0
Thursday 29 Sep 2016 23:51
مقدسات اسلامی پر آل سعود کی اجارہ داری اب ختم ہونی چاہیئے

حکومت بیلنس پالیسی ترک کرکے ظالموں کا محاسبہ اور مظلوموں کی حمایت کرے، سید سرفراز نقوی

وطن کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جوان ہمہ وقت آمادہ ہیں
حکومت بیلنس پالیسی ترک کرکے ظالموں کا محاسبہ اور مظلوموں کی حمایت کرے، سید سرفراز نقوی
سید سرفراز حسین نقوی متحدہ طلباء محاذ اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر ہیں۔ متحدہ طلباء محاذ، طلباء تنظیموں پر مشتمل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جس میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اسلامی جمعیت طلبہ، مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ، انجمن طلباء اسلام، جمعیت طلباء عربیہ، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر طلباء تنظیمیں شامل ہیں۔ سید سرفراز حسین نقوی آئی ایس او کے دوسرے مرکزی صدر ہیں جنہیں ایم ٹی ایم کا بھی مرکزی صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ بنیادی طور پر سید سرفراز حسین نقوی گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔ 2009ء میں آئی ایس او میں شامل ہوئے، فیصل آباد یونیورسٹی، فیصل آباد ڈویژن کے صدر کی ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں اور دو سال مرکزی نائب صدر کی ذمہ داری پہ فائز رہے ہیں۔ وسیع المطالعہ اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ امامیہ نوجوانوں میں ہردلعزیز ہیں، یونیورسٹیز اور فکری تربیت کو ترجیح قرار دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے متحدہ طلباء محاذ کی سرگرمیوں اور محرم الحرام میں آئی ایس او کے پروگرام سے متعلق ان سے ایک تفصیلی گفتگو کا اہتمام کیا۔ جسکا احوال انٹرویو کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپ آئی ایس او کے دوسرے مرکزی صدر ہیں، جنکے کندھوں پر متحدہ طلباء محاذ کی مرکزی صدارت کی بھی ذمہ داری موجود ہے، وقت اور توجہ کے حوالے سے دونوں کو ایک ساتھ لیکر چلنا کتنا مشکل ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایس او پاکستان ایک متحرک اور بڑی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہے، جس میں کوئی بھی مرکزی ذمہ داری انتہائی دقت اور محنت طلب ہے۔ لہذا اس ذمہ داری کی موجودگی میں ایک اور انتہائی اہم فورم کی مرکزی ذمہ داری کی ادائیگی اتنی سہل نہیں ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایم ٹی ایم وہ اہم فورم ہے کہ جس کے ذریعے مشترکہ اہداف کے حصول میں کامیاب کوشش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً اگر طلباء کے مسائل کے حل کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو ایم ٹی ایم کی افادیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں میں طلباء تنظیموں کو جو مسائل درپیش ہیں، جن میں خود آئی ایس او بھی شامل ہے تو ان مسائل کے حل کیلئے بھی ایم ٹی ایم ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اس کے علاوہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایم ٹی ایم کے پلیٹ فارم کے موثر استعمال سے بہت سارے اہداف حاصل ہوسکتے ہیں، کئی قومی تنظیموں کے سربراہان اسی ایم ٹی ایم میں شامل طلباء تنظیموں سے نکل کر گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان ذمہ داریوں کی بطریق احسن ادائیگی اولین ترجیح اور ہدف ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف کمیٹیاں ترتیب دیکر کام کو منقسم کریں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایم ٹی ایم کو ایک باقاعدہ منظم ادارہ کی شکل دیں۔ اس کے آئین، اغراض و مقاصد، اہداف کو مشخص کریں اور تحریری صورت میں لیکر آئیں، یہ ہماری بنیادی ترجیحات ہیں۔ خداوند متعال ہمیں اس میں
سرخرو کرے۔

اسلام ٹائمز: ایم ٹی ایم کے مرکزی صدر کی حیثیت سے کونسے اقدامات ناگزیر سمجھتے ہیں، جن پر عملدرآمد سے مستقبل قریب و بعید میں یہ متحدہ محاذ پہلے سے زیادہ موثر ہو۔؟
سید سرفراز نقوی:
بنیادی طور پر متحدہ طلباء محاذ کو انتظامی حوالے سے باقاعدہ ایک شکل دینے کی ضرورت ہے، جو کہ تاحال نہیں ہے۔ اگرچہ اس فورم میں ملک گیر طلباء تنظیموں کے زرخیز اذہان تو موجود ہیں مگر اس فورم کا آئین، قواعد و ضوابط، اغراض و مقاصد تحریری صورت میں نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے اس میں شامل افراد کی صلاحیتوں سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا جا رہا۔ اس کیلئے ہماری کوشش ہے کہ متحدہ طلباء محاذ میں شامل طلباء جماعتوں کے درمیان جو مشترکات ہیں، ان کی بنیاد پر ایک ساتھ کام اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادے کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ انہی مشترکات کی بنیاد پر نوجوانوں بالخصوص طلباء تنظیموں کے مابین ہم آہنگی کی ایک خوبصورت فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ ملکی قومی جماعتوں کے اہم عہدیداران انہی طلباء تنظیموں سے نکل کر گئے ہوئے ہیں، اس فورم کے ذریعے ان قومی جماعتوں کے درمیان بھی اتحاد و ہم آہنگی کیلئے زمینہ سازی کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں نہ صرف طلباء کی فلاح و بہبود بلکہ ملکی ترقی کیلئے ان طلباء تنطیموں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ ایم ٹی ایم میں شامل تنظیمیں پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے معاملے پر یکساں موقف رکھتی ہیں۔ پاکستان میں جو مختلف نظریات کا پرچار جاری ہے، اس کے حوالے سے بھی طلباء تنظیمیں اختلافات کا شکار نہیں ہیں، چنانچہ ان نظریات سے پاکستان اور پاکستانی معاشرے کو بچانے کیلئے بھی یہ پلیٹ فارم نہایت مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے اندر جو غلیظ ماحول موجود ہے، جو نوجوان کو دین اور دین کے بنیادی اصولوں سے منحرف کر رہا ہے۔ اس ماحول سے نوجوانوں کو بچانے کیلئے بھی یہ فورم بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ نوجوانوں کو ہم دین کی طرف لاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کرپشن، تعلیمی نظام، تعلیم کے لئے بجٹ کے مسائل پر ایم ٹی ایم کو فعال کیا جاسکتا ہے۔ کئی انٹرنیشنل ایشوز ایسے ہیں، جن پر طلبا کے درمیان ہم آہنگی ہے، ان عالمی مسائل کو اجاگر کیا جاسکتا ہے اور سب سے اہم کہ اسلامی اتحاد یعنی اتحاد بین المسلمین کیلئے بڑی ملی جماعتوں کو زمینہ فراہم کرسکتے ہیں، اور ان شاء اللہ ہم کریں گے۔

اسلام ٹائمز: متحدہ طلباء محاذ میں وہ طلباء تنظیمیں بھی شامل ہیں، جن سے نظریاتی، فکری، فقہی ہم آہنگی نہیں ہے، پھر مشترکہ و متفقہ جدوجہد کیسے ممکن ہے۔؟
سید سرفراز نقوی
:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم ٹی ایم میں شامل تنظیموں کے درمیان نظریاتی اختلاف موجود ہے، مگر اس اختلاف کا مقصد یہ تو نہیں کہ اتحاد و یکجہتی کی گنجائش موجود نہیں اور اتحاد و یکجہتی کا بھی قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہم مکمل طور پر کسی دوسری جماعت میں ضم ہوجائیں، یا اپنے بنیادی عقائد کو چھوڑ کر کسی ایک عقیدے پر آجائیں۔ ہمارے جو مشترکہ
اہداف ہیں، ان پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے ہمارے معاشرے میں کافی گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ انہی مشترکات کی بنیاد پر ہم مسلمانوں اور پاکستان کے مشترکہ دشمن کے خلاف بھی اکھٹا ہوا جا سکتا ہے، اور اس صورت میں نظریاتی یا فکری اختلاف آڑے نہیں آنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: بطور مرکزی صدر آئی ایس او رواں تنظیمی سال سے متعلق کیا اہداف متعین کئے ہیں۔؟
اسلام ٹائمز:
ایک تو بنیادی طور پر ہماری کوشش رہی ہے کہ اب ہم طویل المدتی منصوبہ بندی کی جانب قدم بڑھائیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ طویل المدتی اہداف مقرر کرکے ان کے حصول کیلئے بھرپور کوشش و کام کریں، تنظیم کی ترقی میں جو رکاوٹیں حائل ہیں، انہیں دور کرنے کی باقاعدہ پلاننگ کیساتھ پالیسی مرتب کرکے بھرپور انداز میں کام کریں۔ ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ رواں تنظیمی سال میں ان چیزوں کی بنیاد رکھی جائے، تاکہ آنے والے وقت میں دوستوں کو زیادہ مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، کیونکہ بہرحال یہ ایک دقت اور وقت طلب کام ہے۔ لہذا رواں سال اس کی بنیاد رکھی جائے گی، تاکہ آئندہ اسے مکمل کرنے کی جانب توانائیاں خرچ ہوں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز ہماری بنیادی ترجیح ہیں، جہاں ہم بھرپور انداز میں تنظیم کو فعال کرکے کام کریں گے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ چند برسوں میں تنظیم کی کارکردگی کس میدان میں تسلی بخش نہیں رہی، نیز اس کمی کو پورا کرنے سے متعلق آپ کیا حکمت عملی ترتیب دینے جا رہے ہیں۔؟
سید سرفراز نقوی:
شائد ہم فقط اس مخصوص کمزور پہلو کی تشخص نہ کر پائیں، مگر کلی طور پر بات کی جاسکتی ہے کہ جن امور کی جانب ہم گذشتہ چند سالوں سے متوجہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان امور پر کام کرنے کی رفتار میں کمی رہی ہے۔ عصر حاضر سے ہم آہنگ جو بنیادی تبدلیاں لانی چاہیئے تھیں، گذشتہ سالوں میں دوستوں نے اس کیلئے بہت کوشش بھی کی۔ جس کی وجہ سے ماحول سازی ہوئی، ان کوششوں سے اب ایسا ماحول بن چکا ہے کہ میرے خیال میں ان پر کام کرنے میں زیادہ حرج نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: محرم الحرام کی آمد آمد ہے، آئی ایس او اس عنوان سے کہاں، کیسے اور کتنی فعال ہوگی۔؟
سید سرفراز نقوی:
محرم الحرم میں آئی ایس او اپنی سابقہ روایات کے مطابق جلوسہائے عزا کی سکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔ اس حوالے سے شعبہ اسکاؤٹنگ مسلسل سرگرم ہے۔ سکیورٹی کے عنوان سے شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے، چیکنگ کے نظام کو فعال رکھنے، فرسٹ ایڈ، جلوس کے راستوں میں نظم و ضبط اور مجالس عزا کے مقامات کی دیکھ بھال کے حوالے سے امامیہ اسکاؤٹس نوجوانوں کو باقاعدہ تربیت دے رے ہیں۔ اس کے علاوہ جلوسہائے عزا کے دوران نماز باجماعت کا اہتمام و انتظام آئی ایس او گذشتہ کئی برسوں سے یقینی بنا رہی ہے۔ ان شاء اللہ اسے بھرپور انداز میں کریں گے۔ اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ ملک بھر میں مختلف مقامات پر سٹالز لگائیں۔ جہاں پر آئی ایس او کا تعارفی اور ایسا لٹریچر کہ
جو نوجوانوں کو اسلامی تنظیمی ماحول فراہم کرسکے۔ کتب بینی کا رواج ہمارے معاشرے میں دم توڑ رہا ہے۔ اس رواج کے احیا کیلئے ہم اچھی اچھی کتابیں ان سٹالز پر رکھیں گے، تاکہ نوجوانوں میں کتب بینی کا شوق بیدار ہو۔ اس کے علاوہ دستہ امامیہ کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں، تاکہ معاشرے کو ایک منظم عزاداری کا طریقہ کار بتائیں، تاکہ عزاداری کے جو بنیادی ہدف ہے، اسے حاصل کیا جاسکے، مقصد امام حسین (ع) کو زندہ رکھنا عزاداری کا بنیادی ہدف ہے، جسے حقیقی معنوں میں لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: سکیورٹی کے حوالے سے حکومت وقت یا اداروں سے کوئی شکایات، خدشات، یا تجاویز۔؟
سید سرفراز نقوی:
پاکستان میں مکتب تشیع وہ واحد مکتب ہے، جس نے قیام امن کیلئے نہ صرف بیش بہا قربانیاں دی ہیں، بلکہ اس کے امن کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بھرپور محنت و تگ و دو کی ہے۔ وطن سے محبت اور عشق، وطن کی حفاظت کا جذبہ اس مکتب میں دیگر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند ہے۔ ریاستی اداروں کو بہرحال اس مکتب کی ان قربانیوں اور کوششوں کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔ خصوصی طور پر ان اداروں اور جو اس ملک کے مخلصین ہیں، انہیں چاہیئے کہ عزاداری سیدالشہداء کو برپا کرنے میں تعاون کریں، نہ کہ اس کی طرح میں حائل ہوں۔ عزاداری سیدالشہداء اسلام کی بقاء کی ضامن ہے۔ عزاداری سیدالشہداء کو محدود کرنے یا اسے روکنے کی کوئی بھی کوشش ہمارے بنیادی عنصر پر حملہ ہوگا، جسے کسی صورت قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ عزاداری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ محرم الحرام میں ہمارے مختلف علماء کرام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان پابندیوں کی ہم شدید ترین مذمت کرتے ہیں، حکومت و انتظامیہ کا یہ کوئی بہتر اقدام نہیں ہے، جس سے کئی طرح کے خدشات جنم لیتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عزاداری کو محدود کرنیکی ان کوششوں کیخلاف آئی ایس او کیا کریگی۔؟
سید سرفراز نقوی:
بہت سارے کام ایسے ہیں، جو ہماری مختلف تنظیمیں کر رہی ہیں۔ جیسے مجلس وحدت مسلمین نے عزاداری سیدالشہداء کے تحفظ کیلئے بہترین انداز میں آواز بلند کی ہے، جو کہ قابل تحسین اور لائق ستائش ہے۔ ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ علماء پر لگائی گئی پابندیاں سراسر عدالت و انصاف کے منافی ہیں، جن کو ختم کیا جائے، ہم ان پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت نے جو بیلنس پالیسی اپنائی ہے وہ سراسر حق و انصاف کے منافی ہے۔ ایسے دہشتگردوں اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ بیلنس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اسلام کے بھی دشمن ہیں اور پاکستان کے بھی۔ حالانکہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ظالم کا محاسبہ کرے اور مظلوم کا ساتھ دے۔ دہشتگردوں کی سرکوبی کرے اور دہشت گردی کا شکار افراد کے ساتھ کھڑی ہو۔

اسلام ٹائمز: آزادی فلسطین کیلئے تو آئی ایس او ہمیشہ سرگرم رہی ہے، آج کشمیر میں ظلم کی بدتر صورتحال ہے، اس پر آئی ایس او خاموش کیوں ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
ظلم کے خلاف، ظالم کے خلاف قیام ہمارے مکتب کا بنیادی اصول ہے۔ پیروان
اہلبیت علیھم السلام کا زندگی کے ہر دور میں یہ شیوہ رہا ہے کہ ظلم اور ظالم کے خلاف ہمیشہ میدان میں حاضر رہے ہیں۔ اہلبیت علیھم السلام نے ہمیں ظلم کے خلاف قیام کی تعلیم دی، اپنے عمل سے ظالم چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، کے سامنے حق بات کہنے کا درس دیا۔ ہمارے رہنماؤں امام خمینی، شہید قائد عارف حسین الحسینی نے بھی ہمیں اسی کی تلقین کی۔ ہمارا اصول کہ ظالم کیخلاف قیام کرو، چاہے وہ ظالم ایک شیعہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کی حمایت کرو، چاہے وہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ جس مکتب کا یہ اصول ہو، وہ بھلا کشمیر میں ہونے والے ظلم پر چپ رہ سکتا ہے۔؟ ہرگز نہیں۔ کشمیر کا مسئلہ انتہائی اہم ترین ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف پورے پاکستانیوں کے بلکہ دیگر مسلمانوں کے دل بھی غم و جذبات سے لبریز ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے روا رکھے جانے والے مظالم کی وجہ سے پورے خطے میں شدید تشویش ہے۔ کشمیر میں تحریک آزادی کے حالیہ فیز پر پہلا قدم ہم نے اٹھایا۔ کشمیر کے موضوع پر اسلام آباد میں بھی احتجاج کیا۔ گذشتہ برس کشمیر کے ایشو پر ہم نے ایم ٹی ایم کو کال دی اور اس میں شامل تمام جماعتوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ کشمیر کے ایشو کو اجاگر کرنا اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ ہم نے مختلف طلباء تنظیموں کو ٹارگٹس منتقل کئے۔ ابھی بھی ہماری کوشش ہے کہ ہم ایم ٹی ایم کے فورم سے اس موضوع پر کانفرنسز کریں، سیمینارز کریں اور اس ایشو کو اٹھائیں۔

اسلام ٹائمز: حالیہ بھارتی گیدڑ بھبکیوں کیخلاف آئی ایس او نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ کیا وجہ ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
جب سے آئی ایس او کا قیام عمل میں آیا، اس وقت اس تنظیم کے نصب العین میں لکھا گیا تھا کہ یہ تنظیم پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔ چنانچہ جب بھی کسی ملک یا قوت کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ وہ وطن عزیز کی نظریاتی یا جغرافیائی سرحدوں کی حرمت کو پامال کرے تو آئی ایس او کے جوان اس قوت کے خلاف، اس ملک کے خلاف ہمہ وقت تیار و آمادہ ملیں گے۔

اسلام ٹائمز: سعودی مفتی کیجانب سے تکفیر پر مبنی فتوے کے بعد کیا سمجھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ہم آہنگی کی کوششوں کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
ہم خود ایک عرصے سے پاکستانی معاشرے اور عالم اسلام کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آل سعود اسلام یا مسلمانوں کے حق میں قطعاً نہیں ہیں۔ بادی النظر دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آل سعود نے اسلام کو کتنا نقصان پہنچایا، جو نقصان اسلام کے دشمن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی نہیں پہنچا سکے، ان دشمنوں کے ساتھ ملکر آل سعود نے اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کرکے ان کے مذموم عزائم کو پورا کیا۔ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ داعش، القاعدہ، تکفیری سوچ نے اسلام کو عالم اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ تکفیری سوچ ہی وہ بنیادی ٹول بنی کہ جس کی مدد سے اسلام کا چہرہ مسخ کرکے دنیا کو اسلام سے دور کیا
جائے۔ اسلام کے دشمن یہی چاہتے تھے کہ دنیا اسلام سے خوف کھائے، سعودی عرب نے اسی تکفیری روش و سوچ کی آبیاری کرکے اسلام کو مسخ کیا۔ آج دنیا پر عیاں ہوچکا ہے کہ داعش، القاعدہ جیسے درندہ صفت گروہوں کا اور مسلمانوں کی تکفیر کرنے والا کون ہے۔ شائد ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جسے یہ خبر نہ ہو کہ کون سا ملک اسلام کے دشمنوں کا باقاعدہ دوست ہے۔ دنیا کی اکلوتی ناجائز غیر قانونی ریاست اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات آج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ آل سعود نے مقدسات اسلامی کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے اور تقدس کے پردے میں اسلام کو، مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ حج کے موقع پر تین اسلامی ممالک کے حاجیوں کو حج سے محروم کرکے آل سعود نے کوئی پہلی مرتبہ دین میں امتیازات یا تکفیر کا سہارا نہیں لیا، بلکہ پہلے بھی کئی ممالک کے ساتھ یہ امتیازات برتے گئے۔ جو کہ قابل مذمت ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آل سعود کا بدنما چہرہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کو آل سعود کے خلاف متحد ہو جانا چاہیئے۔ مقدسات پر آل سعود کی قائم اجارہ داری کا اب خاتمہ ہونا چاہئیے۔

اسلام ٹائمز: کیا ایم ٹی ایم کے پلیٹ فارم پر ان حساس موضوعات پر بھی بات ہوتی ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ بہت ساری تنظیموں اور گروہوں کی وابستگیاں ہیں۔ ایم ٹی ایم کے فورم پر مشترکات پہ بات ہوتی ہے، متنازعہ امور پر کبھی بحث نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں کرپشن، طالب علموں کے مسائل، کشمیر، کے معاملات پر بات ہوتی ہے۔ متنازعہ امور پر کبھی بات نہیں ہوئی۔

اسلام ٹائمز: طلباء میں عصر حاضر سے ہم آہنگ تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے آئی ایس او نے کتنا کام کیا ہے۔؟
سید سرفراز نقوی:
ہماری پہلے بھی کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں میں تعلیمی حوالے سے زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے۔ میٹرک میں جو بچے ہوتے ہیں ان کی کیرئیر گائیڈنس اور کونسلنگ کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔ البتہ اس حوالے سے کام کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان جو کہ معاشرے میں مختلف طاقتوں کے زیر اثر ہے اور ان سے نبرد آزما ہے، یہی نوجوان احساس کمتری کا بھی شکار ہے۔ وہ اپنی قوت و طاقت سے بھی آگاہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کو گائیڈ کرنے کی ضرورت ہے کہ ان میں موجود صلاحیتوں کو کیسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے کہ ان کی توانائیاں پاکستان کی ترقی اور دین اسلام کی سربلندی میں صرف ہوں۔ آئی ایس او نے دونوں جہتوں پر کام کیا۔ اب ہماری کوشش ہے کہ ایسے سیمینارز کا انعقاد کریں، جس میں نوجوانوں کو تحقیق، کامیابی اور علم دوستی کی جانب راغب کرسکیں، کیونکہ ہمارے ہاں طالب علموں کو تحقیق کی جانب نہیں لایا جاتا، ہماری کوشش ہے کہ ایسے پروگرام ترتیب دیں، جس میں بچوں کی تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے گائیڈلائن بھی دی جائے اور علم دوستی کا بھی پیغام بھی دیا جائے۔ نوجوانوں میں تحقیق اور کتب بینی کا شوق معاشرے اور قوموں کی کامیابی کا ضامن ہے۔
خبر کا کوڈ : 571312
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے