اسلام ٹائمز: جب ہم کہتے ہیں کہ خطے اور بالخصوص مشرق وسطٰی کے حالات ہمیں براہ راست متاثر کرتے ہیں، تو پاکستان میں بسنے والے خط ولایت کے پیروکاروں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
پاکستان میں اسلام دشمن طاقتوں کے چہروں سے نقاب اتارنا اور انکو آشکار کرنا، پاکستان دشمن طاقتوں کا اثر و رسوخ اپنے ملک سے ختم کرنا، خود رہبر معظم کی شخصیت و افکار کا تعارف کروانا، تاکہ ہمارا معاشرہ بھی انکی تعلیمات اور اس نظام کے تجربات و برکات سے بہرہ مند ہوسکے۔ بطور مسلمان، بطور پاکستانی نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ادا کرنا، ہر اس نوجوان کی ذمہ داری ہے، جو خط ولایت فقیہ اور خط امام خمینی کا پیروکار ہے۔ بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی نوجوان ہمیں غافل نہیں ہونا چاہیے، تعلیمی عمل پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا اور اسے پورا کرنا چاہیے۔ بالخصوص امامیہ طلبہ سے گذارش کروں گا کہ عشق حسین علیہ السلام سے سرشار جذبوں کیساتھ محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں، ہم نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے، یہ گھٹاٹوپ اندھیرے جلد ختم ہونے والے ہیں، پرامید ہو کر جدوجہد کریں، اللہ تعالٰی کی نصرت ہمارے شامل حال ہے، جتنا کام کریں کم ہے۔

اسلام ٹائمز: اپنے وطن کی ترقی اور استحکام کیلئے نوجوانوں کی کیا اہمیت ہے، طلبہ تنظیموں کو اس میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
جمہوری معاشروں میں حکمرانی کرنے والی قیادت اور لیڈرشپ جوانوں میں سے ہی نکل کے آتی ہے، اس میں طلبہ تنظیموں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اس لئے جس نہج پہ انکی فکری اور عملی تربیت ہوگی، جن خطوط پہ وہ پروان چڑھیں گے، اسی سے ملک و قوم کی تقدیر وابستہ ہوگی۔ جس قدر نوجوانوں کی سوچ اچھی اور بلند ہوگی، آنے والے وقت میں ملک آگے بڑھے گا۔ طلبہ تنظیمیں ایسا ماحول فراہم کرسکتی ہیں، جہاں عصری تقاضوں کے مطابق نئی نسلیں پروان چڑھیں اور قومی قیادت اور ملکی مستقبل کے لئے باکردار قیادت تیار ہو۔ اسلامی اصولوں کی بنیاد پہ انکی تربیت ہو، پاکستانی نوجوان دینی روح کے حامل ہوں۔ آج ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ نوجوان نسل دین سے دور ہو رہی ہے، دین کی ضرورت اور افادیت سے نابلد ہو رہی ہے، انہیں صحیح راستے پہ لانے میں خود نوجوانوں کا کرادر بنتا ہے، جو طلبہ تنظیمیں ادا کرسکتی ہیں۔ یہی نوجوان اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق تیار ہوں تو ملک و قوم کی ترقی اور فلاح بہبود میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ آئی ایس او پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ایسے نوجوان تیار ہو کر نکلے ہیں، جو ہر شعبہ زندگی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، گذشتہ چار دہایوں میں جتنے قابل بھروسہ اور مخلص نوجوان پاکستانی معاشرے کو ملے ہیں، ان کی شخصیت اور کردار سازی میں تنظیم کی کاوشیں شامل ہیں۔

اسلام ٹائمز: تنظیم نے ایک طویل سفر بڑے باوقار انداز میں طے کیا ہے، ذمہ داری تو ایک سال کیلئے ہوتی ہے، گذشتہ سالوں میں طے ہونیوالے بالخصوص طویل المیعاد منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کیا لائحہ عمل اپنائیں گے۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
گذشتہ عرصے میں آنے والے دوستوں کی پر خلوص محنت سے بہت اچھی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے، ان شاءاللہ ہم بھی پوری کوشش کریں گے کہ اسے آگے بڑھائیں، جن اچھی چیزوں کی بنیادیں رکھی گئی ہیں، ان کو جاری رکھیں گے۔ طویل المعیاد بنیادوں پہ منصوبہ بندی کے عمل کو بہتر بنائیں گے، مستقل افراد کی خدمات لیں گے، ریسرچ، تجزیہ اور منصوبہ بندی کے عمل کو باہم مربوط کرکے تنظیم کے کاموں کو زیادہ پائیدار بنانے کے لئے توجہ دیں گے، تاکہ جو اچھا کام شروع ہوا ہے، وہ زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھے، اس کے ثمرات سے تنظیم کو فائدہ پہنچے۔

اسلام ٹائمز: آپکی نظر میں تنظیم کو شعبہ جاتی لحاظ سے کن ترجیحات پہ کام کرنا چاہیے، خود آپکی قومی اور تنظیمی لحاظ سے کیا آرزوئیں ہیں۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
ایک مرتبہ پھر عرض کروں گا کہ اس دور میں سب سے زیادہ ضرورت اس چیز کی ہے کہ تنظیم کے ادارے مستحکم ہوں، سب شعبہ جات اور ادارے اچھی ہم آہنگی کیساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اس میں تنظیم کی ترقی اور فلاح و بہبود مضمر ہے، اسی راستے سے ہم اس منزل کو سر کرسکتے ہیں۔ اس پر بھرپور توجہ دی جائے گی کہ اداروں میں مزید بہتری آئے، افرادی قوت اور وسائل کی جہاں ضرورت ہو، اسے پورا کیا جائے، تاکہ یہ سفر پایہ تکمیل کو پہنچے۔ اسی طرح سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ تنظیم کی جتنی ہوسکے خدمت کریں، تاکہ تنظیم کا یہ الٰہی کارواں زیادہ سے زیادہ ملک و قوم کی عوج اور ترقی کے سفر میں اپنا حصہ ڈال سکے، بالخصوص اسلام کے حقیقی نظام کا تعارف کروانے اور اسکی بنیادیں فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ یہ انسانیت کی سعادت مندی کا سفر ان شاء اللہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور پہ ختم ہوگا، ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اس تنظیم کا بہٹ بڑا کردار شامل ہو، اس سعادت کے سفر کو طے کرنے میں، اس معاشرے کی تشکیل میں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تنظیم کے اعضاء اور اراکین میں اسلام کے وہ بنیادی اصول اور اقدار نظر آئیں، جن کے نفاذ کے لئے ہم کوشاں ہیں، اگر ہماری سیرت و کردار اسلام کی روح کے مطابق ہوگا تو اسلامی خطوط پہ معاشرے کی اصلاح کے لئے جدوجہد کا عمل زیادہ موثر ہوتا جائے گا۔

دوستوں بالخصوص کارکنان اور مسئولین سے یہ گزارش کروں گا کہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ معاشرے کو جو پیغام دینا چاہتے ہیں، وہ آسانی سے دے سکیں اور اسکا اثر بھی زیادہ ہو۔ ہمیں متوجہ رہنا چاہیے کہ فکری اور نظریاتی تیاری کیساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کے لئے، زمانے کے تقاضوں کے مطابق تدابیر بھی اختیار کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کے مطابق نوجوانوں میں عقابی روح کا بیدار رہنا ضروری ہے، تاکہ وہ بلند اھداف کے حصول کو اپنی منزل قرار دیں۔ سال میں تنظیمی طور پر جو ترجیح ہوگی وہ یہ کہ تنظیمی سطح پر تعلیمی اداروں پہ توجہ مرکوز کریں، یونیورسٹی، پروفیشنل ادارہ جات میں تنظیم کو مضبوط کریں اور اسے وسعت دیں۔ یونیورسٹی ہی وہ منبع ہے جہاں سے ملک و قوم کے لئے لیڈرشپ تیار ہوتی ہے۔ کوشش کریں گے کہ تمام تر energies کو synergise کرکے تعلیمی اداروں میں لگائیں، تاکہ وہاں ایک علمی، اسلامی ثقافت کو رواج دے سکیں۔ طلبہ کی فکری رہنمائی کا عمل جاری رکھیں گے، تاکہ ملک و ملت کی ترقی اور استحکام کے لئے معاشرے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے نوجوان ہوتے رہیں، جو تعلیمی اداروں اور پاکستانی سوسائٹی میں اسلامی ثقافت کے احیا میں فعال کردار ادا کریں۔ کیونکہ غیر اسلامی ثقافت کے خاتمے کے ذریعے ہی تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر بنایا جاسکتا ہے، تعلیمی اداروں میں فعالیت کا ایک اہم مقصد بھی یہی ہے، کیونکہ اسی اسلامی ماحول اور رنگ میں نئی نسل کی آبیاری ہوسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بیداری کی لہر جاری ہے، کشمیر کی آزادی کیلئے پاکستان کے کردار سے مطمئن ہیں۔؟
سید سرفراز حسین نقوی:
کشمیر ہمارے جگر کا ٹکڑا اور پاکستان کی شہ رگ حیات ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی قربانی، لہو رنگ جدوجہد اور شہادتیں ایک مثال ہیں، ہم فلسطین، عراق، بحرین، یمن اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہیں، مظلومین جہان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے دل انکے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان شاء اللہ کشمیری مسلمانوں کی قربانی ضائع نہیں ہوگی، بھارتی مظالم کی سیاہ رات جلد ختم ہوگی، اور آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ حکومت پاکستان کو ذمہ داری سے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے اور سفارتی محاذ پر اسی اخلاص کیساتھ کام کرنا چاہیے، جس بے جگری سے کشمیری نوجوان پاکستانی پرچم ہاتھ میں اٹھائے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 566279
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے